10 محرم بروز جمعرات الموافق 8جنوری 2008 کومعروف عالم دین فضیلۃ الشیخ قاری صہیب احمد میر محمدی حفظہ اللہ نے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے اساتذہ کرام اور طلباء عظام کو اپنے قیمتی پندو نصائح سے نوازا ۔ جس کا خلاصہ قارئین کرام کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔
قرآن کریم اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا انور ہے جو کہ اس کیلئے ہر وقت روشن رہتا ہے جو بھی اس سے اپنے قلب ودماغ کو منور کرنا چاہتا ہو ا س کو یہ روشنی عطا کرتا ہے ۔
یہ وہی نور ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل علیہ السلام کے ذریعے نبی اکر مﷺ پر نازل کیا جب آپ ﷺ غارحراء میں تشریف فرما تھے ۔ اس سے ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک ایسی جماعت تیار ہو ئی جس نے قیصروکسریٰ کے تخت بھی الٹ دیے تھے ۔
اس نورسے ہدایت واستفادہ حاصل کرنے کیلئے ان امور کا ملحوظ خاطر رکھنا نہایت ضرور ی ہے: مثلاً:۔
کیونکہ اخلاص ہی نفع حاصل کرنے کا واحد ذریعہ ہے، جیسا کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ اس امت کی مدد اس کے ضعیف لوگوں سے ان کی دعاؤں اور ان کی نمازوں میں ان کے اخلاص کی وجہ سے کریگا‘‘
اس لیے میری آپکے لیے یہ نصیحت ہے کہ جب آپ اس علم کے حصول سے فارغ ہو جائیں تو اس کو آگے پہنچانے کیلئے اپنی نیت کو خالص کر لیں جس طرح سلف صالحین رحمہم اللہ اپنے خلوص اور دلوں کی حق پر استقامت کے باعث ہمارے لیے بہترین قدو ہ ہیں۔ نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ کرام کی اس طرح تربیت فرماتے تھے کہ وہ اپنے دلوںکو پاک صاف کرکے اپنی نیتوں کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کیلئے خالص کرلیں ۔ اگر نیت خالص ہو تو تھوڑاکیا گیا عمل ہی کافی ہو تا ہے ۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
ــ’’مخلص کی علامات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ اپنی نیکیوں کو اس طرح چھپاتا ہے جس طرح اپنی برائیوں کو۔ ‘‘
جب نیت خالص ہوگی تو لو گ برابھلاکہیںگے ان کی مدح و مذمت کو صرف اللہ کی رضا کے لئے برداشت کرنا بھی اس میںشامل ہے جس طرح حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کے بارے میںآتا ہے کہ ایک دفعہ ایک آدمی نے انہیں عرفہ میں کھڑے ہوئے دیکھا تو کہنے لگا ـآپ کتنے برے آدمی ہیں )تو وہ فرمانے لگے :اللہ کی قسم میری ذات کو صرف تم نے صحیح طور پر پہچاناہے ۔
انسان جب کوئی بھی نیک عمل کرتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ نیکی کو بھول جائے کہ اس کا اجر تو آخرت میں ملے گا، او ر لوگوں کو دکھانے کیلئے کوئی عمل نہ کرے کیونکہ جو بھی لوگوں کو دکھانے کی خاطر کوئی عمل کرتاہے تو وہ اس کا بدلہ دنیا ہی میں پالیتا ہے لوگ اس کے عمل سے خوش ہو جاتے ہیں اور آخرت میں اس کے حصے کو ختم کر دیا جاتا ہے ۔
ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک شخص کھانا طلب کرنے کیلئے آیا انہوں نے اس کو جب روٹی دی تو اس نے کہا ’’جزاک اللہ ‘‘ اللہ آپ کو جزائے خیر دے ، تو جواباً حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے کہا ’’غفراللہ لک ’’اللہ تمہاری مغفرت کرے ‘‘ یہ سن کر انکی ایک سہیلی نے پوچھا : اے ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کیا اس نے کوئی غلط بات کہی ہے جس کی وجہ سے آپ نے اس کویہ دعا دی ہے تو فرمایا: ہرگز نہیں اس نے کوئی غلطی نہیں کی بلکہ میں نے اس نیکی کو قیامت کے دن کیلئے بھیجا ہے ،قیامت والے دن میں جنت میں اس نیک عمل کی جزاء طلب کروں گی کہ مجھے اس کی جزا دنیا میں نہیں آخرت میں چاہئے۔
ایک صحابی جریر بن عبد اللہ البجلی رضی اللہ عنہ جب بیعت کرنے کیلئے حضور اکرم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ، صحابی کہنے لگے: یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ مجھ سے بیعت لینا پسند نہیں فرماتے؟ آپﷺ نے فرمایا: لیکن میری ایک شرط ہے کہ مسلمانوں کو نصیحت کرو گے ، صحابی نے اس شرط کوقبول کرتے ہوئے بیعت کر لی اور اس کا عملی مظاہر ہ انہوں نے اس وقت کیا جب انہوں نے ایک دفعہ اپنے غلام کو گھوڑا خریدنے کیلئے بھیجا وہ تین سو درہم میں گھوڑ ا خرید کر لے آیا، جب اس صحابی نے دیکھا کہ یہ گھوڑا تو زیادہ قیمت کا ہے تو انہوں نے اپنے غلام کو ساتھ لیا اور بیچنے والے کے پاس چلے گئے اور قیمت کو بڑھاتے بڑھاتے وہی گھوڑا آٹھ سو درہم میں خرید لیا ۔ جب لوگوں نے یہ منظر دیکھا تو کہنے لگے : اس مالک سے تو اس کا غلام زیادہ عقل مند ہے جس نے گھوڑا سستے داموں خرید لیا تھا ، تو انہوں کہا : میں نے اللہ کے نبیﷺ کے ہاتھ پر اس شرط پر بیعت کی تھی کہ میں ہر مسلمان کو نصیحت کروں گا تو میں کسی کو دھوکہ نہیں دے سکتا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ صحابی ہمیشہ اس شرط پر قائم رہے اور کس طرح انہوں نے وہاںموجود لوگوں کو خود عمل کرکے حکمت بھرے انداز میں نصیحت کی ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جو ہمارے چھوٹوں سے شفقت نہ کرے اور بڑوں کی قدر نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ‘‘
حسن اخلاق محبت اور اکرام کے حصول کا سبب ہے جب رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ کون لوگ سب سے زیادہ جنت میں داخل ہوں گے ؟ تو فرمایا :’’وہ اللہ سے ڈر نے والے اور حسن اخلاق کا مظاہرہ کرنے والے ہوں گے ‘‘
دوسری حدیث میں فرمایا: بے شک تم میں سب سے زیادہ محبوب اور میرے زیادہ قریب وہ شخص ہو گا جس کا اخلاق سب سے اچھا ہوگا ، اور مجھ سے سب سے زیادہ دور وہ شخص ہو گا جو متکبر اور برے اخلاق والا ہوگا‘‘
رسول اللہ ﷺ ہمیشہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نرمی سے پیش آنے کی ترغیب دیتے تھے کیونکہ نرمی ہر چیز کو زینت عطا کرتی ہے اور اس کی شان میں اضافہ کرتی ہے ۔ ایک دفعہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضرہو ااور کہنے لگا : یا رسول اللہ ﷺ میرے لیے زنا کرنے کی رخصت عطافرمائیں ، جب لوگوں نے یہ بات سنی تو غصے سے کہنے لگے : یہ تم کس سے اور کونسی بات کررہے ہو ؟ نبی کریم ﷺ نے ان کو روک دیا اور اس آدمی کے ساتھ نہایت نرمی سے مخا طب ہو کر پو چھا: کیا تم اس بات کو اپنی ماں کے ساتھ پسند کرتے ہو؟ وہ کہنے لگا : نہیں اللہ کی قسم میںاسے اپنی ماں کیلئے پسند نہیں کرتا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دوسرے لوگ بھی اس بات کو پسند نہیںکرتے ، پھر پوچھا: کیا تم اس کو اپنی بہن ، بیٹی ، خالہ یا پھوپھی کیلئے پسند کرتے ہو ؟ تو اس نے انکار کر دیا ، اس کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: باقی لوگ بھی اس بات کو پسند نہیں کرتے ، وہ آدمی اس حکمت بھرے انداز سے اس طرح متأثر ہوا کہ اپنی اس تمنا سے نادم ہو گیا جو کہ برائی چاہتا تھا، رسول اللہ ﷺ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دعا فرمائی:
’’اے اللہ اس کے دل کو پاک صاف کر دے اوراس کے گناہ معاف فرما، اور اس کی شرم گاہ کو گناہ سے بچا‘‘
اس دعا کا اس پر ایسا اثر ہوا کہ اس نے کبھی کسی حرام چیز کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھا۔
ہمیں بھی چاہئے کہ ہم بھی حسن خلق کے ذریعے لوگوں کیلئے خیر وبھلائی کا ذریعہ بن جائیں نہ کہ شر اور فساد کا ذریعہ ، جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
’’ لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو کہ نیکی کا ذریعہ بننے والے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو کہ شر اور برائی کے دروازے کھولنے والے ہیں، پس خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو بھلائی کرنے والے ہیں اوربرائی کرنے والوں کیلئے ہلاکت کا پیغام ہے ‘‘
بھلائی کا ذریعہ بننے کیلئے سب سے پہلے اپنے نفس کی اصلاح کرنا ضروری ہے اگر اپنے نفس کی اصلاح ہو جائے تو لوگوں کی اصلاح کرنا کوئی مشکل کا م نہیں ہے ، اس اصلاح کیلئے چند قواعد آپکی خدمت میں عرض کر رہا ہوں جن کے ذریعے اصلاح زیادہ بہترین طریقے سے ممکن ہے مثلاً :
-1جو آدمی فضول کلام چھوڑ دیتا ہے اس کو حکمت عطا کی جاتی ہے ؛
مؤمن وہ ہے جو اپنے قیمتی وقت کو فضول کلام سننے یا کرنے میں ضائع نہ کرے بلکہ مومن آدمی صرف اچھی اور نیکی والی گفتگو کرتا ہے۔
-2جو آدمی فضول نظر کو چھوڑ دیتا ہے اس کو خشوع کی نعمت عطا کی جاتی ہے ؛
نبی اکرم ﷺ جب راستے پر چلتے تھے تو اِدھر اُدھر فضول نظر نہ فرما تے تھے بلکہ نظریں جھکا کر چلتے تھے۔
ایک صحابی حضرت ثعلبہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہ جن کی عمر اس وقت صرف سولہ (16)سال تھی ان کو کسی کام کے سلسلے میں دوسرے لوگوں کے ساتھ بھیجا، راستے میں ان کی نظر ایک عورت پر پڑی جو کہ غسل کر رہی تھی ، ان کو اپنی غلطی کا شد ت سے احساس ہو گیا تو وہ روتے ہوئے اللہ سے اس گناہ کی معافی مانگنے لگے اور واپس نہ گئے ، ایک ہفتہ تک جب وہ رسول اللہ ﷺ سے نہ ملے تو آپ ﷺ نے کچھ صحابہ کو ان کی تلاش میں بھیجا، وہ ان کو ڈھونڈتے ہوئے ایک چرواہے کے پاس گئے اور ان کے بارے میں پوچھا ، اس نے جواب دیا : ایک لڑکا اوپر پہاڑ پر رہتا ہے جو سا را دن روتا رہتا ہے صرف شام ہوتی ہے تو نیچے اترکر دودھ پیتا ہے پھر واپس چلا جاتا ہے صحابہ رضی اللہ عنہم جب ان کے پاس ان کو ساتھ لینے کی غرض سے پہنچے تو انہوں نے کہا مجھے میرے حال پر چھوڑ دو اور پہلے یہ بتاؤ کہ میرے بارے میں قرآن نازل تو نہیں ہوا کہ میں منافق ہوگیا ہوںصحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کو تسلی دی اور رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے تو وہ زمین پر ہی لیٹ گئے تو آپ ﷺ نے ان کا سر اپنے ہاتھوںمیں لیکر پوچھا کہ تمہاری تمنا کیاہے ؟ انہوں نے کہا میں چاہتاہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے گناہوں سے درگزر فرمادے آپ ﷺ نے فرمایا تمہاری خواہش پوری ہو گئی ہے اب تم کیسا محسوس کررہے ہو؟ انہوں نے کہا میں چیونٹی کے چلنے کی حرکت محسوس کررہا ہوں اور اس کے ساتھ ہی ان کی روح قفس عنصری سے جدا ہوگئی ۔
3۔ جو آدمی فضو ل(زیادہ) کھانا چھوڑ دے تو اس کو عبادت کی لذت عطا کی جاتی ہے :
جیسا کہ حدیث مبارکہ میں وضاحت موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کچھ لوگوں کو نماز کا دسواں حصہ ثواب ملتاہے کچھ کو نواں ، کچھ کو آٹھواں حتی کہ کچھ لوگوں کو اس کا آدھا ثواب ملتاہے ۔
اس ثواب کو مکمل طور پر حاصل کرنے کیلئے یہی طریقہ ہے کہ زیادہ کھا نا چھوڑ دیا جائے تو خشوع کی نعمت مل جائے گی جوکہ نماز کی تکمیل کیلئے بنیادی حیثیت کی حامل ہے ۔
اگر پیٹ کے تین حصے کیے جائیں ایک کھانے کیلئے ، ایک پانی کیلئے اور ایک سانس کیلئے تو انسان حقیقی زندگی سے لطف اندوز ہوسکتاہے۔
4۔ جو فضول ہنسنا چھوڑ دے اسے ہیبت عطا کی جاتی ہے ۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ’’ بہت زیادہ نہ ہنسوکیونکہ ہنسی کی کثرت دل کو مردہ کر دیتی ہے۔‘‘
میں آپ کو بھی ہنسی کی کثرت سے اجتناب کرنے کی نصیحت کرتاہوں کیونکہ اگر کوئی استاذ بھی عام لوگوں کی طرح اپنے دوستوں اور دوسرے لوگوں کے ساتھ ہنسی کی کثرت پر قائم رہے تو اس کی ہیبت بھی ختم ہوجاتی ہے۔
ایک طالب علم لوگوں کو اپنے حاصل کیے گئے علم کے ذریعے فائدہ پہنچانے کیلئے ضروری ہے کہ اس میں یہ تین خصلتیں نہ ہوں ۔
-1جھوٹ :جو کہ علم کی برکت کو ختم کردیتاہے اور جھوٹ بولنے والے کی معاشرت میں عزت اور احترام ختم ہوجاتاہے۔
2۔حسد : جوکہ ایمان کو ختم کردیتاہے اور نیکیوں کو اس طرح کھا تاہے کہ جس طرح آگ لکڑیوں کو ۔
3۔طمع : جوکہ شخصیت کو ختم کردیتی ہے اس عالم کے پاس ایسی کوئی چیز نہیں بچتی جس کی لوگ اقتداء کریں طمع صرف نیک عمل اور علم کے حصول یا رسول اللہ ﷺ کی اطاعت گزاری میں ہونی چاہیے جیسا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا واضح عمل ہمارے سامنے موجود ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں اس علم کو حاصل کرنے کے بعد اس کی تبلیغ کی کما حقہ توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین)
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…