Categories: فروری 2009

استفتاء

اولاد کی پرورش:

سوال: میں نے اپنی زوجہ کو طلاق دیدی ہے اس زوجہ سے میرے ( 5)بیٹے ہیں کیا وہ بیٹے یا بچے میرے پاس ہی رہیں گے؟ اس کا شرعی طریقہ کیا ہے؟ برائے مہربانی میری اصلاح کریں۔

الجواب بعون الوہاب

الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ ، وبعد:

 صورت ،مسئولہ کا جواب شریعت مطہرہ کی روشنی میں یہ ہے کہ آپ کے پانچ بیٹوں میں سے اگر کوئی بیٹا سات سال کی عمر سے کم ہے تو وہ اپنی ماں کے پاس رہے گا (یعنی اس میں ماں کی مرضی چلے گی )  بشرطیکہ بیٹوں کی ماں کی دوسری جگہ شادی نہ ہوئی ہو ، اگر شادی ہو چکی ہو توپھر بچے باپ کے پاس رہیں گے (یعنی باپ کی مرضی چلے گی ) خواہ بچوں کی عمر سات سال سے کم ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک مطلقہ عورت اپنے سابقہ خاوند کی شکایت لیکر آئی ……

وَاِنَّ اَبَاہُ طَلَّقَنِیْ وَ اَرَادَ أنْ یَنْزِعَہُ مِنِّیْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہ ﷺ : ’’ أنْتِ اَحَقُّ بِہِ مَا لَمْ تَنْکِحِیْ‘‘ (ابوداؤد)

ترجمہ: اور بے شک اس کے باپ نے مجھے طلاق دی ہے اور وہ اس بچہ کو(میرے بیٹے کو) مجھ سے چھیننا چاہتا ہے تو نبی ْﷺ نے فرمایا: اس بچے کی تو(ماں)زیادہ حقدار ہے جب تک تودوسری جگہ شادی نہیں کر لیتی۔

اور اگر بچوں کی عمر سات سال یا اس سے زیادہ ہو چکی ہو تو اس صورت میں بچوں کو اختیا ر دیا جائیگا پھر بچے ماں یا باپ میں سے جس کو اختیار کریں گے  اسکے پاس رہیں گے جیساکہ حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

’’ اِنِّ النَّبِیَّ ﷺ خَیَّرَ غُلَاماً بَیْنَ أبِیْہِ وَ اُمہِّ ‘‘

(مسند احمد ۱۳/۷۳ حدیث نمبر ۷۳۴۶، ابن ماجہ ۲/۷۸۷حدیث نمبر ۲۳۵۱، جامع الترمذی ۳/۶۳۸ حدیث نمبر ۱۳۵۷، امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح قرار دیا ہے)

ترجمہ: ’’نبی اکرم  ﷺنے ایک لڑکے کو اس کے باپ یا ماں کو اختیار کرنے کو کہا ‘‘

 پھر اگر بچہ ماں کو اختیار کرے (اگر ماں نے دوسری جگہ شادی نہ کی ہو) تو باپ پر لازم ہے کہ ان کا نان و نفقہ ان کی ماں کو دیتارہے۔

نوٹ:اگر میاں و مطلقہ بیوی کے درمیان اولاد کی پرورش سے متعلق اختلاف نہ ہو اور بچے کسی ایک کے ساتھ رہنے پردونوں کا اتفاق ہو جائے تو بچے جہاں رہنا چاہیں رہ سکتے ہیں اور بیٹوں کا نان ونفقہ باپ پر لازم ہوتا ہے خواہ بیٹوں کی عمر سات سال سے زیادہ ہویا کم ۔

نیشنل سیونگ اسکیم کے منافع کا استعمال:

سوال:میں نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد ان کے پیسے کو گورنمنٹ نیشنل سیونگ اسکیم میں 5 سال کیلئے رکھوا دیا ہے جس پر حکومت سے مجھے ماہانہ پیسے ملتے ہیں جس سے میں اپنے گھر کا خرچ چلاتی ہوں ، مگر کچھ لوگوں نے اور علماء نے بتایا کہ یہ سود ہے ، 5 سال بعد مجھے اپنے پیسے بغیر کسی اضافے کے حکومت واپس کر دیگی ، مفتی تقی عثمانی کا کہنا ہے کہ میزان بنک میں اسلامک بینکاری ہو رہی ہے اسلئے وہاں رکھوا کر منافع لے سکتی ہوں یہ حلال ہوگا ، جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ میری اس بیوگی کے حالات میں اس طرح کا پیسہ حرام نہیں ہے اور اسلام میں اسکی گنجائش ہے آپ کا اس بارے میں کیا کہنا ہے؟

جواب: میری اپنی تحقیق کے مطابق اسوقت پاکستان میں کوئی بنک یا نیشنل سیونگ اسکیم سود سے خالی نہیں ہے، لہٰذا جس زائد پیسے سے آپ اپنے گھر کا خرچہ چلا رہی ہیں یہ شریعت مطہرہ کی روشنی میں قطعاً جائز نہیں ہے کیونکہ یہ سود ہے اور سود کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{وَاَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا} (البقرہ: ۲۷۵)

’’حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ ‘‘

اور نبی اکرم  ﷺ نے سود کھانے والا ، کھلانے والا ، لکھنے والا او راس پر گواہ رہنے والے پر لعنت بھیجی ہے ۔

عن جابر رضی اللہ عنہ قال: لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَکْلَ الرِّبَا وَکَاتِبَہُ وَشَاہِدَہُ وَقَالَ ہُمْ سَوَاء۔  (مسلم حدیث نمبر ۱۵۹۷، ابوداؤد حدیث نمبر ۳۳۳۳، ترمذی حدیث نمبر ۱۲۰۶، ابن ماجہ حدیث نمبر ۲۲۷۷)

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول  ﷺ نے لعنت بھیجی ہے سود کھانے والے پر کھلانے والے پر لکھنے والے پر اور اس کے دونوں گواہوں پر اورفرمایا کہ وہ سب (گناہ میں)برابر ہیں۔

لہذا آپ پر لازمی ہے کہ فوراً اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتے ہوئے اپنااصل پیسہ نکلوا لیں۔ہاں آپ اپنی اس رقم سے تجارت کر سکتی ہیں اور اس کے منافع پر اپنا گھر چلائیں اور جن لوگوں نے یہ کہا ہے : کہ بیوگی کی حالات میں اس طرح کا پیسہ حرام نہیں ہے اور اسلام میں اس کی گنجائش ہے۔ سراسر غلط کہا ہے ان لوگوں کو اس طرح کی غلط شریعت سازی سے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے کیونکہ شریعت میں حلال اور حرام کے بارے میں بغیر علم کے بات کرناشرک سے بھی بڑا گناہ ہے۔

اگر (لاَ قَدَّرَ اللّٰہُ) (اللہ نہ کرے اگر )آپ کے ذرائع معاش کے سارے جائز راستے بند ہوجائیں تو اس صورت میں ضرورت پوری کرنے کیلئے آپ بھیک مانگ سکتی ہے لیکن سود نہیں کھا سکتی۔

وباللہ التوفیق وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی اٰلہ وصحبہ أجمعین  ۔
الشیخ محمد شریف بن علی

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago