روزے کے احکام ومسائل

رمضان کی وجہ تسمیہ:

رمضان کو رمضان کہنے کےچاراسباب ووجوہات ہیں:

1۔ رمضان یہ لفظ رَمَضَ سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہوتا ہے کہ دھوپ کی شدت سے پتھر،ریت وغیرہ کا گرم ہوجانا،چونکہ یہ مہینہ ( رمضان) بھی گناہوں کو اس طرح جلادیتا ہے جس طرح سورج کی گرمی زمین کو جلاکر سکھا دیتی ہے۔

2۔ جب روزہ فرض ہوا تو رمضان سخت گرمی کے دنوں میں تھا تو گرمی کی وجہ سے اس کا نام رمضان پڑگیا۔

3۔ بعض علماء کے نزدیک رمضان کا ایک معنی جلنا اور جلانا ہے جیسا کہ ایک حدیث میں اس بات کا ذکر موجود ہے آپﷺ نے فرمایا کہ

’’صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ‘‘

صلوۃ اوابین نماز کا وقت اس وقت ہے جب اونٹ کے بچے کے پاؤں دھوپ کی گرمی اورشدت سے جلنے لگے۔(صحیح مسلم:748)

تو رمضان کو رمضان اس لیے بھی کہتے ہیں کہ اس مہینے میں روزے داروں کے گناہوں کو جلاکر ختم کردیا جاتا ہے۔

4۔ رمضان کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ رمضان ایسی بارش کو کہتے ہیں جو موسم گرما کے بالکل اخیر میں آئے اور گرمی کی تیزی کو دورکردے،تو رمضان کو رمضان اس لیے کہتے ہیں کہ رمضان کا مہینہ گناہوں کے جوش کو کم کردیتاہے اور برائیوں کو دھوڈالتا ہے۔

فضائل رمضان

نزول قرآن:

ماہِ رمضان کو ایک یہ بھی بے مثل فضیلت حاصل ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کا آخری کلام قرآنِ مجید نازل ہوا۔ ارشادِباری تعالیٰ ہے:

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ (البقرة:185)

’’رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا، جو لوگوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ہدایت کی اور (حق و باطل میں) فرق کرنے کی واضح دلیلیں ہیں۔‘‘

جنت کے دروازوں کا کھلنا

سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :’’ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے تمام دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں سے جکڑ دیا جاتا ہے ۔‘‘ ( صحیح بخاری: 1899)

گناہوں کی بخشش :

رسول اللہ ﷺکا فرمان ہے کہ جو کوئی شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور حصول ثواب کی نیت سے عبادت میں کھڑا ہو اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جس نے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رکھے اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے ۔ ( صحیح بخاری: 1901)

روزے دار کے لیے مغفرت :

سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : جو شخص رمضان کے روزے ایمان اور احتساب (حصول اجر و ثواب )کی نیت کے ساتھ رکھے، اس کے تمام گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ اور جو لیلۃ القدر میں ایمان و احتساب کے ساتھ نماز میں کھڑا رہے اس کے بھی گناه معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ (صحیح بخاری: 2014)

شب قدر :

اسی ماه مبارک میں لیلۃ القدر ہوتی ہے، جس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

لَيْلَةُ الْقَدْرِ١ۙ۬ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ (القدر:3)

’’قدر کی رات ہزار مہینے سے بہتر ہے۔‘‘

یعنی اس ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے اور ہزار مہینے 83 سال 4 مہینے بنتےہیں۔

ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک صغیرہ گناہوں کا کفارہ ۔

چنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے:’’پانچ نمازیں ، ایک جمعہ ( دوسرے ) جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک ، درمیان کے عرصے میں ہونے والے گناہوں کو مٹانے کا سبب ہیں جب (انسان) کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتا رہے۔ ‘‘ ( صحیح مسلم :522)

رمضان کے عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے ۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ رمضان میں عمرہ کرنا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔( صحیح بخاری: 1863)

رمضان سے پہلے

رمضان کا روزہ چاند دیکھ کر رکھنا:

نبی کریم ﷺ نے فرمایا :چاند ہی دیکھ کر روزے شروع کرو اور چاند ہی دیکھ کر روزہ موقوف کرو اور اگر ابر آلود ہو جائے تو تیس دن پورے کر لو ۔ (صحیح بخاری: 1909)

رمضان المبارک کا روزہ چاند دیکھ کر رکھنا چاہیے ، چاند کی رؤیت پر شک ہونے کی صورت میں روزہ رکھنا جائز نہیں البتہ اگر مطلع صاف نہ ہو اور چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے 30 دن پورے کرنے چاہئیں ۔

رمضان سے قبل استقبالیہ روزہ رکھنا ممنوع ہے:

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص رمضان سے پہلے ( شعبان کی آخری تاریخوں میں استقبالیہ) ایک یا دو دن کے روزے نہ رکھے البتہ اگر کسی کو ان میں روزے رکھنے کی عادت ہو تو وہ اس دن بھی روزہ رکھ لے۔ ( صحیح بخاری: 1914)

مثلاً کوئی شخص ہر ماہ میں پیر یا جمعرات کا یا کسی اور دن کا روزہ ہر ہفتہ رکھتا ہے اور اتفاق سے وہ دن شعبان کی آخری تاریخوں میں آگیا تووہ یہ روزہ رکھ لے نصف شعبان کے بعد روزہ رکھنے کی ممانعت اس لیے بھی وارد ہوئی ہے تاکہ رمضان کے لیے طاقت قائم رہے اور کمزوری لاحق نہ ہو۔

رمضان کے چاند میں ایک آدمی کی گواہی بھی کافی ہے :

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش کی ۔ پس میں نے رسول اللہ ﷺ کو خبر دی کہ میں نے دیکھ لیا ہے تو آپ ﷺ نے روزہ رکھا اور لوگوں کو روزہ رکھنے کو حکم فرمایا۔  ( سنن ابی داؤد: 2342)

چاند دیکھ کر یہ دعا پڑھیں:

نبی کریم ﷺجب چاند دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے تھے۔

اللهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ، وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ، وَالتَّوْفِيقِ لِمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى رَبُّنَا وَرَبُّكَ اللهُ (سنن الدارمي، كتاب الصوم، الحديث : ۱۷۲۹ وصحيح ابن حبان: ۸۸۸)

’’اللہ سب سے بڑا ہے ، اے اللہ ! تو اسے ہم پر امن اور سلامتی و اسلام کے ساتھ طلوع فرما اور اس چیز کی توفیق کے ساتھ جس کو تو پسند کرتا ہے۔ اور جس سے تو راضی ہوتا ہے(اے چاند ) ہمارا اور تمہار ا رب اللہ تعالی ہے۔‘‘

روزے کی وجہ تسمیہ

روزہ کی تعریف

روزہ لفظ ’’ صوم ‘‘ کا ترجمہ ہے جس کا لفظی معنی کسی چیز کو ترک کرنا یا کسی چیز سے رکنا ہے۔

شرعی اعتبار سے اس سے مراد مخصوص شرائط کے ساتھ مخصوص ایام میں، مخصوص اشیاء (یعنی کھانے پینے، فسق و فجور اور شہوت کے کاموں سے ) طلوع فجر سے غروب آفتاب تک رک جانے کا نام روزہ ہے۔

روزہ کی فضیلت

نبی کریم ﷺنے فرمایا :  اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ اور پاکیزہ ہے، (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) بندہ اپنا کھانا پینا اور اپنی شہوت میرے لی چھوڑ دیتا ہے، روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا ۔( صحیح بخاری: 1894)

ایک دوسری حدیث میں روزہ کی عظیم صفات کو نبی اکرم ﷺنے بیان فرمایا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان کا ہر نیک عمل خود اسی کے لیے ہے مگر روزہ کہ وہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور روزہ گناہوں کی ایک ڈھال ہے، اگر کوئی روزے سے ہو تو اسے فحش گوئی نہ کرنی چاہیے اور نہ شور مچائے، اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا لڑنا چاہے تو اس کا جواب صرف یہ ہو کہ میں ایک روزہ دار آدمی ہوں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( ﷺ) کی جان ہے ! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ بہتر ہے، روزہ دار کو دو خوشیاں حاصل ہوں گی ( ایک تو جب ) وہ افطا رکرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور ( دوسرے ) جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا تو اپنے روزے کا ثواب پاکر خوش ہوگا ۔‘‘( صحیح بخاری: 1904)

سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺنے فرمایا : « جنت کا ایک دروازہ ہے جسے ریان کہتے ہیں قیامت کے دن اس دروازہ سے صرف روزہ دار ہی جنت میں داخل ہوں گے، ان کے سوا اور کوئی اس میں سے نہیں داخل ہوگا، پکارا جائے گا کہ روزہ دار کہاں ہے؟ وہ کھڑے ہو جائیں گے ان کے سوا اس سے اور کوئی نہیں اندر جانے پائے گا اور جب یہ لوگ اندر چلے جائیںگے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا پھر اس سے کوئی اندر نہ جاسکے گا۔ (صحیح بخاری: 1896)

روزہ کی فرضیت کی ابتداء

ماہ رمضان کے روزے رمضان کا مہینہ شروع ہوتے ہی فرض ہو جاتے ہیں ماہ رمضان کا شروع ہونا تین طریقوں سے معلوم ہو سکتا ہے :

1۔رؤیت ہلال :

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ (البقرة:۱۸۵)

تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے اسے روزہ رکھنا چاہیے۔

رسول اللہ ﷺکا فرمان ہے:

«صوموا لرؤيته»

’’یعنی چاند دیکھ کر روزہ رکھو۔‘‘ ( صحیح بخاری۱۹۰۹، صحیح مسلم (۱۹/۱۰۸۱)

چنانچہ جس شخص نے چاند دیکھ لیا، اس پر روزہ فرض ہو جائے گا۔

2۔رؤیت کی شہادت

چاند خود تو نہیں دیکھا لیکن رؤیت ہلال کی شہادت یا خبر موصول ہوگئی، شہادت یا خبر دینے والا اگر عادل اور مکلف ہے تو اس کی شہادت یا خبر کفایت کر جائے گی ، اس کی دلیل سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ایک دفعہ لوگ چاند دیکھنے کے حوالے سے شک وشبہ کا شکار ہو گئے، میں نے رسول اللہ ﷺکو خبر دی کہ میں نے چاند دیکھا ہے تو رسول اللہ ﷺنے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ ‘‘ ( ابوداؤد : 2342،ابن حبان: 3447،حاکم: 1541، دار القطنی 2127)

3۔ماہ شعبان کے تیس دن مکمل کرنا :

اس کی صورت یہ ہے کہ شعبان کی 29 تاریخ کو چاند نظر نہ آئے خواہ بادل یا گرد و غبار میں آپ کے لیے جو چاند دیکھنے میں رکاوٹ بنتے ہیں خواہ ہوں یا نہ ہوں اسکی دلیل رسول اللہ ﷺکا یہ فرمان ہے :

«الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً فَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ»( صحیح البخاری: 1907،صحیح مسلم: 2502)

روزے کی ابتداء و انتہاء

روزہ کی ابتداء، فجر ثانی جسے صبح صادق بھی کہا جاتا ہے کے طلوع ہوتے ہی ، فرض ہو جاتی ہے ، فجر ثانی سے مراد افق سماوی میں پھیل جانے والی سفیدی ہے۔ جبکہ روزہ کی انتہاء ، غروب آفتاب کے ساتھ ضروری ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

فَالْـٰٔنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ١۪ وَكُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيْلِ (البقرة:187)

’’اب تمہیں ان سے مباشرت کی اور اللہ تعالیٰ کی لکھی ہوئی چیز کو تلاش کرنے کی اجازت ہے، تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھا گہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے ۔ پھر رات تک روزے کو پورا کرو۔‘‘

آیت کریمہ میں «الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ»اور «الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ»سے مراد صبح کے اجالے کا ، رات کی تاریکی سے اجاگر ہونا ہے۔

کیا سحری کھانا ضروری ہے؟

جی ہاں سحری کرنا لازمی اور ضروری ہے ۔

رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں :

تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً(صحيح البخاري:1923)

’’سحری کھاؤ کہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔‘‘

نیز فرمایا :

فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ (صحيح مسلم : 1096 )

’’ہمارےاور اہل کتاب کے روزے کے درمیان سحری کھانے کافرق ہے۔‘‘

البتہ وہ شخص جو سحری کے وقت بیدار نہیں ہوسکا اسکی آنکھ تب کھلی جب فجر کی آذانیں شروع ہو چکی تھیں تو وہ سحری کھائے بغیر روزہ رکھے! کیونکہ اس پر روزہ فرض ہے اور سحری کا وقت گزر چکا ہے۔(صحیح مسلم:2550)

روزہ کی نیت

فجر سے پہلے پہلے روزہ کی نیت کرنا ضروری ہے ۔

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :

مَنْ لَمْ يُجْمِعْ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلَا صِيَامَ لَهُ (سنن أبي داود : 2454)

’’جس نے فجر سے پہلے روزہ کی نیت نہ کی اس کا روزہ نہیں ہے۔ ‘‘

فرضی روزہ کی نیت رات کو طلوع فجر سے پہلے کرنی ضروری ہے یاد رہے کہ نیت دل کے اردہ کو کہتے ہیں ۔ زبان کے الفاظ کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ کچھ لوگ سحری کے وقت یہ الفاظ پڑھتے ہیں:

«وبصوم غد نويت من شهر رمضان»

یہ الفاظ کسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔

سحری کے متعلق بعض اہم تنبیہات

سحری کی فضیلت ، ترغیب اور تاکید اس حدیث سے بھی واضح ہوتی ہے: رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

«تسحر وا ولو بجرعة ماء…»

’’یعنی: سحری کرو ، خواہ ایک گھونٹ پانی پی کر ۔‘‘(مسند ابو یعلی (۳۳۴۰) شیخ البانی کی الترغيب والترهيب ( ۱۰۶۳) بھی ملاحظہ ہو ۔)

شریعت نے سحری میں تاخیر کی ترغیب دلائی ہے، صحابہ کرام تاخیر سے سحری کیا کرتے تھے، حدیث میں آتا ہے، رسول اللہ ﷺکی سحری اور اذانِ فجر کے درمیان پچاس آیات کی مقدار کا وقفہ ہوتا تھا۔

بعض لوگ پوری رات جاگتے ہیں اور پھر جلدی سحری کر کے سوجاتے ہیں ، اس طرح یہ لوگ بہت سے گناہوں کا ارتکاب کر ڈالتے ہیں :

انہوں نے سحری کا کھانا وقت مشروع و مسنون سے قبل تناول کر لیا۔

وہ نماز فجر جماعت کے ساتھ نہیں ادا کر پاتے ۔

بعض اوقات وہ نماز فجر تاخیر سے ادا کرتے ہیں، بلکہ بعض لوگ تو سورج کے طلوع ہونے کے بعد نماز پڑھتے ہیںجو کہ بہت بڑا جرم اور شدید ترین معصیت ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ

’’ان نمازیوں کیلئے افسوس (اور ویل نامی جہنم کی جگہ ) ہے۔ جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔‘‘(الماعون:4۔5)

2- اگر کوئی شخص طلوع فجر کے بعد بیدار ہوا ہو تو وہ کھانا یا پانی استعمال نہیں کر سکتا، البتہ اگر کھانا کھانے کے دوران، اذانِ فجر شروع ہو جائے تو وہ اپنا کھانا پورا کر سکتا ہے ، اس کی دلیل سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث ہے:

إذا سمع أحدكم النداء والإناء على يده فلا يضعه حتى يقضى حاجته منه (أبو داود:۲۳۵۰، مسند أحمد ۵۱۰/۲)

’’تم میں سے جب کوئی اذان ( فجر ) سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اسے رکھے نہیں بلکہ اپنی ضرورت پوری کر لے ۔‘‘

یعنی سحری کا وقت تنگ ہو رہا ہو اور اذان فجر اپنے وقت صبح پر شروع ہو جائے تو اجازت ہے کہ انسان پانی پی لے اور دو چار لقمے لے لے، مگر چائے کی طرح کے مشروب کی چسکیاں لینا درست نہیں ہے

روزہ کس پر فرض ہے

جس شخص میں یہ پانچ شرطیں پائی جائیں اس پر روزے فرض ہیں۔

وہ شخص مسلمان ہو ( کافر روزہ رکھنے کے حکم سے خارج ہے )

مکلف ہو ( مکلف وہ ہوتا ہے جو عاقل اوربالغ ہو ، جبکہ بچے اور پاگل پر روزہ فرض نہیں)

قادر ہو (یعنی وہ روزے رکھنے کی قدرت رکھتا ہو کسی بیماری کی وجہ سے عاجز نہ ہو)

مقیم ( مسافر پر روزہ واجب نہیں البتہ سفر میں کوئی پریشانی و تکلیف نہ ہو اور مسافر بآسانی روزہ رکھ سکتا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں )

اس میں کوئی مانع نہ پایا جائے ۔ ( یہ صرف عورتوں کے ساتھ خاص ہے، حائضہ اورنفاس والی عورت پر روزہ رکھنا لازم نہیں ، حیض کا مطلب، ماہواری ہے اور نفاس کا مطلب، زچگی (ولادت) کے ایام ہیں۔ جب تک ولادت کا خون بند نہ ہو جائے )۔

روزے سے مستثنیٰ افراد

مریض کے لئے رخصت ہے کہ وہ روزہ نہ رکھے (بشرطیکہ بیماری شدید ہو) (البقرہ:185)

مسافر کے لئے رخصت ہے کہ وہ روزہ نہ رکھے۔ (البقرہ:185) (بخاری، 1943)

حیض و نفاس والی عورت کے لئے روزہ کی ممانعت ہے۔(بخاری، مسلم)

حاملہ یا دودھ پلانے والی عورت دقت محسوس کرے تو وہ بھی روزہ چھوڑ سکتی ہے۔ (ترمذی:715 )

نابالغ بچے اور بچیاں جو تاحال بلوغت کے مرحلے تک نہ پہنچے ہوں ان پر بھی روزہ رکھنا واجب نہیں ، البتہ انکی اچھی تربیت اور ترغیب کیلئے روزہ رکھوایا جا سکتا ہے ۔

 مجنون ( پاگل ) وہ شخص جس کی عقل زائل ہو چکی ہو تو ایسے شخص پر بھی نہ تو فرض ہے نہ کفارہ ہے اور نہ ہی کوئی قضاء ہے ۔

بہت بوڑھا، کمزور یا دائمی مریض جس کے شفایاب ہونے کی امید نہ ہو وہ روزے کا فدیہ دے یعنی ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلادے۔(البقرہ:184 )

اور وقتی عارضے والا رمضان کے بعد قضا دے۔ (البقرہ:185)

چھوڑے ہوئے روزوں کی تواتر سے قضا لازمی نہیں، بلکہ وقفے کے ساتھ بھی رکھے جاسکتے ہیں۔(بخاری:1950)

اگر وہ شخص فوت ہوجائے جس کے ذمہ فرضی روزے تھے تو اس کا وارث اس کی طرف سے قضا ءدے۔ (بخاری:1952)

روزہ کی حالت میں ممنوع کام

1۔جان بوجھ کر کھانا پینا ،ازدواجی تعلقات قائم کرنا۔ (بخاری:1936،مسلم:1151)

2۔عمداً قئی کرنا (سنن ابی داوٗد:2380 )

3۔حیض و نفاس آنے سے روزہ باطل ہوجاتا ہے۔(چاہے غروب آفتاب سے چند منٹ پہلے ہی ہو)۔(بخاری:1951 مسلم:335)

4۔بیوی سے محبت کا اندازاپنانا جس سے شہوت کے غلبہ کا خدشہ ہو یا مشت زنی کرنا۔

5۔خون لگوانا، گلوکوز، یا کوئی طاقت والاٹیکہ وغیرہ لگوانا ۔

6۔مبالغہ کے ساتھ ناک میں پانی چڑھانا۔(ترمذی:788 ابوداؤد:142)

7۔روزہ کی حالت میں اتنی مقدار میں خون نکلوانا جس سے روزہ کی تکمیل مشکل ہوجائے، یہ بھی منع ہے۔ کیونکہ نبیﷺ نے فرمایا: سینگی لگوانے اور لگانے والے نے روزہ چھوڑدیا۔(مسند احمد،ابوداوٗد) البتہ زخم، پھوڑا، اور نکسیر سے خون بہے تو روزہ باطل نہ ہوگا۔

8۔روزہ کی حالت میں غیبت، جھوٹ، دھوکہ، موسیقی کا سننا وغیرہ تمام ممنوع ہیں۔

9۔یہ سمجھ کر کھانا پینا کہ ابھی صبح صادق نہیں ہوئی، حالانکہ صبح صادق ہوچکی ہو تو اس سے روزہ باطل ہوجاتا ہے ۔

10۔روزہ میں مندرجہ ذیل امور سے بچنا بھی انتہائی ضروری ہے ، نماز کا چھوڑنا ، فحش گفتگو اور بے ہودہ حرکتیں کرنا، جھوٹ بولنا ۔ ( صحیح البخاری: 1903) ( سنن ابی داؤد ، کتاب السنہ ، باب فی رد الرجاء) ( ابن خزیمہ ، باب النہی عن اللغو فی الصیام) ۔

روزہ کی حالت میں جائز اور مباح امور

1۔ غسل كرنا، كلی كرنا، ناک ميں پاني ڈالنا بشرطیکہ مبالغہ نه كرے تو جائز ہے ۔(سنن أبي داؤد :2366)

2۔مسواك كرنا جائز هے (خواه خشک هو يا تر اور يہی حكم ٹوتھ پيسٹ كا هوگا۔( بخاري :887)

3۔حالت جنابت میں سحري كھانا جائز هے البتہ نماز كے لئے غسل كرنا ضروري هے۔ (بخاري 1926)

4۔اگر شهوت كا خدشہ نہ ہوتو بيوي سے بوس وكنار كرنا جائز ہے۔ (بخاری:1927، مسلم:1106)

5۔سرمہ لگانا، کان یا آنکھ میں دوائی ڈالنا جائز ہے۔(ابن ماجہ :1678)

6۔بوقت ضرورت ہنڈیا وغیرہ کا ذائقہ چکھنا جائزہے۔(بخاری :1209)

7۔ گرد وغبار ،دھواں یا مکھی وغیرہ حلق میں چلے جائیں تو روزہ باطل نہیں ہوتا ۔(فتح الباری :155/1)

8۔ خود بخود قئی آنے سے روزہ باطل نہیں ہوتا۔(ابوداؤد:2393 )

9۔احتلام سے روزہ باطل نہیں ہوتا۔(ابوداؤد :4403)

10۔ تیل لگانے یا مالش کرنے اور اس طرح مہندی لگانے سے روزہ باطل نہیں ہوتا۔

11۔ روزہ کی حالت میں اپنا لعاب نگل لینا جائز ہے۔

12۔ بھول کر کھانے ، پینے سے روزہ باطل نہیں ہوتا۔(بخاری :1933 مسلم :1155)

روزہ افطار کرنے میں جلدی کرنا مستحب ہے

سید نا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:

لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ (صحيح البخاري ، كتاب الصوم ، الحديث: ١٩٥٧)

’’ لوگ جب تک افطار کرنے میں جلدی کریں گے ہمیشہ خیر و عافیت میں رہیں گے۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:

« لَا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَلَ النَّاسُ الْفِطْرَ، لِأَنَّ الْيَهُودَ، وَالنَّصَارَى يُؤَخِّرُونَ» (سنن أبي داؤد، كتاب الصوم ، الحديث : ٢٣٥٣)

’’لوگ روزہ افطار کرنے میں جب تک جلدی کرتے رہیں گے دین ہمیشہ غالب رہے گا کیونکہ یہود و نصاری تاخیر سے افطار کرتے ہیں۔‘‘

نوٹ: روزہ افطار کرنے میں جلدی سے مراد وقت سے پہلے افطار کرنا ہر گز مراد نہیں بلکہ وقت ہونے پر جلدی کرنا مقصود ہے ۔

روزہ کس چیز سے افطار کریں؟

سید نا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :

كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ عَلَى رُطَبَاتٍ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّي، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ رُطَبَاتُ، فَعَلَى تَمَرَاتٍ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ حَسَا حَسَوَاتٍ مِنْ مَاءٍ (سنن أبى داؤد ، كتاب الصوم ، الحديث: ٢٣٥٦)

رسول اللہ ﷺکا معمول تھا کہ نماز مغرب سے پہلے تازہ کھجوروں سے روزہ افطار کرتے ، اگر تازہ کھجوریں نہ ہوتیں تو چھواروں سے روزہ افطار کرتے۔ اگر چھوارے بھی نہ ہوتے تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے۔

ایک صحیح روایت میں یہ بھی موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ستو گھول کر روزہ افطار کیا۔

افطار کے وقت دعا کی قبولیت

سيدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :

« إن للصائم عند فطره لدعوة ما ترد»

روزے دار کے لیے افطار کے وقت ایک دعا رد نہیں ہوتی۔(سنن ابن ماجہ : ۱۷۵۳، حدیث حسن )

افطاری کی دعا

روزہ افطار کرتے وقت « بسم اللہ» پڑھ کر افطار کریں اور ، کچھ پانی وغیرہ پینے کے بعد یہ مسنون دعا پڑھیں : 

ذهب الظمأ وابتلت العروق وثبت الأجر إن شاء الله

پیاس بجھ گئی، اوررگیں تر ہوگئيں ، اور روزے کا اجر ان شاء اللہ ثابت ہوگيا ۔( سنن ابوداود حدیث نمبر ( 2357 ) حدیث صحیح)

یہ جو نبی مکرم ﷺ سے افطار کے وقت منقول ہے : 

ذهب الظمأ، وابتلت العروق، وثبت الأجر إن شاء الله

یہ دعاء افطار کے بعد پڑھی جائے گی ۔‘‘(’’ اللقاء الشهري ‘‘ 8/ 25از محمد بن صالح بن محمد العثيمين )

البتہ وہ دعا جو اس وقت لوگوں میں عام ہے اورافطاری کے وقت پڑھی جاتی ہے وہ صحیح نہیں وہ حدیث مرسل اور ضعیف ہے :

( اللهم لك صمت وعلى رزقك أفطرت)

اے اللہ میں نے تیرے لیے ہی روزہ رکھا اورتیرے رزق پر ہی افطار کیا ۔(سنن ابوداود :2358 )

علامہ البانی رحمہ اللہ نے ضعیف سنن ابو داود ( 510 ) میں اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

افطاری کروانے کا اجر

رسول اللہﷺنےفرمایا:

« مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَيْئًا»

’’جس نےروزے دار کا روزہ افطار کرایا، اسے اس(روزے داروں)کےبرابر ثواب ملے گا،لیکن ان کےثواب میں کچھ کمی نہیں ہوگی۔” ( سنن ترمذی 807، صحیح ابن ماجہ:1746)

جس کی افطاری کرائی گئی ہو وہ کیا کہے

سید نا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جناب سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے روٹی اور روغن زیتون پیش کیا ، چنانچہ آپ ﷺ نے اسے تناول فرمایا پھر نبی کریم ﷺ نے یوں فرمایا :

«أفطر عندكم الصائمون وأكل طعامكم الأبرار وصلت عليكم الملائكة» ”

روزے دار تمہارے ہاں افطار کیا کریں ، نیک صالح لوگ تمہارا کھانا کھایا کریں اور فرشتے تمہیں دعائیں دیا کریں ۔ “ ( سنن ابی داؤد: 3854 )

ہم رمضان کیسے گزاریں

محترم قارئین کرام: رمضان کا مہینہ آ گیا ہے ہم اس مہینے کے پر مسرت لمحات سے گزر رہے ہیں، یہ نیکیوں اور عبادتوں میں آگے بڑھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں اللہ تعالیٰ کی کرم نوازیاں اور عنایات بہت زیادہ ہو جاتی ہیں، اور وہ ڈھیروں اجر و ثواب سے نوازتا ہے اور خوب عنایتیں فرماتا ہے ، لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اس ماہ مبارک میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنے کی کوشش کریں ، چنانچہ ہم اس ماہِ مبارک کو مندرجہ بالا امور کے ذریعے بہترین طریقہ سے گزار سکتے ہیں ۔

تلاوتِ قرآن:

رمضان المبارک کو تلاوت قرآن سے خاص مناسبت ہے۔ اس لیے کہ قرآن مجید رمضان المبارک میں ہی نازل ہوا۔ الله رب العزت قرآن مجید میں فرماتا ہے:

﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ﴾

’’رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا، جو لوگوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ہدایت کی اور (حق و باطل میں) فرق کرنے کی واضح دلیلیں ہیں ۔‘‘ (البقرۃ:185)

لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اس ماہ میں کثرت کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کریں اور اپنے شب و روز کو اس کی تلاوت سے منور کریں ، اور صرف تلاوت تک محدود نہ رہیں بلکہ اسکے معانی اور مفاہیم کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں ، کیونکہ یہی قرآن روز قیامت شفاعت کا ذریعہ ہوگا۔

ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

«اقرءوا القرآن؛ فإنه يأتي يوم القيامة شفيعا لأصحابه ……»

قرآ ن پڑھا کرو یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے کے لیے سفارشی بن کر آئے گا۔ (صحيح مسلم:804)

دعا :

اس مقدس مہینہ میں ہمیں رب العالمین سے دل کھول کر دعائیں کرنی چاہئیں ، ہماری زبانیں ہمیشہ ذکر اللہ سے تر ہوں ، دعاؤں کی قبولیت پر پورا یقین ہو اس لیے کہ یہ قبولیت کا مہینہ ہے اور روزہ دار کی دعا قبول کی جاتی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :

« ثلاث دعوات لا ترد دعوة الوالد لولده، ودعوة الصائم ودعوة المسافر» (صحيح الجامع الصغير للألباني، 3032)

تین دعائیں رد نہیں کی جاتیں ۔ اپنی اولاد کے لئے والد کی دعا ، روزہ دار اورمسافر کی دعا۔

لہذا ہمیں چاہیے کہ عاجزی انکساری کے ساتھ اس ماہ میں ہر وقت اللہ سے انتہائی عاجزی وخشوع کے ساتھ گڑ گڑا کر دعائیں کریں سحر و افطار کے وقت اور راتوں کو اٹھ اٹھ کر اپنے اللہ کو منائیں ۔

صدقہ و خیرات:

یہ مہینہ غمخواری کا ہے ،لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کا مہینہ ہے، اس لئے اس ماہ میں صدقہ و خیرات کا اہتمام کرنا چاہئے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے فقراء ومساكين، يتامى و بیوگان اور معاشرے کے معذور و بے سہارا افراد کی ضروریات کو پوری کرنا ، ان کی خبر گیری کرنا ، جن کے پاس لباس نہیں ہے انہیں کپڑے پہنانا ، بھوکوں کو غلہ فراہم کرنا، بیماروں کا علاج و معالجہ یتیموں ، بیواوں کی سر پرستی اور معذوروں کا سہارا بننا ، مقروضوں کے قرض کے بوجھ کو ہلکا کرنا اسی طرح ضرورت مند کے ساتھ اظہار ہمدردی و غمخواری کرنا ان کی مدد کرنا اس مہینہ میں بڑے اجر وثواب کا کام ہے چنانچہ « سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم ﷺسخاوت اور خیر کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخی تھے اور آپ ﷺکی سخاوت اس وقت اور زیادہ بڑھ جاتی تھی جب سیدناجبریل علیہ السلام آپ سے رمضان میں ملتے، سیدناجبریل علیہ السلام آنحضرت ﷺسے رمضان کی ہر رات میں ملتے یہاں تک کہ رمضان گزر جاتا۔ نبی کریم ﷺجبریل علیہ السلام سے قرآن کا دور کرتے تھے، جب سیدناجبریل آپ سے ملنے لگتے تو آپ چلتی ہوا سے بھی زیادہ بھلائی پہنچانے میں سخی ہو جایا کرتے تھے۔  ( صحیح البخاری: 1902 )

تراویح و قیام اللیل :

تراویح ، قیام اللیل اور تہجد ایک ہی نماز کے مختلف نام ہیں۔رمضان المبارک میں اس کی اہمیت زیادہ ہی بڑھ جاتی ہے آپ ﷺکا فرمان ہے : ’’ جس شخص نے ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رمضان کی راتوں کا قیام کیا تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔‘‘(صحیح بخاری )

اور جہاں تک نماز تراویح کی تعداد کا تعلق ہے تو صحیح احادیث سے گیارہ رکعات تراویح ہی ثابت ہے ۔ جیسا کہ متعدد روایتوں سے یہ بات مسلّم ہے ۔

(۱) صحیح بخاری میں مروی ہے کہ ابوسلمہ بن عبد الرحمن نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رمضان المبارک میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کیسی ہوا کرتی تھی ؟ تو انھوں نے جواب ديا :

« ما كان رسول الله ﷺ يزيد في رمضان ولا في غيره على إحدى عشرة ركعة « (صحیح البخاري:2013)

’’رسول اللہ ﷺ ماه رمضان اور دیگر مہینوں میں گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔‘‘

(۲) سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں رمضان میں آٹھ رکعات تراویح اور نماز وتر پڑھائی۔ پھر اگلی رات آئی تو ہم جمع ہو گئے، اور ہمیں امید تھی کہ آپﷺ گھر سے باہر نکلیں گے، لیکن ہم صبح تک انتظار کرتے رہے، اور آپ تشریف نہ لائے ۔ پھر میں نے رسول اللہ ﷺسے اس سلسلے میں بات کی تو آپ ﷺنے فرمايا:

