روداد تقریب تکمیل صحیح البخاری

علوم اسلامیہ کی عظیم بین الاقوامی دانشگاہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں اس سال سند فراغت حاصل کرنے والے علماء کرام کے اعزاز میں 41 ویں سالانہ عظیم الشان فقید المثال تقریب تکمیل صحیح البخاری بروز اتوار 16 فروری 2025ء کو بڑے تزک واحتشام کے ساتھ منعقدہوئی۔ جس کی صدارت جناب زاہد الرحمن وزیر آبادی نے فرمائی۔

اس پُر وقار تقریب کو دو نشستوں میں تقسیم کیا گیا ، پہلی نشست عصر تا مغرب اور دوسری نشست مغرب تا عشاء منعقد ہوئی اور تقریب بہت ہی عمدگی سے پایہ تکمیل کو پہنچی۔

پہلی نشست

پہلی نشست میں نظامت (اسٹیج سیکریٹری) کے فرائض الشیخ عبد المجید بلتستانی حفظہ اللہ نے انجام دیئے، تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا جس کیلئے جامعہ ہی کی کلاس معہد الثالث کے طالبِ علم قاری عبدالحسیب کو بلایا گیا ، قاری صاحب نے خوبصورت تلاوت سے اس تقریب کا شاندار آغاز فرمایا ، اس کے بعد عربی تقریر کیلئے معہد رابع کے طالبِ علم جعفر مراد کو دعوت دی گئی ، انہوں نے بڑی مہارت سے عربی تقریر بعنوان: «الغزو الفکری» پیش کی ، جس میں انہوں نے غیروں کی جانب سے مسلمانوں پر فکری یلغار کو واضح کیا اور ان سے حفاظت میں سب سے بہترین طریقہ کار کی طرف توجہ دلائی جو اسلام اور اس سے متعلقہ امور کی حفاظت میں پنہا ںہے ، جس کا سب سے اہم ترین موضوع عربی زبان کی حفاظت ہے تاکہ مسلمان اپنے ملی ورثے سے جڑے رہیں ، بعد ازاں اردو تقریر کیلئے کلیہ اولی کے طالبِ علم حافظ عثمان فاروقی کو بلایا گیااور انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں مدلل اور پر جوش تقریر کی ۔جس میں علم وعلماء کی فضیلت ، علماء کی ضرورت واہمیت اور ان کے تاریخِ اسلامی میں جا بجا ادا کئے گئے کردار اور دی گئی قربانیوں کا تذکرہ کیا اور ساتھ ہی منہجِ سلف کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ، اس کے بعد ایک غیر ملکی مہمان طالبِ علم محمد بن یاسر نے منہجِ سلف کی اہمیت اور اس کو لازمی طور پر اپنانے کے حوالے سے عربی میں تقریر کی ، ان کے تقریر کے بعد مرکز اللغۃ العربیۃ کی پہلی کلاس کے تین طلباء کرام محمد حسین ، عمر عبدالرحمن اور فرقان سرور اسٹیج پر آئے اور عربی زبان میں ایک مکالمہ پیش کیا ، جس سے ابتدائی کلاس کے بچوں میں عربی کی استعداد کا بخوبی اندازہ ہوا ، اور ان کے بعد اس نشست کے مہمان خصوصی، مقررِ شیریں بیان قاری ابراہیم جونا گڑھی حفظہ اللہ کو مدعو کیا گیا انہوں نے اپنے منفرد انداز میں اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَۚ۰۰۱کی روشنی میں علم و تعلم کی اہمیت اور وحی الٰہی پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت پر گفتگو فرمائی اور بہت ہی عمدہ انداز میں اپنے موضوع کو مغرب سے پہلے سمیٹا ، آپ کے خطاب کے دوران مجمع پر نہ صرف سکوت طاری رہا بلکہ ساتھ ہی رقت بھی طاری ہو گئی اور لوگوں کے دل تک بات اترتی محسوس ہوئی ، اس کے بعد اس نشست کے آخری خطاب کیلئے لاہور سے تشریف لائے ہوئے بزرگ عالمِ دین پروفیسر حافظ محمد ایوب حفظہ اللہ کو پند ونصائح کے لیے دعوت دی گئی، آپ نے اپنے خطاب میں محبتِ الٰہی اور اطاعتِ رسول کے موضوع پر جامع اور مختصر خطاب فرماتے ہوئے سندِ فراغت حاصل کرنے والے علماء کرام کو گراں قدر نصیحتیں فرمائیں ، اس خطاب کے ساتھ پہلی نشست اپنے اختتام کو پہنچی ۔

دوسری نشست

بعد نمازِ مغرب دوسری نشست کی نظامت کی ذمہ داری الشیخ ابو زبیر محمد حسین رشید حفظہ اللہ نے سرانجام دی، اور اس مرحلے کا آغاز  ایک اور غیر ملکی خطیب کی تقریر سے ہوا جس میں انہوں نے فضائلِ صحابہ پر عربی میں خوبصورت تقریر پیش کی ، اس کے بعد حسبِ ترتیب تلاوتِ قرآن کیلئے جامعہ کے طالبِ علم قاری عبد الباسط کو دعوت دی گئی جنہوں نے بڑی ہی شاندار تلاوت فرما کر مجمع پر دوبارہ رقت طاری کر دی ، تلاوتِ کلامِ پاک کے بعد «ختمِ بخاری» کی نسبت سے ایک نظم پیش کرنے کیلئے طالبِ علم حذیفہ کو دعوت دی گئی ، جنہوں نے اپنی پُر سوز آواز میں نظم پیش کی ، اس کے بعد اس سال جامعہ سے تخرج (فراغت) حاصل کرنے والے 41 والے بیج کے طلباء کی نمائندگی کرتے ہوئے افغانستان سے تعلق رکھنے والے کلیہ رابعہ کے طالبِ علم شمس الاسلام بن فضل احمد (فقیر اللہ حقجو) نے عربی میں اظہارِ خیال کیا جس میں انہوں نے اس سفر کی ابتداء سے اختتام تک نصرتِ الٰہی پر شکریہ کے کلمات ادا کیے، اس کے بعد اپنے والدین اور اساتذہ کا شکریہ ادا کیا ، پھر نہ صرف جامعہ اور اس کے عملے کا بلکہ ساتھ ہی اپنے ساتھیوں اور دیگر محسنین اور مساعدین کا بھی شکریہ ادا کیا ، پھر کلمۃ ابناء الجامعہ کیلئے جامعہ کے سابق طالبِ علم اور موجودہ استاد فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فراز الحق مدنی حفظہ اللہ کو مدعو کیا گیا جنہوں نے بڑے ہی خوبصورت انداز سے اپنے تعلیمی دور کے ابتدائی سفر ، اس وقت اساتذہ کی شفقت اور علم میں مزید حرص کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے سفرِ حجاز کا بھی ذکر کیا جہاں سے آپ نے پی ایچ ڈی مکمل کی اور پھر دوبارہ جامعہ اور اساتذہ جامعہ کا شکریہ ادا کیا کہ جو شیخ کے اس سفر میں اہم ترین سیڑھی ثابت ہوئے ، پھر کلمۃ الجامعہ کیلئے نائب مدیر الجامعہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر محمد طاہر آصف حفظہ اللہ کو اسٹیج پر مدعو کیا گیا ، آپ نے سب سے پہلے عربی میں اپنے جذبات کا اظہار فرمایا اور ساتھ ہی اردو میں بھی خطاب فرمایا ، آپ نے طلبہ کرام کو قیمتی نصیحتیں فرمائیں ، اساتذہ کرام کا شکریہ ادا کیا ،اور محسنین و حاضرین مجلس سے بھی اظہارِ تشکر کیا ، آپ کی تقریر قیمتی جوہر پاروں سے مرقع تھی ، جس میں احساسات وجذبات کا ایک ریلہ تھا اور اپنی ذمہ داری سے لگاؤ اور اپنے کام میں لگن کا پہلو نمایاں تھا ، بعد ازاں کویت سے تشریف لائے ہوئے فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیصل بن سید القلاف کو مدعو کیا گیا جنہوں نے مختصر عربی خطاب میں نہ صرف جامعہ کی کارکردگی پر بے حد اظہارِ اطمینان کیا بلکہ ساتھ ہی شکریہ بھی ادا کیا اور مزید ترقیوں اور کامیابیوں کیلئے بارگاہِ الٰہی میں دعائیہ کلمات کہتے ہوئے علماء کی صف میں شامل ہونے والے متخرجین کو قیمتی نصیحتیں بھی فرمائیں ، (یاد رہے کہ 18 فروری سے فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیصل القلاف نے جامعہ ہی میں صحیح بخاری کی کتاب الاعتصام بالکتاب والسنہ کا دورہ بھی کروایا جس میں طلباء کرام وعلماء عظام نے جوق در جوق شرکت کی اور ان کے دروس سے بھرپور استفادہ کیا)۔

