ہم نے اپنے ملک پاکستان کی تاریخ پڑھی سنی اور اساتذہ نے بھی یہی بتایا کہ ہم نے ہندوؤں سے اپنا ملک صرف اور صرف اپنے دین اور نظامِ اسلام کی خاطر الگ کیا ہے ۔ اسکا نعرہ اور Motto اب تک یہی چلا آ رہا تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ
مگر اب ہم ترقی پذیر بلکہ ترقی یافتہ ہو گئے ہیں کہ اسلام کو بھی روشن خیال اور ترقی یافتہ کرنے کی فکر لگ گئی ہے ۔ مذکورہ بالا نعرہ (جو پہلے بھی زبانی حد تک ہی تھا)رجعت پسندانہ معلوم ہونے لگا ہے ، اور اس کی بجائے ایک نیا نعرہ ایجاد کر لیا گیا … سب سے پہلے پاکستان … اس پر چند ایک رجعت پسندوں نے ناک بھوں چڑھانے کی کوشش کی یا کرتے رہتے ہیں مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے ۔ اور ہم اسلام پسندوں کے نقار خانے بھی الگ الگ ٹھہرے او ران کی طوطیاں بھی …۔
خیر مجھے کبھی قرآن کریم کے مطالعہ کا موقعہ مل جاتاہے ، میں نے اس کے فلسفہ عروج و زوال پر غور کرنے کی کوشش کی معلوم ہوا کہ اس حیاتِ مستعارمیں رزق کی فراوانی اور لوگوں کی ظاہری سج دھج کیلئے ایمان کوئی شرط نہیں ہے بسا اوقات تو یہ باغیوں کو بہت فراوانی کے ساتھ دیا جاتا ہے ،بلکہ فرمایا: ہم ان کو اور بھی دیں ۔ صرف اہل ایمان کے متعلق اندیشہ ہے کہ وہ زیادہ ہی بے دل نہ ہوجائیں۔
’’ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ (کفر پر آمادہ ہو کر ) ایک امت بن جائیں گے تو ہم ان کافروں کیلئے جو رحمن سے کافر بن کر رہے ہیں ، ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے ، اور ان کی سیڑھیاں جن پر وہ چڑھتے ہیں ، اور ان کے گھروں کے دروازے اور ان کے تخت جن پر وہ تکیے لگاتے ہیں (چاندی کے بنا دیتے ) اور سونے کے بھی۔۔ مگر ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ یہ سب حیاتِ مستعار اورعارضی زندگی کا عارضی سودا ہے ‘‘
سابقہ امتوں اور قوموں میں سے جن کو کچھ عروج ملا مثلاً: قوم فرعون کو سیاسی تسلط حاصل رہا ، قوم ثمود جس نے بڑے بڑے مضبوط محل اور پلازے بنانے کا شوق پالا، قوم سباکی زراعت و باغبانی نے ان کو خوشحال بنا دیا تھااور قوم شعیب کی تجارت ان کی ثروت کی طرح بھی بقاء اور دوام کا باعث نہ بن سکی۔ اور نہ ان کو عزّ وشرف حاصل ہو ا ۔ ان کی یہ سب کارگزاریا ں ایک مختصر عرصہ کیلئے ان کے ساتھ رہیں پھر وہ ہمیشہ کیلئے نشانِ عبرت بنادیے گئے ، کیونکہ وہ اللہ کے باغی اور اس کے رسولوں کے ناقدراور نافرمان رہے تھے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان یہ ہے کہ :۔
ترجمہ: جب یہ لوگ اس چیز کو بھول بھال گئے جس کی انہیں نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے ان پرہر چیز کے دروازے کھول دیے حتیٰ کہ جب وہ ان چیزوں پر اترانے لگے تو ان کو اچانک آن پکڑا تو وہ حیران و پریشان ہو کر رہ گئے ۔ ا ورپھر ان ظالموں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی۔‘‘
یہ آیت کریمہ بتاتی ہے کہ باغی ، سرکش اور کافر فرد یا لوگوں کو رزق کی فراوانی ، حکومت ، رعب ودبدبہ اور دوسروں پر تسلط دیاجاتاہے ۔ اس وجہ سے نہیں کہ وہ اس کے مستحق یا اللہ کے پسندیدہ ہوتے ہیں… نہیں بلکہ یہ اللہ کا قانون مہلت اور قاعدہ استدراج ہوتاہے اور ان کی رسی ڈھیلی چھوڑدی جاتی ہے کہ کر لو جو کچھ کرسکتے ہو ، اور پھر جب وہ اللہ کی نافرمانی ، بغاوت اور ظلم وتعدّی میں اپنی انتہا کوپہنچ جاتے ہیں تو پھر اچانک ان کی جڑکاٹ دی جاتی ہے اور کوئی بھی ان کی مدد کو نہیں پہنچ سکتا۔
ان کے مقابلہ میں انبیاء کرام اور بالخصوص آخری رسول محمد ﷺ اور قرآن کریم کی دعوت یہ ہے کہ :
’’اگر یہ بستیوں والے (کما حقہ) ایمان لے آئیں اور تقوی اختیار کریں تو ہم ان کیلئے زمین وآسمان کی برکتیں کھول دیں۔‘‘
بنی اسرائیل کے متعلق بالخصوص فرمایا :
’’اگر یہ لوگ توراۃ، انجیل اور اس چیز کی پیروی کرتے جو ان کے رب کی طرف سے ان کی طرف نازل کی گئی تھی تو یہ لوگ اپنے اوپر کی طرف سے کھاتے اور پاؤں کے نیچے کی جانب سے بھی…‘‘
مندرجہ بالا الفاظ پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتاہے کہ بغاوت وسرکشی میںبھی بہت کچھ ملتاہے اورایمان وتقوی کی صورت میں بھی …مگر نافرمانی میں’’ محض ملتا‘‘ہے اور بطور مہلت واستدراج ملتاہے اس میں کوئی خیر وبرکت نہیں ہوتی۔ اس کا انجام اچانک ہلاکت ہوتی ہے۔ اور ایمان وتقویٰ کی صورت میں جو ملتاہے خیر وبرکت کا ملتاہے اس میں سعادت ہوتی ہے اور اس کا حال اور مآل دونوں باعث عزوشرف ہوتے ہیں۔ یہاں ہمیں سوچنا چاہیے کہ اس امت کو جو کچھ مل رہا ہے وہ کس پہلو کا ہے ۔ کیا محض زمین وآسمان کے دروازے کھول دئیے گئے ہیں یا زمین وآسمان کی برکات۔
اللہ کا مسلمان بندہ ہمیشہ بابرکت چیز کا حریص ہوتاہے ، نہ کہ محض کھانے پینے یا لذت اندوزی کا۔ بے برکت چیزیں نا پائیدارہی نہیں بلکہ نحوست اور شقاوت کا باعث بنتی ہیں۔اور ان سے پلنے بڑھنے والے جسم بھی منحوس اور عذاب کاباعث ہوتے ہیں ۔ سیدنا نوح علیہ السلام کی وہ شکایت اور عذاب کی عرضداشت جو انہوں نے اپنی ناہنجار قوم کے متعلق اللہ کے حضور پیش کی۔ اس میں انہوں نے یہی کہا کہ
’’ اے اللہ! تیری مال واولاد کی نعمتوں نے ان کو تیری شکر گزاری اور اطاعت کی بجائے نافرمانی اور طغیان ہی میں بڑھایا۔ یہاں تک کہ ان کے جسم میں بننے والے نطفے بھی فاسد ہوچکے ہیں۔ ان کی آئندہ ہونے والی اولادیں بھی فاجر اور فاسق ہی ہوں گی۔‘‘ (سورئہ نوح :۲۷)
٭ قرآن کریم نے سورئہ کہف میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام وخضر کا واقعہ بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اس میں بڑے اسباق ہیں۔
۱۔کشتی والوں کی کشتی کو ظالم بادشاہ کی دست بردسے کس عجیب طریقے سے محفوظ کیا گیا۔
۲۔نیک ماں باپ کو ان کے آئندہ نافرمان بن جانے والے بچے سے بچا کراس کے بدلے نیک صالح بچے کی خوشخبری دی گئی۔
۳۔نیک صالح باپ کے دویتیم بچوں کی گرتی ہوئی دیوار کو سیدھا کرکے ان کے خزانے کو محفوظ بنادیا گیا۔
یہ سب امور ایمان وتقویٰ کی بنیاد پر تھے۔
٭ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ جب جنگ جمل میں شہید ہوگئے ، اس سے پہلے انہوں نے اپنے فرزند عبد اللہ کو اپنے قرض کے متعلق بڑی تاکید کی۔ چنانچہ ان کے چندپلاٹ تھے ، ان کو فروخت کیا گیا، ان میںاللہ نے ایسی برکت دی کہ چاروں بیویوں کو ان کا آٹھواں حصہ بارہ بارہ لاکھ کی تعداد میں حاصل ہوا۔ (صحیح مسلم، اور ریاض الصالحین میں ان کا یہ واقعہ بڑا دلچسپ اور قابل مطالعہ ہے۔ )
٭ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کی اولاد کو وراثت میں گنتی کے چند سکے ہی ملے مگر اللہ نے ان کو ایسی برکت دی کہ وہ مجاہدین کو ہزار ہزار گھوڑے پیش کرنے والے بنے۔ جبکہ سابقہ امویوں کی اولادیں جن کو وراثت میںلاکھوں درہم ودینارملے۔ان کو بغداد میں بھیک مانگتے دیکھا گیا۔ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ
٭ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں بیان کیا ہے کہ میںنے مصر میںایک ککڑی دیکھی جوتیرہ بالشت لمبی تھی۔ ایک مالٹا دیکھا جسے دوحصوں میں کاٹ کر اونٹ پر دوجانب میں لادا گیا تھا۔ اور یہ زکوٰۃ کی برکات تھیں۔ (کتاب الزکاۃ)
٭ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی آمد پر جب ہر طرف اسلام ہی اسلام ہوگااور کفر اپنی بساط لپیٹ لے گا۔ اس وقت زمین کی برکات اس طرح ظاہر ہوںگی کہ ایک انار ایک جماعت کیلئے کافی ہوگا اور پھر اس کے خول کو وہ لوگ بطور سائبان استعمال کریں گے۔
دودھ والی اونٹنی کا دودھ ایک بڑے قبیلے کو ، ایک گائے کا دودھ اس سے چھوٹے خاندان کو اور ایک بکری کا دودھ ایک گھرانے کو کافی ہوگا۔ (بحوالہ مشکاۃ المصابیح ، کتاب الفتن ، العلامات بین یدی الساعۃ …)
ہر مسلمان کو محض رزق نہیں بلکہ بابرکت رزق کی دعا کرنی چاہیے بلکہ ہر چیز جو وہ عنایت فرمائے بابرکت ہو۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…