محترم قارئین کرام ! رسول معظم ﷺ نمازِ اشراق کی ادائیگی کے بعد گھر میں آتے تھے گھر میں داخل ہونے کے کچھ آداب ہیں جن کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔
٭ اچانک گھر میں داخل نہ ہوں بلکہ گھر والوں کو کسی بھی ذریعہ سے مثلاً : دستک یا کال بیل بجا کراپنی آمد کی خبر دیں ،
٭ اہل خانہ کو سلام کریں جیسا کہ رسول اللہ انے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرو اس سے تم پر اور اہل خانہ پر رب العالمین کی برکتیں نازل ہونگی ۔(ترمذی /۲۶۹۶ ، کتاب الإستئذان والآداب ،وحسَّنَہُ الشیخ عبد القادر الارنؤوط)
اسی طرح جو شخص سلام کرکے گھر میں داخل ہوتاہے اس شخص کو اللہ رب العزت جنت میں داخلے کی ضمانت دیتے ہیں ۔(ابوداؤد :۲۴۹۴، اسنادہ صحیح)
اسی طرح صحیح مسلم میں جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام لیتاہے تو شیطان اپنے رفیقوں سے کہتاہے کہ نہ تمہارے رہنے کا یہاں ٹھکانہ ہے نہ کھاناہے اور جب انسان گھر میں داخل ہوتے وقت یا کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا تو شیطان (خوش ہوکر) اپنے رفیقوں سے کہتاہے تمہارے رہنے کا ٹھکانہ بھی ہوا اور تمہارے کھانے کا بندوبست بھی ہوگیا۔
٭گھر میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھیں ۔
ترجمہ:’’اے اللہ میں آپ سے داخل ہونے اور نکلنے کی بھلائی چاہتاہوں اللہ ہی کے نام سے ہم نکلتے اور داخل ہوتے ہیں اور ہم اللہ پر ہی (جوکہ ہمارا رب) ہے توکل اور بھروسہ کرتے ہیں۔‘‘
اس کے بعد رسول عربی ﷺ اپنے اہلخانہ سے پوچھتے کہ کیا کوئی کھانے کی چیز ہے اگر تو گھر میں کچھ کھانے کو میسرہوتا تو رسول اللہ ﷺ کو مہیا کردیا جاتا اور اگرگھر میں کھانے کوکچھ بھی نہ ہوتا تو رسول صابر ا اس دن کے روزے کی نیت کرلیتے تھے۔ (عن عائشہ رضی اللہ عنہا ،مسلم :۱۱۵۴ )
کھانے کے بعد داعی اعظم ﷺ اپنی دعوتی اصلاحی، گھریلو زندگی میں مشغول ہوجاتے۔
سنن ترمذی میں صحیح روایت ہے کہ رسول عربی ﷺ زوال کے بعد اور ظہر سے پہلے چار کعتیں ادا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اس وقت آسمان کے دروازے واہ ہوتے ہیں پس میں چاہتاہوں کہ میرا اس وقت نیک عمل بارگاہ الٰہی میں پہنچا دیا جائے۔ (عن عبد اللہ بن سائب ص ، ترمذی :۴۷۶ تحفہ وصححہ الشیخ سلیم بن عید الہلالی فی تحقیق الأذکار للنووی رحمہ اللہ )
نمازِ ظہر
رسول اللہ ﷺ آذان ظہر کے بعد فوراً نماز کی تیاری میں مشغول ہوجاتے تھے (وضوء اور نماز کے معمولات محمدیہ ا آئندہ لکھے جائیں گے۔ اِن شاء اللہ) جبکہ ظہر کی سنتوں کی تعداد کے بارے میں مختلف احادیث وارد ہیں جن سے معلوم ہوتاہے کہ ظہر کی (۴) یا (۶) رکعتیں سنت ہیں۔
چار رکعتوں کی دلیل
سیدناابن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دس رکعتیں (علاوہ فرض) حفظ کیں دو رکعتیں ظہر سے پہلے اور دو ظہر کے بعد اسی طرح دو دو رکعتیں مغرب اور عشاء کے بعد اور صبح کی نماز سے پہلے ۲ رکعتیں ۔( رواہ البخاری)
اسی طرح مسند احمد میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ آپ ﷺ ظہر سے پہلے اور اس کے بعد دودو رکعتیں ترک نہیں کرتے تھے۔
چھ رکعتوں کی دلیل
بعض احادیث نبویہ میں سنتِ ظہر کی تعداد چھ تک مذکور ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں عبد اللہ بن شقیق روایت کرتے ہیں کہ میں نے صدیقہ کائنات عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کی بابت دریافت کیا تو آپ رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ آپ ﷺ ظہر سے پہلے چار اور ظہر کے بعد دو رکعتیں ادا کرتے تھے۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…