Categories: اگست2009

معمولات النبی ﷺ

محترم قارئین کرام ! رسول معظم ﷺ نمازِ اشراق کی ادائیگی کے بعد گھر میں آتے تھے گھر میں داخل ہونے کے کچھ آداب ہیں جن کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔

٭ اچانک گھر میں داخل نہ ہوں بلکہ گھر والوں کو کسی بھی ذریعہ سے مثلاً : دستک یا کال بیل بجا کراپنی آمد کی خبر دیں ،

٭ اہل خانہ کو سلام کریں جیسا کہ رسول اللہ انے سیدنا انس بن مالک  رضی اللہ عنہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرو اس سے تم پر اور اہل خانہ پر رب العالمین کی برکتیں نازل ہونگی ۔(ترمذی /۲۶۹۶ ، کتاب الإستئذان والآداب ،وحسَّنَہُ الشیخ عبد القادر الارنؤوط)

اسی طرح جو شخص سلام کرکے گھر میں داخل ہوتاہے اس شخص کو اللہ رب العزت جنت میں داخلے کی ضمانت دیتے ہیں ۔(ابوداؤد :۲۴۹۴، اسنادہ صحیح)

اسی طرح صحیح مسلم میں جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام لیتاہے تو شیطان اپنے رفیقوں سے کہتاہے کہ نہ تمہارے رہنے کا یہاں ٹھکانہ ہے نہ کھاناہے اور جب انسان گھر میں داخل ہوتے وقت یا کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا تو شیطان (خوش ہوکر) اپنے رفیقوں سے کہتاہے تمہارے رہنے کا ٹھکانہ بھی ہوا اور تمہارے کھانے کا بندوبست بھی ہوگیا۔

٭گھر میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھیں ۔

’’اَللّٰہُمَّ إِنیِّ أَسْئَلُکَ خَیْرَ الْمَوْلِجِ وَخَیْرَ الْمَخْرَجِ بِاسْمِ اللّٰہِ وَلَجْنَا بِاسْمِ اللّٰہِ خَرَجْنَا وَعَلَی اللّٰہِ رَبِّنَا تَوَکَّلْنَا ۔(رواہ ابوداؤد/۵۰۹۶ صححہ الشیخ عبد القادر الارنؤوط فی تحقیق زاد المعاد لابن القیم )

ترجمہ:’’اے اللہ میں آپ سے داخل ہونے اور نکلنے کی بھلائی چاہتاہوں اللہ ہی کے نام سے ہم نکلتے اور داخل ہوتے ہیں اور ہم اللہ پر ہی (جوکہ ہمارا رب) ہے توکل اور بھروسہ کرتے ہیں۔‘‘

اس کے بعد رسول عربی ﷺ اپنے اہلخانہ سے پوچھتے کہ کیا کوئی کھانے کی چیز ہے اگر تو گھر میں کچھ کھانے کو میسرہوتا تو رسول اللہ ﷺ  کو مہیا کردیا جاتا اور اگرگھر میں کھانے کوکچھ بھی نہ ہوتا تو رسول صابر ا اس دن کے روزے کی نیت کرلیتے تھے۔ (عن عائشہ رضی اللہ عنہا ،مسلم :۱۱۵۴ )

کھانے کے بعد داعی اعظم ﷺ اپنی دعوتی اصلاحی، گھریلو زندگی میں مشغول ہوجاتے۔

سنن ترمذی میں صحیح روایت ہے کہ رسول عربی ﷺ زوال کے بعد اور ظہر سے پہلے چار کعتیں ادا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اس وقت آسمان کے دروازے واہ ہوتے ہیں پس میں چاہتاہوں کہ میرا اس وقت نیک عمل بارگاہ الٰہی میں پہنچا دیا جائے۔ (عن عبد اللہ بن سائب ص ، ترمذی :۴۷۶ تحفہ وصححہ الشیخ سلیم بن عید الہلالی فی تحقیق الأذکار للنووی رحمہ اللہ )

نمازِ ظہر

رسول اللہ ﷺ  آذان ظہر کے بعد فوراً نماز کی تیاری میں مشغول ہوجاتے تھے (وضوء اور نماز کے معمولات محمدیہ ا  آئندہ لکھے جائیں گے۔ اِن شاء اللہ) جبکہ ظہر کی سنتوں کی تعداد کے بارے میں مختلف احادیث وارد ہیں جن سے معلوم ہوتاہے کہ ظہر کی (۴) یا (۶) رکعتیں سنت ہیں۔

چار رکعتوں کی دلیل

سیدناابن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دس رکعتیں (علاوہ فرض) حفظ کیں دو رکعتیں ظہر سے پہلے اور دو ظہر کے بعد اسی طرح دو دو رکعتیں مغرب اور عشاء کے بعد اور صبح کی نماز سے پہلے ۲ رکعتیں ۔( رواہ البخاری)

اسی طرح مسند احمد میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ آپ ﷺ ظہر سے پہلے اور اس کے بعد دودو رکعتیں ترک نہیں کرتے تھے۔

چھ رکعتوں کی دلیل

بعض احادیث نبویہ میں سنتِ ظہر کی تعداد چھ تک مذکور ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں عبد اللہ بن شقیق روایت کرتے ہیں کہ میں نے صدیقہ کائنات عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کی بابت دریافت کیا تو آپ رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ آپ ﷺ ظہر سے پہلے چار اور ظہر کے بعد دو رکعتیں ادا کرتے تھے۔

الشیخ محمد طیب معاذ

Recent Posts

حج کے پس پردہ ایک عظیم انتظامی معجزہ

ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…

6 days ago

عاشوراء کا روزہ دس محرم الحرام کو رکھنا ہی راجح ہے

رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…

6 days ago

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتے

قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…

6 days ago

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور جوارِ نبوی ﷺ کی سعادت

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…

6 days ago

یہ تھے ہمارے عمر فاروق رضی اللہ عنہ

زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…

6 days ago

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…

6 days ago