جہمی کو یہ جواب دیا جائے گا ، جب وہ سوال کرے کہ قرآن کے متعلق بتاؤ کہ یہ اللہ تعالیٰ ہے یا اللہ تعالیٰ کا غیر؟ اس کو جواب دو: اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ایسا نہیں فر مایا: کہ قرآن میں ہوں اور نہ یہ کہا ہے کہ قرآن میرا غیر ہے۔بلکہ فر مایا یہ میرا کلام ہے۔ پس ہم قرآن کو وہ نام دیتے ہیں جو نام اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ ہم نے کہا: یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے پس جس نے قرآ ن کو وہ نام دیا جو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے تو وہ ہدایت یافتہ میں سے ہے۔اور جس نے قرآن کے لئے کوئی دوسرا نام بولا تو وہ گمراہوں میں سے ہے۔ اور یقیناً اللہ تعالیٰ نے اپنے قول اور خلق کے درمیان فرق کر دیا ہے۔ اور اس کو کبھی بھی اپنا قول نہیں کہا ہے ، جیسا کہ فرمایا: آگاہ رہو اللہ تعالیٰ کے لئے ہی خالق ہو نا اور حاکم ہو نا خاص ہے”جب فر مایا: اسی کے لئے خالق ہو ناہے، تو کوئی چیز مخلوق ہو نے سے نہیں بچی مگر جو اس میں داخل تھا۔پھر وہ چیز ذکر جو مخلوق نہیں ہے، فرمایا “ اور اس کا حکم” یعنی جو اس کا قول ہے،رب العالمین بہت بلند ہے اس بات سے اس کا قول مخلوق ہو، اور فرمایا: یقیناً ہم نے اسے با بر کت رات میں اتارا ہے۔ بے شک ہم ڈرانے والے ہیں،اس رات میں ہر مضبوط کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔” پھر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کہا یہ ہماری طرف سے امر یعنی حکم ہے اور اللہ تعالیٰ کا قول ہے“اس سے پہلے اور اس کے بعد بھی اختیار اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔”یعنی فر ماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے قول (امر) ہے خلق سے پہلے اور خلق کے بعد بھی اور اللہ تعالیٰ پیدا کر تا ہے اور حکم دیتا ہے اور اس کا قول اس کی مخلوق کے علاوہ ہے۔اور فر مایا: یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمھاری طرف اتارا ہے”اور فر مایا: یہاں تک کہ جب ہمار احکم آپہنچا اور تنور ابلنے لگا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے قول اور اپنے خلق کے درمیان فصل کیا: جب اللہ تعالیٰ کسی ایک چیز کو دو ناموں یا تین ناموں سے پکارے تو وہ مر سل ہوتے ہیں۔ منفصل نہیں ہو تے۔اور جب مختلف چیزوں کو بیان کرتا ہے تو ان کو مر سل ناموں سے نہیں پکارتا جب تک اس کے درمیان فصل نہ کرے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے:“اے عزیز مصر! اس کے والد بہت بڑی عمر کے بالکل بوڑھے ہیں۔ تو یہ چیز جس کو تین نام دیئے گئے اور تینوں مر سل ہیں اور ایسے نہیں فر مایا کہ اس کے والد اور بڑی عمر کے اور بوڑھے یعنی واو سے علیحدہ نہیں کیا،اور فر مایا :اگر وہ پیغمبر تمھیں طلاق دے دیں تو بہت جلد انہیں ان کا رب! تمھارے بدلے تم سے بہتر عنایت فر مائے گا۔ جو اسلام والیاں ، ایمان والیاں ، اللہ کے حضور جھکنے والیاں ، توبہ کر نے والیاں ، عبادت بجا لانے والیاں ، روزے رکھنے والیاں ہوں گی۔پھر کہا: “ثَيِّبَاتٍ” تو یہ نام ایک ہی چیز کانام ہے تو مرسل نہیں رکھا۔ لیکن جب مختلف چیزوں کا تذکرہ کیا تو ان کے در میان فصل کر دیا (یعنی واو عطف رکھا) جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا (ثَيِّبَاتٍ) پھر کہا (وَأَبْكَارًا) جب ابکر (کنوارہ) ثیّب(شادی شدہ) کا غیر ہے تو اس کو بغیر فصل نہیں چھوڑا اس لئے اللہ تعالیٰ نے وَأَبْكَارًاکہا ہے ۔ ( یعنی واو عطف لے آئے ) اور فر مایا: اور نہیں برابر اندھا ” پھر فر مایا “ اور آنکھوں والا” پس جب دیکھنے والا اندھے کا غیر ہے تو دونوں کے در میان فصل کیا۔ (اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں) پھر فر مایا : اور نہ تا ریکی اور روشنی ” اور نہ چھاؤں اور نہ دھوپ” پس ان چیزوں میں جب ہر چیز دوسرے سے مختلف ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے در میان فصل کیا۔
پھر فر مایا: وہی (اللہ)بادشاہ ، نہایت پاک ، سب عیبوں سے صاف ، امن دینے والا، نگہبان ، غالب ، روز آور اور بڑائی والا۔ تو یہ تمام نام ایک ہی ذات کے ہیںاس لئے مر سل ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان فصل نہیں کی اور اس طرح جب اللہ نے فر مایا: آگاہ رہو اسی کے لئے خالق ہو نا خاص ہے ” پھر فر مایا: “ اور حاکم ہو نا ” تو یہ فصل اس لئے کیا کیو نکہ خلق ،امر کے علاوہ ہے۔
باب:“ قرآن وحی ہے اور مخلوق نہیں ہے”
اس کا فر مان ہے: “ قسم ہے ستارے کی جب وہ گرے” اور قریش نے کہا کہ یہ قرآن شعر ہے ۔ کہا “ یہ تو کچھ نہیں صرف بے باتیں ہیں جو پہلوں سے چلی آرہی ہیں”ٹکہا: “ انہوں نے جواب دیا کہ یہ تو اڑتے اڑتے پریشان خواب ہیں۔” اور انہوں نے کہا: محمدﷺ اس کو اپنی طرف سے بیان کر تا ہے۔کہا: “یہ کسی دوسرے سے سیکھتا ہے” پس اللہ تعالیٰ نے ستارے کی قسم اٹھائی۔ “ قسم ہے ستارے کی جب وہ گرے کہ تمھارے ساتھی نے نہ راہ گم کی ہے نہ وہ ٹیڑھی راہ پر ہے یعنی (محمدﷺ) نے راستہ گم نہیں کیا” اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے کہ محمدﷺ اپنی طرف سے یہ قرآن بیان نہیں کر تا ہے۔
اللہ تعالیٰ آگے فر ماتا ہے (ان ھو) یعنی قرآن تو صرف وحی ہے ۔ پس اللہ تعالیٰ نے باطل کیا کہ قرآن وحی کے علاوہ کوئی اور چیز ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فر مان کہ (ان ھو) یعنی (ما ھو) یعنی صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے۔ پھر کہا (علمه) یعنی جبریل علیہ السلام نے محمدﷺکو قرآن سکھایا اور وہ “پوری طاقت والے فر شتے”جو زور آور ہے پھر وہ سیدھا کھڑا ہو گیا”پس اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو بھی پہنچائی پس قرآن کو اللہ نے وحی کا نام دیا اور قرآن کو خلق نہیں کہا۔
پھر جہم ایک اور دعویٰ کرے گا۔ پس کہا: ہمیں قرآن کے بارے بتلاؤ کیا وہ ایک چیز ہے؟ ہم نے کہا :ہاں! وہ ایک چیز تو ہے اس نے پھر کہا: “بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے” تو پھر قرآن دوسری اشیاء کی طرح مخلوق کیوں نہیں ہے؟اورتحقیق تم نے اس بات کا اقرار بھی کیا ہے کہ قرآن ایک چیز ہے؟
قسم ہے میری عمر کی جہمی نے ایک دوسری چیز کا دعویٰ کیا اور لوگوں کو اپنے دعویٰ سے خلط ملط کیا۔
ہم نے کہا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اپنے کلام کو شی نہیں کہاہے اس نے اس شی کو صرف اپنے قول سے کیا ہے۔کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا ہے “ ہم جب کسی چیز کا ارادہ کر تے ہیں تو صرف ہمارا یہ کہہ دینا ہو تا ہے کہ ہو جا ، پس وہ ہو جاتی ہے ” پس چیز اس میں فر مایا: وہ جب کسی چیز کا ارادہ کر تا ہے ” پس چیز اس کا امر نہیں ہے بلکہ چیز تو اس کے امر کے ساتھ ہو تی ہے۔ دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام اشیاء کے ساتھ مخلوق نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس ہوا کے بارے میں فر مایا جو عاد پر بھیجی گئی تھی۔“ وہ جس چیز پر گر تی تھی اسے نہیں چھوڑتی تھی ” اور فر مایا “ جو اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو ہلاک کر دے گی” اور یہ ہوا بلا شبہ ان چیزوں پر بھی آئی جو تباہ نہ ہو ئے مثلاً ان کے گھر، مکان اور ان کے آس پاس پہاڑ تو یہ ہو ا ان سب چیزوں پر آئی لیکن ان کو تباہ نہ کیا جبکہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: ہر چیز کو ہلاک کر دے گی” اسی طرح جب اللہ تعالیٰ نے فر مایا: “اللہ ہی تمام چیزوں کا خالق ہے” مگر اپنے نفس علم اور کلام کا دوسرے اشیاء کی طرح خالق نہیں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ملک سباء کے بارے میں فر مایا: “ جسے ہر قسم کی چیز سے کچھ نہ کچھ دیا گیا ہے”جبکہ دوسری طرف سلیمان علیہ السلام کی بادشاہی بھی ایک چیز تھی اور اللہ تعالیٰ نے سباء کو نہیں دی تھی اس طرح جب اللہ تعالیٰ نے فر مایا : اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے۔ لیکن اپنے نفس علم اور کلام کا خا لق نہیں ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے فر مایا: اور میں نے تجھے خاص اپنی ذات کے لئے پسند فرما لیا”اور فر ما یا “اللہ تعالیٰ نے مہر بانی فر ما نا اپنے اوپر لازم فر ما لیا ہے”
اور عیسیٰ علیہ السلام نے فر مایا:“ تو میرے دل کی اندر کی بات بھی جانتا ہے اور میں تیرے نفس میں جو کچھ ہے اس کو نہیں جا نتا تمام غیبوں کو جاننے والا تو ہی ہے”اور پھر اللہ تعالیٰ نے فر مایا: “ ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے”پس جس کو اللہ تعالیٰ نے عقل و شعور دیا تو اس کو معلوم ہوا کہ دوسرے نفوس کی طرح جن پر موت آئے گی اللہ تعالیٰ کی نفس پر موت نہیں آئے گی، جبکہ اللہ تعالیٰ نے آیت میں “ کل” کا لفظ استعمال کیا ہے۔ پس اس لئے جب اللہ تعالیٰ نے کہا: ہر چیز کو پیدا کیا” تو اس کا معنی یہ نہ ہو گا کہ اللہ نے اپنے نفس ، علم اور کلام کو بھی دوسری اشیاء کی طرح پیدا کیا۔ پس اس میں عقل والوں کیلئے دلیل اور بیان ہے۔
امام احمد نےفر مایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کر ے جس نے غور کیا اور کتاب و سنت کے مخالف قول سے رجوع کیا اور اللہ تعالی کے بارے میں صرف حق بات کہی۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق سے وعدہ لیا ہے۔ پس فر مایا: “کیا ان سے اس بات کے اس مضمون کا عہد نہیں لیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف حق بات کہے اور کسی بھی بات کی نسبت نہ کریں” اور دوسری آیت میں ارشاد فر مایا: آپ فر مایئے کہ البتہ میرے رب نے صرف حرام کیا ہے ان تمام فحش باتوں کو جو علانیہ ہیں اور جو پو شیدہ اور ہر گناہ کی بات کو اور نا حق کسی پر ظلم کر نے کو اور اس بات کو کہ تم لوگ اللہ کے ذمے ایسی بات لگا دو جس کو تم جانتے نہیں۔”پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر جھوٹ بو لنے سے منع/حرام کیا ہے اور بےشک اللہ تعالیٰ نے کہا “اور جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ قیامت کے دن ان کے چہرے سیاہ ہو گئے ہو نگے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو گمراہوں کے فتن سے بچائے۔
اور اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کئی جگہوں پر اپنے کلام کا ذکر کیا تو اس کو بھی کلام کہا اور اس کو مخلوق نہیں کہا۔اللہ تعالیٰ کا فر مان ہے: “آدم نے اپنے رب سے چند باتیں سیکھ لیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی” اور فر مایا: یہاں تک کہ وہ کلام اللہ سن لے” اور فر مایا: “ اور جب موسیٰ علیہ السلام ہمارے وقت پر آئے اور ان کے رب نے ان سے باتیں کیں”اور فر مایا:“ اے موسیٰ!میں نے پیغمبری اور اپنی ہم کلامی سے لوگوں پر تم کو امتیاز دیا ہے۔”اور فر مایا: “ اور موسیٰ سے اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر کلام کیا”اور فر مایا: سو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی اُمی پر جو کہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے کلام(احکام) پر ایمان رکھتے ہیں” پس اللہ نے خبر دی کہ نبی اللہ تعالیٰ اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتے ہیں۔اور فر مایا: “وہ چاہتے ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو بدل دیں”اور فرمایا: کہہ دیجئے کہ اگر میرے پر ور دگار کی باتوں کو لکھنے کےلئے سمندر سیاہی بن جائے تو وہ بھی میرے رب کی باتوں کے ختم ہو نے سے پہلے ہی ختم ہو جائے گا” اور فر مایا: “اگر مشرکوں میں سے کوئی تجھ سے پناہ طلب کرے تو تو اسے پناہ دے دے۔یہاں تک کہ وہ کلام اللہ سن لے پھر اسے اپنی جائے امن تک پہنچا دے”اور یہ نہیں فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا خلق سن لے۔ یہ واضح عر بی زبان میں دلیل ہے۔اس کی تفسیر کی ضرورت نہیں اور اللہ کے فضل سے یہ واضح ہے۔
(امام احمدنے فر مایا)اور میں نے جہمیہ سے پو چھا: کیا اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں کہا ہے: “( اے مسلمانو!) تم سب کہو ہم اللہ پر ایمان لائے۔ اور لوگوں کو اچھی باتیں کہنا” اور صاف اعلان کر دو کہ ہمارا تو اس کتاب پر بھی ایمان ہے اور جو ہم پر اتاری گئی ہے۔اور سیدھی سیدھی بات کیا کرو۔‘‘تو تم گواہ رہو ہم تو مسلما ن ہیں۔اور اعلان کر دے کہ سراسر برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے” اور کہہ دیں (اچھا بھائی) سلام انہیں عنقریب (خود ہی) معلوم ہو جائے گا”اور ہم نے اللہ تعالیٰ کو یہ فر ماتے ہو ئے نہیں سنا کہ کہومیرا کلام مخلوق ہے۔ (جاری ہے)
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…