اور فر مایا: “ تو حکم دیا آگ تیز جلاؤ۔تو یہ معنی بھی (فَعَلَ) کا ہے۔ تو یہ مخلوق کا جَعَلَہے (مخلوق کا کسی کام کو کرنا ہے)پھر جَعَلَکو اللہ نے خَلَقَ (پیدا کر نا) کے معنی میں استعمال کیا اور خَلَقَکے معنی میں نہیں استعمال کیا۔جہاں اللہ تعالیٰ نے جَعَلَکو خلق کے معنی میں بیان کیا ہے وہاں خَلَقَہی مراد ہو تا ہے اور لفظ خَلَقَ کا ہی قائم مقام ہو تا ہے۔ اور اس سے خَلَقَکا معنی زائل نہیں ہو تا۔ اور جب اللہ (عزوجل) نے جَعَلَکو خَلَقَکا معنی میں نہیں ذکر کیا وہاں یہ خَلَقَکے قائم مقام نہ ہے، اور نہ اس سے غیر خَلَقَ کا معنی زائل ہو تا ہے۔جہاں فَعَلَ خَلَقَ کے معنی میں ہے، اللہ نے بتلایا ہے وہ یہ آیت ہے کہ:تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اور اندھیرے اور روشنی کو بنایا”یہاں معنی ہے خَلَقَ الظلمت والنور اور فر مایا: اسی نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تاکہ تم شکر گزاری کرو”یعنی اللہ فر ماتا ہے آپ کیلئے آنکھ اور کان پیدا کئے۔ اور فر مایا : ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں پیدا کیا” اور پھر فر مایا: اور سورج کو روشن چراغ پایا۔ فر مایا: وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑ ابنایا۔یعنی وہ فر ماتا ہے کہ: آدم سے حواء کو پیدا کیا۔ اور فر مایا: اور اس کے لئے پہاڑ بنائے۔ یعنی وہ فر ماتا ہے کہ اور اس کے لئے پہاڑ پیدا کئے۔اور اس کی مثالیں قرآن میں بہت ہیں پس قرآن میں جہاں بھی اس طرح کا جَعَلَآئے گا تو اس کا معنی خَلَقَپیدا کرنا ہو گا۔
اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے: ’’اللہ تعالیٰ نے نہ بحیرہ کو بنایا نہ سائبہ کو”یہاں یہ معنی نہ ہو گا کہ معنی میں نہ بحیرہ اور سائبہ کو پیدا نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ نے ابراہیم سے کہا: “میں تمھیں لوگوں میں امام بنا دوں گا” اس کا یہ معنی نہیں کہ میں تمھیں لوگوں کا امام پیدا کر دوں گا۔ کیونکہ ابراہیم پہلے پیدا ہو ئے تھے۔ اور ابراہیم نے فر مایا: اے پر ور دگار تو اس جگہ کو امن والا شہر بنا دے۔اور ابراہیم نے فر مایا: اے میرے پر ور دگار مجھے نماز کا پابند رکھے اور میری اولاد سے بھی۔ اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ مجھے نماز قائم کر نے والا پیدا کر۔ اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہے ان کے لئے آخرت کا کوئی حصہ عطا نہ کرے” یہاں پر معنی نہیں ہے کہ: اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہے ان کے لئے آخرت کا کوئی حصہ پیدا نہ کرے، بلکہ یہاں معنی مقرر کر نا اور عطا کر نا ہو گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے مو سیٰ علیہ السلام کی ماں سے کہا: ہم یقیناً اے تیری طرف لوٹا نے والے اور اسے رسولوں میں بنا نے والے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اس کو پیغمبروں میں سے پیدا کر تے ہیں۔ کیو نکہ موسیٰ کی ماں سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا کہ وہ موسیٰ کو واپس ان کو لوٹائے گا۔پھر اس کے بعد اس کو رسول بنائے گا۔ اور فر مایا: “ اور ناپاکوں کو ایک دوسرے سے ملا دے، پس ان سب کو اکھٹا ڈھیر کر دے پھر ان سب کو جہنم میں ڈال دے” یہاں یہ معنی نہیں ہے کہ اس کو جہنم میں پیدا کر دے۔ بلکہ یہاں معنی ڈالنا ہو گا ۔ اور فر مایا: پھر ہماری چاہت ہوئی کہ ہم ان پر کرم فر مائیں جنہیں زمین میں بے حد کمزور کر دیا گیا تھا اور ہم انہی کو (زمین) کا وارث بنائیں۔ “ یہاں یہ معنی ہیں کہ ہم ان کو امام اور وارث پیدا کرتے ہیں بلکہ یہاں پیدا کر نے کی بجائے بنانا ہو گا۔اور فر مایا: پس جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فر مائی تو تجلی نے اس کے پر خچے اڑا دیئے۔تو اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ پر خچے پیدا کئے، بلکہ معنی ہے کہ پر خچے بنا دیئے ہے۔ اس کی مثالیں قرآن میں بہت زیادہ ہیں۔ پس یہ اور جیسے دوسری مثالوں کا معنی (خَلَقَ) نہیں ہوگا۔
سو اللہ تعالیٰ نے جب جَعَلَ زیادہ معنوں میں استعمال کیا ہے۔یعنی خلق کے معنی بھی استعمال کیا اور غیر خلق میں بھی استعمال کیا ہے تو جہمی نے کس دلیل کی بنیاد پر جعل کا معنی صرف (خَلَقَ ) پیدا کر نے کے معنی میں استعمال کیا؟اگر جہمی جعل کا وہ معنی پیدا کرے جو اللہ نے بیان کیا ہے (تو درست) اور اگر اللہ تعالیٰ نے بیان کر دہ معنی بیان نہ کرے تو ان کی مثال ان لوگوں کی ہے جو اللہ تعالیٰ کا کلام سنتے ہیں اور سمجھنے کے بعد تحریف کر تے ہیں اور وہ جانتے ہیں (یعنی اهل کتاب کی طرح)جب اللہ تعالیٰ نے یہ فر مایا : “ ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے ” وو فر ماتا ہے کہ اس کو عربی بنایا۔ یہاں جَعَلَ بمعنی فَعَلَ کے آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فر مایا : “ ہم نے اس کو عربی زبان کا قر آن بنایا ہے کہ تم سمجھ لو” اور فر مایا: کہ آپ آگاہ کر دینے والوں میں سے ہو جائیں” صاف عربی زبان میں ” اور فر مایا “ ہم نے اس قرآن کو تیری زبان میں بہت ہی آسان کر دیا”پس جب اللہ تعالیٰ نے قرآن کو عربی کا قرآن بنایا اور اپنے نبی کریم ﷺ کی زبان پر آسان کر دیا تو یہ اللہ تعالیٰ کے افعال میں سے ایک فعل ہے۔جس کے ذریعے سے قرآن کو عربی میں کر دیا۔تو یہ بیان ہے اس کے لئے جس کے لئے اللہ تعالیٰ ہدایت کا ارادہ کرے۔اوراس طرح معنی نہیں ہے جس طرح انہوں نے گمان کیا۔ ہم نے اس کو عربی زبان میں نازل کیا اور کہا گیا ہم نے اس کی وضاحت کی۔
پھر جہمی نے دوسرا دعویٰ کیا، وہ بھی نہ ممکنات میں سے ہے۔ پس کہا ہمیں بتلاؤ کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ ہے یا اللہ تعالیٰ کا غیر ہے؟پس قرآن کے متعلق ایک بات نکالی جس سے لوگوں کو وہم میں ڈال دیا۔ پس جب جاہل سے پو چھا جائے قرآن کے متعلق کہ یہ اللہ تعالیٰ ہے ؟ یا اللہ تعالی کا غیر ؟ تو ضرور وہ ان دو با توں میں سے ایک کہے گا۔اگر کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ ہے، تو جہمی اسے کہے گا تو نے کفر کیا۔ اور اگرکہا کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا غیر ہے ، تو جہمی کہے گا: آپ نے سچ کہا،تو پھر کیوں اللہ تعالیٰ کا غیر مخلوق نہیں ہے؟ پس جاہل کے ذہن میں اس طرح وسوسہ ڈالتا ہے جس سے جہمی کے قول کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔اوریہ مسئلہ جہمی کے دھوکوں میں سے ایک دھوکہ ہے۔
(جاری ہے)
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…