تخریج : صحیح بخاری ، کتاب الإیمان والنذور ، حدیث نمبر :۶۶۴۶ ، صحیح مسلم ، حدیث نمبر :۴۲۵۷
راوی کا تعارف : حدیث نمبر 5 کی تشریح میں ملاحظہ فرمائیں ۔
معانی الکلمات
أَلاَ : خبردار be aware إِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ تعالیٰ Indeed Allah یَنْہَاکُمْ : وہ تمہیں منع کرتاہے He forbids you
تَحْلِفُوْا :تم قسم کھاؤ You Swear بِآبَائِکُمْ :اپنے آباؤ اجداد کی of / with your forefathers
مَنْ کَانَ : جو تھا who was حَالِفاً : قسم کھانے والا swearer فَلْیَحْلِفْ :تو وہ قسم کھائے So he may swear
بِاللّٰہِ : اللہ کی of Allah أَوْ: یا or لِیَصْمُتْ : چاہے کہ وہ خاموش رہے He may keep sitent
ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : خبردار ! بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آباؤ اجداد (کے نام ) کی قسم کھانے سے منع فرماتاہے چنانچہ اگر کوئی شخص قسم کھانا چاہے تو (صرف ) اللہ (کے نام) کی قسم کھائے یا پھر خاموش رہے۔
تشریح :اللہ تعالیٰ اپنی ذات ، صفات اور جملہ حقوق میں وحدہ لا شریک ہے۔ اس تمام کائنات کا اکیلا خالق ، مالک اور مدبر الامور ہے۔ جس طرح اس کی ذات میں شراکت یعنی اس کے ساتھ کسی کی رشتہ داری (بزعم خود) سمجھنا( مثلاً : بیٹا ، بیٹی ، بیوی وغیرہ) شرک ہے۔ اس کی صفات میں شراکت مثلاً حاجت روا ، مشکل کشا ، اولاد دینے والا وغیرہ سمجھنا شرک ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے جو حقوق خاص ہیں وہ کسی اور کو دینا بھی شرک ہے ۔ چنانچہ نذرو نیاز ، قسم وغیرہ بھی صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے ۔ غیر اللہ کیلئے نذرونیاز شرک ہے تو غیراللہ کی قسم کھانا بھی شرک ہے۔ حتی کہ ایک صحابی نے کعبہ کی قسم کھائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً تصحیح فرمائی اور حکم دیا ’’کعبہ کی نہیں کعبہ کے رب کی قسم ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے مالک اور خالق ہونے کے ناطے متعدد اشیاء کی قسمیں کھائی ہیں مگر اپنی مخلوق کو قطعاً اجازت نہیں دی کہ وہ اپنے رب (اللہ تعالیٰ) کے علاوہ کسی اور کی قسم کھائیں۔ غیر اللہ کی قسم کھانا شرک ہے اور شرک جرمِ عظیم ہے۔
نوٹ : واضح رہے کہ ’’غیر اللہ‘‘ میں تمام کائنات کے ساتھ اپنے والدین ، اولاد ، فرشتے اور انبیاء کرام بھی شامل ہیں ۔ واللہ اعلم بالصواب
ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…
رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…
قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…
جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…
زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…
میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…