Categories: مارچ 2009

صوبہ سندھ کے ایک عظیم مگر ’’گمنام ‘‘ قارئ القرآن کا سانحہ ارتحال

صوبہ سندھ کے عظیم قاری ، عالم باعمل ، مسلک حق کے روح رواں، گوشہ نشین عالم دین ، ضلع دادو میھڑ شہر کے سرخیل ، خاندان دیروی کے چشم وچراغ ، فاضل مدینہ یونیورسٹی ، سابق استاذجامعہ أم القری مکۃ المکرمۃ ، سابق مہتمم مدرسہ عربیہ دار القرآن میھڑ، سابق أستاذ جامعہ بحر العلوم السلفیہ میر پور خاص ، سابق استاذ جامعہ أبی بکر الاسلامیہ کراچی ، قاری سعید احمد بن محمد بن عیسی دیروی دو جنوری 2009ء؁ بروز جمعہ صبح ساڑھے چار بجے اس دنیا فانی سے دار بقاء کی طرف روانہ ہوگئے اور اپنے پیچھے کئی سوگوار چھوڑ گئے ۔ إنا للہ وإنا إلیہ راجعون

قاری صاحب اپنے علاقہ کے ایک معروف استاد تھے اس کے ساتھ ساتھ با اخلاق خوش مزاج اور حق بات کہنے کے عادی تھے گفتگو میں شائستگی اور اخلاص میں پختگی کے مالک تھے۔

پیدائش

قاری صاحب کی پیدائش ۱۹۴۶ء؁ کو صوبہ سندھ کے اچار کے حوالے سے مشہور ومعروف شہر شکار پور میں ہوئی۔

تعلیم

قاری صاحب نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم محمد المدنی کے قائم کردہ مدرسہ عربیہ دار القرآن والحدیث میں حاصل کی جس کی بنیاد انہوں نے ۱۹۲۶ء؁ الموافق ۱۳۴۷ھ؁ میھڑ شہر میں رکھی میھڑ شہر تہذیبی وثقافتی لحاظ سے ایک تاریخی حیثیت کا حامل ہے اور اقتصادی اور سیاسی لحاظ سے میھڑ شہر کو ضلع دادو کا ’’دل ‘‘ مانا جاتاہے یہ شہر ضلع دادو کے دور افتار علاقہ ضلع لاڑکانہ کے قریب ہے اور اسٹیشن ’’رادھن‘‘ سے تقریباً نو (۹) کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے ۔

قاری صاحب کے والد صاحب مسلکاً حنفی تھے انہوں نے اپنے بیٹے کو پہلے قرآن پاک حفظ کروایا اور علم القراء ۃ والتجوید سے آگاہ کیا ان کے والد صاحب کہا کرتے تھے کہ ’’ہمارے صوبہ سندھ میں قرآن پاک کی تعلیم گم ہو گئی ہے ہمارے بچے مدارس سے سند فراغت تو حاصل کرتے ہیں لیکن ان کو قرآن پاک کا صحیح تلفظ نہیں آتا اس بنا پر انہوں نے اس مدرسہ میں شعبہ تجوید کھولا اور سندھ کے معروف قراء کرام کی خدمات حاصل کی ، تو قاری سعید صاحب بھی ان قراء کرام سے تعلیم حاصل کرکے پروان چڑھے اور صوبہ سندھ میں علم القراء ۃ والتجوید کو عام کیا اور کیوں نہ کرتے ؟

 استاد القراء والمحدثین شمس الملۃ والدین ابو الخیر محمد بن الجزری فرماتے تھے۔

والاخذ بالتجوید حتم لازم 

من لم یجود القرآن آثم

لأنہ بہ الالہ أنزلا

وہکذا منہ الینا وصلا

’’اور حاصل کرنا تجوید کا واجب اور ضروری ہے اور جو تجوید کے ساتھ قرآن نہ پڑھے وہ گنہگار ہے ، کیونکہ وہ قرآن اس (تجوید) کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے نازل کیا اور اسی طرح (یعنی تجوید ہی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے ) ہم تک پہنچا ہے۔‘‘

ایک غلط فہمی اور اس کا ازالہ

قاری صاحب کے والد محترم اپنے طلبہ کو اکثر یہ نصیحت کرتے تھے کہ ’’عوام الناس‘‘ میں ایک غلط فہمی ہے کہ قاری اس کو کہتے ہیں جوسر اور لہجہ میں قرآن کی تلاوت کرے۔چاہے اس کے تلفظ اور مخارج غلط ہو اسی لئے جوبھی اچھی آواز سے قرآن پڑھتا ہے اس کو قاری کے لقب سے نوازتے ہیں چاہے تلفظ غلط ہوں حالانکہ قاری وہ ہے جو قرآنِ شریف کے حروف و حرکات کو صحیح طور پر اداکرے ۔آواز اور سرہو یا نہ ہو۔‘‘قاری سعید احمد صاحب نے بھی اپنے والد کی اس نصیحت پر عمل کیا تلفظ اور مخارج میں قاری صاحب اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔

اعلیٰ تعلیم کیلئے بیرون ملک روانگی

صوبہ پنجاب اور سندھ کے مقتدر علماء کرام سے علم حاصل کرنے کے بعدوہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ روانہ ہوگئے وہاں انہوں نے دل جمعی محنت اور جدوجہد سے تعلیم حاصل اورمشہور مشہور اساتذہ سے استفادہ کیا خصوصا الشیخ المقرئ عبد الفتاح السید عجمی المرصیفی سے بہت متأثر ہوئے۔

مسلک حق کو قبول کرنا

جیسامذکورہ بالاسطور میں ذکر کیا ہے کہ قاری صاحب کا خاندان مسلکاً حنفی تھا تو قاری صاحب کا اسی مسلک سے تعلق تھا لیکن سعودی عرب سے مراجعت کے بعد قاری صاحب نے ۱۹۸۰ء؁ میںباقاعدہ طور پر مسلک اہلحدیث قبول کیا بس قاری صاحب کا اعلان کرنا تھا کہ آپ کے تمام رشتہ دار مخالف ہوگئے لیکن قاری صاحب ایک ہی بات کہتے تھے کہ میں قرآن وحدیث پرعمل کرتاہوں کسی کا نقصان نہیں کرتا جس بات کو حق سمجھتاہوں اس پر عمل کرتاہوں اور جس بات کو قرآن وحدیث کے مخالف سمجھتاہوں اس کو ترک کرتاہوں یہ ہی میرا نعرہ ہے اور یہی میرا مسلک بس اتنی بات تھی کہ مدرسہ عربیہ دارالقرآن میں حنفی علماء کرام تھے وہ چھوڑ کر چلے گئے لیکن قاری صاحب نے ہمت نہ ہاری اور باقاعدہ طور پر صوبہ سندھ کے امیر الشیخ بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ علیہ سے مل کر میھڑ شہر اور اس کے اردگر د علاقوں میں توحید اور مسلک حق کی دعوت دینے کیلئے قریہ قریہ بستی بستی نگر نگر گئے توحید کی دعوت دی اور شرک کا قلع قمع کیا اور کسی کی مخالفت کی پرواہ کئے بغیر اپنے مشن کو جاری وساری رکھا اس سے یہ فائدہ ہواکہ قاری صاحب کے برادر اصغر قاری عبد الرشید میروی رحمہ اللہ علیہ اہلحدیث ہوگئے اس کے ساتھ ساتھ کافی رشتہ دار اہلحدیث ہوگئے۔

قاری صاحب نے دعوت وتبلیغ کے ساتھ ساتھ اپنے والد کے قائم کردہ مدرسہ میں باقاعدہ طور پر تدریس کاکام شروع کیا اور کئی سال اپنے آبائی مدرسہ میں بحیثیت مہتمم رہے اور چند سالوں کے لئے وہ سندھ کے مختلف جامعات میں دورہ تجوید القرآن الکریم کروانے کیلئے تشریف لے گئے ان جامعات میں جامعہ أبی بکر الاسلامیہ کراچی ، المعہد السلفی کراچی۔ معھد القرآن الکریم بالمقابل این ، ای ڈی ، کراچی ۔ اور ۲۰۰۴ء؁ میں جامعہ بحر العلوم السلفیہ میر پور خاص تشریف لائے اور الشیخ محمد یونس بٹ صاحب حفظہ اللہ کے تعاون سے یہ شعبہ شروع ہواتو قاری صاحب نے ایک سال میں 20طلبہ کو تیارکیا جو اب بھی ضلع تھر پار کر میں کام کررہے ہیں جوکہ قاری صاحب کے لئے صدقہ جاریہ ہے ۔ انشاء اللہ

قاری صاحب دعوت اور تبلیغ وتدریس کے علاوہ میدان جہادمیں بھی گئے اسّی کی دھائی میں الشیخ بدیع الدین الراشدی رحمہ اللہ علیہ کے ہمراہ وہ افغانستان گئے ٹرینگ کی رات کو چوکیداری بھی کی اور فائر کئے۔ اس کے علاوہ قاری صاحب کو ایک شرف یہ بھی حاصل ہے کہ انہوں نے روضہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بحیثیت گارڈ ڈیوٹی دی تاکہ لوگ آپ  ﷺ کی قبر مبارک پر سجدہ نہ کریں۔

خدمات

قاری صاحب دعوتی وتبلیغی مساعی اور تدریسی خدمات میں تو اپنی مثال آپ تھے ، ان کے علاوہ ان کی تصنیفی خدمات بھی قابل رشک ہیں ۔ ان کے والد صاحب نے تجوید کے موضوع پر کتب تحریر کی جن میں سے’’ ہدایۃ القاری إلی تجوید کلام الباری ‘‘ سندھی زبان میں تجوید کے موضوع پر ایک ابتدائی بہترین کتاب ہے ، قاری صاحب نے تجوید کے موضوع پر باقاعدہ کتاب تو نہیں لکھی لیکن ایک کتاب ’’ہدیۃ السعید إلی اہل الایمان والتوحید‘‘ توحید کے موضوع پر 250صفحات سے زائد سندھی زبان میں لکھی جوکہ ایک بہترین کتاب ہے جس میں انہوں نے توحید کی تعریف ، اقسام ، شرکیہ امور اور اس کی قباحتیں ، موحدین کی فضیلت اور دیگر بے شمار موضوعات پر قرآن وحدیث سے دلائل دے کر سمجھایا ہے ، اس کتاب کا ایک نسخہ ان کی ذاتی لائبریری جوکہ اس وقت ان کے بڑے فرزند قاری خلیل أحمد حفظہ اللہ کی نگرانی میںموجودہے۔ اس کے علاوہ قاری صاحب نے ایک یادگار مضمون ’’مجلہ بحر العلوم‘‘ میر پورخاص کے توحید نمبر میں تصوف اور توحید کے موضوع پر لکھا جوکہ تصوف کی حقیقت کو واضح کرتاہے۔

اولاد واحفاد

قاری سعید صاحب نے دوشادیاںکی تھیں پہلی بیوی سے چار بچے ہیں دو بیٹے قاری خلیل احمد ،اور قاری جلیل احمد اور دو بیٹیاں ہیں جبکہ دوسری شادی قاری صاحب نے کراچی سے کی تھی جن سے دو بیٹے محمد اور محمود اور ایک بیٹی ہے۔

وفات

قاری سعیداحمد صاحب جمعیت اہلحدیث سند میھڑ شہر کے امیر تھے 23دسمبر کو انہوں نے ایک سیرت النبی  ﷺ کانفرنس منعقد کی جس کے اندر سندھ کے نامور خطیب تشریف لائے اور ایک کامیاب کانفرنس ثابت ہوئی یہ کانفرنس قاری صاحب کی زیر صدارت ہوئی کانفرنس کے بعد قاری صاحب کی طبیعت خراب ہونا شروع ہوگئی شوگر کے تو وہ 15سال سے مریض تھے وفات سے دو تین دن قبل کھانا بہت کم کردیا تھا ان کی عادت تھی کہ فجر نماز سے پہلے چائے کا کپ پی کر مسجد جاتے تھے لیکن آخر میں وہ بھی چھوڑ دیا اور طبیعت مسلسل تنزلی کی طرف گامزن تھی ۔ آخر یکم جنوری کو دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے ان کو المہران سنٹر لاڑکانہ اسپتال میں داخل کروایا جہاں وہ2جنوری 2009ء؁ صبح 4:30 بجے اس دنیا فانی کو چھوڑ کر سفر آخرت کی طرف روانہ ہوگئے۔ انا للہ وانا إلیہ راجعون

ان کی وفات کی خبر سن کر جم غفیر جمع ہوگیا اور نمازجمعہ کے بعد شاہ بدیع الدین الراشدی رحمہ اللہ کے پوتے الشیخ ابو حمید شاہ الراشدی صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی اور سنت نبوی  ﷺ کے مطابق اس کی تدفین ان کے قریبی قبرستان میں کی گئی اس طرح علم القراء ۃ والتجوید کا چمکتا سورج ہمیشہ ہمیشہ کیلئے غروب ہوگیا اور اپنے پیچھے بہت سے لوگوں کو سوگوار چھوڑ گیا۔اللہم اغفرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ وادخلہ الجنۃ الفردوس (آمین )

admin

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago