ریا کاری کا لغوی معنی :مکاری ،فریب ،اپنی نمود و نمائش کرنا ۔(فیروز اللغات )
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ریا کا معنی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’لوگوں کو دکھانے اور ان کی تعریف حاصل کرنے کے لیے کوئی عبادت کرنا ریا کہلاتا ہے۔ (فتح الباری ،ص:736)
قاضی ابوبکر رحمہ اللہ نے لکھا ہے :ریا یہ ہے کہ لوگوں پر اپنی عبادت کا مقصد کچھ ظاہر کرے لیکن دل میں کوئی دوسرا مقصد پوشیدہ ہو۔
بہرحال شرعی نقطۂ نظر سے صرف وہی عمل اہمیت یا ثواب کا مستحق قرار پاتا ہے جو صرف اللہ تعالی کے لیے اخلاص نیت سے کیا جائے۔ ایسا عمل جو اخلاص کے ساتھ کیا گیا ہو لیکن بعد میں کسی بھی وقت اسے بنیت ریاکاری بیان کر دیا جائے تو وہ بھی ریاکاری میں شامل ہو جاتا ہے۔
یاد رہے کہ کسی بھی عمل کی قبولیت کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ عمل شرک اور ریاکاری سے پاک ہو کیونکہ شرک و ریاکاری توحید کے بالکل منافی ہے۔
اللہ تعالی کا قران پاک میں ارشاد ہے۔
’’کہہ دیجیے کہ میں تو تم جیسا ہی ایک انسان ہوں میری جانب وحی کی جاتی ہے کہ سب کا معبود صرف ایک معبود ہے ،تو جسے بھی اپنے رب سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے۔ ‘‘(الکہف :110)
اس آیت کی تفسیر میں حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ لکھتے ہیں: عمل صالح وہ ہے جو سنت کے مطابق ہو یعنی جو اپنے رب کی ملاقات کا یقین رکھتا ہے اسے چاہیے کہ ہر عمل سنت نبوی ﷺکے مطابق کرے اور دوسرا یہ کہ اللہ تعالی کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے اس لیے کہ بدعت و شرک دونوں ہی اعمال کے ضائع ہونے کا سبب ہیں۔ (تفسیر احسن البیان )
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ شریک بنائے جانے والوں میں سب سے زیادہ میں شراکت سے مستغنی ہوں ،جس شخص نے بھی کوئی عمل کیا اور اس میں میرے ساتھ کسی اور کو شریک کیا تو میں اسے اس کے شریک کے ساتھ اکیلا چھوڑ دیتا ہوں۔ (صحیح مسلم :7475)
اس حدیث میں اللہ تعالی نے ایسے عمل سے متعلق بے پرواہی اور بے نیازی کا اظہار فرمایا ہے جس میں غیر کو بھی شریک کر لیا جائے اور ریا کرنے کی نیت چونکہ یہ ہوتی ہے کہ اس عمل کو اللہ تعالی کے علاوہ دوسرے لوگ بھی دیکھیں لہذا اس نے عمل میں دوسرے کو اللہ تعالی کا شریک بنا لیا اور جب یہ صورت حال ہو تو پھر وہ غنی مطلق کہاں اس عمل کو قبول فرمائے گا؟ یعنی وہ حصہ بھی قبول نہیں کرتا جو اس عمل میں اس نے اللہ تعالی کے لیے کیا ہے کیونکہ اس میں دوسرا بھی حصہ دار ہوتا ہے تو اللہ تعالی اپنا حصہ بھی چھوڑ کر اسی کو دے دیتا ہے اب وہ اس کا اجر اسی سے لے اللہ تو صرف وہ عمل قبول فرماتا ہے جو سارے کا سارا اللہ تعالی کے لیے خاص ہو کسی دوسرے کا حصہ نہ ہو۔
سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺنے فرمایا: لوگو! چھپے شرک سے بچو ،لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺچھپا شرک کیا ہے ؟نبی کریم ﷺنے فرمایا:چھپا شرک یہ ہے کہ ایک آدمی کھڑا ہو کر نماز ادا کرے اور اپنی نماز خوبصورت کرے اوراس لیے سنوارے کہ وہ لوگوں کی نظروں کو اپنی طرف اٹھتا دیکھ رہا ہوتا ہے یعنی وہ لوگوں کو دکھانے کے لیے نماز کو خوب سنوار کر پڑتا ہے پس یہ چھپا شرک ہے۔ (صحیح ابن خزیمہ :937)
اس شرک کو چھپا اس لیے کہا گیا ہے کہ انسان لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ اس کا یہ عمل خالص اللہ تعالی کے لیے ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ باطن میں وہ غیر اللہ کے لیے انجام دے رہا ہے کیونکہ وہ نماز اس لیے ٹھیک ادا کر رہا ہے کہ اسے لوگ دیکھ رہے ہیں۔
سیدناشداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺکے مقدس ترین دور میں ہم ریاکاری کو شرک اصغر سمجھا کرتے تھے ۔(مستدرک حاکم 4/329)
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں شرک اصغر میں مندرجہ ذیل افعال، اعمال اور اقوال سر فہرست ہیں۔
1۔معمولی قسم کی ریاکاری ۔
2۔کسی کام کو دکھلانے کی غرض سے اچھا کرنا ۔
3۔غیر اللہ کی قسم کھانا ۔
4۔یہ کہنا وہی ہوگا جو اللہ چاہے اور تم چاہو گے۔
5۔یہ کہنا ہے :یہ اللہ تعالی اور آپ کی طرف سے ہے (بلکہ کہا جائے: صرف اللہ تعالی کی طرف سے ہے۔)
6۔میں اور اللہ تعالی آپ کے ساتھ ہیں۔
7۔میرے لیے اللہ تعالی اور آپ کافی ہیں (بلکہ صرف اللہ تعالی کافی ہے)۔
8۔اللہ تعالی اور آپ پر ہی میرا اعتماد ہے(بلکہ اعتماد وتوکل صرف اللہ پر ہونا چاہیے)۔
9۔اگر اللہ تعالی اور آپ نہ ہوتے تو یہ کام نہ ہوتا۔
مندرجہ بالا امور بعض اوقات شرک اکبر کا مقام بھی حاصل کر لیتے ہیں اس میں کہنے والے کے عقیدے کا بہت بڑا دخل ہے ۔(مدارج السالکین2/344)
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں ان اقوال و اعمال سے محفوظ رکھے۔آمین
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا :’’جو انسان شہرت کا طالب ہو اللہ تعالی اس کی بندگی سب کو سنا دے گا اس طرح جو کوئی لوگوں کو دکھانےکے لیے نیک کام کرے گا اللہ تعالی قیامت کے دن اس کی ریاکاری ظاہر کر دے گا۔ (صحیح بخاری :6499)
اس حدیث کی شرح میں ہے جس نے کوئی اچھا کام اخلاص کے بغیر کیا اور لوگوں کو سنانے دکھلانے کے لیے عبادت کی اللہ تعالی قیامت کے دن اسے یہ سزا دے گا کہ اس کے باطن کو تمام لوگوں کے سامنے کھول کر رکھ دے گا اور پھر اپنے ہاں اسے کوئی اجر و ثواب نہیں دے گا۔
قیامت کے دن جہنم کا افتتاح اس قسم کے لوگوں سے کیا جائے گا جو دنیا میں ریاکاری اور نمائش کرتے ہوں گے ۔وہ اچھے کام محض نمود و نمائش اور اپنی شہرت حاصل کرنے کے لیے کرتے ہوں گے ۔اللہ تعالی ہمیں اس وبا سے محفوظ رکھے۔ (شرح ہدایت القاری)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا قیامت کے روز سب سے پہلا شخص جس کے خلاف فیصلہ آئے گا وہ ہوگا جسے شہید کر دیا گیا ،اسے پیش کیا جائے گا اللہ تعالی اسے اپنی عطا کردہ نعمت کی پہچان کرائے گا ،تو اسے پہچان لے گا ۔وہ پوچھے گاتو نے اس نعمت کے ساتھ کیا کیا ؟وہ کہے گا :میں نے تیری راہ میں لڑائی کی حتی کہ مجھے شہید کر دیا گیا ۔اللہ تعالی فرمائے گا :تو نے جھوٹ بولا ،تم اس لیے لڑے تھے کہ کہا جائے یہ شخص دلیر ہے اور یہی کہا گیا پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا تو اس آدمی کو منہ کے بل گھسیٹا جائے گا یہاں تک کہ آگ میں ڈال دیا جائے گا ۔
اور وہ آدمی جس نے علم پڑھا ،پڑھایا اور قرآن کی تلاوت کی اسے پیش کیا جائے گا اللہ تعالی اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا وہ پہچان لے گا ،وہ فرمائے گا تو نے ان نعمتوں کے ساتھ کیا کیا ؟وہ کہے گا :میں نے علم پڑھا اور پڑھایا اور تیری خاطر قرآن کی تلاوت کی ۔اللہ فرمائے گاتو نے جھوٹ بولا تو نے اس لیے علم پڑھا کہ کہا جائے یہ عالم ہے ،اور تو نے قران اس لیے پڑھا کہ کہا جائے کہ یہ قاری ہے اور وہ کہا گیا پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اسے منہ کے بل گھسیٹ کرآگ میں ڈال دیا جائے گا ۔
اور وہ آدمی جس پر اللہ تعالی نے وسعت کی اور ہر قسم کا مال عطا کیا اسے لایا جائے گا اللہ تعالی اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کروائے گا وہ پہچان لے گا اللہ تعالی فرمائے گا تم نے ان میں کیا کیا ؟وہ کہے گا :میں نے کوئی راہ نہ چھوڑی جوتجھے پسند ہے کہ مال خرچ کیا جائے مگر ہر ایسی راہ میں خرچ کیا ۔اللہ تعالی فرمائے گا تم نے جھوٹ بولا ،تم نے یہ سب اس لیے کیا تاکہ کہا جائے وہ سخی ہے ایسا ہی کہا گیا پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا تو اسے منہ کے بل گھسیٹ کرآگ میں ڈال دیاجائے۔ (صحیح مسلم :4923)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے ریاکاروں کا محاسبہ ہوگا ۔دوسرا یہ کہ اخلاص کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں چاہے بظاہر وہ عمل کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو لیکن ریاکاری کی وجہ سے اس سے ثواب ملنے کی بجائے عذاب ہوگا اور اس کا مرتکب جنت کی بجائے جہنم میں جائے گا۔
اللہ کے پیغمبر محمد ﷺنے اپنی امت کو ہر وہ چیز سکھلا دی جس کی وہ محتاج تھی خواہ اس کا تعلق دین سے ہو یا دنیا سے ایسے ہی ہر بھلائی کے راستے کی نشاندہی فرما دی گئی اور ہر برائی سے آگاہ کرنے کے بعد اس کے انجام سے بھی باخبر کر دیا ۔اب اس کے بعد کوئی بدبخت ہی رسول اللہ ﷺکی تعلیمات سے انحراف کر سکتا ہے۔
قربانی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی عظیم ترین سنت ہے یہ عمل اللہ تعالی کو اتنا پسند آیا کہ اس عمل کو قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے عظیم سنت قرار دیا گیا ۔
قربانی کا پہلا مقصد محض اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنا اور تقوی کا حصول ہونا چاہیے نہ کہ ریاودکھلاوا اور کسی کی خوشنودی بھی مقصود و مطلوب ہرگز نہ ہو مگر اللہ رب العزت کی رضا مقصود ہو ۔اللہ تعالی کا قران مجید میں ارشاد ہے۔
’’اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔ ‘‘(الکوثر :۲)
اس آیت میں بھی حکم ہے کہ اپنی نماز اور قربانی خالص اللہ تعالی کے لیے انجام دیں۔
آج ہم نے قربانی جیسے عظیم عمل کو بھی ذاتی تشہیر اور ریاکاری کا عمل بنا دیا ہے اگر قربانی میں شہرت اور دکھلانا مقصود ہو تو ایسی قربانی رد کر دی جاتی ہے قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :
’’بے شک اللہ تعالی متقین لوگوں ہی سے قبول کرتا ہے۔‘‘ (المائدۃ:27)
میں اور آپ دیکھ لیں کیا ہم متقی ہیں؟ اگر ہماری قربانی ریاکاری کی نظر ہو تو ہم نے اس عمل میں اللہ تعالی کا شریک بنا دیا اور جب یہ صورتحال ہو تو وہ غنی مطلق کہاں اس عمل کو قبول فرمائے گا؟
فرما دیجیے : بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت (قربانی )اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کے لیے ہے جو سارے جہاں کا مالک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔(الانعام :162، 163)
دعا ہے اللہ تعالی ہمیں اس آیت کا مصداق بنائےاور ہمارے اعمال کو اخلاص وقبولیت کاشرف عطا فرمائے اور ہر طرح کے شرک و نفاق اور ریا سے محفوظ رکھے ۔آمین
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…