محمد بن اسحاق رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی عمر مبارک 35 سال ہوئی تو اس وقت قریش نے خانہ کعبہ کو از سر نو تعمیر کرنا شروع کیا۔ جب انہوں نے خانہ کعبہ کی بنیادوں پر دیواریں اٹھادیں تو اس وقت ان کا اس بات پر جھگڑا شروع ہوا کہ خانہ کعبہ پر حجر اسود کو کون نصب کرے گا۔ کیونکہ ان میں سے ہر قبیلے کی خواہش تھی کہ حجر اسود کو نصب کرنے کا اعزاز اسے حاصل ہو۔ اس مرحلے پر جھگڑا اتنا بڑھا کہ قتل و غارت تک بات پہنچنے والی تھی۔اس وقت چند سمجھ دار لوگوں نے بیٹھ کر مشورہ کیا کہ کل جو شخص بھی خانہ کعبہ کے احاطہ میں سب سے پہلے داخل ہوگا ہم اپنا فیصلہ اس سے کروائیں گے اور اس کے فیصلے پر عمل کیا جائے گا۔چنانچہ سب نے اس تجویز پر اتفاق کرلیا اور چند آدمی نگرانی کے لئے بیٹھ گئے ۔حسن اتفاق سے دوسرے دن صبح کے وقت جو شخصیت سب سے پہلے خانہ کعبہ کے احاطہ میں داخل ہوئی وہ نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی تھی۔آپ کو دیکھ کر حاضرین نے داد و تحسین کے نعرے بلند کیے اور بے ساختہ پکار اٹھے «جَاءَ الْاَمِیْنُ، هٰذَا الْاَمِیْن رَضِیْنَا» یعنی امین آگئے اوریہ وہ امین ہیں جس پر ہم سب راضی ہیں۔اس دور میں نبی کریم ﷺ کو صادق و امین کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔ (سیرت ابن اسحاق:159)
محترم قارئین! رسول اللہ ﷺ نا صرف خود امانتداری کے پیکر تھے بلکہ آپ ہمیشہ اپنے صحابہ کو امانتداری اختیار کرنے کی ترغیب بھی دیا کرتے تھے۔ اس لئے حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے ہر خطبے میں ارشاد فرماتے تھے :
جس شخص میں امانت نہیں اس کا ایمان ہی نہیں، اور جس شخص کا عہد نہیں اس کا کوئی دین ہی نہیں۔(مسند احمد:12567)
امانتداری ایک مومن کی بنیادی صفت ہوتی ہے جبکہ خیانت کو نفاق کی علامت قرار دیا گیا ہےاس لئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
منافق کی تین نشانیاں ہیں جب وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے اور جب اس کو امانت دی جاتی ہے تو خیانت کرتا ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سورۃ المؤمنون میں جہاں کامیاب ہونے والے مومنین کی کئی ایک نشانیاں بتائی ہیں ان میں سے ایک نشانی یہ بھی ہےکہ :
’’اورجو اپنی امانتوں اور وعدے کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ ‘‘
ہمارے ہاں ایک المیہ یہ ہے کہ ہم نے امانتداری کے مفہوم کو محض مالی معاملات تک محدود کردیا ہے۔پھر اگر اس مالی امانتداری کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بھی ہم سراسر کوتاہی اور بے پراوہی کا شکار ہیں ۔امانتداری میں غیر سنجیدگی کا معاملہ اس قدر آگے بڑھ چکا ہے کہ اب اسلامی معاشرے میں ہمیں کوئی قابل بھروسہ شخص ملتا ہی نہیں ہے کہ جس کی امانتداری پر یقین کرلیا جائے۔
شاید کہ دور حاضر کے حوالے سے ہی نبی کریم ﷺنے فرمایا تھا:
لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ وہ لین دین کریں گے مگر ان میں سے کوئی ایسا نہ ہو گا جو امانت کو ادا کرے یہاں تک کہ لوگ کہیں گے کہ فلاں قوم میں ایک شخص امانت دار ہے۔
یہ بات ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ اس حدیث میں اسلامی معاشرے کی بات ہورہی ہے ۔ ان بستیوں اور محلوں کی بات کی جارہی ہے جہاں پر اہل ایمان رہتے ہیں۔وہ اہل ایمان جو یہ جانتے ہیں کہ امانت میں خیانت کرنا منافقین کی نشانی ہے۔جو یہ بھی جانتے ہیں کہ امانت کی حفاظت کرنا کامیاب مومن کی بنیادی صفات میں سے ہے۔اب ایسے محلوں میں اگر ہم کسی امانتدار کو ڈھونڈنے نکلتے ہیں تو ہمیں کوئی شخص نظر نہیں آتا۔
آگے نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں لوگ کسی شخص کی تعریف کرتے ہوئے کہیں گے:
وہ کیسا ہوشیار اور خوش مزاج اور عقلمند ہے (یعنی اس کی تعریف کریں گے) لیکن اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہ ہو گا۔(بخاری:7086)
سوچیں کہ آج جن لوگوں سےمحبت کی جاتی ہے ،جن کی تعریف کی جاتی ہے، جن کے نعرے لگائے جاتے ہیں اور جن کے لئے ہر قسم کی قربانی دی جاتی ہے کیا انہیں لوگوں کے پاس ہم اپنی امانتیں رکھوا سکتے ہیں؟ اس کا جواب آپ بہتر جانتے ہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
«بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حق داروں کو ادا کرو»۔
اس آیت کریمہ میں لفظ امانت جمع کے صیغے کے ساتھ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب ہے کہ امانت کا تعلق محض مالی معاملات یا انسانی زندگی کے کسی ایک شعبے کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ یہ ایک مومن کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو شامل ہے۔ اس لئے ذیل میں ہم امانتداری کے چند پہلوؤں پر بات کریں گے۔
مفسرِقرآن ابن جریر طبری رحمہ اللہ درج بالا آیت کے شانِ نزول میں رقم طراز ہیں کہ:
«یہ آیت سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے ان سے کعبہ کی چابیاں لیں اور کعبہ میں داخل ہوئے تھے اور آپ جب باہر تشریف لائے تو یہ آیت کریمہ تلاوت فرمارہے تھے۔پھر آپ ﷺ نے عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور چابی ان کی سپرد کردی»۔(تفسیر طبری:5/201)
سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ قرآن میں بیان کیا گیا ہے کہ جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام مدین کے کنویں کہ پاس پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہو رہے اور اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں اور ان کے ایک طرف دو عورتیں اپنے جانوروں کو روکے کھڑی ہیں۔سیدنا موسیٰ نے ان سے کہا تمہارا کیا معاملہ ہے۔ وہ بولیں کہ جب تک چرواہے اپنے جانوروں کو لے نہ جائیں ہم پانی نہیں پلا سکتے اور ہمارے والد بڑی عمر کے بوڑھے ہیں۔سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے ان کی بات سنی تو ان کے جانوروں کوپانی پلایا اور پھر جانوروں کو ان کے سپرد کردیا۔جب وہ خواتین اپنے گھر لوٹیں تو جاکر انہوں نے پورا واقعہ اپنے والد کو سنایا اور کہا:
’’پیارے ابو جان ! آپ انھیں مزدوری پر رکھ لیجئے، کیونکہ جنہیں آپ اجرت پر رکھیں ان میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو مضبوط اور امانتدار ہو۔‘‘ (القصص:26)
اب یہاں پر سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور ان خواتین کے مابین کوئی مالی معاملہ نہیں ہوا تھا لیکن پھر بھی ان میں ایک خاتون اپنے والد کو ان کی امانتداری کی صفت کے متعلق بتاتی ہے ،کیوں ؟ کیونکہ انہوں نےسیدنا موسیٰ علیہ السلام کی آنکھوں میں امانتداری دیکھی تھی اور یہ بھی کہ اس شخص نے بغیر کسی لالچ کے ان کی مدد کی تھی ۔
محترم قارئین! آپ جانتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ ہجرت کرنے لگے تو انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے گھر پر چھوڑ دیا تھا تاکہ وہ مکہ والوں کی امانتیں جو رسول اللہ ﷺ کے پاس رکھی ہوئی تھیں وہ انہیں واپس کردے۔(سیرت ابن اسحاق:349)
امانتداری کا عالم دیکھیں کہ سخت دشمنی کے باوجود اہل مکہ کے لوگ جانتے تھے کہ کچھ بھی ہوجائے محمد ﷺ ہماری امانتوں پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔انہیں پورا یقین تھا کہ ان کی امانتیں ضائع نہیں ہوگی۔
رسول اللہ ﷺ کا اسوہ صرف نماز و روزہ نہیں تھا بلکہ آپ ﷺ کا اسوہ آپ کی پوری زندگی ہے جس میں عبادات و معاملات دونوں شامل ہیں۔
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
سب سے پہلی چیز جو تم اپنے دین میں گم پاؤ گے وہ امانت ہوگی اور سب سے آخری چیز جو تم لوگوں میں پاؤ گے وہ نماز ہوگی اور لوگ نماز پڑھیں گے لیکن ان کے پاس دین نہیں ہوگا۔ ۔ (مجمع الزوائد:7/332)
اس سے پتا چلتا ہے کہ جو شخص امانتدار نہیں ہے اس کا کوئی دین نہیں اگرچہ وہ نمازی ہی کیوں نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین پر پیش کیا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے۔ اور انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ بےشک وہ ظالم اور جاہل تھا۔‘‘
اس آیت کریمہ میں کس امانت کی بات کی جارہی ہے؟ اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت کی امانت اور زمین پر خلافت کی امانت کی بات کی جارہی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین اور پہاڑوں پر یہ ذمہ داری پیش کی تو انہوں نے عاجزی کا اظہار کیا جبکہ سیدنا آدم علیہ السلام نے اس امانت کی ذمہ داری لے لی تھی۔
اس لئے نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں :
«قیامت کے دن کسی بندے کے دونوں پاؤں اپنی جگہ سے نہیں ہٹیں گے یہاں تک کہ اس سے یہ نہ پوچھ لیاجائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کن کاموں میں ختم کیا، اور اس کے علم کے بارے میں کہ اس پر کیا عمل کیا اور اس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا، اور اس کے جسم کے بارے میں کہ اسے کہاں کھپایا»۔(ترمذی:2417)
مجالس میں کی جانے والی باتیں امانت ہوتی ہیں انہیں راز ہی رکھنا چاہیئے۔اس لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مجالس امانت کے ساتھ ہیں۔ (ابو داؤد:4869)
اگر کسی مجلس میں کوئی بات ہوجائے تو اب اس کے لئے الگ سے تلقین کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیئے کہ بھائی جو بات ہمارے درمیان ہوئی ہے یہ کسی کو بتانا نہیں بلکہ ہمیں خود ہی اس بات کا خیال رکھنا چاہیئے۔
اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا :
جس سے مشورہ لیاجائے وہ امین ہوتا ہے۔(ترمذی:2369)
قیامت کے دن اللہ کے ہاں سب سے عظیم امانت شوہر اور بیوی کی ہوگی کیونکہ دونوں ایک دوسرے کے راز دار ہوتے ہیں ۔جو بات شوہر اور بیوی کے درمیان راز ہو یا وہ ناپسند کرتے ہوں کہ وہ بات کسی اورکے سامنے بتائی جائے یہ بھی امانت ہے۔
اس لئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
قیامت کے دن، اللہ کے ہاں لوگوں میں مرتبے کے اعتبار سے بدترین وہ آدمی ہو گا جو اپنی بیوی کے پاس خلوت میں جاتا ہے اور وہ اس کے پاس خلوت میں آتی ہے پھر وہ (آدمی) اس کا راز افشا کر دیتا ہے۔(صحیح مسلم:1437)
ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں شام کے گورنر تھے ۔ انہوں نے جب حمص فتح کیا تو پتا چلا کہ بازنطینی قوم اس علاقے کو فتح کرنے کے لئے ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ حمص کی طرف آرہی ہے جبکہ مسلمانوں کے پاس اس وقت بہت ہی کم سپاہی تھے۔ چونکہ مسلمان اس علاقے کو فتح کرکے اس پر اپنا نظام قائم کرچکے تھے۔اور وہاں کے لوگوں سے جزیہ لے چکے تھے۔اس لئے جب ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے معاملات کا جائزہ لیا تو وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ انہیں یہ علاقہ چھوڑ دینا چاہیئے۔ انہوں نے شہر کے مرکز میں تمام لوگوں کو جمع کیااور یہ اعلان کیا کہ لوگو! میں نے تم لوگوں سے جو جزیہ لیا تھا وہ تمہاری حفاظت کے بدلے تھا چونکہ اب ہم تمہارے حقوق کی حفاظت نہیں کرسکتے اور یہ علاقہ چھوڑ کر جارہے ہیں لہٰذا اب تم اپنا جزیہ واپس لے لو۔
ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ چاہتے تو اس شہر کے مکینوں کا جزیہ نہ لوٹاتے مگر انہیں معلوم تھا کہ امانت کی ادائیگی کتنی ضروری ہوتی ہے۔وہ جانتے تھے کہ جو شخص امین نہیں اس کے پاس دین نہیں ۔
دارصل یہ وہی ابو عبیدہ بن جراح تھے جن کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے اپنی سچی زبان سے ارشاد فرمایا تھا:
ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابو عبیدہ بن جراح ہے۔(صحیح البخاری:4382)
اس لئے ہمیں چاہیئے کہ ہم ہمیشہ اپنے سنہرے ماضی پر نظر رکھیں اور رسول اللہ ﷺ کے احکامات پر تعمیل کے معاملے میں اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلیں۔ یقیناً ہماری دنیا اور آخرت کی کامیابی اسی سے مشروط ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی امانتوں اور عہد کا پاس رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…