اس کے بعد درسِ بخاری کیلئے فیصل آباد سے تشریف لائے مہمان ، استاذ العلماء ، محدث العصر ، فضیلۃ الشیخ حافظ مسعود عالم حفظہ اللہ سے درخواست کی گئی ، صحیح بخاری کی آخری حدیث کی قراءت آخری کلاس کے طالبِ علم محمد سہیل نے کی ، جس میں طالبِ علم نے اپنی سند اپنے استاد سے امام بخاری رحمہ اللّہ تک اور پھر امام بخاری رحمہ اللّٰہ سے رسول اللہ ﷺ تک پہنچائی اور پھر حدیث پڑھی ، حدیث کی قراءت کے بعد حافظ مسعود عالم حفظہ اللہ نے درس شروع کیا اور آپ کا درس نہ صرف بہت نفیس علمی نکات پر مشتمل رہا بلکہ ساتھ ہی روحانیت اور جذبہ ایمانی سے بھی لبریز رہا ، آپ نے اپنی گفتگو میں امام بخاری رحمہ اللّٰہ کی سیرتِ طیبہ کو اجاگر فرمایا ، ساتھ ہی صحیح بخاری کی قدر ومنزلت اور اس کی تدوین و ترتیب کیلئے کی گئی محنت ودقت کو بھی اجاگر کیا ، پھر اجمالی طور پر صحیح بخاری کا تعارف اور اس کی حسنِ ترتیب پر گفتگو کرتے ہوئے آخری حدیث کے حوالے سے مدلل اور مفصل گفتگو فرمائی ، جس میں رواۃ پر کلام فرمانے کے ساتھ ساتھ شرحِ حدیث اور استنباطِ مسائل و احکام کا سلسلہ بھی جاری رہا، آپ نے اپنے خطاب میں لوگوں کو قرآن و حدیث سے جڑ جانے اور اپنی زندگیوں کو ان دو بنیادی مآخذ اسلامی کے مطابق ڈھال لینے کی تلقین کی اور جا بجا اپنی گفتگو میں آیات و احادیث کا استحضار فرمایا ، آپ کا خطاب ہر طرح سے بہت اعلی پیرائے کا تھا ، جس میں علم کا ذخیرہ بھی تھا ، ادب کی چاشنی بھی تھی ، روحانیت و جاذبیت بھی تھی ، عمل پر ابھارنے کا جادو بھی تھا ، قیمتی اور گراں قدر نصائح بھی تھیں اور معرفتِ الٰہی کا مظہر بھی تھا ، بارہا آپ کی تقریر میں ایسے مقامات آئے کہ سامعین کے رونگٹے کھڑے ہو گئے، آنکھیں اشکبار ہوئیں ، دل شرمندگی سے مائل باستغفار ہوئے ، اور نفوس عمل کیلئے بے تاب ہونے لگے ، رب العالمین سے دعا ہے کہ علم وعمل کے وافر خزانوں میں سے کچھ حصہ ہمیں بھی عطا فرمائے ، اور استاذ العلماء کے علم وعمل ، قوت واستعداد اور عمر و حیات میں بے تحاشہ برکتیں عطا فرمائے اور ہمیں آپ سے استفادہ کی توفیق بخشے۔

درسِ بخاری کے بعد جامعہ اور اس کی ذیلی شاخوں کے حوالے سے تفصیلی ڈاکومنٹری پیش کی گئی ، جس میں جامعہ کی کارکردگی کو واضح کیا گیا اور خاص کر الحرمین کمپلیکس کی طرف عوام الناس کی خصوصی توجہ کروائی گئی ، اس کے بعد مدیر الامتحانات فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر افتخار شاہد حفظہ اللہ نے تعلیمی سال کے اختتام پر امتحانوں میں طلباء کی کارکردگی کا سرسری سا تذکرہ کرتے ہوئے نمایاں پوزیشنز حاصل کرنے والے طلباء کرام کے نام بتائے اور ساتھ ہی تقسیمِ انعامات وجوائز کا سلسلہ شروع ہوا ، جامعہ میں ہر کلاس میں نمایاں کارکردگی والے طلباء کو انعامات سے نوازا گیا اور ساتھ ہی متخرجین طلباء کرام کو علماء کرام کی صف میں شامل ہونے پر اسٹیج پر بلا کر اسناد و انعامات دیے گئے ، اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ کرام اور انتظامی امور میں معاون دیگر افراد کو بھی شیلڈوں سے نوازا گیا۔

بعد ازاں مدیر الجامعہ فضیلۃ الشیخ عبید اللہ حفظہ اللہ نے مختصر خطاب فرمایا، جس میں آپ نے جامعہ اور حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جامعہ اور جماعت المجاھدین کے ازلی رشتے کو واضح فرمایا اور ساتھ ہی آپ اپنے سسر شیخ ظفر اللہ رحمۃ اللّٰہ علیہ اور برادرِ نسبتی شیخ ضیاء الرحمن المدنی رحمہ اللّٰہ کا ذکر فرماتے ہوئے اشکبار ہو گئے ، جس کو دیکھ کر حاضرینِ مجلس کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں اور دل سے شہید ابن شہید (ان شاء اللّٰہ) کیلئے دعائیں نکلنے لگیں ، اختتامی کلمات کیلئے امیر جماعت المجاھدین اور صدرِ محفل جناب زاہد الرحمن وزیر آبادی کو دعوت دی گئی ، آپ نے جامعہ کی کارکردگی پر اظہارِ اطمینان فرمایا اور سب کا شکریہ ادا کر کے مختصر سی دعا فرمائی جس میں اسلام و مسلمانوں کیلئے اور ملکِ پاکستان کی امن وسلامتی اور ترقی کیلئے بھی دعا کی ، ساتھ ہی جامعہ اور جماعت المجاھدین کے ان رفقاء کیلئے دعاءِ مغفرت بھی کروائی جو بچھڑ گئے اور جامعہ کی دن دگنی رات چوگنی ترقی اور کامیابی کیلئے بھی دعا کروائی۔

اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ وہ ہر خیر کی دعا کو ہمارے حق میں قبول فرمائے اور ہر شر سے ہماری حفاظت فرمائے اور جامعہ کا سر ہمیشہ یونہی فخر سے بلند رکھے اور یہاں سے علم وفضل کے چشمے تا قیامت پھوٹتے رہیں اور اقوامِ عالم کی اصلاح میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں اور یہ شجرِ سایہ دار تا قیامت پھلتا پھولتا رہے اور علم وعمل کے میدان میں اوجِ ثریا کو جا پہنچے۔

آمین یا رب العالمین

زید محسن

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago