سوال:ہمارے یہاں بعض مساجد میں نماز کی جماعت کا وقت ہو جانے پر لوگ ( مقتدی) گھڑی دیکھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور صف بندی کر لیتے ہیں، حالانکہ پچھلی صفوں میں امام مسجد پہلے ہی سے موجود ہوتا ہے، اس کے بیٹھے ہوئے بھی لوگ اسی طرح کرتے ہیں اور کبھی کبھار امام مسجد ابھی مسجد کے مین ہال میں داخل نہیں ہوتا کہ لوگ صفیں بناکر پیچھے مڑ مڑ کر اس کا یعنی امام صاحب کا انتظار کرتے ہیں حتیٰ کہ بعض اوقات مزید انتظار کیے بغیر کوئی بھی شخص تکبیر ( اقامت) کہہ دیتا ہے اور مقتدیوں میں سے کسی کو امام بنایا جاتا ہے اور نماز شروع کردی جاتی ہے، پھر تھوڑی دیر بعد امام مقتدی کی حیثیت میں شامل ہوتا ہے۔ کیا اس طرح کے معاملات صحیح ہیں کہ مقتدی جب چاہے امامت کے لیے کھڑا ہو جائے یا پھر شرعی حدود و قیود ہیں؟؟؟
جواب:اس سلسلے میں راجح یہی ہے کہ مقتدی صفوں میں بیٹھ کر امام صاحب کا انتظار کریں اور اضطراب و بے چینی کا مظاہرہ نہ کریں ۔ امام مسجد میں موجود ہو یا باہر سے تشریف لائے جب تک وہ اپنی جائے امامت کی طرف چل نہ دے مقتدیوں کو صف میں بیٹھے رہنا چاہیے ۔
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللّٰه عنہ سے روایت ہے:
نبی کریم ﷺ کا مؤذن اذان کہتا، پھر انتظار کرتا۔ جب وہ نبی اکرم ﷺ کو دیکھ لیتا کہ آپ تشریف لے آئے ہیں تو اقامت کہنا شروع کردیتا۔( صحیح ابن خزیمة : 1525، وسندہ حسن، نیز دیکھيے صحیح مسلم : 606)
سیدنا ابو قتادہ رضی اللّٰه عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا:
«جب نماز کی اقامت کہی جائے تو تم مجھے دیکھے بغیر کھڑے نہ ہونا اور سکینت کو لازم کرلو۔»(صحیح بخاری:638)
امام ترمذی رحمه اللّٰه نے اس حدیث کے بعد فرمایا :
نبی کریم ﷺ کےصحابہ کرام و دیگر اہل علم میں سے ایک جماعت نے یہ مکروہ جانا کہ لوگ (صفوں میں) کھڑے ہوکر امام کا انتظار کریں۔
امام ابن خزیمة رحمه اللّٰه نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد فرمایا:
لوگوں کا اپنے امام کو دیکھنے سے پہلے نماز کے لیے کھڑے ہونا ممنوع ہے۔
امام بغوی رحمه اللّٰه نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد فرمایا :
اہل علم کی ایک جماعت نے لوگوں کے کھڑے ہو کر (صفوں میں) امام کا انتظار کرنے کو نا پسند کیا ہے۔( شرح السنۃ 89/2)
امام ابن المنذر رحمه اللّٰه نے فرمایا : « اگر امام مسجد میں موجود ہے، پھر جب وہ ( جائے نماز کی طرف) کھڑا ہو تو لوگ بھی ( صفیں بنانے کے لیے) کھڑے ہو جائے، لیکن اگر ( صورتِ حال یہ ہے کہ) وہ اس کے باہر سے آنے کے منتظر ہیں تو جب تک امام کو ( جائے نمار کی طرف آتے ہوئے) دیکھ نہ لیں، کھڑے نہ ہوں۔» ( الاوسط 188/4)
ابو خالد الوالبی کا بیان ہے ، سیدنا علی رضی اللّٰه عنہ ہماری طرف آئے اور اقامت کہہ دی گئی (جبکہ) ہم ان کے انتظار میں کھڑے تھے۔ آپ رضی اللّٰه عنہ نے فرمایا :
کیا بات ہے کہ میں تمہیں لہو ولعب میں دیکھ رہا ہوں؟۔(شرح مشکل الآثار 395/10 واللفظ له، الصلاة لأبي نعيم: 292 وسنده حسن)
مذکورہ بالا دلائل سے واضح ہو جاتا ہے کہ امام کے انتظار میں کھڑے رہنا درست نہیں اور نیکی کے امور میں اضطراب و بے چینی کسی مسلمان کو لائق نہیں۔
صحابہ کرام رضی اللّٰه عنہم صفوں میں بیٹھ کر انتظار کیا کرتے تھے ۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللّٰه عنہ نے فرمایا :
رسول اللّٰه ﷺ کے اصحاب عشاء کی نماز کا انتظار کرتے تھے، یہاں تک کہ ان کے سر ( اونگنے کی وجہ سے) جھک جھک جاتے تھے۔(صحیح سنن أبی داؤد : 200)
رسول اللہ ﷺنے فرمایا :
«اذان اور اقامت کے درمیان دعا رد نہیں کی جاتی۔» (صحیح، سنن أبی داؤد : 521)
جب مقتدی حضرات اذان اور اقامت کا درمیانی وقت ذکر و اذکار اور دعا کرنے میں گزاریں گے تو انہیں احساس ہی نہیں ہوگا کہ کب امام آیا اور اقامت کہہ دی گئی! اس پر عمل پیرا ہونے سے ہر قسم کی بے چینی اور اضطراب ختم ہو جائے گا ۔ ان شاء اللّٰه.
مسئلے کا دوسرا پہلو: بعض احادیث میں امام دیکھنے سے پہلے صفیں بنانے کا ذکر بھی ہے۔ مثلاً سیدنا ابو ہریرہ رضی اللّٰه عنہ نے فرمایا :
اقامت کہی گئی تو ہم نے کھڑے ہو کر صفوں کو برابر کیا، اس سے پہلے کہ رسول اللّٰه ﷺ ہماری طرف تشریف لائیں۔( صحیح مسلم : 605، صحيح بخاري : 275، سنن أبي داود : 235)
اس حدیث کی توضیح و توجیہ میں محدثین کے اقوال درج ذیل ہیں :
١) امام ابن کثیر رحمہ اللّٰه نے فرمایا :
«هذا محمول علی انه كان في بعض الاوقات وكان الغالب ما جاء في حديث جابر بن سمرة»
یعنی یہ عمل بعض اوقات پر محمول ہے ورنہ اکثر عمل حدیث جابر ہی پر ہے۔» ( کتاب الاحکام الکبیر : 265/2)
٢). بعض علماء کے نزدیک یہ عمل حدیث : ((فلا تقوموا حتیٰ تروني))سے پہلے کا ہے۔
٣) حافظ ابن حجر عسقلانی رحمه اللّٰه نے فرمایا :
یعنی صحابہ کرام رضی اللّٰه عنہم نبی کریم ﷺ کے تشریف لانے سے پہلے کھڑے ہو جاتے تھے تو یہی امر اس ممانعت کا باعث ہوا۔» ( فتح الباری : 463/2)
ان تصریحات سے خوب واضح ہو جاتا ہے کہ اب حدیثِ ابو ہریرہ رضی اللّٰه عنہ کے بجائے حدیث ابو قتادہ رضی اللّٰه عنہ پر عمل کیا جائے گا ۔
اگر کسی بشری تقاضے کی وجہ سے امام کے آنے میں کچھ تاخیر ہو تو فوراََ کسی دوسرے کو امامت کے لیے کھڑا کرنا جائز نہیں بلکہ اس کا انتظار کرنا چاہیے، جیسا کہ گزر چکا ہے کہ صحابہ کرام، نبی کریم ﷺ کا انتظار کرتے تھے ۔ اگر زیادہ دیر ہو جائے یا کنفرم ہو جائے کہ امام صاحب نہیں پہنچ سکتے تو نائب وغیرہ نماز پڑھا سکتے ہیں ۔
امام ابن خزیمة رحمه اللّٰه نے فرمایا : «جب امام ( زیادہ) تاخیر کردے تو اس کا انتظار نہ کرنے کی اجازت اور مقتدیوں کا کسی ایک مقتدی کو امامت کے لیے حکم دینا( جائز ہے)۔( صحیح ابن خزیمة قبل حدیث:١٥١٤) ۔
{الحدیث:شمارہ 119،ص11-14}
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…