Categories: مئی/ جون 2025

دو عظیم علماء کرام :پروفیسر ظفر اللہ وساجد میر رحمہما اللہ

راقم الحروف کو اپنی حیات مستعار میں بہت سے علماء کرام کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور ان سے دعائیں بھی ملیں۔ ان میں سے ایک میر کارواں علامہ پروفیسر ساجد میر صاحب اور دوسرے پروفیسر چوہدری محمد ظفر اللہ صاحب تھے۔

پروفیسر ساجد میر صاحب عالم اسلام میں مسلک اہل حدیث کی قیادت کرنے والے کے طور پر جانے اور پہچانے جاتے تھے جبکہ پروفیسر محمد ظفر صاحب ایک عالمی دینی درسگاہ کے مدیر کے طور پر پہچان رکھتے تھے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات کے چیئرمین اور جماعت مجاہدین کے نائب امیر بھی تھے۔

یہ دونوں شخصیات عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ علوم عصریہ پر بھی خوب دسترس رکھتے تھے۔

اور دونوں نے ہی اپنے اپنے میدان میں کامیابیاں حاصل کیں۔ اور دونوں کا ہی باہمی ربط اور تعلق بھی تھا۔ راقم الحروف نے میر کارواں کو خود جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی میں شیخ محمد ظفر اللہ رحمۃ اللہ کے والد گرامی کی وفات پر تعزیت کے لیے آتے دیکھا۔ یعنی کہ دونوں ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوا کرتے تھے۔ اور جب ہمارے مربی و شیخ پروفیسر محمد ظفر اللہ صاحب کے صاحب زادے اور آپ کے جانشین شیخ ضیاء الرحمن مدنی شہید (رحمۃ اللہ) کر دیے گئے تو قائد اہل حدیث علامہ پروفیسر ساجد میر صاحب کے حکم پر دیگر قائدین کرام مسلسل جامعہ کے ذمہ داران سے رابطے میں رہے اور پھر آپ خود بھی تعزیت کے لیے جامعہ میں تشریف لائے۔

دونوں شخصیات میں سادگی، عاجزی و انکساری اور للہیت بھری ہوئی تھی اور دونوں ہی غلبہ اسلام کی تڑپ رکھتے تھے اور یہی ان کی زندگی کا مقصد نظر آتا تھا۔

بندہ ناچیز کو کچھ عرصہ اپنے شیخ و مربی کے ساتھ رہنے کو ملا اور بہت سی چیزیں نوٹ کیں۔

ان دونوں مشائخ عظام کی امانت و دیانت مسلمہ تھی۔ اور انہوں نے اپنی ذات پر اپنے ادارے اور جماعت کو ہمیشہ ترجیح دی۔

ایک دفعہ سابق امام کعبہ شیخ محمد بن عبداللہ السبیل رحمۃ اللہ علیہ نے شیخ محمد ظفر اللہ رحمۃ اللہ علیہ سے کہا کہ آپ کا گھر جامعہ ابی بکر الاسلامیہ سے دور ہے لہذا آپ کا گھر جامعہ کے قریب ہونا چاہیے اور میں تمہیں یہ گھر بنواکر دیتا ہوں بتائیں کہ پلاٹ اور اس پر تعمیر کا خرچ کیا ہوگا تو شیخ محترم نے کہا کہ تقریباً دس لاکھ روپے کا پلاٹ اور تقریباً اتنی ہی رقم اس کی تعمیر پر خرچ ہوگی۔ شیخ محمد بن عبداللہ السبیل رحمۃ اللہ علیہ فرمانے لگے کہ میں تمہیں یہ رقم دے رہا ہوں اور گلشن اقبال میں جامعہ کے قریب گھر بناو۔ شیخ محمد ظفر اللہ فرمانے لگے کہ شیخ صاحب جلدی کریں اور یہ رقم دیں جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کا فلاں کام رکا ہوا ہے وہاں پر یہ رقم خرچ کروں گا۔ اور دوسری طرف میر کارواں کو ایک بیرون ملک کے دورے پر تحفے میں ایک خطیر رقم اور انتہائی قیمتی گھڑی ملی تو وہ لا کر جماعت کو دے دی کہ یہ جماعت کی وجہ سے ملی ہے اور یہ چیزیں جماعت کی امانت ہیں۔

ایک دفعہ شیخ محمد ظفر اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے راقم الحروف کو جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی کے دروازے پر بلایا اور گاڑی میں ساتھ بٹھا لیا بولٹن مارکیٹ ٹاور کراچی کے قریب ایک جگہ گاڑی کھڑی کی اور مجھے ساتھ لے کر جامع مسجد رحمۃ للعالمین چاندنی سینٹر پائپ مارکیٹ چلے گئے۔ نماز ظہر ادا کی اور جب نمازی حضرات چلے گئے تو سستانے کے لیے وہیں لیٹ گئے اور آپ کے پاس ہینڈ بیگ بھی تھا جس میں جامعہ کی ایک بڑی امانت موجود تھی جس کا مجھے بعد میں علمِ ہوا۔ آپ سوئے ہوئے تھے اسی دوران کراچی کے مشہور تاجر اور سخی حاجی محمد یونس چمن مرحوم مسجد میں آئے اور شیخ صاحب کو سوتا دیکھ کر مجھے کہنے لگے کہ آپ چلیں اور ہمارے ساتھ کھانا کھا لیں۔ میں نے کہا کہ شیخ صاحب آرام فرما رہے ہیں میں آپ کو اس طرح چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔ جب شیخ صاحب نیند سے بیدار ہوئے تو مجھ سے پوچھا کہ کوئی آیا تھا تو میں نے حاجی یونس چمن صاحب کے بارے میں بتایا تو فرمانے لگے کہ تم اچھا کیا ہے اس بیگ میں ایک رقم موجود تھی اور تمہارا پاس رہنا ضروری تھا۔ اس کے بعد ہم نیچے اترے اور حاجی صاحب سے ان کی دوکان پر چائے پی اور پھر سامنے کپڑا مارکیٹ میں چلے گئے وہاں پر شیخ محترم نے کسی تاجر کو اپنے اور بچوں کے لیے گرم کپڑے کے سوٹوں کے لیے کہا ہوا تھا۔ اس دوکان سے جا کر ہم نے کپڑے لیے اور اس سے بل طلب کیا تو اس نے کہا کہ یہ بل ہے لیکن اس میں آپ کے دو جوڑوں کے پیسے نہیں ہیں کیونکہ یہ میری طرف سے تحفہ ہے جب یہ الفاظ شیخ محترم نے سنے تو فرمانے لگے کہ ان سوٹوں کے پیسے بھی لو ورنہ میں کوئی بھی سوٹ نہیں لوں گا کیونکہ میرا منصب اس کی اجازت نہیں دیتا جب اس ساتھی نے بیحد اصرار کیا تو فرمانے لگے کہ میں کسی وقت مولانا محمد عائش ( رحمۃ اللہ علیہ) کو لے آؤں گا تو آپ اس کو اپنے دل کی خوشی کے لیے سوٹ دے دینا اور یہی طرز عمل میر کارواں علامہ پروفیسر ساجد میر صاحب کا تھا۔ چند سال پہلے ایک ساتھی نے آپ کو ایک گاڑی تحفہ میں دی تو آپ نے وہ گاڑی خود رکھنے کے بجائے جماعت کے نام رجسٹر کروا دی۔

امیر محترم علامہ پروفیسر ساجد میر صاحب کی وفات کے بعد جماعت اسلامی کے رہنما جناب لیاقت بلوچ نے امیر محترم سے اپنی ملاقات کی تصویر شیئر کی تو تب دنیا کو پتہ چلا کہ اڑتیس سال جماعت کی قیادت کرنے اور تقریباً 33 سال ایوان بالا کا رکن رہنے والے کی زندگی سادگی کا ایک نمونہ تھی۔ جس نے اپنی زندگی میں کبھی بھی پروٹوکول اور گارڈز رکھنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اگر اس طرح کا مشورہ بھی دیا گیا تو سختی سے رد کر دیا کہ مجھے ان چیزوں کی ضرورت نہیں ہے۔ اور تقریباً ایسی ہی صورتحال ہمارے شیخ محمد ظفر اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی تھی۔ دو منزلہ مکان نیچے والی منزل مولانا محمد عائش رحمۃ اللہ علیہ کو رہنے کے لیے دی ہوئی تھی اور خود اوپر والی منزل پر رہائش پذیر تھے اور ایک عرصے تک اس گھر میں رنگ و روغن بھی نہیں ہوا تھا۔ بارہا شیخ محترم کے ساتھ آپ کے گھر کھانا کھانے کا اتفاق ہوا۔ شیخ صاحب اور میں بیٹھک نما کمرے میں بیٹھے ہوتے اور آپ کا چھوٹا صاحب زادہ عمیر (نوٹ یہ بیٹا بھی شیخ محترم کے ساتھ اس حادثے میں شہید ہو گیا جس میں آپ شہید ہوئے تھے) پلاسٹک کی چھابی میں روٹیاں ایک ایک کرکے لاتا شیخ صاحب اور میں کھاتے سب سے بڑی اور اہم بات یہ کہ کھانے میں دال، سبزی اور کالے چنے ہوتے تھے۔ اور مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ جس واقعے کا اوپر تذکرہ کیا ہے اس دن بھی صبح کا ناشتہ کیا ہوا جب شام کو آپ کے گھر واقع ماڈل کالونی میں پہنچے تو بھوک لگی ہوئی تھی اور ہم نے دال سے روٹی کھائی تھی۔

بہت سی باتیں اور یادیں وابستہ ہیں جو کہ یاد آتی رہتی ہیں۔

بارگاہ رب العالمین میں استدعا ہے کہ ہمارے بزرگوں کی قبروں پر اپنی رحمتوں کی برکھا برسائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین یارب العالمین

عبدالرحمٰن ثاقب

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago