Categories: اپریل 2009

ظالموں کا عبرتناک انجام

ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

ظالموں کو خبردار رہنا چاہئے کہ ظلم اپنا تاوان لیے بغیر نہیں رہتا کوئی کتناہی امیر ، طاقتور اور مقتدر شخص کیوں نہ ہو جب وہ کسی پر ظلم ڈھائے گا تو اس کو سزا ضرور بھگتنا پڑے گی ۔

قرآن وحدیث کے اوراق بتلاتے ہیں کہ ظالم کو کبھی فلاح نصیب نہیں ہوتی ، وہ اس فنا پذیر دنیا میں بھی ہولناک انجام کا شکار ہوتا ہے اور آخرت میں بھی اسے قادروعادل پروردگار کے حضور اپنی سفاکیوں کا جواب دینا پڑے گا ۔

مجھے ایک واقعہ یاد آ رہا ہے کہ ابو قلابہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ اپنے دوستوں کے ساتھ شام کے علاقے میں تھا میں نے ایک شخص کی آواز سنی وہ چلّا چلّا کر کہہ رہا تھا ۔

’’یَا وَیْلَاہُ النَّار‘‘

’’ہائے بربادی …آگ…آگ ۔‘‘

موصوف فرماتے ہیں کہ میں اس کے پاس گیا تو دیکھا کہ اس شخص کے دونوں ہاتھ کٹے ہوئے تھے ، آنکھوں سے نابینا تھا اور منہ کے بل زمین پر پڑا بڑبڑا رہا تھا ، میں نے اس سے پوچھا : تمہارا یہ حشر کیسے اور کیوں ہوا؟ تو اس نے جواب میں درج ذیل واقعہ سنایا : میں ان بدبخت لوگوں میں سے ہوں جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میںفتنے میں مبتلا ہو گئے تھے ،میں باغیوں کے ساتھ ان کے گھر میں گھس گیا جب میں  سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو ان کی اہلیہ محترمہ نے دہائی دی اور چیخنا شروع کر دیا ، میں نے ان کے منہ پر تھپڑ دے مارا تو ان کی اہلیہ نے میرے لیے بددعا کردی کہ :

(قَطَعَ اللّٰہُ یَدَیْکَ وَرِجْلَیْکَ وَاَعْمیٰ عَیْنَیْکَ وَاَدْخَلَکَ النَّارَ)

’’اللہ تعالیٰ تیرے ہاتھ اور پاؤں کاٹ ڈالے ، تیری بینائی چھین لے اور تجھے آگ میں جھونک دے ‘‘

یہ بددعا سننے کی دیر تھی کہ مجھ پر خوف وہراس طاری ہو گیا ، میرا وجود لرزنے لگا اور میں وہاں سے بھاگ آیا ، پھر امیر المؤمنین کی اہلیہ کی بددعا پوری ہو گئی جو کہ اب تم میری حالت دیکھ رہے ہو ۔ میرے ہاتھ پاؤں کٹ چکے ہیں میں اندھا ہو چکا ہوں اور اب آخری بددعا کے مطابق جہنم میں داخل ہونا باقی ہے ۔میں نے اس سے کہا (بُعْدًا لَکَ وَسُحْقاً) ـ’’ تم اسی قابل ہو کہ رحمت سے دور رہو اور جہنم ہی تمہارا مقدر ٹھہرے۔‘‘

قارئین کرام ! یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب باغیوں نے امیرالمؤمنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر تک غذا اور پانی کی رسد بھی بند کر دی تھی اور یہی فتنہ آپکی شہادت کا سبب بنا ۔(اسے طبری نے الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ میں بیان کیا ہے )

قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :

(وَلَنْ تَرْضیٰ عَنْکَ الْیَہُوْدُ وَالنَّصَاریٰ حَتّیٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمْ) (البقرۃ)

’’آپ سے یہود اور نصاریٰ کبھی راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ آپ ان کے دین کو اختیار نہیں کر لیتے‘‘

آج ظالم حکمران اپنے ظلم کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں جبکہ عام مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ تمام مسلمان إلاماشاء اللہ یہودونصاریٰ کی نقالی کرنے میں لگے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے وہ آئے روز دین کی روشنی سے بھٹک کر گمراہی اور ضلالت کے اندھیروں کی طرف اپنے آپ کو دھکیلتے جارہے ہیں ۔

عہد ِ حاضر کے نام نہاد دانشورہمیں یہی ترغیب دیتے آرہے ہیںکہ ہمیں زندگی کی رفتار سے چلنا چاہئے روشن خیالی کا رویہ اپنا کر مغربی تہذیب وثقافت کے رنگ میں رنگنا چاہئے۔ کبھی آپ نے ٹھنڈے دل ودماغ سے سوچا کہ آخر ہمیں یہود ونصاریٰ کی تہذیب وثقافت نے کیا دیا ؟ ہمیں ان کی تقلید اور جھوٹی نقالی کرنے سے کیاکیا فوائد حاصل ہوئے ہیں ؟ ان کی وجہ سے ہماری مملکتیں چھن گئیں ، ہمارے تخت وتاج لٹ گئے ، ہماری عزت خاک میں ملا دی گئی، ہماری قوت کے سفینے ڈوب گئے ، ہماری روایات دھندلا گئیں ، ہماری تہذیب ماند پڑ گئی ، طاغوتی قوتوں نے ہمارامحاصرہ کر لیا ہے ،آج ہم پر بموں کی بارش کی جارہی ہے ہماری بستیاں جھلسا جھلسا کر اجاڑی جا رہی ہیں جا بجا لاشیں تڑپ رہی ہیں ، ہرطرف خون بکھرا پڑا ہے ، ہمارے قدرتی وسائل پر ڈاکہ پڑ چکا ہے جس سے ہماری کھیتیاں سوکھ سوکھ کر برباد ہو رہی ہیں ، کہیںقلاشی ، کہیں قحط، کہیں ہمارے دریاؤں کا خشک ہوتاہوا پانی ہمارے کرتوتوں کو کوس رہے ہیں ۔

یہ سب کیوں ہے ان سب مصائب ومشکلات کے بنیادی اسباب اور وجوہات کیا ہیں ؟؟

اگر غور کیا جائے تو صرف ایک ہی جواب ملتا ہے کہ ہمارا رحیم وکریم رب تعالیٰ ہم سے ناراض ہوچکا ہے جس سے ہم لوگ بارش جیسی اللہ کی عظیم رحمت سے محروم کر دیے گئے ہیں ، ہماری بستیوں میں لوگوں کے دنوں کا چین اور راتوں کی نیندیں اجڑ چکیں ، بدامنی اور قتل وغارت گری کا راج ہے ، مایوسی کی دھند میں لپٹے ہوئے کتنے ہی لوگ اپنے اوراپنے بچوں کے لئے کوئی اور راستہ نہ پا کر خودکشی جیسی لعنت کا شکار ہو رہے ہیں ۔ جبکہ کچھ لوگ ان تمام حادثوں کے واقع ہونے کے باوجود ان واقعات کو پس پشت ڈال کر اپنی دنیاوی عیاشیوں میں اتنے محو ہو چکے ہیں کہ ان کو مظلوم لوگوں کی دہائیاں اور یتیموں کی سسکیاں سنائی نہیں دیتیں ۔

ان تمام واقعات کے رونما ہونے کے باوجود ہم لوگ عبرت نہیں پکڑتے اور بے حسی کی زندگی گزارے چلے جارہے ہیں ، ہم نے دین حنیف کی بنیادی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر ان پر عمل کرنا چھوڑدیا ہے اور بدستور یہودی اور دیگر اسلام دشمن طاغوتی قوتوں کے پرستار بنے ہوئے ہیں ۔

اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہود ونصاریٰ کی پیروی کرنے سے ہم کامیاب ہو جائیں گے تو اس بات پر غور کر کے اسے اپنے ذہنوں میں بٹھا لیجئے کہ ایسا کبھی ممکن نہیں ہے مغربی تہذیب کی نقالی کرکے مسلمان ہمیشہ خسارے میں رہیں گے جبکہ اگر فلاح وکامیابی کی راہ چاہئے ہو تو اس کی ضمانت صرف ایک دین ہی دے سکتا ہے جس کا نام ہے دین اسلام ۔

admin

Share
Published by
admin

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago