خوشامد……. معاشرے کا ناسور

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہر انسان کے خمیر میں اچھائی اور برائی کا مادہ رکھ دیا ہے۔اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ اپنے لیے کون سا راستہ اور طرزِ زندگی کو اختیار کرتا ہے۔کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو دونوں راستوں پر چلنے کی آزادی دے دی ہے۔ دراصل اس دنیا کو اور پوری خلقت بنانے کا مقصد انسان کا امتحان لینا ہے۔اور امتحان ہاتھ پیر باندھ کر نہیں لیا جا سکتا کچھ نہ کچھ رعایت دینی ہی پڑتی ہے۔ جب کہ امتحان کی اساس ہی خیر و شر ہے۔ اب انسان اپنے شعور و ادراک سے کام لے کر اس امتحان میں کام یاب بھی ہوسکتا ہے اور بے شعوری کی زندگی گزاری جائے تو پھر وہ سیدھی راہ سے کوسوں دور بھی چلا جاتا ہے۔اس کے اس طرزِ عمل میں کئی محرکات کا عمل دخل ہوتا ہے۔کچھ تو معاشرے میں پھیلی ہوئی کج روی، تربیت کا فقدان اور کچھ انسان کا اپنابرائی کی طرف میلان طبع!

انسان کے جسمانی عوارض دوسروں پر اتنے اثر انداز نہیں ہوتے جتنے کہ اس کے باطنی عوارض معاشرے میں فتنہ و فساد کا باعث بنتے ہیں۔ چناں چہ ہمارے معاشرے کے کچھ افراد میں ایک بڑی سنگین بیماری لاحق ہوتی ہے اور وہ ہے خوشامد ، چاپلوسی اور بے جا کسی کی مدح سرائی۔ خوشامدی شخص اپنے مفاد، لالچ اور خو دغرضی کے لیے کسی کی بے محل تعریف اور مدح کے پل باندھتا رہتا ہے۔تاکہ اپنے مخاطب کو خوش کرکے اس سے مالی اور دیگر فوائد حاصل کرے۔اس کا یہ قبیح عمل اسے جن گناہوں کا مرتکب بناتا ہے اسے اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ایک یہ کہ جس شخص کی وہ تعریف کرتا ہے ممدوح اس تعریف کا مستحق نہیں ہوتا اور یہ بات خوشامدی بھی خوب جانتا ہے، کیوں کہ جو وہ کہہ رہا ہوتا ہے اس کو ماننے پر خود اس کا دل آمادہ نہیں ہوتا پھر بھی اپنی غرض کے لیے کرتا ہے ، گویا اس کی زبان پرجو ہوتا ہے وہ اس کے دل میں نہیں ہوتا ،اسی کیفیت کو منافقت کہتے ہیں۔اور منافقت کفر سے زیادہ سنگین گناہ ہے۔دوسرا یہ کہ دنیاوی فائدوں کے لیے اہلِ ثروت اور اربابِ اختیار کی تعریف کر کے اس کی خوشامد، چاپلوسی اور مدح سرائی ایک نہ ایک دن انہیں لوگوں کی نظروں میں اسے ذلیل و رسوا کروا دیتی ہے۔اور معاشرے میں لوگوں کا عتماد اس پر سے اُٹھ جاتا ہے، پھر اگر وہ کبھی سچ بھی بولے تب بھی کوئی یقین نہیں کرتا۔

اس کے علاوہ اس کی اس قابل نفرت عادت کی وجہ سے وہ لوگ جن کی اس نے جھوٹی تعریفیں کی ہوتی ہیں، ان کا معاملہ بھی یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک قسم کے احساس برتری میں مبتلا ہوجاتے ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس معاشرے کے افضل ترین شخص ہیں ، اس خیال کے تحت وہ اپنے سے نیچے لوگوں کو منہ لگانا پسند نہیں کرتے اور اس طرح ممدوح بڑائی اور تکبر کا شکار ہوجاتا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ معاشرے کا ہر فرد اس کو وہی مقام دے جس کا وہ اہل ہے۔پچھلے دور میں بادشاہوں، شہزادوں، امیروں اور دولت مندوں میں ان خوشامدیوں اور ان کی ہر ادا پر واہ واہ کرنے سے اُن لوگوں کے رویے اور طرزِ عمل میں غرور و تمکنت کا عنصر غالب آ جاتا تھا۔ اور ان سب کے ذمہ دار سرکاری اور درباری خوشامدی اور ان کی قدم بوسی کرنے والے لوگ ہی ہوا کرتے تھے۔ اور یہ بیماری آج ہمارے معاشرے میں ایک وبا کی طرح پھیلی ہوئی ہے۔ اور اس رستے ہوئے ناسور نے انسانوں میں چھوٹے بڑے کی تفریق پید اکردی ہے۔ اگر کسی کے پاس چار پیسے آجائیں تو وہ اپنے سے کمتر رشتہ داروں کو خاطر میں نہیں لاتا۔حدیث مبارکہ ہے کہ:

«ایک بار رسولِ کریم ﷺ نے ایک شخص کو دوسرے کی مبالغہ آمیز تعریف کرتے ہوئے سنا تو فرمایا «تم نے اس کو برباد کر دیا» (صحیح بخاری)

ایک اور موقع پر ایک صاحب نے کسی کی حد سے زیادہ تعریف کی تو فرمایا: «تم نے اپنے ساتھی کی گردن ماردی، اگر تم کو کسی کی تعریف ہی کرنی ہو تو یوں کہا کہ میں یہ گمان کرتا ہوں بشرطیکہ اس کے علم میں وہ واقعی ایسا ہو ، اور قطعیت کے ساتھ غیب پر حکم نہ لگا یا جائے۔» (صحیح بخاری و مسلم)

خیر و شر کی دو ہی ممکنہ صورتیں ہیں، ایک فاعلی صورت اور دوسری مفعولی۔فاعلی صورت میں ہم کسی کو خیر مہیا کر رہے ہوتے ہیں اور مفعولی حالت میں ہم خود کسی ذریعے یا وسیلے سےخیر حاصل کرتے ہیں۔بعینہٖ شر اور فساد کو پھیلانے میں بھی ہم کبھی فاعل اور کبھی مفعول کردار ادا کرتے ہیں۔دانستہ یا نا دانستہ ہم سے یہ اعمال صادر ہو رہے ہوتے ہیں۔

ذکر ہورہا ہے معاشرے کے بد قماش ،بدکردا ر اور خوشامدی لوگوں کا جن کا وجود جونک کی طرح افرادِ معاشرہ سے چمٹا رہتا ہے او ر ان کاصحت مند خون پی کر ان کے اندر غیر صحت مند اور زہر آلود خون کی آمیزش کرتے رہتے ہیں۔چناں چہ خوشامدی لوگ خوشامد اور کا سہ لیسی سے وہ کچھ حاصل کر لیتے ہیںجس کے وہ بالکل حق دار نہیں ہوتے۔انسانوں کی اکثریت اپنی تعریف اور مداح سن کر روحانی سکون حاصل کرتی ہے جب کوئی ان کے ساتھ یہ رویہ اختیار کرتا ہے تو پھر وہ بھی خوشامدی کو کچھ نہ کچھ دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔اور give and takeکے اصول پر عمل کرتے ہوئے ممدوح بھی خوشامدی کو نواز دیتا ہے۔

اور جب خوشامد اور چاپلوسی اور جھوٹی تعریفوں کے نتیجہ میں کسی کو کوئی عہدہ، منصب یا کوئی اختیار حاصل ہوجاتا ہے تو وہ اس اختیار اور اپنے منصب سے ناجائز فائدے اٹھاتا ہے۔اقربا پروری، سیاسی، سماجی اور معاشی مراعات کا غیر منصفانہ حصول خوشامدی کے لیے بہت آسان ہوجاتا ہے۔ظاہر ہے جب کوئی شخص کسی منصب کا اہل ہی نہ ہو اور اس کے ہاتھ میں اختیارات دے دیے جائیں تو پھر اس معاشرے کی اخلاقی، سماجی اور سیاسی بربادی کو کوئی نہیں روک سکتا۔ملک کا ہر شہری اس حقیقت سے واقف ہے کہ ملک و قوم پر جب بھی کوئی تباہی آئی ہے اس میں مراعات یافتہ طبقہ کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ کیوں کہ مراعات یافتہ طبقہ سے کوئی باز پرس کرنے والااور ان کونکیل ڈالنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ جن لوگوں نے اسےوہ منصب سونپا ہوتا ہے خود ان کے مفادات اس شخص سے وابستہ ہوتے ہیں۔عوام کے ساتھ نا انصافیاں، ظلم و ستم، اوران کو بنیادی ضرورتوں تک سے محروم رکھنے میں یہی مراعات یافتہ طبقہ ہراول دستے کا کام دیتا ہے۔صاحب اقتدار کی خوشامد اور ان کی ہاں میں ہاں ملاتے رہنا اور «سب ٹھیک ہے» کی لوری اُن کو سناتے رہنا یہ خوشامدیوں اور مداح خواہوں کا بہت بڑا ہتھیار ہوتا ہے یوں کہ جو تعریفیں کسی کے منہ پر کی جاتی ہیں ان کو سن کر آدمی کا نفس موٹا ہوجاتا ہے اور پھر ایسے آدمی کو اپنے عیب بھی ہنر نظر آنے لگتے ہیں۔اس لیے کہتے ہیں تعریف اصل میں وہ صحیح ہوتی ہے جو انسان کی غیر موجودگی میں کی جائے۔یہاں معاملہ بالکل اُلٹ ہے ، لوگ تعریفیں آدمی کے منہ پر کرتے ہیں اور برائی اس کی عدم موجودگی میں کر کے غیبت جیسی گھنا ؤنی چیز کا ارتکاب کر کے اللہ کے غضب کا شکار بنتے ہیں۔کیوں کہ غیبت کرنے میں بھی آدمی کو ایک طرح کی لذت اور زبان کی چاشنی محسوس ہوتی ہے۔

مسلم امہ کی ہیئت ترکیبی میں انسان کی منفی قوتوں اور نفس پرستی کی بیماری کو اسلامی شریعت کے تابع کر کے اس کی اس طرز پر نشوونما کرنا مقصود تھا کہ وہ معاشرے میں صالح اور اپنی سیرت و کردار سے ایسےا فراد تشکیل دیں جنہیں دیکھ کر اور جن کے نقشِ قدم پر چل کر انسانیت اپنی اصل تک پہنچ سکے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ اپنےتمام تقاضوں کے ساتھ ادا ہوسکے۔ لیکن اس کے برعکس اس لازمی امر کی کمی اور اس سے غفلت کی وجہ سے معاشرے میں منفی سوچ اور بد کردا رلوگوں کی اکثریت معاشرے کے سود و زیاں کے مالک بن بیٹھی اور پورا انسانی معاشرہ فتنہ و فساد اور نفس پرستی و خود غرضی کی آماج گاہ بن گیا۔نفس پرستی، خوشامد اور خودغرضی کی اس لعنت نے انسانوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے اور اس سے ہماری اجتماعی زندگی کو کئی طرح کے خطرات لاحق ہیں۔

افسوس تو یہ ہے کہ ہماری تربیت کے تمام ادارے بھی مضمحل ہوچکے ہیں۔ گھر میں اولاد کی تربیت کو مغربی رنگ میں رنگنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے ، اسلامی اقدار ، شعائر اسلامی کی طر ف سے بد ظنی بچوں کے معصوم ذہنوں میں اس طرح ڈال دی جاتی ہے کہ وہ آدھے تیتر اور آدھے بٹیر بن کر معاشرے میں زندگی گزارتے ہیں۔اور معاشرے کا اصل حسن گہنا جاتا ہے۔ مسلم امہ کے ساتھ یہی حادثہ پیش آیا ہے۔جس نے اس کا ہر ایک عضو زخمی کردیا ہے۔ہمارے تعلیمی اداروں سے جو انتظامی افسر، سیاست داں، تاجر اور اسکالرز نکلتے ہیں وہ اپنی نفسانی خواہشات اور مادہ پرستی کی طلب لے کر معاشرے میں آتے ہیں اور اس طرح معاشرہ میں بگاڑ کی ایسی صورت پیدا ہواجاتی ہے جس کی آلودگیوں سے بچنا ہر ایک کے لیے محال ہوتا ہے۔

انسانی نفس عام طور پر فلاسفروں ، مفکروں اور دانش وروں کی عقل کو یرغمال بنا کر انہیں انسانی زندگی کے لیے خود ہی رہنمائی کرنے، نظریات و فلسفے گھڑنے یا دین و مذہب کی خود سا ختہ تشریح کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ان فلاسفروں اور دانش وروں کا گروہ خود کو نفس شناسی ، خدا شناسی اور مذہب کی اصلیت اور اس کی روح سے زندگی بھر دور رکھتا ہے اور یہ اپنے پیروکاروں کو بھی اور معاشرے کی اجتماعی سطح کو بھی عقلی نظریات کی دلدل میں پھینک کر انہیں بھی حقیقت سے دور کرنےکا موجب بنتا ہے۔اور اس طرح بد خو، جرائم پیشہ، نفس کے پجاری ، خوشامدی اور جھوٹ و ریاکاری اور انسانیت سے گری طرزِ زندگی گزارنے والے افراد معاشرے کے غالب طبقے پر تسلط جما لیتے ہیں۔اور یہ ناسور انسانیت کی جڑوں کو کھوکھلا کر تا رہتا ہے ۔ اس سے نجات حاصل کرنے اور انسانیت کو اس موذی مرض سے چھٹکارا دلانے کے لیے اگر کوئی مثبت، موثر اور دیر پا تبدیلی ظہور پذیر ہوسکتی ہے تو وہ اسلام کی حیات بخش اور لازوال تعلیمات کے ذریعے ہی ہو سکتی ہے۔اسلام کی روحانی تعلیمات میں ہی وہ قوت و مقناطیسیت ہے جس سے انسانیت کی کایا پلٹ سکتی ہے۔اسلام ایک مکمل ضابطہ حیا ت ہے۔اور یہی شفاء اللناس ہے، اس میں انسان کے ہر باطنی اور نفسانی مرض کی دوا موجود ہے۔اس کی تعلیمات کو اپنا کر ہی زندگی میں وہ تبدیلی آسکتی ہے جس کے لیے آج انسانیت نیم جان ہوچکی ہے۔

انسان کی نفسیاتی اور باطنی بیما ریاں اسی وقت سر ابھارتی ہیں جب انسان بندگی کے شعور و ادراک سے دور ہوجاتا ہے۔عبد اور معبود کا تعلق جب تک مضبوط رہتا ہے بندے کےاقوال و افعال میں بندگی کا اثر غالب رہتا ہے بندےکے قدم صراط مستقیم سے نہیں ہٹتے ، لیکن جب معاشرے کی مذموم ہوا اس کے عقل و شعوراور بصیرت و بصارت کو دھندلانے لگتی ہے ، اس کے قدم ڈگمگانے لگتے ہیں اور اگر وہ خود کواس کیفیت سے نکالنے کی سعی و جہد نہ کرے ، اسلامی تعلیمات سے صرف نظر کرنے لگے تو اس کی ضلالت اور گمراہی اس کے حواس پر دبیز پردےڈال دیتی ہے۔ اور وہ گونگا بہرا ، اندھا اور حقیقت حال سے بے گانہ ہوکر اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں انسانیت بھی شرمسار ہوجاتی ہے۔پھر وہ خود بھی تباہ ہوتا ہے اور دوسرے بندگانِ خدا کو بھی تباہی کے راستے پر لگانے کا موجب بن جاتا ہے۔اور اس طرح انسانی معاشرے میں فرعونیت ، دجالیت ، رعونت اور بے حیائی ، بد کرداری عام ہوجاتی ہے اور باطنی امراض میں لوگوں کی ایک کثیر تعداد مبتلا ہوجاتی ہے۔اور معاشرہ تعفن کا ڈھیر بن کر رہ جاتا ہے۔اسی تعفن ، بے راہ روی اور گمراہی کے بتوں کو توڑنے اور ہدایت کی روشنی پھیلانے کے لیے خالق کائنات نے اپنی کتاب اور رسالت کا سلسلے قائم کیا ہے ۔جو شخص بھی ان دو چیزوں کو مضبوطی سے تھام لے گا وہ نہ کبھی گمراہ ہوگا اور نہ راہِ ہدایت سے بھٹکے گا۔

راحیل گوہر ایم اے

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago