Categories: فروری 2009

اسلام اور شخصی ملکیت

اسلام نے اپنے قانون میں اس فطری تقاضے کا لحاظ رکھا ہے اور فطرت انسانی کے موافق ہی اپنے احکام نافذ کئے ہیں۔ صحیح اور قانونی راستے سے حاصل کئے ہوئے اموال کو اسلام شخصی مال سمجھتاہے ۔اسلام اس نظریہ کو تسلیم نہیں کرتا کہ شخصی ملکیت فطرتاً اور ذاتی لحاظ سے ظلم وستم کا منبع ہوتی ہے۔ درحقیقت اس طرز فکر کی علت یہ ہے کہ یورپی ممالک میں شخصی ملکیت اور ظلم وستم لازم وملزوم رہے ہیں۔ ان ممالک میں وضع قانون کاحق ہمیشہ سرمایہ دار طبقے کو رہا ہے اس لئے وہاں کے سارے قوانین ومصالح سرمایہ داری کے محور پر گھومتے ہیں لیکن اسلام میں وضع قانون کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ، لہذا کسی طبقے کو کسی دوسرے پر تفوق کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اور نہ اس میں اس کا لحاظ ہوتاہے کہ ایک مخصوص طبقے کو فائدہ پہنچے اور دوسرے مخصوص طبقے کو نقصان پہنچے یہی وجہ ہے کہ جس زمانے میں اسلامی قانون کا نفاذ تھا اس وقت شخصی ملکیت کا وجودتھا مگر اس کے ساتھ ظلم وستم کا شائبہ تک نہ تھا۔ جن لوگوں نے بہت زیادہ زحمت ومشقت برداشت کرکے کارخانے قائم کئے ہیں اسلام کی نظر میں زبردستی ان سے کارخانوں کو چھین لینا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ فعل امنیت اجتماعی اور احترام حقوق افراد، دونوں کا مخالف ہے نیز یہ فعل روح ایجاد کو بھی ختم کردینے کا سبب بن جاتاہے ۔ ہاں اجتماعی عدالت کے تحکیم مبانی کے لحاظ سے اور اقتصادی وملی مصالح ومنافع کے لحاظ سے خود حکومت بڑے بڑے صنعتی ادارے بڑے بڑے کارخانے قائم کرسکتی ہے ۔ مختصر یہ ہے کہ اسلام کے اقتصادی نظام نے فرد واجتماع دونوں کی حیثیت کو بنیادی طور سے مانا ہے اور حیات اقتصادی کی تنظیم اور حل مشکلات کیلئے عدالت اجتماعی کے اساس پر ایک آزاد قانون بنایا ہے جس میں فرد اور معاشرہ دونوں کے مصالح کا بہت ہی دقت نظر کے ساتھ لحاظ رکھا گیاہے۔ معاشرے میں شخصی ملکیت کو اساسی چیز ماناہے اور فطرت کے تقاضوںپر لبیک کہا ہے تاکہ ہر شخص اپنی سعی و کوشش سے وسائل زندگی مہیا کرسکے اور نقع برداری کی خاطر زیادہ سے زیادہ محنت کرے لیکن شخصی ملکیت کو حدود وشرائط میں جکڑ دیا ہے تاکہ لوگوں پر ظلم وستم کے دروازے نہ کھل جائیں اور فرد اپنی آزادی سے غلظ فائدہ نہ حاصل کرسکے نیز اجتماع کے مصالح کو برباد نہ کرڈالے۔ یقینی طور پر ایسی قید وبند آزادی کے لئے نقصان دہ نہیں ہے کیونکہ معاشرے کی زندگی اور ایسا قانون جو ظلم وستم سے روکے ، لازم وملزوم ہیں اور اس قسم کی پابندی اجتماعی زندگی کی بقاء کی ذمہ دار ہے۔

شخصی ملکیت کے سلسلے میں اسلام نے بے لگامی کو قطعاً محدود کردیا ہے اور اسی کے ساتھ شخصی ملکیت کو قانونی حیثیت بھی بخشی ہے بشرطیکہ وہ مشروع اور صحیح طریقے سے حاصل کی گئی ہو لیکن اگر دولت وثروت کو غیر فانی اور غیر مشروع طریقے سے حاصل کیاگیا ہے تو پھر اسلام اس پر تسلط کو قبول نہیں کرتا۔ اسلام نے ظلم وتعدی ، احتکار، ذخیرہ اندوزی، قتل وغارتگری کے ذریعے سے حصول دولت پر پابندی لگادی ہے اور اس قسم کی دولت کو خلاف شرع سمجھا ہے۔

اسلام میں شخصی ملکیت کی بنیاد کسی بھی طرح سے سود، احتکار ، غارتگری ،غصب، تغلب، رشوت، چوری وغیرہ پر نہیں رکھی گئی اور کسی کو بھی حق نہیں ہے کہ ان ذرائع سے دولت جمع کرے۔ اسلام نے مال حلال کیلئے جو قید وبند لگائی ہے اس کا قہری نتیجہ یہ ہوگا کہ سرمایہ دارانہ نظام میں جو خرابی تھی اسلام میں نہ ہوسکے گی اور اسلامی معاشرہ سرمایہ داری کے ان برے نتائج سے جوناقابل اجتناب ہیں محفوظ رہے گا۔

آج کاموجودہ سرمایہ داری نظام شخصی ملکیت کے برخلاف ہے سرمایہ داری کے سارے نظام کادار ومدار سود اور احتکار پر ہے کیونکہ ماہرین اقتصاد اس بات پر متفق ہیں کہ سرمایہ داری کا سسٹم شروع میں بہت سادہ اورسود مند تھا لیکن تغیرات کے ہاتھوں رفتہ رفتہ داخلی قرضوں پر اعتمادکرتے ہوئے موجودہ صورت میں ظاہر ہواہے جس طرح چھوٹی چھوٹی کمپنیوں کا دیوالیہ پن ایک بڑی کمپنی کے وجود کا سبب بنتاہے اور یہ طریقہ احتکار تک پہنچ جاتاہے اور اس میں شک نہیں کہ سود اور احتکار سرمایہ داری کی پلید ترین بیماری ہے۔ اس لئے اسلام نے ان دونوں چیزوں کو ممنوع قرار دے دیاہے یہ سود ہی تو ہے جو بے حساب دولت سرمایہ داروں کی جیب میں انڈیل دیتاہے اور لوگوں کو محرومیت اور بدبختی سے دوچار کرتاہے۔

اسلام کے ذریعے پیش کردہ راہ حل

اسلام نے مختلف طبقوں میں اقتصادی توازن برقرار رکھنے کیلئے اور دولت کو ایک مرکز پر جمع ہونے سے روکنے کیلئے بہت سے طریقے ایجاد کئے ہیں چند طریقوں کا ذکر کیاجارہاہے۔

۱۔ ٹیکس کا قانون : مثلاً لوگوں کو جمع شدہ مال پر خمس، زکوٰۃ قسم کے ٹیکس لازم قرار دینے ہیں تاکہ ہر سال مالداروں اور سرمایہ داروں کا مال گھٹتا رہے۔

۲۔عمومی ثروت کو اسلامی حکومت کی سپردگی میں دے دینا، مثلاً جنگلات ، چراگائیں ، بنجر زمینیں ، پہاڑ ، پہاڑوں پر اگے ہوئے درخت ، معدنیات، موقوفات عامہ، اموال مجہول المالک، بغیر جنگ کئے حاصل ہونے والی زمینیں ، کفارات، لاوارث افراد کی میراث اور اس قسم کی چیزیں ثروت عمومی کہلاتی ہیں۔ اگرچہ ان میں سے کچھ چیزیں رسول اللہ  ﷺ سے مخصوص ہیں مگر وہ ان کے منافع کو اپنے اوپر نہیں خرچ کرتے تھے بلکہ رفاہ عامہ میں صرف کرتے تھے۔

۳۔ میراث کا قانون بھی ایک ایسی چیز ہے جو دولت کو متحرک رکھتی ہے اور ہر نسل پر دولت تقسیم ہوتی رہتی ہے۔

۴۔اضطراری حالت :  یعنی شخصی ملکیت کا احترام اسلام اسی وقت تک کرتاہے جب تک اجتماع کسی خطرے سے دوچار نہ ہو اور اگر اضطراری حالت پیدا ہوگئی تو پھر عادل اسلامی حکومت مقررہ شرائط کے ساتھ اپنے اختیارات کو استعمال کرکے معاشرے کو اس خطرے سے بچائے گی۔ مسلمانوں کی اجتماعی ضرورت جس وقت بھی مقتضی ہو اور اسلامی اجتماع کا فائدہ ہو تو حکومت شخصی مالکیت میں حسب ضرورت دخل اندازی کریگی۔ اسلامی حکومت کو یہ حق اسی لئے دیا گیا ہے تاکہ ضرورت کے وقت استعمال کرسکے۔ اسلامی حاکم کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ انگلیوں پر گنے جانے والے افراد کے ہاتھوں میں دولت کو جمع ہوتا ہوا دیکھے اور دوسروں کی محرومی وگرسنگی پر خاموش تماشائی بنا رہے کیونکہ یہ بات اسلامی اصول کے بالکل برخلاف ہے ۔آج کی مغربی دنیا میں جس قسم کی سرمایہ داری ہے اسلام اس کو صحیح نہیں سمجھتا۔

قرآن میں ارشاد ہے : ’’تقسیم مال کے جو طریقے ہم نے معین کئے ہیں وہ صرف اس لئے کہ تمہارے دولت مندوں کے ایک گروہ کے پاس دولت جمع نہ ہو جائے۔‘‘

چونکہ اجتماع کا نقصان عین فرد کا نقصان ہے اس لئے اسلام نے دونوں کے حقوق میں کوئی تعارض نہیں ہونے دیا ہے۔ اسی لئے اسلام نے شخصی ملکیت کو محترم شمار کرتے ہوئے اور انسان کی فطری خواہشات کا لحاظ رکھتے ہوئے نیز ان تمام باتوں کو باقی رکھتے ہوئے دن کوسرمایہ دار شخصی ملکیت کیلئے ضروری سمجھتے ہوں اس بات کی اجازت دی ہے کہ ضرورت کے وقت فرد کے مال سے اجتماع کو فائدہ پہنچایا جاسکتاہے۔

اگرچہ اسلام نے سرمایہ داری کے ظلم وستم کو قانونی طور سے روک دیا ہے مگر پھر بھی صرف قانون بنا دینے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اور طریقوں سے بھی اس پر پابندی لگائی گئی ہے۔

۵۔سخاوت سرمائے کو متحرک کرنے کیلئے لوگوں کو راہ خدا میں انفاق وبخشش پر بہت آمادہ کیا ہے اور اس اخلاقی دعوت کو قانون سے ہم آہنگ کردیا ہے اس سلسلے میں ایسے مضبوط دستور بنائے ہیں جو عاطفہ انسانی کیلئے شدید محرک ہیں ، ایسے محرک کہ ان کو دے کرکوئی بھی شخص اپنے ہم جنس کے استحصال پر تیار ہی نہیں ہوسکتا۔

۶۔فضول خرچی کی مذمت: اسلام نے ایک گروہ کے ہاتھ میں ثروت جمع ہوجانے کے جو نتائج ہوتے ہیں (یعنی سرمایہ داری کے نتائج) ان نتائج کی شدت سے مخالفت کی ہے تاکہ سرمائے میں جمود نہ ہونے پائے مثلاً : فضول خرچی، عیاشی ، خوش گزرانی یہ چیزیں سرمایہ داری کی دین ہیں اور اسلام نے ان چیزوں سے شدت کے ساتھ منع کیاہے۔

۷۔بخل کی مذمت : اسی طرح بخل کی مذمت کرکے مالداروں کو راہ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب وتشویق دلانی ہے تاکہ دولت وثروت چند ہاتھوں میں منجمدہوکر نہ رہ جائے۔

۸۔اجرت روکنے کی ممانعت :  اسی طرح اسلام نے شدت کے ساتھ اس بات سے بھی روکا ہے کہ خبردار مزدوروں کی مزدوری نہ روکو ، کیونکہ اس سے عمومی فقر کا اندیشہ ہے۔ اسلام کی یہ روحی دعوت انسان وخدا کے درمیان ارتباط کاکام دے گی اور انسان کے ضمیر میں ایسے پاکیزہ احساسات پیدا ہوں گے جن کی وجہ سے انسان اخروی جزا اور رضائے الہٰی کا خواہش مند ہوجائے گا اور جب یہ خواہش بڑھے گی تو اس کے حصول کیلئے تمام دولت وثروت اور تمام لذتیں بیکار ہوجائیں گی کیونکہ بدنیتی ، حرص ، بے عدالتی، ستم گری یہ ساری چیزیں قیامت پر ایمان نہ ہونے اور خالق ومخلوق کے رابطہ کے منقطع ہونے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ اور جب خالق سے رابطہ قائم ہوجائے گا تو مرضی خدا کے حصول کیلئے مال بے قدر وقیمت ہوجائے گا اس کے نتیجے میں دولت میں جمود نہیں پیدا ہوگا۔

تاریخ میں کہیں نہیں ملے گا کہ جہاں کہیں بھی عبادت الہٰی میں انحراف ہوا ہو اس کی علت آدمی کے افکار وپندار میں انحراف نہ ہو اور انسانوں کے آپسی روابط میں کوتاہی نہ ہو ، یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی شخص خدا سے بہت قریب ہو اور اس کے بعد و ہ ظلم وستم کاارتکاب کرے اور دولت جمع کرنے کیلئے بندگان خدا پر ظلم وجور کرے۔

اسلام میں فرد واجتماع کے منافع کی نگرانی حکومت پر رکھی گئی ہے حکومت کا فریضہ ہے کہ غلط آزادی سے روکے اور اپنی پوری طاقت کے ساتھ اسلامی قوانین کو نافذ کرے۔ اجتماع کے اندر اخلاقی فضائل کے نشر کرنے اور نگرانی کے علاوہ بھی حکومت پر لازم ہے کہ معاشرے کو ان تمام انحرافات وپلیدگیوں سے روکے جن سے تمام افراد کافائدہ ہو اور نتیجے میں فرد کی زندگی ایک فعال عنصر کے مثل ہوجائے۔

اسلامی نظام جہاں سرمایہ داری بلاک کے نقصانات سے پاک وصاف ہے وہیں کمیونزم سے بھی زیادہ بہتر اور عادل تر ہے۔ اسلام نہ تو دائیں بازوکی طرف مائل ہے اور نہ بائیں بازو کی طرف، بلکہ سرمایہ داری اور کمیونزم دونوں سے کہیں بالاتر ہے۔ اس میں اس کی بھی صلاحیت ہے کہ مشرق ومغرب دونوں میں توازن برقرار رکھے۔

ایک قابل توجہ چیز یہ ہے کہ اسلام بدیع نظام ہے اس نے دنیا کو اجتماعی عدالت کے مفہوم سے روشناس کرایا اور اقتصادی عوامل کے وزن واعتبار کو سمجھایا اسلام کی نظر میں انسان مجبوریوں کا غلام نہیں ہے بلکہ اس دنیائے رنگ وبو میں انسان ہی تنہا فعال ومثبت قوت ہے جو اقتصاد کے جبری تحولات کابندہ بے دام ہونے کے بجائے اپنے ارادے واختیار سے اپنے اقتصاد کی بنیاد رکھتاہے۔ دیگر مذاہب کے مقابلے میں اسلام کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں جبری تحول کا وجود نہیں ہے حتی کہ بعض مغربی مفکرین نے سرمایہ داری اور کمیونزم دونوں پر اعتراضات کئے ہیں اور ہر ایک نے اپنی فکر ونظر کے مطابق ایک معتدل راستہ بنانا چاہا ہے یہ لوگ کہتے ہیں کہ کمیونزم افراد کی حریت ، فطری آزادی، ارادہ واختیار کو سلب کرتاہے اورتمام شخصی واجتماعی امور میں حکومت کو مالک مطلق مانتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ فرد کی شخصیت اور اس کی ابتکاری صلاحیتیں زنگ آلود ہوجاتی ہیں اور فردی تکامل ،رشد وترقی سے رک جاتاہے۔ اسی طرح سرمایہ داری میں یہ خرابی بھی ہے کہ فردی آزادی افراط کی حدتک پہنچ جاتی ہے۔ اجتماعی ہم آہنگی کو ضرر پہنچاتی ہے۔ سرمایہ داروں کا ایک گروہ تمام منابع ثروت، دستگاہ تولیدی پر قابض ومسلط ہوجاتاہے اور لوگوں کو اپنے ارادے کاتابع بناتاہے نیز سیاست وحکومت پر اپنا پورا پورا اثر ورسوخ قائم کرلیتاہے۔

اس لئے بشریت کیلئے ایک تیسرے راستے کی ضرورت ہے جو دونوں کے افراط وتفریط سے محفوظ ہو اور فرد واجتماع کے منافع کو محفوظ رکھتاہو لیکن کیا ساری دنیا کے فلاسفہ ومفکرین جو آج کے ناقص سسٹم کو باقاعدہ سمجھ چکے ہیں اسلام سے بہتر کوئی راستہ بتا سکتے ہیں؟ جس کو اسلام نے آج سے چودہ سوسال پہلے دنیا کے سامنے پیش کیا تھا۔ اسلام ہی ایک ایسا معتدل مذہب ہے جو ایک طرف تو فرد کو معقول آزادی عطا کرتاہے اور دوسری طرف سرمایہ داری کے سرکش اونٹ کو نکیل لگاتاہے اور بالآخر انسان کو ایسے راستے پر لگا دیتاہے جو بشریت کوسرگردانی اوربدبختی سے نجات دے سکتاہے۔

اسلامی نظام نے اپنے تمام دور حکومت میں اسلامی معاشرے کی ضرورتوں کو پورا کیاہے اور اجتماعی زندگی چاہے وہ مسلمانوں کی ہو یا غیروں کی ، کو بہت ہی وسیع پیمانے پر منظم کیاہے۔ اسلامی معاشرہ اپنے پوری  تاریخ میں کبھی وضع قانون کے سلسلے میں دوسروں کا محتاج نہیں رہا ہے اسی طرح آج بھی اس زمانے کے تمام تحولات کے باوجود دنیا کی ضرورتوں کو پورا کرسکتاہے اور اسلامی معاشرے کی رہبری کرسکتاہے اور اس کی ضرورتوں کا صحیح جواب دے سکتاہے۔

اسلام ہی وہ آئین ہے جس نے مادی نیاز مندیوں اور روحانی ضرورتوں(دونوں) کو خصوصی طور پر مورد توجہ قراردیاہے۔ زندگی کے تمام شعبوں میں ایک نادر اور متوازن قانون وضع کیاہے۔ اسلام ہی وہ مذہب ہے جو زندگی سے پوری ہم آہنگی رکھتاہے جن میں کبھی کنگی پیدا نہیں ہوسکتی۔

دنیائے بشریت نے جن مبادی اصول کو پہچاناہے ان میں سب سے محکم اور پیشرو اسلام کے مبادی و اصول ہیں۔ اور اس کے قوانین انسانی نقطئہ نظر سے تمام دیگر تعلیمات سے برتر اور آسان تر ہیں اگر اسلام کے مبادی واصول کو دوسرے مکاتب فکر کے مبادی واصول کے مقابلے میں دیکھا جائے تو یہ حقیقت بہت زیادہ واضح ہوجاتی ہے کہ خدائی قوانین انسانی خود ساختہ قوانین کے مقابلے میں کہیں زیادہ برتر وبالاتر ہیں۔

حقوق اسلام میں اچھی خاصی گہرائی ہے اور یہ بہت زیادہ وسیع ہیں ان میں اس بات کی گنجائش ہے کہ موجودہ دور میں پیدا ہونے والے مسائل کا مثبت اور اطمینان بخش جواب دے سکیں۔ فقہ اسلامی کے اندر یقینی طور پر ایسی صلاحیت موجود ہے کہ جو موجودہ دور کے منابع قانون گزاری کو پورا کرسکے۔ فقہ اسلامی کے مختلف مذاہب کے اقوال وآراء کے اندر حقوقی سرمائے اتنے زیادہ ہیں کہ تعجب ہوتاہے۔ ان آراء واقوال کے پیش نظر قطعی طور پر فقہ اسلامی کے اندر یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ آج کی زندگی کی جملہ ضروریات کا مثبت جواب دے سکے۔

الشیخ شاہ فیض الابرار صدیقی

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago