Categories: مارچ 2009

درس حدیث

غیر اللہ کی قسم کا حکم حدیث نمبر 41

عن ابن عمر رضی اللہ عنہما قَالَ : إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ : أَلاَ إِنَّ اللّٰہَ یَنْہَاکُمْ اَنْ تَحْلِفُوْا بِآبَائِکُمْ مَنْ کَانَ حَالِفاً فَلْیَحْلِفْ بِاللّٰہِ أَوْ لِیَصْمُتْ ۔

تخریج : صحیح بخاری ، کتاب الإیمان والنذور ، حدیث نمبر :۶۶۴۶ ، صحیح مسلم ، حدیث نمبر :۴۲۵۷

راوی کا تعارف : حدیث نمبر 5 کی تشریح میں ملاحظہ فرمائیں ۔

معانی الکلمات

 أَلاَ  : خبردار be aware            إِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ تعالیٰ Indeed Allah           یَنْہَاکُمْ : وہ تمہیں منع کرتاہے He forbids you

تَحْلِفُوْا :تم قسم کھاؤ You Swear                           بِآبَائِکُمْ :اپنے آباؤ اجداد کی of / with your forefathers               

مَنْ کَانَ : جو تھا who was   حَالِفاً : قسم کھانے والا swearer           فَلْیَحْلِفْ :تو وہ قسم کھائے So he may swear

بِاللّٰہِ : اللہ کی of Allah            أَوْ: یا or  لِیَصْمُتْ : چاہے کہ وہ خاموش رہے He may keep  sitent

 ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا : خبردار ! بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آباؤ اجداد (کے نام ) کی قسم کھانے سے منع فرماتاہے چنانچہ اگر کوئی شخص قسم کھانا چاہے تو (صرف ) اللہ (کے نام) کی قسم کھائے یا پھر خاموش رہے۔

تشریح :اللہ تعالیٰ اپنی ذات ، صفات اور جملہ حقوق میں وحدہ لا شریک ہے۔ اس تمام کائنات کا اکیلا خالق ، مالک اور مدبر الامور ہے۔ جس طرح اس کی ذات میں شراکت یعنی اس کے ساتھ کسی کی رشتہ داری (بزعم خود) سمجھنا( مثلاً : بیٹا ، بیٹی ، بیوی وغیرہ) شرک ہے۔ اس کی صفات میں شراکت مثلاً حاجت روا ، مشکل کشا ، اولاد دینے والا وغیرہ سمجھنا شرک ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے جو حقوق خاص ہیں وہ کسی اور کو دینا بھی شرک ہے ۔ چنانچہ نذرو نیاز ، قسم وغیرہ بھی صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے ۔ غیر اللہ کیلئے نذرونیاز شرک ہے تو غیراللہ کی قسم کھانا بھی شرک ہے۔ حتی کہ ایک صحابی نے کعبہ کی قسم کھائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً تصحیح فرمائی اور حکم دیا ’’کعبہ کی نہیں کعبہ کے رب کی قسم ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے مالک اور خالق ہونے کے ناطے متعدد اشیاء کی قسمیں کھائی ہیں مگر اپنی مخلوق کو قطعاً اجازت نہیں دی کہ وہ اپنے رب (اللہ تعالیٰ) کے علاوہ کسی اور کی قسم کھائیں۔ غیر اللہ کی قسم کھانا شرک ہے اور شرک جرمِ عظیم ہے۔

نوٹ : واضح رہے کہ ’’غیر اللہ‘‘ میں تمام کائنات کے ساتھ اپنے والدین ، اولاد ، فرشتے اور انبیاء کرام بھی شامل ہیں ۔ واللہ اعلم بالصواب

ڈاکٹر عبدالحی المدنی

Recent Posts

حج کے پس پردہ ایک عظیم انتظامی معجزہ

ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…

6 days ago

عاشوراء کا روزہ دس محرم الحرام کو رکھنا ہی راجح ہے

رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…

6 days ago

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتے

قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…

6 days ago

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور جوارِ نبوی ﷺ کی سعادت

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…

6 days ago

یہ تھے ہمارے عمر فاروق رضی اللہ عنہ

زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…

6 days ago

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…

6 days ago