اور اللہ عزوجل کا یہ فر مان کہ : “ تمھیں مٹی سے پیدا کیا” ) سورۃ فاطر،آیت نمبر 11) پھر ارشاد فر مایا کہ : “چپکتی مٹی سے”(سورۃ الصافات، آیت نمبر 11) پھر ارشاد فر مایا کہ : “ چُنی ہو ئی مٹی سے” (سورۃ مومنون، آیت نمبر 12)پھر ارشاد فر مایا کہ : سڑے گارے کی کھنکھناتی مٹی سے ” (سورۃ الحجر، آیت نمبر 26) پھر ارشاد فر مایا کہ : ٹھیکرے جیسی کھنکتھی مٹی سے” (سورۃ الرحمن، آیت نمبر14) اس سےزنادقة نے قرآن کے بارے شک کیا اور کہا کہ یہ آپس میں ٹکراتا ہے۔
جواب:
ہم کہتے ہیں کہ یہ آدم علیہ السلام کی پیدائش کا ابتدائی مر حلہ ہے ۔ جس میں اللہ عزوجل نے پہلے مٹی سے ابتداء کی پھر سرخ ، سفید اور کالے رنگ کی مٹی سے ، پھر اچھی مٹی سے اور بنجر مٹی سے ، اسی لئے اس کی اولاد میں اچھے اور بُرے ، کالے ، سرخ اور سفید ہیں۔ پھر اس مٹی کو گیلا کیا۔ تو وہ چپکنے والی ہو گئی۔ اسی لئے اس کا یہ ارشادہے کہ: “ چپکتی مٹی سے ” پس جب مٹی آپس میں چپکنے لگی تو وہ لیس دار مٹی بن گئی۔پھر فر مایا کہ :“مٹی کے جو ہر سے پیدا کیا” اس سے مراد ایسی مٹی کہ جب اس کو پکڑ کر نچوڑیں تو وہ انگلیوں کے درمیان سے پھسلتی ہے ۔ پھر جب اس سے بُو آنا شروع ہوا تو وہ سڑے ہو ئے سیاہ گارے کی طرح ہو گئی ۔تو اس سے (آدم علیہ السلام) بنائے گئے سیاہ گارے سے ۔ پس جب وہ (گارہ) خشک ہوا تو کھنکھنا نے لگا جیسےٹھیکری کھنکھناتی ہے ۔جیسے کہا جاتا ہے کہ «وہ ایسے کھنکھناتا ہے جیسے ٹھیکری کا آواز کر نا ہو»۔تو یہ سیدناآدم علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر تھا۔ اور اسی کا یہ فر مان کہ :“ حقیر پانی کے جو ہر سے (سورۃ السجدہ، آیت نمبر 8)تو یہ اس کی او لاد کی پیدا ئش کی ابتدا ہے۔ “ جوہر”سے یعنی نطفہ سے۔ جب وہ آدمی سے نکلے ۔
اسی لئے اس کا یہ فر مان ہے کہ : “ پانی سے ” یعنی نطفہ سے ۔“ حقیر ” مادے سے۔پس یہ وضاحت تھی اسکی جس کے بارے زنادقة نے شک کیا۔
اور اس کا یہ فر مان کہ : “ مشرق و مغرب کا رب” (سورۃ الشعراء، آیت نمبر 28)“ دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا رب” (سورۃالرحمن، آیت نمبر 16) ، “ تمام مشرقوں اور تمام مغربوں کا رب” (سورۃ المعارج، آیت نمبر 40)پس زنادقة نے قرآن میں شک کیا ، اور کہا یہ کیسے سچا کلام ہے۔
جواب:
اور اس کا یہ فر مان کہ: “ مشرق ومغرب کا رب” تو ان سے مراد وہ دن ہیں جس میں رات اور دن برابر ہو تے ہیں۔ اللہ نے اس کے مشرق اور مغرب کی قسم اٹھائی ہے۔ اور اس کا یہ فر مان کہ: “ دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا رب” تو یہ سب سے لمبے دن ہیں سال کے۔ اللہ نے ان کے مشرق اور مغرب کی قسم اٹھائی ہے۔ اور اس کا یہ فر مان کہ : “ تمام مشرقوں اور تمام مغربوں کا رب” تو اس سے سال کے تمام مشرق اور مغرب ہیں۔ یہاں سردی اور گرمی میں سورج طلوع اور غروب ہو نے کی جگہیں مراد ہیں۔پس یہ تفسیر ہے اس کی جس کے بارے زنادقة نے شک کیا۔
اس کا یہ فر مان کہ: “ اور بلا شبہ آپ کے رب کے ہاں ایک دن تمہاری گنتی کے حساب سے ایک ہزار برس کی طرح ہے” (سورۃ الحج ،آیت نمبر 47) اور دوسری آیت میں فر مایا کہ: وہی آسمان سے زمین تک (سارے) معا ملات کی تد بیر کر تا ہے۔پھر ایک دن میں جس کی مقدار تمھارے شمار کے مطابق ایک ہزار سال ہے۔ وہ معا ملہ اس کی طرف چڑھتا ہے” (سورۃ السجدۃ ،آیت نمبر 5)اور ایک آیت میں یہ فر مایا کہ: فرشتے اور روح (جبریل) اس کی طرف جڑھیں گے۔ ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے تو(اے نبی) آپ صبر جمیل سے کام لیجئے(سورۃ المعارج، آیت نمبر 4-5)اس پر زنادقة نے کہا کہ یہ کیسے محکم کلام ہو سکتا ہے۔ حالانکہ اس کی بعض آیات بعض سے ٹکراتی ہیں۔
جواب:
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے جواب دیا: جہاں تک اس کا یہ فر مان کہ “ اور بلا شبہ آپ کے رب کے ہاں ایک دن تمہاری گنتی کے حساب سے ایک ہزار برس کی طرح ہے” تو اس سے وہ دن مراد ہیں جس میں اللہ نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا۔ ایک دن گو یا کہ ایک ہزار سال کی ما نند ہے۔ اور اس کا یہ فر مان “ وہی آسمان سے زمین تک (سارے) کی تدبیر کر تا ہے۔ پھر ایک دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزار سال ہے۔ وہ معا ملہ اس کی طرف چڑھتا ہے” تو اس سے مراد جبریل علیہ السلام کا نبی کریمﷺ پر (وحی) لیکر اترنا ہے۔اور واپس آسمان پر چڑھنا ہے۔ ایک ہی دن میں جس کی مقدار ہزار سال ہے۔وہ اس طرح کے آسمان سے زمین کا فاصلہ پانچ سو سال کی مسا فت ہے۔ تو اترنا پانچ سو سال اور دوبارہ چڑھنا پانچ سو سال تو یہ پورے ہزار سال ہو ئے۔اور جہاں تک اس کے اس فر مان کا تعلق ہے کہ: ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے”اس سے مراد یہ ہے کہ اگر مخلو قات کا حساب اللہ کے علاوہ کسی اور کے سپرد کیا جا ئے تو وہ اس سے پچاس ہزار سال کی مقدار میں بھی پورا نہ کر سکے جبکہ اللہ دنیا کے ایک دن کے حساب سے آدھے دن میں ہی پو را کر لے گا یعنی جب اللہ مخلوقات کا حساب لے گا۔ اسی لئے اس کا یہ فر مان ہے کہ:“ اور ہم حساب کر نے والے کا فی ہیں” (سورۃالانبیاء، آیت نمبر 47) یعنی جلدی حساب کر نے والے ہیں۔
اور اس کا یہ فرمان کہ : “اور جس دن ہم سب کو اکھٹا کریں گے پھر جو لوگ(اللہ کے ساتھ) شریک ٹھہراتے تھے ان سے ہم کہیں گے تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جنہیں تم (اللہ کے ساتھ) خیال کر تے تھے” اس فر مان تک کہ: “ ہمارے رب ہم مشرک نہ تھے” (سورۃ الانعام، آیت نمبر 22-23)پس وہ مشرک ہو نے کا انکار کریں گے۔اور جبکہ دوسری آیت میں فر ما یا کہ: “ اور وہ اللہ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے” (سورۃ النساء، آیت نمبر 42) پس زنادقة نے قرآن کے بارے شک کیا اور گمان کیا کہ اس میں ٹکراؤ ہے۔
جواب:
جہاں تک اس فر مان کا تعلق ہے کہ ہمارے رب کی قسم ہم مشرک نہ تھے ”یہ وہ وقت ہے کہ جب مشرکین دیکھے گے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل توحید کو معاف کر دیا ہے، تو یہ آپس میں کہیں گے کہ جب ہم سے پوچھا جائے گا تو ہم جواب دیں گے کہ ہم نے تو شرک نہیں کیا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ ان سب کو اور ان کے بتوں کو جمع کر ے گا اور فرمائے گا “ میرے وہ شریک کہا ں ہیں جنہیں تم میرا شریک سمجھتے تھے(سورۃ القصص، آیت نمبر 62)(پھر اللہ نے فر مایا کہ : “ پھر اس (جواب طلبی) پر ان کی معذرت یہی ہو گی کہ وہ کہیں گے: اللہ ہمارے رب کی قسم ہم مشرک نہ تھے۔بس جب وہ اپنے شرک کو چھپائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے منہ پر مہر لگا دے گا اور ان کے اعضاء بات کریں گے۔ پس اسطرح وہ بات کریں گے۔ اس لئے اس کا فر مان کہ“ آج ہم ان کے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے کلام کریں گے اور ان کے پیر گواہی دیں گے اس کی جو کچھ وہ کر تے تھے(سورۃیس ،آیت نمبر 65) چنانچہ یہ اللہ نے ان کے اعضاء کے بارے میں بیان کیا ہے جب وہ گواہی دیں گے پس یہ اس کی وضاحت ہے جسکے بارے زنادقة نے شک کیا۔
اور اللہ عزوجل کا یہ فر مان کہ: “ اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرم قسمیں کھائیں گے کہ وہ دنیا میں گھڑی بھر کے سوا نہیں ٹھہرے(سورۃ الروم، آیت نمبر55)اور فرمایا: وہ باہم چپکے چپکے کہتے ہونگے تم دنیا میں نہیں ٹھہرے مگر صرف دس دن(سورۃ طہ، آیت نمبر103) اور فر مایا کہ: “ تم تو صرف ایک دن ٹھہرے تھے” (سورۃطہ، آیت نمبر104) اور فر مایا کہ: “بس تھوڑا عر صہ ٹھہرے ہو” (سورۃ الاسراء، آیت نمبر52) پس اس وجہ سے زنادقة نے شک کیا۔
جواب:
جہاں تک اس کا یہ فر مان ہے کہ:“ تم صرف دس دن رہے” تو یہ وہ وقت ہے جب وہ قبروں سے نکلیں گے تو وہ جس چیز کو جھٹلا تے تھے یعنی دوبارہ جی اٹھنا۔ اس کو دیکھیں گے۔ تو وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہیں گے کہ تم صرف قبروں میں دس دن رہے ہو۔پھر وہ دس دنوں کو زیادہ سمجھیں گے تو وہ کہیں گے کہ: “ تم صرف ایک دن رہے ہو”قبروں میں پھر ایک دن کو بھی زیادہ سمجھیں گے اور کہیں گے کہ: “ تم تو صرف تھوڑی دیر رہے ہو۔پھر تھوڑی دیر کو بھی زیادہ سمجھیں گے اور کہیں گے کہ تم صرف دن کا ایک لمحہ رہے ہو۔ پس یہ ان آیات کی وضاحت ہے جسکے بارے زنادقة نے شک کیا۔
اور اس کا یہ فر مان کہ:“ اس دن کو (یاد کرو) جب اللہ رسولوں کو جمع کر ے گا، پھر (ان ) سے کہے گے کہ تمھیں کیا جواب دیا تو وہ کہیں گے ہمیں کو ئی علم نہیں” (سورۃ المائدۃ، آیت نمبر109) اور دوسری آیات میں فرمایا کہ : “اور سارے گواہ کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہے جنہوں نےاپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا۔” (سورۃ ھود،آیت نمبر 18)اس پر زنادقة نے اعتراض کیا کہ یہ کیا بات ہو ئی کہ کہیں گے ہمیں تو کچھ علم نہیں اور پھر بیان کیا کہ وہ کہیں گے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پر وردگار پرجھوٹ بولا۔ تو انہوں نے گمان کیا کہ قرآن کا بعض حصہ بعض سے ٹکراتا ہے۔
جواب:
جہاں تک اس کا یہ فر مان کہ : “اس دن (کو یاد کرو) جب اللہ رسولوں کو جمع کر ے گا ، پھر ان سے کہے گا کہ تمھیں کیا جواب دیا۔تو یہ ان سے جہنم کے بھڑکنے کے قریب پو چھا جائے گا۔بس وہ فر مائے گا کہ تم تو حید کے بارے کیا جواب دیتے ہو۔ تو جہنم کے بھڑکنے کی وجہ سے ان کے ہو ش جاتے رہیں گے۔ اور وہ کہیں گے کہ: “ ہمیں کوئی علم نہیں”پھر کچھ دیر بعد جب ان کی سمجھ بوجھ لوٹے گی تو وہ کہیں گے کہ: “ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا” پس یہ ان آیات کی تفسیر ہے جسکے بارے زنادقة نے شک کیا۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…