Categories: اگست2009

محبت رسول  ﷺ اور اس کے تقاضے

اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

{النَّبِیُّ أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِینَ مِنْ أَنْفُسِہِمْ وَأَزْوَاجُہُ أُمَّہَاتُہُمْ وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُہُمْ أَوْلَی بِبَعْضٍ فِی کِتَابِ اللَّہِ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُہَاجِرِینَ إِلَّا أَنْ تَفْعَلُوا إِلَی أَوْلِیَائِکُمْ مَعْرُوفًا کَانَ ذَلِکَ فِی الْکِتَابِ مَسْطُورًا }(الاحزاب:۶)

’’نبیﷺ مومنوں پر ان کی ذات سے زیادہ حق رکھتاہے اور اس کی بیویاں ان کی مائیں ہیں اور رشتہ دار اللہ کی کتاب کے مطابق ایک دوسرے کیلئے مومنوں اور مہاجروں سے زیادہ حقدار ہیں سوائے اس کے کہ تم اپنے دوستوں کیلئے پسندیدہ طور پر کچھ کرو ۔ یہ کتاب میں لکھا ہوا ہے۔‘‘

اسلام اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کا نام ہے اور اس ایمان کی سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ انسان کو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ باقی تمام چیزوں سے زیادہ محبت ہو اللہ کی محبت ایسی محبت کہ اس کے ساتھ کوئی بڑے سے بڑا انسان بھی اس محبت میں شریک نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

{وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّہِ أَنْدَادًا یُحِبُّونَہُمْ کَحُبِّ اللَّہِ وَالَّذِینَ آَمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّہِ}(البقرۃ:۱۶۵)

’’کچھ لوگوں نے ایسے شریک بنا رکھے ہیں جن کے ساتھ وہ ایسی محبت کرتے ہیں جو کہ اللہ کے ساتھ کرنی چاہیے۔‘‘ایمان والوں کی محبت تو اللہ کے ساتھ سب سے زیادہ ہوتی ہے ۔ اس سے بڑھ کر کسی کے ساتھ بھی ایمان والوں کی محبت نہیںہوتی ۔اس کے بعد پھر رسول کریم  ﷺ کی محبت ہے وہ اس طرح ہے کہ ایک طرف اللہ کے رسول  ﷺ ہوں اور دوسری طرف کائنات کی کوئی بھی چیز ہو ، جب تک انسان رسول اللہ ﷺ کی محبت پر کسی دوسرے کو ترجیح دیتاہے ، وہ سمجھ لے کہ اس کا ایمان مکمل نہیں ہوا جتنی اس محبت میں کمی ہوگی اتنی ہی ایمان میں کمی ہوگی چنانچہ رسول معظم  ﷺ   فرماتے ہیں :

’’وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لاَ یُوْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتَّی اَکُوْنَ اَحَبَّ إِلَیْہِ مِن وَّالِدِہِ وَوَلَدِہِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِیْنَ ‘‘۔

’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ جب تک میں تم میں سے اپنے بیٹے اور والدین اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں اس وقت تک کوئی شخص صاحب ایمان اور مسلمان نہیں ہوسکتا۔‘‘

اللہ نے ہمیں پیدا فرمایا ہے ہماری خواہشیں ، ہماری دلچسپیاں اور ہماری محبتیں اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا۔ اللہ نے فرمایا :

{قُلْ إِنْ کَانَ آَبَاؤُکُمْ وَأَبْنَاؤُکُمْ وَإِخْوَانُکُمْ وَأَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیرَتُکُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسَاکِنُ تَرْضَوْنَہَا أَحَبَّ إِلَیْکُمْ مِنَ اللَّہِ وَرَسُولِہِ وَجِہَادٍ فِی سَبِیلِہِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّی یَأْتِیَ اللَّہُ بِأَمْرِہِ وَاللَّہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِینَ}(التوبہ:۲۴)

’’ کہہ دیجئے اگر تمہیں اپنے والدین اور بیٹے اور بھائی اور بیویاں اور رشتہ دار اور مال جو تم نے کمائے ہیں اور تجارت جس میں گھاٹے سے ڈرتے ہو اور تمہارے مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو ،تمہیں اللہ اور اس کے رسول  ﷺ اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا عذاب لے آئے اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتے۔‘‘

یعنی اللہ تعالیٰ انہیں رستہ دکھاتے ہی نہیں لہذا ایمان کا تقاضا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے سب سے بڑھ کر محبت ہو۔

رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا : ’’ تین چیزیں جس شخص میں آجاتی ہیں ، وہ ایمان کی لذت پالیتا ہے اور ایمان کا ذائقہ چکھ لیتاہے ان میں پہلی چیز اللہ اور اس کے حبیبﷺ محبت رکھتاہے

اس حدیث کو ایک مثال سے سمجھنا چاہیے:

شہد میٹھا ہے لیکن جو شخص بیمار ہوجاتاہے جب وہ شہد کو منہ میں ڈالتا ہے تو اسے کڑوا محسوس ہوتاہے حالانکہ شہد کڑوا نہیں بلکہ بیمار کے منہ کا ذائقہ خراب ہے اور اس کامزاج بگڑ چکاہے۔ بیماری کی وجہ سے اس کا احساس درست نہیں رہا ۔شہد میٹھا اسے ہی محسوس ہوگا جو تندرست ہوگا بیمارکو تو شہد کڑوا ہی محسوس ہوگا۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ  پر ایمان لانا بڑی ہی عزیز چیز ہے۔

خبیب رضی اللہ عنہ نے بدر میں قریش کا ایک سردار قتل کرڈالااس کے بعد ایک اور موقعہ پر وہ ایک جنگی مہم میں شامل ہوے تو اس میں گرفتار ہوگئے۔ جس آدمی کو قتل کیا تھا ، اس کے وارثوں نے انہیں خرید لیا اور اعلان کردیا کہ ہم انہیں قتل کرکے اپنا بدلہ لیں گے ایک دن مقرر ہوگیا کہ فلاں دن خبیب رضی اللہ عنہ کو سولی چڑھایا جائے گا۔ یہاں ایک بات سمجھنے کی ہے ، وہ یہ کہ پھانسی اور چیز ہے سولی اور چیز ہے ۔ پھانسی یہ ہے کہ گلے میں ایک رسی ڈال کر نیچے تختہ رکھا جاتاہے ۔ اس کے نیچے ایک گڑھا ہوتاہے وہ تختہ ہٹالیا جاتاہے تو وہ شخص پھندے کے ساتھ جھولتارہتاہے اس کا گلا گھٹتا ہے اور یوں وہ مرجاتاہے لمحے کی بات ہوتی ہے یا چند لمحوں کی مگر سولی والی موت بہت المناک سزا ہوتی ہے سولی کے لیے ایک اونچا لمبا کھمبا گاڑ دیا جاتاہے۔ اس کے اوپر ایک آڑی ترچھی لکڑی رکھی جاتی ہے جیسے صلیب ہوتی ہے پھر جس شخص کو سولی دینا ہوتی ہے ، اس کے جسم کو سیدھی لکڑی کے ساتھ اور ہاتھ ترچھی لکڑی کے ساتھ باندھ دیئے جاتے ہیں پھر اس کو نیزوں اور تلواروں کے کچو کے دے دے کر مارا جاتاہے یا بعض کو اسی طرح چھوڑ دیا جاتاہے تاکہ وہ دھوپ میں پڑا رہے اور پرندے اور درندے اسے آکر نوچتے رہتے ہیں یہ بڑی ہی خوفناک سزا ہے۔

اب خبیب رضی اللہ عنہ کو سولی چڑھا دیا گیا انہیں ایک ظالم کافر نے نیزے سے کچو کہ مارا اور کہنے لگا ، آج تو پسند کرتاہوگا کہ تیری جگہ محمد  ﷺ ہوتے اور تو ان کے بدلہ میں چھوڑ دیا جاتا تیرا کیا خیال ہے ؟ وہ کہنے لگے ، میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ محمد  ﷺ کو کانٹا بھی چبھے اور میری جان بچ جائے حقیقت یہ ہے کہ مسلمان کا اللہ اور اس کے رسول  ﷺ کے ساتھ تعلق اتنا مضبوط ہوتاہے کہ اتنا کسی اور کے ساتھ ایسا مضبوط تعلق نہیں ہوسکتا۔ اگر ہوتو پھر سمجھ لو کہ اس کے ایمان میں کمی ہے نبی  ﷺ نے فرمایا: ایمان کا ذائقہ وہ شخص چکھتاہے جس میں تین چیزیں ہوں : پہلی چیز یہ کہ اسے اللہ اور اس کے رسول  ﷺ باقی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہوں ۔ دوسری یہ کہ کسی شخص سے محبت رکھے تو صرف اللہ کے لیے محبت رکھے ، یہاں یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ جس سے مسلمان محبت رکھے اللہ کی خاطر رکھے۔ جوشخص دنیا کی طمع رکھتاہے ، وہ ایمان کی لذت سے کسی صورت آشنا نہیں ہوسکتا۔ ایسا آدمی طامع اور لالچی ہے جہاں لالچ نظر آتاہے اس طرف بڑھ جاتاہے ۔ اللہ اور اس کے رسول  ﷺ اور ایمان سے اس کا کیا واسطہ؟ اس قسم کا شخص بھی ایمان کی لذت سے کبھی آشنا نہیں ہوسکتا۔ یہاں ایک بات سمجھنے کی ہے ایک حب طبعی ہوتی ہے اور ایک حب عقلی وایمانی ۔ حب طبعی کا معنی طبیعت کے تقاضے کی وجہ سے محبت ہے حب عقلی وایمانی کا مطلب یہ ہے کہ عقل کا تقاضا ہے کہ اس سے محبت کی جائے جیسا کہ ہمیں بے شمار دلائل سے معلوم ہوا ہے کہ اللہ کا ہم پر یہ سب سے بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں پیدا کیا اس لیے اس کا حق ہے کہ اس سے محبت رکھیں اور اس کی عبادت کریں اس کے بعد رسول اللہ  ﷺ اور یہ اس کا ہم پر احسان ہے کہ ان کے ذریعے ہمیں سیدھا راستہ معلوم ہوا ان کاحق ہے کہ ہم ان سے محبت کریں اور ان کی اطاعت کریں چونکہ اللہ اور اس کے رسول  ﷺ ہمارے تمام دوستوں اور عام لوگوں سے زیادہ ہمارے خیر خواہ ہیں اس لئے جب ہماری طبیعت کی محبوب چیزوں اور اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے درمیان مقابلہ ہوتو ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول  ﷺ کے مقابلے میں کسی چیز کو ترجیح نہ دیں۔ وہ ہمارے ان تمام رشتوں ، لوگوں اور چیزوں سے زیادہ خیرخواہ ہیں کہ ایک طرف بیٹے ، بیوی کی محبت کا تقاضا ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی محبت کا تقاضا ہے محمد رسول اللہ  ﷺ کا فرمان ہے کہ ایسی حالت میں پتہ چلتاہے کہ بندہ کس طرف جاتاہے ؟ تیسری چیز یہ ہے کہ ایمان لانے کے بعد مومن کو کفر کی طرف لوٹناآگ میں گرائے جانے سے برا معلوم ہو۔

سنن ترمذی میں ایک حدیث ہے کہ نبی ﷺ کے ایک صحابی مرثد رضی اللہ عنہ بہادر اور دلیر تھے۔ جب یہ مسلمان ہوئے تو نبی کریم  ﷺ نے ان کی ذمہ داری ایک نہایت مشکل کام پر لگا دی۔ مکے میں کافروں نے اپنے کچھ عزیزوں کو ہجرت سے روک کر ان کو زنجیروں سے باندھ رکھا تھا۔ آپ  ﷺ نے فرمایا: اے مرثد! تم نے پہلے ان کا پتہ کرنا ہے کہ قیدی کہاں ہیں پھر ان کے نکالنے کی سبیل کرنی ہے پھر وہاں سے انہیں نکال کر مدینہ لاناہے ۔ بھائیو! دشمنوں کے گھر میں جاکر جہاں کوئی مونس ومددگار نہیں، وہاں اکیلے شخص کا ایسی ڈیوٹی کرنا کتنا مشکل کام تھا۔ وہ زمانہ جاہلیت میں نقب زنی کرتے رہے تھے ، ڈاکے مارتے رہے تھے ۔ قدرت نے وہ ساری تربیت ایک سیدھے کام کی طرف لگادی یہ مکہ میں ایک دیوار کی اوٹ میں چھپ کر کھڑے تھے تو عناق نامی ایک عورت نے انہیں دیکھ لیا (یہ کبھی زمانہ جاہلیت میں ایک دوسرے سے عشق ومحبت کرتے تھے) اس نے کہا مرثد ہو؟ فرمایا: ہاں مرثد ہوں کہتی ہے مرحباً۔ آؤ پھر آج رات ہمارے پاس گزارلو ، اب دیکھتے خواہش نفس پوری کرنے کا مکمل موقع ہے۔ مرثد نے کیا ایمان افروز جواب دیا۔ فرمایا اے عناق! اسلام میرے اور تیرے درمیان رکاوٹ بن کر کھڑا ہوگیا ہے۔

اِنَّ اللّٰہَ قَدْ حَرَّمَ الزِّنَا

‘‘ اللہ تعالیٰ نے زنا کو حرام قرار دے دیا ہے۔‘‘

حالانکہ مرثد کو خوب معلوم تھا کہ اگر اس کی خواہش پوری نہ کروں گا تو یہ شورمچائے گی ایک طرف رسول اللہ  ﷺ کے فرامین ہیں کہ زنا حرام ہے تو دوسری طرف پرانی محبت چھوڑ دی ۔

قارئین کرام!یادرکھو ایسی محبت مصیبت ہوتی ہے مرثد کی اللہ اور اس کے رسول سے ایمانی محبت تھی۔ اس لئے انہوں نے کافرہ عورت سے تعلقات توڑڈالے اور بھاگ کر ایک جگہ چھپ گئے۔ فرماتے ہیں میں جس جگہ چھپا ہوا تھأ وہاں ایک کافر نے پیشاب کیا تو اس کی دھار مجھ پر پڑی لیکن اللہ نے کافر کو اندھا کردیا اور وہ مجھے دیکھ نہ سکا۔ اس کے بعد میں اس جگہ پہنچا جہاں وہ قیدی تھا جسے نکالنا تھأ اس کی زنجیریں کھولیں اور اپنے ساتھ مدینہ لے آیا۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوااور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! میں عناق سے نکاح کرلوں؟ آپ  ﷺ نے یہ آیت پڑھی۔

{ الزَّانِی لَا یَنْکِحُ إلَّا زَانِیَۃً أَوْ مُشْرِکَۃً وَالزَّانِیَۃُ لَا یَنْکِحُہَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِکٌ وَحُرِّمَ ذَلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ }(النور:۳)

’’زانی نکاح نہیں کرتا مگر کسی زانیہ یا مشرکہ سے اور زانیہ کے ساتھ نکاح نہیں کرتا مگر کوئی زانی یا مشرک اور یہ چیز مومنوں پر حرام کردی گئی ہیں۔

یہ آیت پڑھ کر آپ  ﷺ نے فرمایا : اس سے نکاح مت کرو اس آیت میں زانی اور مشرک کو اکٹھا ذکر کیا گیا کیونکہ مشرک بے غیرت ہوتاہے ، اللہ کے ساتھ غیروں کو شریک کرتاہے اور زانی بھی بے غیرت ہوتاہے جو اپنی محبوبہ میں غیر کی شرکت کو برداشت کرتاہے۔

رسول اللہ  ﷺ کے صحابہ نجد کے بادشاہ ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کو گرفتار کرکے لے آئے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اسے مسجد کے ستون کے ساتھ باندھ دو ۔ نبی ﷺ مسجد میں تشریف لائے پوچھا: ثمامہ کیا حال ہے؟ کہا ٹھیک ہے ۔اگر آپ قتل کریں گے تو اس شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا بدلہ لینے والے موجود ہیں اور اگر احسان کر دو تو ایک قدر دان شکر گزار پر احسان کروگے۔ اگر دولت چاہتے ہوتو میں دولت منگوا کر دے دیتا ہوں۔ نبی ﷺ نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا ۔ مقصود یہ تھا کہ یہ مسجد میں مسلمانوں کی عبادت باہمی محبت اور اخلاق دیکھے کیونکہ سنا سنایا تو بہت کچھ ہوتاہے جو خلاف اسلام ہوتاہے لیکن دیکھنے میں فرق ہوتاہے چنانچہ نبی ﷺ دوسرے دن پھر تشریف لائے تو آپ  ﷺ نے پھر اس سے احوال دریافت فرمایا: اس نے پھر یہی تینوں باتیں دہرائیں۔ تیسرے دن پھر آپ ﷺ  تشریف لائے تو اس نے پھر یہی الفاظ دھرائے نبی ﷺ نے فرمایا :

اَطْلِقُوْا ثَمَامَۃَ

‘‘ ثمامہ کو آزاد کردو۔‘‘

اس کے بعد ثمامہ ایک آدمی سے پوچھتاہے ۔ بھائی جان ! بتاؤ مسلمان ہونے کا طریقہ کیا ہے ؟ اس نے کہا غسل کرو کلمہ پڑھو تو مسلمان ہوجاؤگے۔ اس آدمی نے قریب کے چشمہ کی طرف رہنمائی کی۔ وہ وہاں گیا غسل کیا اور آکر کلمہ پڑھا ۔ ’’اشہد ان لا إلہ إلا اللہ واشہد أن محمداً عبدہ ورسولہ ۔‘‘ اب جو میں بات کرنا چاہتاہوں ، وہ اس سے آگے ہے۔ ثمامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں یا رسول اللہ ! ایمان لانے سے پہلے اس روئے زمین پر کوئی چہرہ آپ  ﷺ سے زیادہ برا چہرہ نظر نہیں آتاتھا مجھے سب سے زیادہ نفرت آپ  ﷺ سے تھی۔ اب یہ حال ہے کہ اس دنیا میں آپ کے چہرے سے زیادہ محبوب چہرہ میری نظر میں کوئی نہیں ۔

ذرا غور کرنا ہے کہ اسلام قبول کیے ثمامہ رضی اللہ عنہ کو کتنی مدت ہوئی ہے؟ لیکن آپ  ﷺ کی شکل وصورت سے کس حد تک پیار ہے۔ ایک ہم بھی مسلمان ہیں۔ 60,50,40اور70 سال عمر گزار چکے ، جانتے بھی ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ کی شکل وصورت کیسی تھی؟ آپ نے داڑھی پوری رکھی تھی ۔ آپ سیدھی مانگ نکالتے تھے آپ کا لباس کیسا تھا؟ مگر عمر کا طویل عرصہ گزارنے کے باوجود ہم میںنبی  ﷺ کے ساتھ اتنی محبت بھی پیدا نہیں ہوسکی کہ ہم اپنی شکل ہی نبی  ﷺ کی شکل مبارک کے مطابق بنالیں۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیںرسول اللہ  ﷺ سے سچی محبت کرنے والا بنا دے اور ہمیں علم نافع عطا فرمائے۔ آمین

admin

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago