Categories: فروری 2009

فضائل معوذتین

سورۃ الفلق اور سورۃ الناس یہ دونوں سورتیں مکی ہیں  ترتیب نزولی کے اعتبار سے ان کے نمبر بالترتیب ۲۰ اور ۲۱ ہیں ، جبکہ قرآنی ترتیب میں ۱۱۳اور ۱۱۴ نمبر پر ہیں، اور ان پر قرآن مجید مکمل ہوتاہے۔ قرآن کریم کی یہ دونوں فقید المثال سورتیںاگرچہ الگ الگ ہیں ، مگر ان کے درمیان گہرا تعلق ہے ،اور ان کے مضامین میں قریبی مناسبت ہے اسی قریبی مناسبت کی وجہ سے ان دونوںسورتوں کا ایک مشترکہ نام ’’معوذتین ‘‘ ہے۔

معوذتین جادو سے نجات کا ذریعہ

قارئین کرام ! جیسا کہ آپ کے علم میں ہوگا کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ پر جادو کیا گیا تھا، واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب آپ ﷺ صلح حدیبیہ سے واپس لوٹے تو آپ پر جادو کیا گیا، جس کا اثر یہ ہوا کہ آپ ﷺ کو معلوم ہوتاکہ آپ کام کررہے ہیں ، حالانکہ وہ کر نہیں رہے ہوتے تھے ، آخر ایک روز آپ نے دعا کی۔ ’’ اے اللہ اس جادو کا اثر زائل کردے‘‘ پھر فرمانے لگے : اے عائشہ رضی اللہ عنہا تجھے معلوم ہے کہ اللہ نے مجھے وہ تدبیر بتادی جس کے ذریعے مجھے اس تکلیف سے شفا ہوجائے، ہوا یہ کہ خواب میں دو آدمی میرے پاس آئے ، ایک میرے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا پاؤں کی طرف ، ایک شخص نے دوسرے سے پوچھا : اس شخص کو کیا تکلیف ہے؟ دوسرے نے کہا : اس پر جادو ہے پہلے نے پوچھا کس نے جادو کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا : ’’لبید بن اعصم(یہودی) نے ، پہلے نے پوچھا کس چیز میں جادو کیا گیا ہے ؟ دوسرے نے جواب دیا: کنگھی اور آپ کے بالوں اور نرکھجور کے خوشے کے پوست میں ، پھر اس سے پہلے نے پوچھا: یہ کہاں رکھا گیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا: ’’ذدوان کے کنویں میں‘‘ غرض آپ ﷺ اس کنویں پر تشریف لے گئے ، جب وہاں سے پلٹے تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: اس کنویں کے درخت ایسے ڈراؤنے ہوگئے تھے جیسے ناگوں کے پھن ہوں ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے اس جادو کے سامان کو نکالا کیوں نہیں ، آپ نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ نے ٹھیک کردیا ، اب میں نہیں چاہتاکہ لوگوں کے درمیان لڑائی جھگڑا کھڑا کردوں ، پھر وہ کنواں مٹی ڈال کر بھر دیا گیا ۔ (رواہ البخاری ، فی کتاب بدء الخلق ، باب صفۃ ابلیس وجنودہ)

بعد میں اس جادوگر ’’لبید بن اعصم ‘‘ نے اپنے گناہ کا اعتراف کرلیا لیکن اللہ کے رسول ﷺ نے اسے چھوڑ دیا کیونکہ آپ  ﷺنے کبھی اپنی ذات کیلئے انتقام نہیں لیا۔

معوذات سے دم جھاڑ کرنا مسنون عمل ہے

جیسا کہ اوپر گزر چکاہے کہ سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کو معوذتین کہتے ہیں لیکن اگر ان کے ساتھ سورۃ الإخلاص کو بھی شامل کرلیا جائے تو اسے معوذات کہتے ہیں۔ سرور کائنات ﷺ کا یہ معمول تھا کہ آپ رات کو سونے سے پہلے معوذات کو پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر پھونکتے پھر ہاتھوں کو چہرہ پر اور جسم پر پھیرا کرتے تھے ۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل حدیث سے ثابت ہوتا ہے: ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیںکہ رسول اللہ ﷺ جب مرض الموت میں مبتلا تھے تو آپ معوذات پڑھ کر اپنے اوپر پھونکتے پھر جب آپ کی بیماری نے شدت اختیار کی تو میں معوذات پڑھ کر آپ ﷺ پر پھونکتی اور اپنے ہاتھ کے بجائے، آپ کا ہاتھ بطور برکت آپ پر پھیرتی۔ (رواہ البخاری ، فی کتاب فضائل القرآن)

معوذتین کے فضائل میں احادیث نبوی ﷺ

قارئین کرام! ان دونوں سورتوں کی فضیلت کے  بارے میں کئی صحیح احادیث وارد ہوئی ہیں ، ان میں سے چندایک کا تذکرہ کیا جارہاہے۔

۱۔ ابن عابس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ اے ابن عابس ! کیا میں تمہیں سب سے اچھی چیز بتاؤں جس کے ذریعہ لوگ پناہ طلب کرتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : ہاں اے اللہ کے رسول ﷺ ! تو آپ نے فرمایا: {قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} اور {قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ} یہ دونوں معوذتین ہیں-(رواہ النسائی، فی کتاب الإفتاح ، باب فضل قرائۃ المعوذتین)

۲۔ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جنوں اور انسانوں کی نظربند سے پناہ مانگتے تھے ، لیکن جب سورۃ الفلق اور سورۃ الناس نازل ہوئیں تو آپ  ﷺنے ان دونوں کو اپنا لیا ، اور ان کے علاوہ باقی کلمات کو چھوڑ دیا۔ (رواہ الترمذی ، فی ابواب فضائل القرآن)

۳۔عقیل بن عامر رضی اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم نہیں دیکھتے کہ آج کی رات ایسی آیتیں اتری ہیں کہ ان کے مثل کبھی نہیں دیکھیں اور وہ {قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} اور {قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ}ہیں ۔ (رواہ مسلم ، فی کتاب فضائل القرآن ، باب فضل قرائۃ المعوذتین)

۴۔اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ جب اپنے بستر پر آرام کرتے تھے تو ہر رات کو اپنے دونوں ہاتھوں کو اکٹھے کرکے ان پر معوذات پڑھ کر دم کرتے تھے پھر انہیں اپنے تمام بدن پر پھیرتے تھے اور بعد ازاں اپنے سر اور چہرہ مبارک پر پھیرتے اور یہ فعل تین مرتبہ کرتے تھے۔ (رواہ البخاری ، فی کتاب فضائل القرآن ، باب فضل المعوذات)

۵۔ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے ہر نماز کے بعد معوذات پڑھنے کا حکم دیا۔ (رواہ ابوداؤد ، فی کتاب الصلاۃ ، باب فضائل معوذتین)

قارئین کرام ! قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے ، اور آج ہماری پستی اور زوال کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ہم قرآن کریم کی تعلیمات سے دور ہیں ، اور اسی وجہ سے ہمارے ایمان کی کمزوری ہر حد پار کرچکی ہے ، اور ہم اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتے جب تک ہم اس قرآن کریم کی تعلیمات سے عملی طور پر آراستہ نہیں ہوجاتے ، اس موقع پر مجھے ایک حدیث یاد آرہی ہے جو میں آپکے سامنے رکھتاہوں ۔

’’اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِہَذَا الْکِتَابِ اَقْوَاماً وَیَضَعُ بِہِ آخِرِیْنَ‘‘ (رواہ مسلم ، فی کتاب فضائل القرآن)

’’بیشک اللہ تعالیٰ اسی کتاب کی وجہ سے قوموں کو بلندی عطا فرماتے ہیں ، اور اسی کی وجہ سے دوسروں کو پست کردیتے ہیں۔‘‘

اس حدیث سے صاف واضح ہوتاہے کہ قرآن کریم کو چھوڑ کر کوئی قوم بلندی نہیں پاسکتی، بلکہ ذلیل وخوار ہوجائے گی ، چاروں طرف سے ان پر دشمنوں کو مسلط کردیا جائے گا۔

آج ہم قرآن کو صرف ایک مقدس کتاب سمجھ کر اسے عمدہ غلافوں میں تورکھ دیتے ہیں لیکن اسے پڑھنے اور سمجھنے سے محروم رہتے ہیں۔

قارئین کرام ! یاد کیجیے اس حجۃ الوداع کے موقع کو جب اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا تھا :

’’ترکت فیکم امرین لن تضلوا ما تمسکتم بہما کتاب اللہ وسنۃ رسولہ ‘‘(مؤطا امام مالک)

’’اے لوگوں میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑکر جارہاہوں ، اگر تم انہیں تھامے رہوگے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے ان میں سے ایک اللہ کی کتاب ہے اور دوسری میری سنت ۔‘‘

قارئین کرام ! لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن کریم کی تعلیمات سے آراستہ ہوں ، اور اسے پابندی سے پڑھیںاور سمجھیں اور اس پر عمل کریں تاکہ ہم صراط مستقیم پر گامزن ہوکر دنیا وآخرت میں کامیابیاں سمیٹیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح معنوں میں دین کا علم سیکھنے اور قرآن کریم سے اپنے دلوں کو روشن کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

محمد طارق برکی

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago