سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جو شخص دس آیتوں کی تلاوت کے ساتھ قیام اللیل کرے گا وہ غافلوں میں نہیں لکھا جائے گا۔(سنن ابی داود: 1398)
ایک روایت کے لفظ ہیں:
جو شخص ایک سو آیتوں کی تلاوت کے ساتھ قیام اللیل کرے گا وہ غافلوں میں نہیں لکھا جائے گا۔ (الصحيحة: 643)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جب شوہر اپنی اہلیہ کو رات کے وقت جگاتا ہے اور وہ دونوں نماز پڑھتے یا دو رکعتیں ادا کرتے ہیں تو ان کا اندراج ذاکرین و ذاکرات میں ہوتا ہے ۔ (سنن ابی داود: 1309)
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جب تم میں سے کوئی رات کو قیام کرے تو مسواک کرلے کیونکہ جب تم میں سے کوئی ایک قیام اللیل میں قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے تو فرشتہ اپنا منہ اس کے منہ پر رکھ لیتا ہے اور اس کے منہ سے جو کچھ نکلتا ہے وہ فرشتے کے منہ میں داخل ہوتا ہے۔(صحيح الجامع: 720)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
بلند اور برکتوں والا ہمارا پروردگار ہر رات کو اس وقت آسمان دنیا پر آتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے ۔ وہ کہتا ہے: کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا کو قبول کروں، کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے عطا کروں کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اسے بخش دوں ۔(صحیح بخاری: 1145)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
ہمارا رب دو آدمیوں پر فخر کرتا ہے، ایک وہ آدمی جو اپنے بچھونے، لحاف، بیوی اور قبیلے کے درمیان سے اٹھ کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے، اللہ تعالی کہتا ہے:
اے فرشتو! میرے اس بندے کی طرف دیکھو، وہ نماز کے لیے اپنے بستر، بچھونے، قبیلے اور بیوی کے پاس سے کھڑا ہو گیا ہے، اس چیز کی رغبت کے لیے جو میرے پاس ہے اور اس چیز سے ڈرتے ہوئے جو میرے پاس ہے اور دوسرا وہ آدمی جس نے اللہ تعالی کے راستے میں جہاد کیا، ہوا یوں کہ اس کا لشکر شکست کھا گیا، لیکن جب اسے یہ معلوم ہوا کہ بھاگ جانے میں کتنا گناہ ہے اور دشمن کی طرف لوٹ جانے میں کتنا ثواب ہے تو وہ دشمن کی طرف پلٹ پڑا، یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا گیا، اس کا یہ قدم اس چیز کی رغبت کے لیے تھا، جو میرے پاس ہے اور اس چیز سے بچنے کے لیے تھا، جو میرے پاس ہے، پس اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہتا ہے:
میرے بندے کی طرف دیکھو، وہ میرے انعامات کی رغبت کی بنا پر اور میرے عذاب سے ڈرتے ہوئے لوٹ آیا، یہاں تک کہ اس کا خون بہادیا گیا۔(مسند احمد: 4816)
اللہ رب العالمین کا فرمان ہے:
ان کے پہلو (رات کے وقت) اپنے بستروں سے جدا ہوتے ہیں وہ اپنے پروردگار کو ڈر اور امید کے ساتھ پکار رہے ہوتے ہیں اور ہم نے ان کو جو رزق دیا ہے، وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔چنانچہ کسی نفس کو کچھ پتہ نہیں ہے کہ ایسے لوگوں کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا سامان ان کے اعمال کے بدلے میں چھپا کر رکھا گیا ہے۔( السجدة: 17،16)
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
قیام اللیل کیا کرو یہ صالحین کا طریقہ ہے اس میں تمہارے رب کی قربت ہے اور یہ گناہوں کو مٹانے والا اور برایوں سے روکتا ہے۔(سنن ترمذى: 3549)
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
جو شخص یہ چاہتا ہے کہ قیامت کے دن اس کا کھڑا ہونا آسان ہو پس اللہ اسے رات کے اندھیروں میں سجدے اور قیام کی حالت میں دیکھے آخرت سے ڈرتے ہوئے اور اپنے رب کی رحمت کا امید رکھتے ہوئے۔ (تفسير القرطبي: 239/15)
امام اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
جو بندہ قیام اللیل میں طویل قیام کرے گا اللہ قیامت کے دن اس کا کھڑا ہونا آسان کر دے گا۔ (البدایة والنهاية: 125/10)
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دن میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر پر تھا ایک دن چلتے ہوئے جب میں آپ کے قریب ہوا تو عرض کیا: اے اللہ کے نبی! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت کے قریب اور جہنم سے دور کردے۔ آپ ﷺنے فرمایا: تونے بہت بڑا سوال کیا ہے لیکن اس کے لیے یہ آسان ہے جس کے لیے اللہ آسان کردے۔
اللہ کی عبادت کر اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر، نماز قائم کر، زکوات ادا کر، رمضان کے روزے رکھ، بیت اللہ کا حج ادا کر، اور صدقہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور آدمی کا رات کو نماز ادا کرنا۔(مسند احمد: 22016)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آئے گا، یہ سن کر ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کس کے لیے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جو اچھی بات کرے، کھانا کھلائے، خوب روزہ رکھے اور اللہ کی رضا کے لیے رات میں نماز پڑھے جب کہ لوگ سوئے ہوئے ہوں۔ (سنن ترمذی: 1984)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
شیطان آدمی کے سر کے پیچھے رات میں سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ افسوں پھونک دیتا ہے کہ سو جا ابھی رات بہت باقی ہے پھر اگر کوئی بیدار ہو کر اللہ کو یاد کرنے لگتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے پھر جب وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے ۔ پھر اگر نماز پڑھتا ہے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے ۔ اس طرح صبح کے وقت آدمی چاق و چوبند خوش مزاج رہتا ہے ۔ ورنہ سست اور بدباطن رہتا ہے ۔ (صحیح بخاری: 1142)
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
رات کے آخری نصف حصے میں اللہ رب العالمین اپنے بندے کے بہت قریب ہوتا ہے، اگر تم ان لوگوں میں سے ہو سکو جو رات کے اس حصے میں اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو تم بھی ان میں سے ہو جاؤ۔ (سنن ترمذی: 3579)
سيدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
روزہ اور قرآن قیامت کے دن شفاعت کریں گے روزہ کہے گا: اے اللہ میں نے اسے دن کو کھانے پینے سے روکے رکھا پس تو اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما۔ قرآن کہے گا: میں نے رات کو اسے نیند سے روکے رکھا پس تو اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما اور ان دونوں کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ (صحيح الترغيب والترھیب: 984)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اللہ اس بندے پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھتا ہے اور اپنی بیوی کو بھی جگاتا ہے۔ (سنن ابی داود: 1308)
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
قیام اللیل کیا کرو یہ جسمانی بیماریوں سے دفاع کرتا ہے۔ (صحیح الجامع: 4079)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مومن كا شرف رات كو نماز پڑھنے میں ہے، اور اس كی عزت اس چیز سے غنی ہوجانے میں ہے جو لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔(الصحیحة: 1903)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: فلاں شخص رات کو قیام کرتا ہے اور دن کو چوری کرتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا: عنقریب رات کا قیام اسے اس عمل سے روک دے گا جو تو بیان کر رہا ہے۔ (مسند احمد: 9778)
جو شخص قیام اللیل کرے گا اسے ضرور قیلولہ کی ضرورت پیش آئے گی اور قیام اللیل کی برکت سے قیلولہ کی سنت پر بھی عمل ہوگا رسول اللہ ﷺکا فرمان ہے:
قیلولہ کیا کرو بیشک شیاطین قیلولہ نہیں کرتا۔ (الصحیحة: 1647)
ابن المنکدر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
دنیا کی لذت صرف تین چیزوں میں باقی جاکے بچی ہے: قیام اللیل میں، دوستوں سے ملاقات کرنے میں، اور جماعت سے نماز پڑھنے میں۔
(الأبانة عن أسباب الإعانة: 22/1)
سلف صالحین کو قیام اللیل میں بہت زیادہ لذت حاصل ہوتی تھی۔ علی بن بکار رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
گزشتہ چالیس سالوں سے مجھے کسی چیز نے اتنا غمگین نہیں کیا جتنا سورج طلوع ہونے نے کیا۔ (یعنی سورج طلوع ہونے سے میرے قیام اللیل کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔)(أحياء علوم الدين:/5 248)
فضيل بن عياض رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
جب سورج غروب ہوتا ہے تو میں اندھیرے میں اپنے رب سے خلوت اختیار کرنے کی وجہ سے خوش ہوتا ہوں اور جب سورج طلوع ہوتا ہے تو لوگوں کے داخل ہونے سے غمگین ہو جاتا ہوں۔(أحياء علوم الدين:/5 248)
امام نصر مروزی رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں:
حسن بصری رحمہ اللہ سے کہا گیا: عبادت گزاروں کے چہرے پورے دنیا سے زیادہ خوبصورت ہونے کی کیا وجہ ہے؟ تو آپ رحمہ اللہ فرمایا: کیونکہ انہوں نے رحمان کی عبادت کے لیے خلوت اختیار کی اس نے ان کے چہروں کو اپنے نور سے منور کردیا ہے۔(مختصر قیام اللیل: 58/1)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ:
ایک رات نبی کریم ﷺ نے بیدار ہوتے ہی فرمایا: سبحان اللہ ! آج کی رات کس قدر فتنے اتارے گئے ہیں اور کتنے ہی خزانے کھول دیے گئے ہیں ۔ ان حجرہ والیوں کو بیدار کرو۔(صحیح بخاری: 115)
قیام اللیل میں مصروف شخص ضرور ان فتنوں سے محفوظ رہے گا جو رات کے وقت اتارے جاتے ہیں۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…