’’ان اقوام کے رسولوں نے فرمایا: کیا تم اللہ کے بارے میں شک کرتے ہو؟ جو آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے، وہ تمہیں بلاتا ہے کہ تمہارے گناہ بخش دے اور تمہیں ایک متعین مدت تک مہلت دے۔ انہوں نے کہا: تم تو ہمارے جیسے بشر ہو، تم چاہتے ہو کہ جن کی ہمارے باپ عبادت کیا کرتے تھے ان سے ہمیں روک دو، پس ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر آئو۔‘‘
’’وہی اللہ تمہارا رب ہے اور وہ ہر چیز کا خالق 1ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر تم کدھر بہکائے جا رہے ہو۔‘‘
ہر صاحب علم اور عقل مند انسان جانتا ہے کہ تمام ادیان اور اسلام کی بنیاد عقیدۂ توحید پر ہے۔ توحید کی ابتداء اللہ کی ذات کو ماننا اور اس کی صفات پر یقین کرنا ہے۔حضرات محترم! ایک مسلمان کے یقین کا دارو مدار اللہ کی پہچان پر ہے اور اس پہچان کا سب سے پہلا اور بڑا ایک ہی ذریعہ اور ثبوت ہے کہ وہ انسان اور پوری کائنات کا خالق ہے۔ اس کے سِوا اس کی پہچان کا کوئی طریقہ اور ذریعہ نہیں۔ اس حقیقت کے باوجود ہم پڑھتے اور سنتے ہیں کہ دنیا میں جن لوگوں کو سب سے بڑے انسان اور دانشور جانا جاتا ہے وہ سائنسدان ہیں۔ ان میں سے بہت سے سائنسدانوں کی یہ سوچ تھی اور ہے کہ یہ کائنات خود بخود معرضِ وجود میں آئی ہے، اسے کسی نے پیدا نہیں کیا، اور اس کا کوئی خالق نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ بے شمار انسان نہ صرف اپنی تخلیق کے مقصد کو بھول جائیں گے بلکہ وہ اپنے خالق یعنی وہ میری ذات کو بھی فراموش کر دیں گے۔ جب کہ یہ سب سے بڑی جہالت، جرم اور گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس جہالت سے نکالنے اور اس جرم سے بچانے کے لیے انبیاء کرام کا سلسلہ شروع فرمایا، جنہوں نے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی ذات کا تعارف کروایا کہ وہ انسان اور پوری کائنات کا خالق ہے۔
وجودِ باری تعالیٰ کے بارے میں دلائل پر بحث کرتے ہوئے امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’قرآن کے دلائل خوارک کی طرح ہیں جن سے ہر شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے اور فلسفیوں یعنی سائنسدانوں کے دلائل دوا کی طرح ہیں، جن سے مخصوص لوگ ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں، باقی لوگوں کو ان سے نقصان پہنچتا ہے۔‘‘
کیونکہ قرآن کریم کی دعوت ہر عام و خاص کے لیے ہے۔ اس کا طرز بیان، اسلوب استدلال فطری اور عام فہم ہے۔ اس کے دلائل واضح اور عام فہم ہونے کے باوجود ’’براہین قطعیہ‘‘ (Definitely Brain) ہیں۔ اسی لیے قرآن کریم کا ایک نام ’’برہان‘‘ ہے یعنی وہ قطعی اور غالب دلیل کہ جس کے مقابلے میں کوئی دلیل ٹھہر نہ سکے قرآن کے مقابلے، حکماء اور فلاسفہ کا طرزِ استدلال سرا سر مصنوعی اور تکلف پر مبنی ہوتا ہے۔ جس سے فریق مخالف کو خاموش تو کرایا جا سکتا ہے لیکن اس سے شرح صدر، اطمینانِ قلب اور حق کی معرفت حلاوت و بشاشت حاصل نہیں ہوتی، یہ لذت صرف قرآن مجید کے دلائل سے ہی حاصل ہوتی ہے۔
امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’لوگوں کے طرزِ استدلال کے مقابلے میں قرآن مجید کا طرزِ استدلال انسان کی سمجھ کے قریب تر اور بہت جلد عقل میں جگہ پانے والا ہے، قرآنی دلائل کی اصل عرض و غایت مجادلہ اور مناظرہ نہیں بلکہ اس کا اصل مقصد صحیح عقائد کو دلوں میں بٹھانا ہے اور اس کے لیے یہی طرزِ استدلال بہتر اور مؤثر ہو سکتا ہے۔ (تفسیر کبیر: البقرہ، آیت ۲۱، ۲۲)
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا ارشاد ہے:
’’انسانوں کو قرآن و سنت نے وہ براہین اور دلائل دیے ہیں جو دینی اصول و عقائد واضح کرنے والے ہیں، لیکن فلسفی قرآن کریم کے بیان کردہ عقلی دلائل اور قطعی براہین سے انکار کرتے ہیں۔ ‘‘
کائنات کے بارے میں ان لوگوں کے چار قسم کے خیالات ہیں، قرآن مجید نے تین گروہوں کی تردید کی ہے اور ایک طبقہ کی تحسین فرمائی ہے:
1۔ ایک گروہ کا خیال ہے کہ کائنات کی حیثیت وہم و گمان سے زیادہ نہیں جبکہ قرآن مجید کا ارشاد ہے:
’’اللہ وہ ہے کہ جس نے سات آسمان اور سات زمینیں بنائی ہیں وہ اُن کے درمیان حکم نازل کرتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے اور اللہ کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔‘‘
’’اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو بامقصد پیدا کیا ہے، یقیناً اس میں اہل ایمان کے لیے ایک سبق ہے۔ ‘‘
’’اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے تاکہ ہر شخص نے جو کیا ہے اسے اس کا بدلہ دیا جائے اور اُن پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘
2۔ دوسرے طبقہ کا خیال ہے کہ کائنات پیدانہیں کی گئی یہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی اس کی بھی قرآن مجید نے تردید کی اور بتلاتا ہے کہ اے انسان اور یہ کائنات خود بخود نہیں بلکہ انہیں اللہ اکیلے نے پیدا کیا ہے۔
’’وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے…… اور اسی نے ہر چیز پیدا کی ہے اور وہ ہر چیز کو پوری طرح جاننے والا ہے۔‘‘
’’وہ ابتداء سے زمین وآسمانوں کو پیدا کرنے والا ہے اور جب وہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اسے صرف حکم دیتا ہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے۔‘‘
’’کیا یہ کسی خالق کے بغیر پیدا ہوگئے ہیں؟ یا یہ خود اپنے آپ کے خالق ہیں؟ یا زمین اور آسمانوں کو انہوں نے پیدا کیا ہے ؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے۔‘‘
3۔ تیسرے گروہ کا خیال ہے کہ یہ کائنات ایک دھماکے سے معرضِ وجود میں آئی ہے اور یہ ہمیشہ رہے گی، حالانکہ قرآن مجید کے ارشاد کے مطابق یہ بات بھی حقیقت کے خلاف ہے:
’’کیا وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے حکم کا انکار کرتے ہیں وہ غور نہیں کرتے کہ زمین و آسمان آپس میں ملے ہوئے تھے ہم نے یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں الگ الگ کیا اور ہر جاندار چیز پانی سے پیدا کی؟ کیا پھر بھی وہ نہیں مانتے؟‘‘
’’کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا کہ وہ ان کی مثل دوبارہ پیدا کر سکے؟ کیوں نہیں وہ تو سب کچھ پیدا کرنے اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ جب وہ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اسے حکم دیتا ہے کہ ہو جا تو وہ اسی طرح ہو جاتا ہے۔‘‘
’’جو زمین پر ہے وہ فنا ہونے والا ہے، اور صرف تیرے رب کی جلیل اور کریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے۔‘‘
’’اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہ پکارو۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اس کی ذات کے سوا ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے حکمرانی اسی کی ہے اور اسی کی طرف تم سب لوٹائے جانے والے ہو۔ ‘‘
جو انسان اور کائنات کو پیدا کرنے والا ہے وہی اسے ختم کرنے والا ہے گویا کہ انسان اور کائنات ہمیشہ ہمیش کے لیے نہیں ہے۔
’’بیشک آسمانوں اور زمین کی تخلیق، رات، دن کا بدلنا ، لوگوں کو فائدہ پہنچانے، کشتیوں کا والی اشیاء کو لے کر سمندروں میں چلنا، آسمان سے پانی نازل کرنا اور زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کرنا، اس میں ہر قسم کے جانوروں کو پھیلانا، ہوائوں اور آسمان و زمین کے درمیان مسخر بادلوں کے رخ بدلنے میں یقیناً عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘
ہر آسمانی مذہب پر ایمان لانے والے سائنسدان کا عقیدہ ہے کہ کائنات کو پیدا کرنے والا ایک خالق ہے اور اس کائنات نے ایک دن فنا ہونا ہے اللہ تعالیٰ نے یہ عقیدہ رکھنے والوں کی تحسین فرمائی ہے:
’’آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کے آنے جانے میں عقلمندوں کے لیے یقیناً نشانیاں ہیں۔ وہ اللہ کا ذکر کھڑے، بیٹھے اور اپنے پہلوئوں پر لیٹے ہوئے کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش پر غور کرتے اور اقرار کرتے ہیں کہ اے پروردگار ! یہ سب کچھ تو نے بے فائدہ نہیں بنایا۔ تو پاک ہے، پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔‘‘
کسی دہریے نے امام جعفر صادق رحمہ اللہ کے سامنے اللہ تعالیٰ کی ہستی کا انکار کیا تو امام صاحب نے اس کے ساتھ ان الفاظ میں مکالمہ کیا:
امام رحمہ اللہ : کیا آپ نے کبھی کشتی میں سفر کیا ہے؟
منکرِ خدا : ہاں کیا ہے۔
امام جعفر رحمہ اللہ : کبھی دریائی حادثے کا شکار ہوئے ہو؟
خدا کا منکر : ہاں ایک مرتبہ سمندر میں طغیانی آئی جس سے کشتی ٹوٹ گئی اور ملاح ڈوب گیا، میں ایک تختے کے ساتھ چمٹ گیا، لیکن تھوڑی دیر بعد یہ تختہ بھی میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور میں دریا کی لہروں میں غوطے کھاتے ہوئے بڑی مشکل سے کنارے تک پہنچا۔
امام جعفر رحمہ اللہ : پہلے آپ کا بھروسہ کشتی اور ملاح پر تھا پھر تختے پر، کیا ان کے بعد تو نے اپنے آپ کو موت کے حوالے کر دیا تھا یا ابھی بچنے کی اُمید تھی؟
منکر : مجھے اس وقت بھی بچنے کی اُمید تھی۔
امام جعفر رحمہ اللہ : وہی کائنات کا بنانے والا ہے جس کی غیبی امداد پر آپ نے امید کر رکھی تھی اور اسی خالق و مالک نے تمہیں سمندر کی لہروں سے بچایا تھا۔ (تفسیر کبیر از امام رازی ، البقرہ: آیت ۲۰)
امام موصوف نے اپنے سادہ سے مکالمے میں وہی دلیل پیش فرمائی تھی جو قرآن کریم نے دی ہے:
’’وہی ذات ہے جو تمہیں خشکی اور سمندر میں چلاتا ہے ، یہاں تک کہ تم کشتیوں میں سوار ہو کر بادِ موافق پر خوشی ، خوشی سفر کر رہے ہوتے ہو، پھر اچانک تند و تیز ہوا چلتی ہے اور ہر طرف سے کشتی کو موجیں گھیر لیتی ہیںاور مسافر سمجھ جاتے ہیں کہ وہ طوفان میں گِھر گئے ہیں، اس وقت سب اپنی تابعداری اللہ تعالیٰ کے لیے وقف کر کے اس کو پکارتے ہیں کہ اگر تو نے ہمیں اس مصیبت سے نجات دے دی تو ہم تیرے شکر گزار بن جائیں گے۔‘‘
ان فرامین کی روشنی میں حقیقت یہ ہے کہ منکرِ خدا یعنی دہریے کے ذہن میں بھی غیبی مدد کرنے والے خدا کا تصور موجود ہوتا ہے یہ اس وقت تحت الشعور سے شعور یعنی دماغ کے پہلے حصے میں جاتا ہے جب خدا کا منکر مادی اور ظاہری اسباب سے مایوس ہو جاتا ہے، انسان کی اسی نفسیاتی کیفیت اور تحت الشعور کو شعور اور عقیدے میں لانے کے لیے ارشاد ہوا:
’’کیا دیکھتے نہیں ہو؟ کہ اللہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے ۔اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے، ہر کوئی ایک وقت مقرر تک چلا جا رہا ہے اور جوکچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے با خبر ہے۔یہ اس لیے ہے یقیناً اللہ کی ذات اور بات حق ہے اور اُسے چھوڑ کر جن کو تم پکارتے ہیں وہ سب باطل ہیں اور یقیناً ’’اللہ‘‘ ہی بلند وبالا اور بڑا ہے۔ کیا دیکھتے نہیں ہو کہ سمندر میں کشتی اللہ کے فضل سے چلتی ہے تاکہ اللہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے درحقیقت اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہے اور جب ان لوگوں پر موج سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہے تو اللہ کو پکارتے ہیں اوراپنی اطاعت اُسی کے لیے خالص کر لیتے ہیں ، جب اللہ انہیں بچا کر خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو ان میں سے کوئی ہی اپنے عہد پر قائم رہتا ہے اور ہماری نشانیوں کا انکار نہیں کرتا مگر ہر وہ شخص جو وعدہ خلافی کرنے والا اور ناشکرا ہے۔‘‘
’’وہی ہے جس نے سورج کو تیز روشنی والااور چاند کو روشن بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ، تاکہ تم سالوںکی گنتی اور حساب معلوم کرو۔ اللہ نے ان چیزوںکو بامقصد پیدا کیا ہے ۔ وہ ان لوگوں کے لیے آیات کوتفصیل سے بیان کرتا ہے جو جانتے ہیں۔ بے شک رات اور دن کے بدلنے اور ان چیزوں میں جو اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کی ہیں، یقیناً ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو ڈرنے والے ہیں ۔‘‘
’’جب کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو اپنی اطاعت کو اللہ کے لیے خالص کر لیتے ہیں اور اسی سے مانگتے ہیں۔ جب اللہ انہیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو وہ یکایک شرک کرنے لگتے ہیں۔‘‘
’’فرما دیں کہ کون تمہیں صحرا اور سمندر کے اندھیروں سے بچاتا ہے؟ تم اسے گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے بلاتے ہو کہ اس نے ہمیں اس مصیبت سے بچا لیا تو ہم اس کے شکر گزار بن جائیں گے۔‘‘
چند کیمونسٹ ایک دفعہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو قتل کرنے کے لیے آئے۔ حضرت امام نے فرمایا: پہلے میرے ساتھ مکالمہ کرو اگر تم مطمئن نہ ہو پائوتو جس طرح تمہاری مرضی کر لینا۔
امام صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا: تمہارا اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جو یہ کہتا ہے کہ میں نے ایسی کشتی دیکھی ہے کہ جو سامان سے لدی ہوئی ہے، اسے چاروں طرف سے موجوں اور تندو تیز ہوائوں نے گھیر لیا ہے لیکن اس کے باوجود وہ سیدھی چلی جا رہی ہے، حالانکہ نہ اس کا ملاح ہے اور نہ اس کے پیچھے سے کوئی دھکا لگا رہا ہے، فرمایا: کیا یہ بات مانی جا سکتی ہے؟
ملحدین کہنے لگے: عقل اس بات کو نہیں مانتی۔
حضرت امام رحمہ اللہ نے فرمایا: سبحان اللہ! جب دریا میں ایک کشتی ملاح کے بغیر نہیں چل سکتی اور عقل اس کو تسلیم نہیں کرتی تو یہ بات کس طرح عقل میں آسکتی ہے کہ وسیع و عریض کائنات کسی پیدا کرنے والے کے بغیر بن گئی ہے اور کسی چلانے والے کے بغیر چل رہی ہے۔
’’یہ سن کر وہ سب کے سب رونے لگے اور انہوں نے کہا کہ آپ نے سچ فرمایا ہے انہوں نے اپنی تلواریں نیام میں ڈال لیں اور توبہ کر کے واپس ہوئے۔‘‘
’’خلیفہ وقت ہارون الرشید نے امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے کی کیا دلیل ہے؟ امام موصوف نے آوازوں ، رنگوں کے تفاوت سے ثابت کیا کہ اس کائنات کا خالق موجود ہے۔‘‘ (تفسیر کبیر)
’’آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کے اختلاف ’’اللہ‘‘ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ یقیناً سمجھنے والوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں۔‘‘
’’اور وہی ہے جس نے باغات پیدا کیے جو چھپروں پرچڑھائے ہوئے اور نہ چڑھائے ہوئے اور کھجور کے درخت اورکھیتی جن کے پھل مختلف ہیں اور زیتون او ر انار ایک دوسرے سے ملتے جلتے اورنہ ملتے جلتے۔ اس کے پھل میں سے کھائو جب پھل لائے اور اس کے کاٹنے کے دن اس کا حق ادا کرو اور حد سے تجاوز نہ کرو ، یقیناً اللہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘(الأنعام: ۱۴۱)
ایک وفد نے حضرت امام شافعی رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اس بات کی کیا دلیل ہے کہ یہ دنیا قانونِ طبعی کی بنیاد پر قائم نہیں ہوئی۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: کیا ایک شہتوت کے پتوں کا ذائقہ ایک جیسا ہوتا ہے یا مختلف؟
منکرینِ خدا نے کہا: ایک جیسا ہوتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: غور فرمائو کہ ان پتوں کو جب ریشم کا کیڑا کھاتا ہے تو اس سے ریشم بنتا ہے، شہد کی مکھی کھاتی ہے تو اس سے شہد بن جاتا ہے، بکری کھاتی ہے تو وہ مینگیاں دیتی ہے اور جب ان کو ہرن کھاتا ہے تو اس سے کستوری نکلتی ہے، بتائیں وہ کون سی ہستی ہے جو ایک ہی طرح کے پتوں سے مختلف چیزیں پیدا کرتی ہے؟ حالانکہ وہ ایک ہی درخت کے پتے ہوتے ہیں اور ایک ہی پانی سے پیدا ہوتے اور پروان چڑھتے ہیں، یہ سن کر منکرینِ خدا نے امام موصوف کے استدلال کی تعریف کی اور آپ کے سامنے ایمان لے آئے۔ (تفسیر کبیر) امام صاحب نے اس آیت سے استدلال فرمایا۔
’’پھر مکھی ہر قسم کے پھلوں سے کھائے اور اپنے رب کے راستے پر چلے جو اس کے لیے آسان کیے گئے ہیں ان کے پیٹوں سے پینے کیلئے شہد نکلتا ہے جس کے رنگ مختلف ہوتے ہیں اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔ اس میں ان لوگوں کے لیے یقیناً نشانی ہے جو غوروفکر کرتے ہیں ۔‘‘
’’اور زمین کے ٹکڑے ایک دوسرے سے ملے ہوئے اور کچھ مختلف بھی ہیں، انگوروں کے باغ ، کھیتیاں اور کھجور کے درخت ہیں۔ ان میں ایک سے زیادہ تنوں والے اور ایک تنے والے بھی جنہیں ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے او ر ہم ان میں سے ایک دوسرے کو پھل میں فوقیت دیتے ہیں۔ اس میں ان لوگوں کے لیے یقیناً بہت سی نشانیا ں ہیں جو سمجھ رکھتے ہیں ۔‘‘
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا فرمان:’’ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے خالق کائنات کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے یہ دلیل دی کہ ایک قلعہ ہے کہ جس میں کوئی سوراخ اور دروازہ نہیں، جس کا ظاہری حصہ چاندی کی طرح ہے اور اس کا اندر سونے کی مانند ہے۔ اس قلعے کی اچانک دیوار پھٹ جاتی ہے اور اس میں سے ایک جانور نکلتا ہے جو سنتا بھی ہے اور دیکھتا بھی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ کام ایک خالق اور بنانے والے کا ہے جو اسے پیدا کرتا ہے وہی الٰہِ حق ہے۔ امام موصوف نے انڈے کی مثال دی جس سے زندہ چوزہ نکلتا ہے۔ (تفسیر کبیر)
’’الٰہی! تو ہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور تو ہی بے جان سے جاندار اور جاندار سے بے جان پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا کرتا ہے۔‘‘
ایک دفعہ وجودِ باری تعالیٰ کا ایک منکر شاہ ولی اللہ کے والد گرامی شاہ عبدالرحیم رحمہ اللہ کے ساتھ اللہ کی ذات کے بارے میں مناظرہ کر رہا تھا۔ شاہ صاحب اسے مسلسل دلائل دیے جا رہے تھے لیکن وہ کسی صورت ان کے دلائل پر توجہ دینے کو تیار نہیں تھا۔ اس صورت حال کو دیکھ کر شاہ ولی اللہ جن کی اس وقت عمر سترہ سال کے قریب تھی انہوں نے اپنے والد گرامی سے عرض کی کہ اگر اجازت ہو تو میں ان سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے اجازت دی تو شاہ ولی اللہ نے اس سے سوال کیا کہ آپ روح کو مانتے ہیں اس نے کہا کیوں نہیں، روح کے بغیر انسان اور کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا، روح ہی تو ہے جو ہمیں حرکت میں رکھتی ہے۔ شاہ صاحب نے فرمایا ٹھیک ہے تو اپنے جسم میں دکھائیں کہ اس وقت آپ کی روح کہاں ہے وہ شخص ششدر رہ گیا۔
’’اور وہ آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ فرما دیں روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔‘‘
ایک اَن پڑھ دیہاتی سے یہی سوال کیا گیا تو اس نے کہا:
’’مینگنی اونٹ پر دلالت کرتی ہے، لید گدھے کی نشانی ہے، قدموں کے نشان کسی مسافر کا ثبوت دیتے ہیں تو کیا برجوں والا آسمان، وسیع راتوں والی زمین اور ٹھاٹیں مارنے والا سمندر اپنے بنانے والے کی نشاندہی نہیں کرتا جو علم بھی رکھتا ہے اور قدرت بھی۔ ‘‘ (تفسیر کبیر)
’’اور آپ کے رب نے شہد کی مکھی کو وحی کی کہ وہ پہاڑوں ، درختوں اور جو لوگ چھپر بناتے ہیں ان پر اپنا گھر بنائے۔ پھر اپنے رب کے راستوں پر چل کر جو اس کے لیے آسان کر دیے گئے ہیں ہر قسم کے پھلوں سے کھائے اس کے پیٹ سے پینے کیلئے جو شہد نکلتا ہے اس کے رنگ مختلف ہوتے ہیں۔ اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔ان لوگوں کے لیے یقیناً اس میں نشانی ہے جو غوروفکر کرتے ہیں ۔‘‘
اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی، اس کے شہد بنانے کے عمل اور شہد کو اپنی قدرت کی نشانی قرار دیا ہے۔ اب تک کی معلومات کے مطابق مکھیوں کی بارہ ہزار کے لگ بھگ اقسام دریافت ہوئی ہیں۔
شہد کی مکھیاں اپنے رب کی وحی (الہام ) کے مطابق اپنے رب کے بتلائے ہوئے راستوں پر چلتی ہیں جن کا انہیں پتہ ہوتا ہے۔ یہ مکھیاں گندگی اور نجاست کے قریب نہیں جاتیں ۔ یہ صرف پھولوں اور پھلوں سے ہی رس’’Nectar‘‘حاصل کرتی ہیں۔ جسے خاص عمل کے ذریعے شہد میں تبدیل کرتی ہیں ۔
موجودہ دور میں سے پہلے جرمن سائنسدانوں نے تحقیق کی کہ ان مکھیوں کے عمل کے ذریعے ’’Royal Jelly‘‘بنتا ہے۔
شہد کی مکھیاں تین طرح کی ہوتی ہیں جن میں 1 ملکہ 2 کارکن ، شہد کی تلاش میں پھولوں ، پھلوں پر بیٹھتی ہیں۔ 3 وہ مکھیاں جوچھتوں میں رہتی ہیں ۔
بڑے چھتے میں بیس ہزار سے زائد مکھیاں ہوتی ہیں۔ ان میں ملکہ صرف ایک ہوتی ہے ۔ ملکہ ہر روز تقریباً ایک ہزار انڈے دیتی ہے۔ عام مکھی کی عمر تقریباً ۴۵ دن کے لگ بھگ ہوتی ہے جبکہ ملکہ کی عمر ایک سال کے قریب ہوتی ہے ۔ شہد کی مکھیاں ملکہ کے ساتھ نوکرانیوں کی طرح رہتی ہیں ۔ آیا مکھیاں ملکہ کے دیے ہوئے انڈوں والے خانوں کو ’’Royal Jelly ‘‘ اور زرِ گل ’’Pollen Grains‘‘ سے بھر کر موم سے بند کر دیتی ہیں اور پھر اس بند ڈبے میں انڈے سے لے کر بالغ مکھی کے مراحل طے ہوتے ہیں ۔
عام مکھیوں کے مقابلے میں ملکہ مکھی کی غذا بہت اچھی ہوتی ہے ۔ اسے ہمیشہ ’’Royal Jelly‘‘ہمیشہ ملتی رہتی ہے ۔
شہد کی مکھیاں سال میں قطرہ قطرہ کر کے پانچ سو کلو گرام رس Nectar حاصل کر لیتی ہیں۔ چھتے میں مکھیاں چھ ’’Hexagonal‘‘ خانے اس ترتیب اور تناسب سے بنتے ہیں کہ مکھیوں کی ’’Designing‘‘ اور انجینئرنگ پر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ کچھ مکھیاں موم بناتی ہیں جس سے چھتے کی تعمیر ہوتی ہے اور کچھ مکھیاں چھتے کی صفائی اور ’’Keeping House‘‘ پر مامورہوتی ہیں ۔ کارکن مکھیاں پھلوں ، پھولوں کے رس اور زرِ گل لاتی ہیں جبکہ گھریلو مکھیاں خاتون خانہ کی طرح اندرونی معاملات سنبھالتی ہیں ۔
مکھیاں 120سے لے کر 50 ڈگری فارن ہیٹ درجہ حرارت تک بآسانی اپنا کام انجام دیتی ہیں ۔ چھتے میں درجہ حرارت 92 ڈگری فارن ہیٹ تک رکھتی ہیں ۔ اگر ہنگامی طور پر موم کی زیادہ ضرورت پڑ جائے تو کچھ مکھیاں اُلٹی لٹک جاتی ہیں اور مزید موم سے تھیلیاں بھر کر چھتے کی حفاظت کرتی ہیں جو ایثار و قربانی کی بہترین مثال ہے ۔
چھتے کی خادم مکھیاں ناکارہ اور نکمی مکھیوں کو نہ صرف چھتے سے نکال دیتی ہیں بلکہ وہ ان کو ختم کر کے بہت دور لے جا کر پھینک دیتی ہیں۔
ہر مکھی کے چار پر اور دو آنکھیں ہوتی ہیں جو ساڑھے تین ہزار ننھی ننھی آنکھوں کا مجموعہ ہوتی ہیں۔ آنکھوں کے علاوہ مکھیوں کو دو اینٹینے بھی ہوتے ہیں۔ مکھی کی پچھلی ٹانگوں پر باریک باریک بال ہوتے ہیں جو پھولوں وغیرہ کا رس لاتے ہیں ۔
اللہ کی قدرت دیکھیے کہ شہد کی مکھیاں انسانی آنکھ سے بڑھ کر ’’Ultra Voilet‘‘شعاعوں کو پوری طرح پہچانتی اور جانتی ہیں اس عمل کو دیکھنے والے سائنسدان مکھیوں کی اُڑان ، ان کے طریقہ کار ، چھتے تک تیز رفتار سے سفر اور اپنی منزلوں کو پہچاننے جیسے امور پر انگشت بدنداں ہیں ۔ کارکن مکھی کو اپنا اور چھتے کا دفاع کرنے کے لیے ڈنگ مارنے کی قوت بھی ملی ہوتی ہے ۔ مگر مکھی ڈنگ مارنے کے تھوڑی دیر بعد خود بھی مر جاتی ہے۔
’’اور کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ اللہ نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا اور انہیں بناتے ہوئے اسے کوئی تھکاوٹ نہیں ہوئی، وہ پوری طرح قدرت رکھتا ہے کہ مُردوں کو زندہ کرے کیوں نہیں؟ یقیناً وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔‘‘
’’لوگو اگر تمہیں موت کے بعد جی اُٹھنے کے بارے میں شک ہے تو معلوم ہو نا چاہیے کہ ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ہے پھرنطفے سے پھرخون کے لوتھڑے سے پھرگوشت سے جو بوٹی مکمل بھی ہوتی ہے اور ناقص بھی تاکہ تم پر یہ حقیقت واضح کریں کہ ہم جس نطفے کو چاہتے ہیں ایک خاص وقت تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں۔ پھر تمہیں ایک بچے کی صورت میںنکالتے ہیں تاکہ تم جوان ہو جاؤ اور تم میں سے کسی کو اس کی جوانی سے پہلے ہی واپس بلالیا جاتا ہے اور کوئی ناکارہ عمر کی طرف پھیر دیا جاتا ہے تاکہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر نہ جان سکے اور تم دیکھتے ہو کہ زمین خشک ہوتی ہے پھر ہم نے اس پر بارش برسائی تو وہ یکا یک اُبھری اورپھول گئی اور اس نے ہرقسم کی خوش نما نباتات اگلنی شروع کر دی۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ ’’اللہ‘‘ حق ہے وہی مُردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
’’سو اللہ ہی تمہارا سچا رب ہے، پھر سچ کے بعد گمراہی کے سوا کیا ہے ؟ بس تم کہاں پھیرے جاتے ہو۔ ‘‘
حضرات! ان دلائل کی روشنی میں یہ ماننا پڑتا ہے کہ ذاتِ باری تعالیٰ موجود ہے، وہی کائنات کو پیدا کرنے ، چلانے اور اسے ختم کرنے والا ہے۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…