مسئلہ فلسطین اور ہماری ذمہ داریاں

علامہ اقبال رحمہ اللہ نے آج سے تقریباً پون صدی پہلے اپنی زیست کی جنگ لڑنے والے مظلوم فلسطینیوں سے مخاطب ہو کر کہا تھا۔

تری دوا نہ جنیوا میں ہے نہ لندن میں

فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے

سنا ہے میں نے، غلامی سے امتوں کی نجات

خودی کی پرورش و لذتِ نمود میں ہے

غزہ کے مسلمان کٹ رہے ہیں، چالیس ہزار سے زیادہ افراد جان سے گزر گئے۔ غزہ کا الشفا ہسپتال مریضوں اور زخمیوں سے بھر چکا ہے لیکن اب وہاں اسرائیلی دہشت گرد فوجی قبضہ کر چکے ہیں۔ زخمی بے حال فلسطینی ان کے نشانے پر ہیں۔ ہسپتال میں سینکڑوں لاشیں بے گورو کفن پڑی ہیں۔ انھیں تدفین کے لیے لے جانے کی اجازت بھی نہیں۔ انتظامیہ نے ہسپتال کے احاطے میں اجتماعی قبر کے لیے انتظام کیے، قبریںکھودی جا ہی رہی تھیں کہ دہشت گرد اسرائیلیوں نے انھیں بھی گولیوں سے بھون ڈالا۔

غزہ میں جاری جنگ میں اسرائیل کا ظلم و ستم وحشیانہ بمباری کی صورت میں پہلے سے بھی زیادہ شدت اور سفاکیت اختیار کر گیا ہے۔ سینکڑوں بچے شہید ہو چکے ہیں۔

’’نیو یارک ٹائمز‘‘ نے شہید ہونے والے متعدد فلسطینی بچوں کی تصاویر شائع کی ہیں، جس میں ان کے نام عمر اور دیگر کوائف وغیرہ شامل ہیں۔ خلیجی جریدے ’’القدس العربی‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ فلسطین میں شہید ہونے والے بچوں کی اکثریت وہ ہے جن کے گھروں پر اسرائیل نے وحشیانہ بمباری کی ہے، جریدے کے مطابق :شہدائے غزہ کی عمریں چند ماہ سے ۱۴؍ برس تک ہیں۔ ’’نیو یارک ٹائمز‘‘، امریکہ کا صف اوّل کا جریدہ ہے، اس نے فلسطین میں شہیدہونے والے معصوم بچوں کی ایک تصویری رپورٹ شائع کی ہے۔ یہ تصویریں دیکھ کرجہاں اسرائیلی سفاکیت نظر آئی ہے وہاں عالمی برادری کی بے حسی کا اندازہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ بقول حاصل تمنائی :

ہنستے ہیں یہ صیہونی و نصرانی درندے

بہتے ہیں جب انسانی قوانین کے آنسو

حد یہ ہے کہ اب مردِ مسلماں کوبھی حاصلؔ

کرتے نہیں بے چین فلسطین کے آنسو

اُمتِ مسلمہ کو مفتی اعظم کا انتباہ:

یہودو نصاری کی اُمت مسلمہ کے خلاف ریشہ دوانیاں تقریباً تمام مسلم ممالک میں جاری ہیں۔ غیر ملکی این جی اوز، قادیانی لابیاںاور سیکولر ادارے اور اذہان متحرک ہیں، ان کا ہدف صرف اسلام اور اس کے مفادات کو نقصان پہنچانا ہے۔ دنیا بھر کے یہودی ادارے ان مخصوص لابیوں اور اداروں کی پشت پر ہیں۔ ان حالات و واقعات کے تناظر میں مسلم اُمہ بالخصوص اس کے حکمرانوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان خفیہ ہاتھوں پر نظر رکھیں، اسلامی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں۔ اب تک کی صورتِ حال یہ ہے کہ اسرائیلی درندگی کے خلاف مسلم ممالک نے سوائے زبانی جمع خرچ کے کچھ بھی نہیں کیا، پاکستان، سعودی عرب، ترکی، مصرکو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ کیا مسجد اقصٰی اور بیت المقدس کی حفاظت ان ممالک کے افواج کی ذمہ داری نہیں؟ فلسطین کے کمزور مسلمانوں کی مددونصرت کے لیے اگر یہ بڑے ممالک آگے نہیں بڑھیں گے تو کون آگے آئے گا، ایسے میں میرے سامنے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل شیخ حفظہ اللہ کا اُمت مسلمہ کے نام انتباہی پیغام آیا ہے، جسے بہ طور نصیحت یہاں درج کر رہا ہوں۔

’’اُمت مسلمہ اپنے خلاف ہونے والی سازشوں سے ہوشیار رہیں، مسلم حکمران اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور اسلام دشمنوں کو اپنے وسائل سے آگے بڑھنے کا موقع فراہم نہ کریں۔ پوری اُمتِ مسلمہ اسلام دشمن طاقتوں کی طرف سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ان کے عزائم اور سازشوں سے آگاہ اور اس کا صحیح ادراک کرے اور اس کا جواب بھی دینا چاہیے یہ پوری اُمت مسلمہ اور اسلامی حکمرانوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اسلام دشمن طاقتوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک محاذ قائم کر لیا ہے اور وہ مسلمانوں کے اقتصادی وسائل پر قابض ہونے اور انھیں غلامی کے شکنجے میں جکڑنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ افغانستان، عراق، کشمیر اور فلسطین میں مسلمانوں کے ساتھ جو ظالمانہ سلوک روا رکھا جا رہا ہے اور اب مغربی ممالک میں مسلمانوں کو جس طرح تنگ کر کے انھیں ترکِ سکونت پر مجبور کیا جا رہا ہے اسلام دشمن طاقتوں کو امریکہ اور اس کے حواری جس طرح مضبوط کر رہے ہیں، تمام امت متحد ہو کر ان کی سازشوں کو ناکام بنائے۔‘‘

مظلوم فلسطینی اور اُمتِ مسلمہ کا موقف:

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے یہ الفاظ ہمارے لیے طمانیت کا باعث ہیں جس میں انھوں نے کہا:

’’معصوم بچوں کے سفاک قاتل نیتن یا ہو کو کہیں جائے پناہ نصیب نہ ہو گی۔ صیہونی ریاست کے مظلوم بہت جلد اس کی تباہی کا سبب بن جائیں گے۔‘‘

ہم یہاں عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت کے نائب امیر حضرت مولانا سید سلیمان یوسف بنوری حفظہ اللہ کا ایک اہم فتویٰ نقل کر رہے ہیں۔ جو انھوں نے فلسطین اسرائیل جنگ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں صادر فرمایا ہے۔ یہ فتویٰ روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں دینی صفحہ ’’آپ کے مسائل اور ان کا حل‘‘ میں شائع ہوا ہے۔ یہ مبسوط اور جامع فتویٰ پوری امت مسلمہ کا مقدمہ ہے جس میں انھوں نے قرآن و سنت کی روشنی میں مسئلۂ فلسطین کو اجاگر کیا ہے اور اس مسئلے کے تناظر میں مسلمانوں کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ خالی فتویٰ نہیں، دردِ دل ہے جسے صرف وہی محسوس کر سکتے ہیں جن کے سینے میں ایک مظلوم مسلمان کا درد اور کسک موجود ہے۔ اﷲ تعالیٰ حضرت مولانا سید سلیمان بنوری کے علم و فہم میں اور اضافہ فرمائے اور امت مرحومہ کا درد رکھنے والے ایسے علمائے ذیشان کی حفاظت فرمائے۔ آمین

حماس اسرائیل جنگ اور اس پر مسلمان ملکوں کے رویے کی وجہ سے دل بہت پریشان اور غمگین ہے، سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کیا جائے؟ آپ سے درخواست ہے کہ میری گزارش کو فوقیت دیں، کیوں کہ یہ صرف مجھ اکیلے کا سوال نہیں ہے۔

فلسطین کے حالات کی وجہ سے ہر انصاف پسند صاف دل اور زندہ ضمیر رکھنے والا شخص رنجیدہ ہے۔ ایک مومن اپنے دل میں درد، جگرمیں سوز اور کلیجے میں جلن محسوس کرتاہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے۔ اسلام نے جس دردو محبت کے رشتے ہیں پرو دیا ہے اس کی رو سے مشرق میں کھڑے شخص کے پاؤں میں کانٹا بھی چبھے تو مغرب میں کھڑے شخص کو اپنے دل میں اس کی چبھن محسوس کرنی چاہیے۔ ایک مصیبت پر دوسرے کو تڑپ جانا چاہیے اور ایک کی چوٹ کی کسک دوسرے کو اپنے سینے میں محسوس ہو نی چاہیے۔

اس کیفیت میں اس کی شدت اس وقت آجاتی ہے جب وہ خود آگے بڑھ کر مظلوم کی مدد اور ظالم کا ہاتھ روکنا چاہ رہے ہوں، مگر بے بس ہوں اور جن کی اصل ذمہ داری ہو، وہ اس کا احساس نہ رکھتے ہوں، ایسے موقع پر ان کی حالت وہ ہو جاتی ہے جو امام سبکی رحمہ اللہ پر گزری تھی اور اس حالت میں ان کے قلم سے یہ درد میں ڈوبے الفاط نکلے تھے کہ:

’’ہائے ہاتھوں کا کام فریاد کرنا نہیں، بلکہ گریبان پکڑنا ہے، مگر افسوس کہ یہ ہاتھ ان تک پہنچ نہیں سکتے ہیں۔‘‘

جن کے ہاتھ ان تک پہنچ سکتے ہیں، جنہیں عالم اسلام اور ستاون اسلامی ملکوں سے یاد کیا جاتا ہے، اُن کی زبانیں گنگ، ہاتھ شل، اعضاء مفلوج اور ضمیر مردہ ہو چکے ہیں، چناںچہ عملی تعاون اور مدد تو کجا، کہیں سے ان مظلوموں کی حمایت میں کوئی طاقت ور اور توانا آوازبھی نہیں اُٹھ رہی ہے۔ اگر کہیں کسی گوشے سے اگر کوئی نخیف و نزار صدا سنائی بھی دیتی ہے تو رسمی جملوں تک محدود ہوتی ہے، حالاںکہ ان کو آوازوں اورقراردادوں کی ضرورت نہیں، بلکہ ٹینکوں کی اور میزائلوں کے مقابلے میں میزائلوں کی ضرورت ہے۔

اسرائیل کی حمایتی ریاستوں نے صرف اس کے حق میں آواز بلند نہیں کی ہے، بلکہ بحری بیڑے اور عسکری سازوسامان بھیجا ہے۔ عالم اسلام اگر فلسطینیوں کے ساتھ یہ رویہ رکھ کے سمجھتاہے کہ ان کی اُفتاد ہے، اُن پر پَڑی ہے اور وہ جھیل لیں گے اور وہ گزر جائے گی تو یہ اُن کی خام خیالی ہے۔ حدیث قدسی میں ہے کہ:

((قَالَ رَبُّكَ تَبَارَكَ وَتَعَالٰٰی: وَعِزَّتِيْ وَجَلَالِيْ لَأَنْتَقِمَنَّ مِنَ الظَّالمِ فِيْ عَاجِلِهِ وَآجِلِه، وَلَانْتَقِمَنَّ مِمَّنْ رَأَی مَظْلُوْمًا فَقَدَرَ أَنْ یَّنْصُرَهُ، فَلَمْ یَفْعَلْ)) (المعجم لأوسط للطبراني: ۱/ ۱۵، باب الألف، من اسمه أحمد، ط: دارالحرمین۔ القاهرة)

’’اللہ عزوجل فرماتاہے کہ مجھے میری عزت وجلال کی قسم میں جلد یا بدیر ظالم سے بدلہ ضرور لوں گااور اس سے بھی بدلہ لوں گا جو باوجود قدرت کے مظلوم کی مدد نہیں کرتا۔‘‘

صحیح بخار ی میں ہے :

((اَلْمُسْلِمُ أَخُوْ الْمُسْلِمِ لَا یَظْلِمُهُ وَلَا یُسْلِمُهُ))(صحیح البخاري، كتاب المظالم، باب لایظلم المسلم المسلم ولا یسلمه، رقم الحدیث: ۲۴۴۲)

یعنی ’’مسلمان مسلمان کا بھا ئی ہے، مسلمان نہ دوسرے بھائی پر زیادتی کرتا ہے اور نہ ہی اسے اوروں کے سپرد کرتاہے۔‘‘

اور مسلم شریف میں ہے:

((وَلَا یَخْذُلُهُ))

’’اسے بے یارو مدد گار نہیں چھوڑتا ہے۔‘‘

(صحیح مسلم: ۴/ ۱۹۸۶ كتاب البر والصلة والآداب، باب تحریم ظلم المسلم وخذله واحتقاره ودمه وعرضه وماله، ط: دار إحیاء التراث العربي)

مسلمانوں کو اگر عالم اسلام سے اُمید ہے تو عالم اسلام کی نظریں خصوصاً پاکستان کی طرف ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیامیں اگر اسرائیل کا کوئی حقیقی حریف اور اصل مدمقابل ہے تو وہ پاکستان ہے۔ دونوں کی بنیاد مذہبی ہے اور دونوں کی عمریں تقریباًبرابر ہیں اور دونوں ایٹمی قوتیں ہیں۔ پاکستان پر کسی اور سے زیادہ یہ ذمہ داری اس وجہ سے بھی عائد ہوتی ہے کہ ہمارے آئین کاآرٹیکل: ۴۰، عالمِ اسلام سے مضبوط رشتہ استوار کرنے کی تاکید کرتا ہے۔ بانی پاکستان کے الفاظ ہیں:

’’پاکستان دنیا کی مظلوم اور کچلی ہوئی اقوام کو اخلاقی اور مادی امداد دینے سے کبھی بھی نہیں ہچکچائے گا۔‘‘

اور اقوام متحدہ کے منشور میں درج شدہ اُصولوں کا حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے کئی اسلامی ملکوں کی آزادی کے لیے انتھک کوششیں کی ہیں اور ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریقہ کی مظلوم قوموں کا ساتھ دیا ہے۔ فلسطین کے ساتھ بانیانِ پاکستان کا رشتہ بطور خاص اسی طرح رہا ہے جیسے کشمیر کے ساتھ رہاہے،انھوں نے کشمیر کی طرح فلسطین کے درد کو بھی اپنا درد سمجھااور دونوں کی تحریکوں میں بہ دل و جان حصہ لیا ہے،بلکہ ہمدردی کا یہ تعلق جانبین سے رہاہے۔ فلسطین کے اکابر نے ہمیشہ مسئلہ کشمیرکے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی اور کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کی تائید کی، خصوصاً قیام پاکستان کے زمانے میں مفتیِ اعظم فلسطین کے عہدے پر فائز مفتی امین حسینی رحمہ اللہ نے۱۹۵۱ء میں کشمیر کے حوالے سے کراچی میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت کی اور بذاتِ خود آزاد کشمیر جا کر حقِ خود ارادیت کی حمایت کی۔

حکیم الامت علامہ محمد اقبال کی فلسطین کے بارے میں فکرمندی ان کے کلام اور خطبات سے واضح ہے اور بانیِ پاکستان کی موجودگی میں مسلم لیگ نے قرار داد پاس کی کہ عالم اسلام بیت المقدس کو غیر مسلموں سے آزاد کرنے کے لیے مشترکہ حکمت ِ عملی واضع کرے۔

قیامِ پاکستان کے بعد بانیِ پاکستان نے امریکی صدر کے نام ایک خط میں اسرائیل کے قیام کو متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا اور امریکی صدر سے اپیل کی کہ وہ فلسطین کی تقسیم کو روکیں۔ بعد ازاں آل انڈیا مسلم لیگ کے آخری اجلاسِ منعقدہ ۱۴ اور ۱۵ دسمبر ۱۹۴۷ء میں فلسطین کی تقسیم کو مسترد کیا گیا۔ان ابتدائی گزارشات کا مقصد یہ ہے کہ اسرائیل ایک ریاست ہے اور ریاست کا ہاتھ افراد نہیں، بلکہ ریاست روک سکتی ہے، اس لیے پاکستان سمیت تمام مسلم ملکوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے اور اس کے ساتھ ان حالات میں مسلمان ملکوں اور عوام کو چاہیے کہ وہ درج ذیل اُمور کا اہتمام کریں :

۱۔سب سے پہلے تو اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف رجوع اور انابت کر کے اسی سے مدد مانگیں اور خوب دعائیں کریں، کیوںکہ وہی مسلمانوں کا حقیقی حامی و ناصر اور معین و مددگار ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ (آل عمران: ۱۲۶)

’’فتح تو کسی اور کی طرف سے نہیں، صرف اللہ کے پاس سے آتی ہے، جو مکمل اقتدار کا بھی مالک ہے اور تمام تر حکمتوں کا بھی مالک ہے۔‘‘

اسی سورت کی ایک سو پچاسویں آیت میں ہے:

بَلِ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَهُوَ خَيْرُ النّٰصِرِيْنَ (آل عمران: 150)

’’(یہ لوگ تمھارے خیر خواں نہیں ہیں ) بلکہ اللہ تمھارا حامی و ناصر ہے اور وہ بہترین حامی و ناصر ہے۔‘‘

یہ بھی ارشاد ہے:

اِنْ یَّنْصُرْکُمُ اللّٰہُ فَلَا غَالِبَ لَکُمْ(آل عمران: 160)

’’اگر اللہ تمھاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا۔‘‘

تاریخ شاہد ہے کہ مسلمان جب آسمانی طاقت ساتھ لے کر چلے ہیں تو بڑی بڑی طاقتیں ان کے سامنے خاک کے گھروندے ثابت ہوئے ہیں۔ اسرائیل طاقتور صحیح مگر اﷲ تعالیٰ سے زیادہ طاقتور نہیں اور اس کی طاقت یہی ہے کہ وہ مٹھی بھر جماعت نے اس کی دھاک خاک میں ملا دی ہے، وہ شدید رسوا اور ذلیل ہوا ہے، اس کی ہیبت زائل ہو چکی ہے، اس پر لرزہ طاری ہے اور وہ حواس باختہ ہو چکا ہے۔ چند دنوں کی جھڑپوں میں اس نے شدید جانی، مالی اور عسکری نقصان اُٹھایا ہے، اب وہ نہ سکونت کے اعتبار سے محفوظ رہا ہے اور نہ ہی سرمایہ کاری کے لیے قابلِ اعتماد ٹھہرا ہے، اس کے ریڈاروں، کیمروں، سینسروں، مضبوط دیواروں، آہنی باڑوں اور جدید ٹیکنالوجی کے باوجود مجاہدین اسے ناکوں چنے چبوا رہے ہیں۔

قرآن کریم میں ارشاد ہے:

وَ لَاتَھِنُوْا فِي ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ اِنْ تَکُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّھُمْ یَاْلَمُوْنَ کَمَا تَاْلَمُوْنَ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا یَرْجُوْنَ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا(النساء:104)

’’اور تم ان کا فر دشمنوں کا پیچھا کرنے میں کمزوری نہ دکھاؤ، اگر تمہیں تکلیف پہنچی ہے تو ان کو بھی اس طرح تکلیف پہنچی ہے جیسے تمہیں پہنچی ہے اور تم اللہ سے اس بات کے اُمید وار ہو جس کے وہ اُمید وار نہیں اور اللہ علم کا بھی مالک ہے اور حکمت کا بھی۔‘‘

۲۔دوسری چیز اﷲ پر یقین اور اعتماد ہے۔ یقین وہ ہتھیار ہے جو حالات کے دھارے کو بدل دیتا ہے، طوفان کا رُخ موڑ لیتا ہے، مبصرین کے اندازوں کو غلط ثابت کر دیتا ہے اور انقلاب بر پا کر دیتا ہے۔ تاریخ اس قسم کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ بنی اسرائیل کو سر کی آنکھوں سے نظر آرہا تھا کہ آگے سمندر اور اس کی طغیانی ہے اور پیچھے فرعون اور اس کا لاؤ لشکر ہے؛ اس لیے پکار اُٹھے کہ ہم تو پکڑے گئے، مگر موسیٰuنے پورے جزم اور یقین سے کہا:

كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ (الشعراء: 62)

’’ہرگز نہیں، میرا رب میرے ساتھ ہے جو مجھے ضرور راستہ دے گا۔‘‘

اس کے بعد جو کچھ ہوا، وہ سب کو معلوم ہے۔ رسول اللہﷺ اسی یقین کی بدولت کسی جتھے اورجماعت اور کسی مادی قوت اور منصب کے بغیر تن تنہا اس وقت کی پوری دنیا کے باطل کے ساتھ جا ٹکرائے اور اسے پاش پاش کر دیا۔

غزوئہ خندق میں ایسے موقع پر جب مسلمان فاقہ کشی کا شکار ہیں اور ایسے حالات میں جب زندہ بچ جانے کی اُمیدیں کم ہیں، آپﷺ فرماتے ہیں کہ تم ایران اور شام کے محلات کو فتح کر وگے۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا ولولہ و عزم اور یقین تھا کہ لشکر اُسامہ رضی اللہ عنہ کو روانہ فرمایا، مرتدین سے قتال کیا اور دو بڑی سلطنتوں سے جہاد کیا، حالاںکہ مہاجرین اور انصار کے سب بزرگوں کی رائے اس کے خلاف تھی آج بھی عقل کا فتویٰ اور سیاست کا فیصلہ یہ ہے کہ جابر و قاہر اور سنگدل و وحشی اسرائیل کے خلاف کسی مہم جوئی سے باز رہا جائے، مگر جس اﷲ نے اس وقت مدد و نصرت کی، اور مادی سوچ کو نا کام اور اندازوں کو غلط ثابت کیا، وہ رب آج بھی اسی قدرت اور طاقت کے ساتھ موجود ہے، مگر ایسے یقین کے لیے شرط ہے کہ وہ کسی ضد اور نفسانیت یا بیرونی امداد اور طاقت کے سہارے کی بنا پر نہ ہو، ورنہ انجام وہ ہوتا ہے جو اکثروں کے ساتھ ہوا ہے۔

۳۔یہ بھی ضروری ہے کہ جو اقدام ہو وہ مشورے اور مناسب تدبیر کے ساتھ ہو۔ ان سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ یقین کی بنیاد حق اور صداقت ہو اور صاحبِ یقین مخلص اور عملِ صالح کی دولت سے مالا مال ہو۔

۴۔اس کے بعد کا مرحلہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق ہو۔ اسی مقصد کے لیے اسلام اجتماعیت کو ضروری قرار دیتا ہے امیر کی اطاعت بھی اس لیے ضروری ہے کہ امارت قائم رہے، اور امارت کی ضرورت مرکزیت کے لیے ہے، اور مرکزیت کی ضرورت اجتماعیت کے لیے ہے۔ عالم اسلام جو جغرافیائی محلِ وقوع رکھتا ہے، اس کی بنا پر وہ بے پناہ عسکری، اقتصادی اور سیاسی اہمیت رکھتا ہے۔ ضرورت صرف ایک مقصدپر متفق ہونے کی ہے اور نقطئہ اتّحاد کوئی نسلی، لسانی، قومی اور جغرافیائی اشتراک نہ ہو، بلکہ صرف مذہب ِ اسلام ہو۔

مسلمانوں کی تاریخ کا فیصلہ ہے کہ جب کبھی ان کو آزادی ملی ہے یا ان کی کوئی بڑی تحریک کامیاب ہوئی ہے یا انھوں نے کوئی انقلاب برپا کیا ہے تو اس کے پس ِپشت مذہب کا عامل تھا، خود تحریک پاکستان کا جائزہ لیجیے، قومیتوں کے ا ختلاف کے باوجود اس کی کامیابی بھی تب ہی ممکن ہوئی جب ’’پاکستان کا مطلب کیا: ’’لا إلہ إلا اللّٰہ‘‘ کے نعرے کو بنیاد بنایا گیا۔

۵۔ان کے اوصاف کے ساتھ ایک مزید وصف صبر و استقلال کا ہے، جس کا مطلب ہے کہ مسلمان عزم کے پکے اور ارادوں میں پختہ ہوں اور وہ ایک جگہ جمے اور ڈٹے ہوئے ہوں اور حالات کی سنگینی کی وجہ سے نہ ان کے ارادے متزلزل ہوں اور نہ ہی پائے استقامت میں جنبش پیدا ہو۔ جو لوگ اس طرح صبرو استقلال کا مظاہرہ کر لیتے ہیں، پھر وہ محکوم، مغلوب، مجبور اور مقہور نہیں رہتے ہیں، بلکہ دنیا کی امامت و قیادت کا تاج ان کے سر سجادیا جاتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَجَعَلْنَا مِنْھُمْ اَىِٕمَّةً یَّھْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا وَکَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ (السجدة:24)

’’اور ہم نے ان میں سے کچھ لوگوں کو، جب انھوں نے صبر کیا، ایسے پیشوابنا دیا جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔‘‘

اب تک مسلمانوں کی جن صفات کا بیان ہوا وہ سب شرعی صفات ہیں اور یہی مسلمانوں کی اصل طاقت ہیں، اس طاقت کا جب کبھی بھی مادی طاقت سے تصادم ہوا ہے، غلبہ ان ہی کو حاصل رہا ہے۔ بدر اور اُحد اور بعد کے اسلامی معرکے ان ہی کی بنیاد پر لڑے گئے ہیں، مگر اس کا یہ مطلب بھی ہر گز نہیں ہے کہ مادی وسائل جمع نہ کیے جائیں اور نہ ان سے کام لیا جائے۔ نماز پانچ وقت ہے اور روزہ ایک مہینہ ہے اور حج ایک مرتبہ ہے، مگر دشمن کے مقابلے کے لیے تیاری کو قرآن کریم نے غیر محدود رکھا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ مسلمان وسائل کی کثرت اور اس میں برتری حاصل ہو نے تک جہاد کے فریضے کو موقوف نہ رکھیں، کیوںکہ وسائل کے لحاظ سے عمومی معیار یہ ہے کہ کافروں کو مسلمانوں سے دس گنا زیادہ وسائل میسر ہوں گے اور اگر مسلمان بہتر پوزیشن میں ہوئے تو پھر بھی مسلمانوں کو دگنی تعداد اور وسائل کا سامنا ہو گا۔ اگر وسائل اور دشمن جیسے وسائل یا ان کے برابر وسائل یا ان سے برتر وسائل ضروری ہوتے تو اسلامی غزوات کی کبھی نوبت ہی نہ آتی اور عہد حاضر اور قریب میں اسلامی تحریکات کبھی کامیاب نہ ہوتیں۔ بہر حال وسائل سے انکار نہیں، بلکہ ان کی ترغیب ہے اور ترغیب بعض صورتوں میں وجوب اور فرض کے درجے میں ہے۔ مگر دشمن جیسے وسائل کی دستیابی تک جہاد کو موقوف رکھنا دواکھانے کے لیے صحت کا انتظار کرنا ہے۔

موجودہ حالات میں مسلمان ممالک جب تک کوئی عملی قدم نہیں اُٹھاتے، اس وقت تک ایک عام مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مومنانہ صفات سے اپنے آپ کو متصف رکھے، تمام گناہوں خصوصاً ان گناہوں سے اجتناب کرے جن کی وجہ سے نہ صرف نصرت الٰہی رک جاتی ہے، بلکہ اﷲ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوتا ہے۔ دعا کا ہتھیار ہر مسلمان کے پاس ہے اور اس لیے فاصلے کوئی اہمیت نہیں رکھتے ہیں، مومن کی آہِ سحر گاہی اور نالۂ نیم شبی میں اﷲ تعالیٰ نے بڑی تاثیر رکھی ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

((أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلیٰ مَا یُنْجِیْكُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ وَیَدُرَّ لَكُمْ أَرْزَاقُكُمْ؟ تَدْعُوْنَ اللهَ فِيْ لَیْلِكُمْ وَنَهَارِكُمْ، فَإِنَّ الدُّعَاءَ سَلَاحُ الْمُؤْمِنِ))(مسند أبي یعلی: ۳/ ۳۰۸، مسند جابر بن عبد الله، ط: دار الحدیث، القاهرة)

’’کیا میں تمہیں وہ عمل نہ بتاؤں جو تمھارے دشمنوں (کے ظلم وستم) سے تمہیں نجات دے اور تمہیں بھر پور روزی دلائے، وہ عمل یہ ہے کہ اپنے اللہ سے دن رات دعاکیا کرو ، کیوںکہ دُعا مومن کا ہتھیار ہے۔‘‘

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

((اَلدُّعَاءُ یَنْفَعْ مِمَّا نَزَلَ، وَمِمَّا لَمْ یَنْزِلْ، فَعَلَیْكُمْ عِبَادَ اللهِ بِالدُّعَاءِ))(المستدرك علی الصحیحین للحاكم: ۱/ ۶۶۶ كتاب الدعاء، والتكبیر، والتهلیل، والتسبیح والذكر، ط: دارالكتب العلمیة)

’’دعا ان حواد ثاث اور مصائب سے بھی چھٹکارادلاتی ہے جو حواد ثاث اور مصائب نازل ہو چکے ہیں اور ان سے بھی جو ابھی نازل نہیں ہوئے، لہٰذا اللہ کے بندو دعا کا اہتمام کیا کرو۔‘‘

پھر وہ دعا جو اپنے مسلمان بھائی کی غیر موجودگی میںکی جائے وہ تو جلد قبول ہوتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصw سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

((إِنَّ أَسْرَعَ الدُّعَاءِ إِجَابَةُ دَعْوَةُ غَائِبِ لِغَائِبِ))(سنن أبی داؤد: ۱/ ۵۶۳، كتاب الصلاة، باب الدعاء بظهر الغیب، ط:المطبعة الأنصارية بدهلي۔ الهند)

’’بے شک جلد قبول ہونے والی دعا وہ ہے جو غائب کی غائب کے لیے ہو۔‘‘

یعنی کسی کی غیر موجودگی میں اس کے حق میں دعا کی جائے۔ اُمت کے لیے اخلاص کے ساتھ دُعاؤں اور نمازوں کا اہتمام جاری رکھیں، اس سے اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت ہو گی، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا:

((هَلْ تُنْصَرُوْنَ وَتُرْزَقُوْنَ إِلَّا بِضُعَفَائِكُمْ))(صحيح البخاري، كتاب الجهاد والسير، باب من استعان بالضعفاء والصالحين في الحرب، ج: ۴، ص: ۳۶، رقم الحديث :۲۸۹۶)

’’اللہ تعالیٰ اس اُمت کے ضعفا ء و کمزور لوگوں کے بسبب اور ان کی دُعاؤں، نماز وں اور اخلاص کی بدولت اس اُمت کی مدد فرماتے ہیں۔‘‘

۶۔دعا کے ساتھ ان کی مالی اور اخلاقی مدد کرنا ہے۔ اصل امانت تو وہ ہے جس کا نقشہ مسلمان سپہ سالار طارق بن زیاد رحمہ اللہ نے پیش کیا تھا جب کہ ایک عیسائی حکمران راڈرک نے اپنے گورنر کی معصوم بچی سے زیادتی کی اور اس گورنر نے اپنے ہمسایہ اور ہم منصب مسلمان گورنر موسیٰ بن نصیر رحمہ اللہ کو مدد کے لیے خط لکھا اور جواب میں طارق بن زیاد رحمہ اللہ نے اسپین کو فتح کر کے اسے امن کا گہوارہ بنا دیا۔ اصل اعانت وہ ہے جس کا مظاہرہ حجاج بن یوسف نے اپنے بھتیجے محمد بن قاسم رحمہ اللہ کو یہاں بھیج کر کیا تھا۔ فلسطینی مسلمانوں کے ترجمان اسی کی دہائیاں دے رہے ہیں اور اللہ کا کلام مسلمانوں سے اسی کا طالب ہے۔

ارشاد ہوتا ہے:

وَمَالَكُمْ لَاتُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا١ۚ وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّا١ۙۚ وَّاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِيْرًا(النساء:75)

’’اور اے مسلمانو! تمھارے پاس کیا جواز ہے کہ اللہ کے راستے میں ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو یہ دعا کر رہے ہیں کہ: اے ہمارے پرور دگار! ہمیں اس بستی سے نکال لائیے، جس کے باشندے ظلم توڑ رہے ہیں، اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی حامی پیدا کر دیجیے، اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی مدد گار کھڑا کر دیجیے۔‘‘

مدد کا حق اسی طریقے سے ادا ہو سکتاہے، لیکن اگر اس طرح ممکن نہیں ہے تو ان کی مالی مدد واعانت ضرور کرنی چاہیے، مسلمان اہلِ ثروت کے پاس یہ جہاد بالمال کا سنہری موقع ہے۔

۷۔اس کے ساتھ ان حالات میں چند اور اُمور کی طرف بھی توجہ کی ضرورت ہے۔ اہل علم کو چاہیے کہ عام مسلمانوں کو فلسطین کی تاریخی، مذہبی اور سیاسی اہمیت سے آگاہ کریں۔ فلسطین کا قضیہ حقیقت میں کیا ہے؟ اور مسلمانوں کو اس بارے میں حساس ہونے کی ضرورت کیوں ہے؟ اس بارے میں نوجوان نسل کو اصل حقائق سے آگاہ کرنا چاہیے۔ یہود کے جرائم اور نفسیات کیا ہیں؟ اور قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورت میں ان کو کیوں برائی کا منبع، اس کا مصدر اور موجد قرار دیا گیا ہے؟ موجودہ دور میں اسرائیل، امریکہ اور یورپ کا گٹھ جوڑ کیوں ہے؟ جنگ اور جہاد میں کیا فرق ہے؟ اور حماس اپنی موجودہ روش میں کیوں حق پر ہے؟

ان حقائق سے نئی نسل کو روشناس کرنا چاہیے۔ جو لوگ میڈیا سے وابستہ ہیں یا کم از کم سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ جھوٹی خبروں اور غیر مصدقہ اطلاعات کو آگے نہ بڑھائیں، بلکہ دشمن کے پروپیگنڈے کو بے نقاب کریں۔ زمانہ جنگ میں دشمن کا وطیرہ رہا ہے کہ افواہوں کا بازار گرم کر دیتا ہے، اس لیے چو کنا اور محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

منافقین نے تہمت کے لیے زمانہ جنگ ہی کا انتخاب کیا تھا اور بعد کی تاریخ میں بھی زمانہ جنگ میں ہی مسلمانوں کی طرف بے سروپا باتیں منسوب کی گئی ہیں۔ آخر میں اپنے مسلمان رہنماؤں سے کہنا چاہتا ہوں کہ دنیا بھر کے مسلمان عوام میں ایمان و خلوص اور جوش و جذبہ پایا جاتا ہے، یہ جذبات ہماری طاقت ہیں اور برسرِ اقتدار طبقہ چاہے تو ان جذبات کو درست موقع پر درست انداز سے کام میں لا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ محیر العقول کارنامے انجام دیے جا سکتے ہیں، جن سے دیگر قومیں محروم ہو چکی ہیں۔ اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو! فقط واللہ اعلم‘‘

وَصَلَّی اللهُ عَلیٰ خَیْرِ خَلْقِهِ سَیِّدنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِیْنَ۔
حمید اﷲ خان عزیز

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago