قارئین کرام! محترم ڈاکٹر فضل الٰہی حفظہ اللہ مسلک اہلحدیث کے معروف علمی ودینی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب میدانِ خطابت کے شاہسوار ہیں اس کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت نے آپ کو تحریر کی خصوصی صلاحیتوں سے بھی نوازا ہے ان کی متعدد تحقیقی واصلاحی کتب منصہ شہود پرآکر دادِ تحسین وصول کرچکی ہیں ۔ درج ذیل مضمون دراصل ڈاکٹر صاحب کے ناصحانہ ، عالمانہ خطاب کا ترجمہ ہے جوکہ انہوں نے عربی زبان میں طلبہ جامعہ کو ارشاد فرمایا تھا ان کے خطاب کو اردو قالب میں ڈھالنے کا فریضہ محترم عبد اللہ محمود نے سرانجام دیا ہے جس کو’’ ثبت است برجریدہ عالم دوام‘‘ کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہنامہ اسوہِ حسنہ کے صفحات کی زینت بنایا جارہا ہے۔ (ادارہ)
میرے لیے یہ سعادت کی بات ہے کہ میں ان مبارک چہروں سے ملا قات کا شرف حاصل کر رہا ہوں جو کتاب وسنت کے موتیوں سے استفادہ حاصل کرنے کیلئے دو زانو ہوتے ہیں ، اللہ حی القیوم سے دعا کرتا ہوں کہ ہمارے اس اجتماع کو مبارک بنادے اور یہ اللہ کے قرب کا باعث ہے آج کی اس مبارک مجلس میں بہت ہی اہم موضو ع پر گفتگو کرنا پسند کروں گا کہ جس کو میں بہت اہم گردانتا ہوں وہ ارکان اسلام کے پہلے رکن کا دوسرا حصہ ہے دین اسلام کے پانچ رکن ہیں جن میں سے پہلا رکن ’’شہادۃان لا الہ الااللہ وان محمد ا رسول اللہ ‘‘ہے۔ اور اس کے کئی ایک پہلو ہیں ان میںسے ایک پہلو رسول اللہ ﷺکی اطاعت مطلق طور پر بغیر کسی شرط کے کرنا ہے اورجب سے اللہ رب العزت نے آپ ﷺ کو رحمت للعالمین بنا کر بھیجا ہے اس وقت سے آپ اس استحقاق میں منفر د ہیں ، کائنات میں کوئی بھی شخص، عالم ، مفسر ،محدث ،فقیہ ، اما م یا پھر صحابی ہی کیوں نہ ہو سب کی اطاعت مشروط ہے لیکن رسول اللہ ﷺ کی اطاعت بغیر کسی شرط سے ہے۔اور اس کی تفسیر کچھ یوں ہے کہ جب ہمارے پاس کسی کی کوئی بات یا کوئی فعل پہنچتا ہے تو دیکھا جاتاہے کہ آیا یہ قول یا فعل ہمارے حبیب مصطفی ﷺ کے قول وفعل یا ہمارے رب کی کتاب کی نص کے مطابق ہے یا کہ نہیں ؟ اورجو بات کتاب وسنت سے موافقت کرے وہ سر آنکھوں پر لیکن جو قول یا فعل اس کے متعارض ہو تو ایسے قول کو نہیں لیا جاتا اور نہ ہی ایسے فعل پر عمل کیا جاتا ہے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’ جس بات کے کرنے کا تمہیں رسول اللہ ﷺحکم دیںاس کو لے لو اور جس بات سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔‘‘
ترجمان القرآن سیدناعبداللہ بن عباس خوب بات کی ہے جو کہ سنن ابی داؤد میں موجود ہے :
’’ کیا تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تمہیں تمہارے اس قول کے سبب عذاب دیا جائے یا اللہ تمہیں زمین میں دھنسا دے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا اور اس کے مقابلہ میںفلاںنے فرمایا:
رسول اللہ ﷺکی بات کے بعد کائنات میں کسی شخص کی بات کو نہیں لیا جاتا اور جوشخص حدیث رسول کے خلاف کوئی با ت کرتاہے تو اس کو ابن عباس رضی اللہ عنہ عذاب سے ڈرا رہے ہیں ۔
امام دارمی نے امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے کہ فرماتے ہیں :
’’رسول اللہ ﷺ کی سنت کے بعد کسی کے قول کی کوئی اہمیت نہیں ہے‘‘
حبیب مصطفی ﷺ کی بات کے خلاف یا حدیث کے خلاف کوئی بات کرنے والا چاہے ایک شخص ہو یا لوگوں کا مجموعہ ہو یا انگنت تعداد ہو یا سب کے سب لوگ ہی کیوں نہ ہوں کسی کی بات کو نہیں لیا جا سکتا۔
رسو ل اللہ ﷺ کی بات کو اگر ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور ساری کائنات کے لوگ دوسرے پلڑے میں ہوں تو حبیب مصطفی کا پلڑا بھاری رہے گا۔
امام نووی نے صحیح مسلم کی شرح میں کیا ہی خوب بات کہی ہے فرماتے ہیں کہ اگر رسول اللہ ﷺ کی سنت ثابت ہوجائے اس کو بعض لوگ یا اکثر لوگ یا سب کے سب لوگوں کے ترک کرنے کی وجہ سے نہیں چھوڑا جاسکتا۔ حبیب مصطفی ﷺ اکیلے کائنات کے سب لوگوں پر بھاری ہیں ۔
آئیے اس موضوع کو صحابہ اور تابعین کی زندگیوں کے تناظر میں دیکھتے ہیں :
صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا موقف
نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد امت میں سب سے افضل واعلی شخصیت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ہے آئیں دیکھیں کہ خلافت کے منصب پر سرفراز ہونے کے بعد فرماتے ہیں :’’اَطِیْعُوْنِیْ ‘‘ کہ میری اطاعت کرو مطلق یا مشروط ’’مَا اَطَعْتُ اللّہَ وَرَسُوْلَہ‘‘ میری اطاعت اس وقت کرنا جب میری بات اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے تابع ہوگی۔صدیق اکبررضی اللہ عنہ یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ ان کی اطاعت مقید ہے کہ ان کا قول کتاب وسنت کے مطابق ہونا چاہیے۔ کعبہ کے رب کی قسم ہے کہ اگر صدیق اکبررضی اللہ عنہ کا یہ اعتقاد نہ ہوتا تو صدیق ، صدیق اکبرنہ کہلاتا۔
ان کو صدیق اکبراس لئے کہا گیا ہے کہ ان کا یہ اعتقاد ہے کہ نبی کے علاوہ کسی کی بات کونہیںمانناہے صرف رسول اللہ ﷺ کی بات غیر مشروط اطاعت کے لائق ہے۔
آگے فرمایا:
اگر میں کتاب وسنت کے خلاف کوئی بات کہوں تو تم نے میری اطاعت نہیں کرنی۔
ابو بکر رضی اللہ عنہ دوران خلافت اپنے اسی اعتقاد پر گامزن رہے اس کے بہت سے شواہد ہیں صرف ایک کا ذکر کروں گا۔
سنن ابی داؤد میں ہے کہ :
کسی کی دادی نے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اپنی میراث کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا کہ کتاب وسنت میں تمہاری میراث کی میرے علم میں کوئی دلیل نہیں ہے۔تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے علم کے مطابق دادی کا میراث میں کوئی حصہ نہیں کیا ان کا یہ فیصلہ آخری فیصلہ ہے؟ نہیں بلکہ ان کی بات مشروط ہے کہ کتاب و سنت سے متعارض نہ ہو۔ پھر کہا :
جاؤ میں صحابہ سے پوچھ کر جواب دوں گا۔اسی مجلس میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے ایک دادی کو میراث میں سے چھٹا حصہ دیا تھا اور میں وہاں موجود تھا۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہَلْ مَعَکَ غَیْرُکَ؟ کیا تمہارا کوئی گواہ ہے ۔ تو محمد بن سلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوکر فرمایا کہ ہاں میں بھی اس مجلس میں موجودتھا۔
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا موقف
آئیے امت میں فضیلت کے اعتبار سے دوسرا نمبر پانے والے کی شخصیت فاروق اعظم کی سیرت مبارکہ پر نگاہ ڈالیں کہ جن کا یہ عقیدہ کہ فاروق کی اطاعت مشروط ہے اور حبیب مصطفی ﷺ کی اطاعت غیر مشروط ہے ۔
کسی شخص نے کسی کو قتل کیا اولیائے قاتل نے ورثائے مقتول کو دیت ادا کی تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر یہ فیصلہ سنایا کہ جسے ابوداؤد اپنی کتاب میں نقل کرتے ہیں کہ :الدیۃ للعاقلۃ لا ترث المرأۃ من دیۃ زوجہا ۔ دیت کا مال رشتے داروں کے لیے ہے اور بیوی کو اس دیت سے کچھ نہیں ملے گا۔ اس پر مجلس سے ضحاک نامی صحابی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا :
کہ رسول اللہ ﷺ نے میری طرف یہ حکم صادر کیا کہ میں اشعث کی بیوی کو اس کے خاوند کی دیت میں سے حصہ دوں۔
یہ سننا تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے حکم جاری فرمایاجو حدیث سے موافق تھا اس لئے کہ ان کا یہ اعتقاد تھا کہ ان کی اطاعت مشروط ہے اور اطاعت مصطفی ﷺ غیر مشروط ہے۔
آئیے ذرا صحابہ کرام کے بعد والوں کی سیرت کا جائزہ لیں۔
ائمہ کرام رحمہ اللہ کا موقف
امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’الرسالۃ‘‘ میں ابو دنب سے روایت کرتے ہیںکہ سعد بن ابراہیم مدینہ کے قاضی تھے ایک دن ان کے پاس دعوی دائر کیا گیا اور انہوں نے اجتہاد کرتے ہوئے ربیعہ کی رائے کے مطابق فیصلہ سنا دیا۔
کچھ عرصہ بعد قاضی سعد کو بتایا گیا کہ اس نے جو فیصلہ سنایا ہے وہ حدیث رسول ﷺ کے خلاف ہے۔ اس پر قاضی سعدنے ربیعہ سے ملاقات کی اور فرمایا کہ میں نے تمہاری رائے سے فیصلہ سنایا تھا اور مجھے معلوم ہوا کہ وہ حدیث رسول ﷺ کے خلاف ہے۔ تو ربیعہ نے جواب دیا فیصلہ ہوچکا تم پر کوئی مؤاخذہ نہیں آپ نے (واضح نص نہ ملنے پر) اجتہاد سے فیصلہ کردیا معاملہ ختم ہوا تو قاضی سعد نے جواب دیا۔
ہائے افسوس! میں رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کو چھوڑ کراُم سعد کے بیٹے کے فیصلہ کو نافذ کروں گا؟ پھر انہوں نے قضاء کے رجسٹر کو منگوایا اور سابقہ فیصلے کو پھاڑتے ہوئے نیا فیصلہ لکھوایا کہ جو رسو ل اللہ ﷺ کے فیصلہ سے مطابقت رکھتاتھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے اسی کتاب ’’الرسالۃ‘‘ میںدوسرا واقعہ بھی ذکر کیا ہے کہ مخلد نے ایک غلام خریدا اور اسے کام پرلگا دیا اور وہ کما کر دیتا رہا۔کچھ عرصہ بعد مخلد کو معلوم ہوا کہ غلام میں کوئی نقص ہے (جس کا اسے پتا نہیں تھا)
اس نے عمر بن عبد العزیز کی عدالت میں دعویٰ دائر کرایا انہوں نے فیصلہ سنایا کہ غلام اور جو مال اس نے کمایا ہے پہلے والے مالک کو واپس لوٹا دیا جائے۔ کچھ عرصہ بعد مخلد کوعروہ ملے اور انہوں نے فرمایا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہا نے فرمایا کہ ’’الخراج بالضمان‘‘ کہ غلام کو اگر کسی عیب کی بنا پر واپس لوٹایا جائے تو اس کا کمایا ہوا مال دوسرے مالک کو نہیں دیا جائے گا۔مخلد نے عمر بن عبد العزیز کو یہ حدیث روایت کی اور فرمایا کہ آپ نے جو فیصلہ صادر فرمایا ہے وہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کے خلاف ہے۔ تب عمر بن عبد العزیز نے دوسرا فیصلہ جاری کیا جو رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کے موافق تھا۔
آئیے اب ائمہ کرام میں سے ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے دو تلامیذ قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ اور امام محمدرحمہ اللہ کے موقف کو دو مثالوں سے جانتے ہیں۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ مزارعہ یعنی زمین یا بستان اجرت پر دینے کو ناپسند کرتے تھے۔ کتاب الخراج میں قاضی ابو یوسف اور امام محمد نے فرمایا کہ ہم اس ’’مزارعہ‘‘ کے مسألہ میں احادیث کی پیروی کرتے ہیں کیونکہ رسول مصطفی ﷺ نے اہل خیبر سے مزارعت کی تھی۔
اسی طرح امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ صلاۃ استسقاء کو جائز نہیں سمجھتے تھے لیکن موطا امام محمد میں امام محمد کا قول ہے کہ ہم صلاۃ استسقاء کو جائز سمجھتے ہیں۔
صاحبین نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول کو نہیں لیا کیوں؟ اس لیے کہ ان کے نزدیک ان کی اطاعت مشروط ہے اور اطاعت مصطفی ﷺ غیر مشروط ہے۔
قارئین کرام! صرف یہی نہیں بلکہ حاشیہ ابن عابدین میں مذکور ہے کہ صاحبین نے تقریباً ثلث مسائل میں اپنے امام کی مخالفت کی ہے۔
آخر میں میں ایک اور مثال دے کر اپنے موضوع کو سمیٹنا چاہوں گا۔
عاصم بلخی ابویوسف رحمہ اللہ کے معتقد ، امام محمدرحمہ اللہ کے شاگرد اور احناف کے ائمہ میں سے تھے۔ شیخ عبد الحی الکھنوی الحنفی اپنی کتاب الفوائد الالٰہیہ فی تراجم ائمۃ الحنفیۃکے اندر لکھتے ہیں کہ عاصم بلخی نماز میں رکوع جاتے ہوئے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا کرتے تھے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ ارکان اسلام کے پہلے رکن کے دو جزء ہیں ایک توحید کا اقرار کرنا دوسرا اطاعت رسول ﷺ کو مطلق طور پر بغیر کسی شرط کے ماننا اور اس کے علاوہ جو کوئی بھی ہوگا اس کی اطاعت شروط سے قبول کی جائے گی۔
آخر میں اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اسی عقیدہ مبارکہ پر باقی رکھے اور اسی پر ہمیں موت دے اور اسی پر ہمیں دوبارہ زندہ کرے ۔ آمین
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…