« إني خشيت – أو كرهت – أن يكتب عليكم الوتر  (صحيح ابن خزيمة:170)

مجھے خطرہ تھا کہ کہیں تم پر وتر فرض نہ کر دیا جائے ۔

(۳) امام مالک نے السائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ اور تمیم داری رضي الله عنهما كو گیا رہ رکعات پڑھانے کا حکم دیا ۔ (الموطا ، باب ما جاء في قيام رمضان 73/1 ابنِ ابی شیبہ 391/2)

اعتکاف :

اعتکاف رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں کیا جاتا ہے اور شوال کا چاند نظر آتے ہی اختتام پذیر ہو جاتا ہے رمضان المبارک کی 21 ویں شب شروع ہوتے ہی اعتکاف شروع ہو جاتا ہے لیکن معتکف کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اعتکاف کے خیمے میں صبح یعنی فجر کی نماز پڑھ کے داخل ہو کیونکہ یہی سنت ہے۔(صحیح مسلم، کتاب الاعتکاف، باب متى يدخل من أراد الاعتکاف)

چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرتے ، میں آپ کے لئے ایک خیمہ نصب کردیتی جس میں آپ صبح کی نماز کے بعد داخل ہوتے ۔( صحیح بخاری :2033، الاعتکاف، سنن ابو داود : 2464، الصوم)

اعتکاف کرنا نبی کریم کی سنت مؤکدہ ہے حدیث میں آتا ہے:

عن عبد الله بن عمر قال كان النبی ﷺ يعتكف العشر الأواخر من رمضان

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺماہ رمضان کے آخری دس دن اعتکاف میں بیٹھتے تھے۔(صحیح بخاری:۱۲۷۱)

عن أبى بن كعب أن النبى صلى الله عليه وسلم كان يعتكف الأواخر من رمضان فسافر عاما فلم يعكتف فلما كان العام المقبل اعتكف عشرين

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺرمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرتے تھے، ایک سال آپ ﷺنے سفر کیا ، اعتکاف نہ کیا تو آئندہ سال آپ ﷺنے بیس دن کا اعتکاف کیا۔(نسائی، ابو دائود، ابن حبان، فتح الباری۱/۳۳۲)

عورت کا اعتکاف گھر یا مسجد ۔۔۔ ؟

شریعت اسلامیہ میں مرد اورعورت کےلیے مسجد میں ہی اعتکاف کرنا سنت ہے ، امہات المؤمنین بھی نبی کریم ﷺکے ساتھ مسجد میں ہی اعتکاف کیا کرتی تھیں اورنبی معظمﷺکی وفات کے بعد بھی مسجد میں ہی اعتکاف کیا کرتی تھیں ۔اس کی دلیل مندرجہ ذيل حدیث ہے جسے امام بخاری اورامام مسلم رحمہمااللہ نے اپنی اپنی صحیح میں نقل کیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺاپنی زندگي کے آخر تک رمضان المبارک کے مکمل آخری عشرہ کا اعتکاف کرتے رہے ، پھر ان کے بعد نبی کریمﷺکی ازواج مطہرات بھی اعتکاف کرتی رہیں ۔(صحیح بخاری :2026،صحیح مسلم :1172)

جمهور اہل علم امام مالک ،شافعی ،احمد ،ابن حزم وغيرهم رحمهم اللہ کی یہی رائے ہے کہ عورت کا اعتکاف صرف اور صرف مسجد میں ہی جائز ہے ۔

علامہ نووی شرح صحیح مسلم میں لکھتے ہیں:

«هو مذهب مالك والشافعي وأحمد وداود والجمهور سواء الرجل والمرأة…….» (شرح مسلم للنووى 68/8)

اعتکاف کی شرائط

مسلمان ہو : کافر کا اعتکاف صحیح نہیں ہے ۔

عاقل ہو : مجنون و پاگل کا اعتکاف صحیح نہیں ہے ۔

تمیز ہو : غیر ممیز بچوں کا اعتکاف صحیح نہیں ہے ۔

مسجد میں ہو : مسجد کے علاوہ کسی اور جگہ اعتکاف صحیح نہ ہوگا ، یہ حکم مرد و عورت دونوں کیلئےیکساں ہے ۔

طہارت : حیض و نفاس اور جنابت کی حالت میں اعتکاف صحیح نہ ہوگا ۔

شوہر کی اجازت : بغیر شوہر کی اجازت کے اعتکاف صحیح نہ ہوگا ۔

وہ امورجن سے اعتکاف باطل ہو جاتا ہے

1)بلا ضرورت مسجد سے باہر نکلنا

2) بیوی سے تعلق قائم کرنا ( مباشرت)

3)حیض و نفاس کا آجانا

4)مرتد ہوجانا

5)ہر وہ کام جو شریعت میں منع ہے وہ اعتکاف کے منافی ہے ، جیسے جھوٹ ، غیبت وغیرہ ۔

6)ہر وہ کام جو عبادت کے منافی ہے ، جیسے خرید و فروخت میں مشغولیت، بلاوجہ کی گپ شپ ۔ان امور سے اعتکاف باطل تو نہیں ہوتا البتہ اعتکاف کا مقصد فوت ہوجاتا ہے ۔

7)مریض کی عیادت کرنا اور جنازہ میں مسجد سے باہر جا کر شرکت کرنا بھی جائز نہیں ، البتہ جنازہ اگر مسجد میں ہی آ جائے تو شرکت کر سکتا ہے ، اسی طرح راہ چلتے مریض سے خیریت بھی پوچھی جا سکتی ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺچلتے ہوئے بیمار پرسی کرلیتے تھے اس کے لئے ٹھہرتے نہیں تھے ۔ (سنن ابو داود :2472)

حالت اعتکاف میں جائز امور

1)قضائے حاجت کیلئے باہر جانا ( بشرطیکہ مسجد میں کوئی بیت الخلاء نہ ہو)

2)غسل کرنا ،کپڑے تبدیل کرنا، کنگھی کرنا، ناخن تراشنا، تیل لگانا اور بیوی سے رسمی ملاقات کرنا جائز امور میں سے ہیں ۔ (سنن ابی داؤد، کتاب النکاح ، باب المعتكف يدخل البيت لحاجة )

3) ضرورت کے تحت فون پر اہل خانہ اور کاروبار کا حال احوال معلوم کر نا جائز ہے ( بشرطیکہ فالتو گپ شپ و بے جاہ بات چیت سے اجتناب کرے) ۔

لیلۃ القدر

لیلۃ القدر رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کسی رات میں ہوتی ہےاور ہمیں بھی انہیں طاق راتوں 21,23,25,27,29 میں اس کو تلاش کرنے کا حکم دیا گیا ہے چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ڈھونڈو۔ ‘‘ (صحیح البخاری حدیث نمبر : 2017)

اسی طرح ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ ﷺسے شب قدر کا ذکر سنا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں! ہم نے رسول اللہ ﷺکے ساتھ رمضان کے دوسرے عشرے میں اعتکاف کیا تھا، ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر بیس کی صبح کو ہم نے اعتکاف ختم کر دیا۔ اسی صبح کو رسول اللہ ﷺنے ہمیں خطاب فرمایا کہ مجھے شب قدر دکھائی گئی تھی، لیکن پھر بھلا دی گئی، اس لیے اب اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ ( صحیح بخاری :2036 )

 ليلة القدر کی اہمیت و فضیلت پہ ایک مکمل سورت نازل ہوئی ہے جس سے اس کی فضیلت کا بخوبی اندازه لگایا جا سکتا ہے ۔

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِۚ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕ تَنَزَّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ الرُّوْحُ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ اَمْرٍۙ سَلٰمٌ هِيَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ (سورة القدر)

’’بیشک ہم نے قرآن کو لیلة القدر يعنى باعزت و خیر و برکت والی رات میں نازل کیا ہے ۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ لیلة القدر کیا ہے لیلة القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس رات میں فرشتے اور جبریل روح الامین اپنے رب کے حکم سے ہر حکم لے کر اُترتے ہیں۔ وہ رات سلامتی والی ہوتی ہے طلوع فجر تک ۔‘‘

لیلۃ القدر کی بعض علامات :

احادیث میں اس شب کی چند نشانیاں ملتی ہیں۔

• صبح کے سورج میں شعاع نہیں ہوتى :

هي ليلة صبيحة سبع وعشرين . وأمارتها أن تطلع الشمس في صبيحة يومها بيضاء لا شعاع لها (صحیح مسلم : 762)

’’وہ لیلۃ القدر ستائیسویں رات ہے ، اور اُس کی نشانی یہ ہے کہ اُس کی صبح میں جب سورج طلوع ہوتا ہے تو وہ سفید ہوتا ہے اور اُس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی۔‘‘

• لیلۃ القدر معتدل ہوتی ہے :

لیلة القدر ليلةً سمحةً، طَلِقَةً، لا حارة ولا بارِدَةٌ، تُصبح الشمس صبيحتها ضعيفةً حمراء ( صحيح الجامع : 5475)

’’قدر کی رات نرمی والی معتدل ہے ، نہ گرم نہ ٹھنڈی ، اُس رات کی صُبح سورج کی روشنی کمزور اور سرخی مائل ہوتی ہے ۔‘‘

• کبھی بارش بھی ہوسکتی ہے:

وإني رأيت كأني أسجد في طين وماء (صحيح البخاري : 813)

’’میں نے ( خواب میں ) اپنے کو دیکھا کہ اس رات مٹی اور پانی (کیچڑ) میں سجدہ کر رہا ہوں۔ ‘‘

علامات سے متعلق لوگوں میں غلط باتیں مشہور ہیں مثلا: اس رات کتے نہیں بھوکتے ، گدھے کم بولتے ہیں ۔ سمندر کا کھارا پانی بھی میٹھا ہوجاتا ہے ۔ درخت زمین کو سجدہ کرتے ہیں پھر اپنی جگہ لوٹ جاتے ہیں ۔ ہرجگہ روشنی ہی روشنی ہوتی ہے ، اس دن شیطان سورج کے ساتھ نہیں نکل سكتا وغيره یہ سب بے بنیاد باتیں ہیں ۔

نوٹ:

بعض لوگ صرف 27 شب کو ہی ستائسویں لیلۃ القدر کی رات مانتے ہیں ، حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے جبکہ احادیث مبارکہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ رات آخری 5 پانچ طاق راتوں میں کسی بھی رات ہو سکتی ہے لہٰذا ہمیں چاہیے ہم ان تمام راتوں میں اللہ کی عبادت کریں اور اپنے رب کو راضی کریں ۔ هذا ما عندی والله أعلم بالصواب

مذکورہ بالا تمام تر معلومات میں اگر کوئی خوبی ہے تو وہ من اللہ ہے اور اگر کوئی خامی ہے تو وہ منی و من الشیطان ہے ۔ اور اگر کوئی بھی مسئلہ جانے انجانے میں خلاف شرع بیان ہو گیا ہو تو اسکے حوالے سے عند اللہ معافی کا طلبگار ہوں اورإذا صح الحدیث فهو مذهبی کے تحت اپنا موقف رکھتا ہوں ۔

admin

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago