روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے سب سے پہلی مسجد بیت اللہ شریف تعمیر کی گئی ۔ قرآن پاک میں ہے :
’’بلاشبہ لوگوں کے لیے (اللہ کی عبادت کے لیے) جو پہلا گھر بنایا گیا تھا وہ مکہ میں ہے تمام دنیا والوں کے لیے بابرکت اور ہدایت کا مرکز ہے۔‘‘ (آل عمران : 96)
خانہ کعبہ کی پہلی تعمیر سیدنا آدم علیہ السلام ہی نے کی تھی۔ اس کے چالیس سال بعد سیدنا آدم علیہ السلام ہی نے مسجد اقصٰی (بیت المقدس) تعمیر کی۔
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ﷺ روئے زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی ؟ نبی کریم ﷺنے فرمایا : «مسجد حرام» میں نے عرض کیا، پھر کون سی ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’مسجد اقصی ‘‘میں نے دریافت کیا، ان دونوں میں کتنی مدت کا فاصلہ تھا؟ نبی کریم ﷺنے فرمایا چالیس سال کا، مگر جہاں بھی تمہیں نماز کا وقت آجائے، وہیں نماز پڑھ لو کیونکہ فضیلت اسی میں ہے۔ (بخاری :3366)
نبی کریم ﷺنے جو پہلی مسجد کی تعمیر کی قبا بستی میں تھی۔ اور دوسری مدینہ منورہ میں مسجد نبوی تعمیر کی گئی۔
مسجدکے لغوی معنی ہیں۔ ’’سجدہ کرنے کی جگہ ‘‘ اور شرعا اس جگہ کو مسجد کہتے ہیں جسے مسلمانوں نے نماز پنجگانہ باجماعت ادا کرنے کے لیے تیار کیا ہو۔
مسجدصرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے نہیںبلکہ دین کی تبلیغ اور قرآن وسنت کی دعوت کا مرکز ہے۔ مسجد تعمیر کرنے کی بہت فضیلت ہے ۔ اللہ تعالی خالص اپنی رضا کیلئے مسجد تعمیرکرنے والوں کے لیےجنت میں گھربناتے ہیں اور روئے زمین پر مساجد، الله تعالیٰ کی سب سے پسندیدہ جگہیں ہیں اور ایسی بیسیوں نبی کریم ﷺکی احادیث ہیں۔ جن سے مسجدتعمیر کرنے کی فضیلت واضح ہوتی ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں مسجد ضرورت کے تحت نہیں بلکہ خواہش کے تحت تعمیر کی جاتی ہیں۔ خاص طور پر اس پُر فتن دور میں بعض مقامات پر محض کاروباری نقطۂ نظرسے مساجد تعمیر ہوتی ہیں۔ جہاں موقع ملا وہاں مسجد تعمیر کر ڈالی خواہ اسکی وہاں ضرورت ہی نہ ہو، جیسا کہ عام طور پر گزرگاہوں، چوراہوں اورعمارات کے فلیٹوں میں، تہ خانوں میں مساجد بنائی جا رہی ہیں جن میں سب سے پہلے قبلے کی سمت صحیح نہیں ہوتی اور دوسرا عمارت کے بہت سے ستون ہونے کے سبب صفین صحیح نہیں بنتی اور ان میں انقطاع ہوتا ہے۔ ہم اپنے اس موضوع میں ستونوں کے درمیان صف نہ بنانے کے حوالے سے دلائل پیش کریں گے۔ نماز با جماعت میں صفوں میں برابری اور ایک دوسرے کے ساتھ قدم سے قدم اور کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا مطلوب ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا : اپنی صفوں کو درست رکھا کرو کیونکہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔ اس کے بعد ہم میں ہر شخص اپنا کندھا اپنے ساتھی کے کندھے سے اور اپنا قدم اپنے ساتھی کے قدم سے ملا دیتا تھا۔ (بخاری :725)
جبکہ ستون کے درمیان میں آجانے سے صف میں وحدت اور اتحاد نہیں رہتا اس لیے بلا ضرورت اور مجبوری ستونوں کے درمیان جماعت سے نماز پڑھنا جائز نہیں۔ نبی اکرم ﷺنے نماز میں برابر ہونے، مل کر کھڑےہونے کا حکم دیا ہے۔ ستون کے درمیان میں آجانے سے نبی ﷺ کے حکم کی تعمیل نہیں ہوتی۔ اس طرح کی صف بندی سے بچنا چاہیے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم رسول الله ﷺ کے دور میں (ستونوں کے درمیان صف بنانے )کے عمل سے بچاکرتے تھے (ابوداؤد :673)
سیدنا قره بن ایاس مزلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہمیں رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ستونوں کے درمیان صف بنانے سے منع کیا جاتا تھا اور اس سے سختی کے ساتھ روکا جاتا تھا۔ (ابن ماجہ :1002) یہ حدیث ستونوں کے درمیان صف نہ بنانے کی صریح دلیل ہے ۔
صفوں کا منقطع ہو جانا ممنوع ہے۔ اس پر امام مسجدیا کوئی نمازی توجہ نہیں دیتا ۔ اس کی پہلی وجہ تو لوگوںکی دین سے دوری اور دوسری وجہ شارع کے منع کردہ اورنا پسندیدہ کاموں سے بچنے میں لا پرواہی ہے ۔ جان لیں کہ اسے
رسول الله ﷺکی بددعا ہے ۔ اور جس نے صف کو توڑا تو اللہ تعالیٰ اسے توڑ دے۔(ابو داؤد :672)
رسول اللہ ﷺکے فرمان کے مقابلے میں اپنی سوچ اور فہم و استدلال کو اہمیت دے۔ اگرچہ حقیقت واقعہ ہمارےاس دور میں ازحد ناگفتابہ ہے۔
سیدنا عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’تم ستونوں کے درمیان صف نہ بناؤ۔‘‘ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :یہ ممانعت اس لیے کہ ستون صف کے ملانے جوڑنے میں رکاوٹ بنتا ہے ۔(بیہقی 3/104)
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’امام کے لیے دو ستونوں کے درمیان کھڑا ہونا مکروہ نہیں، مقتدیوں کے لیے مکروہ ہے اس لیے ستون صفوں کو منقطع کر دیتا ہے۔(نیل الاوطار)
مقتدی کیلئے ستونوں کے درمیان صف بنانا مکروہ ہے۔امام احمد رحمہ اللہ اسکی وجہ بیان کرتے ہوتے کہتے ہیں کہ اس طرح صف میں انقطاع آجاتا ہے۔ (الفروع(39/2)
داعی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام کہتے ہیں: ’’اگر ستونوں کی وجہ سے صفوں میں انقطاع واقع ہو تو ان کے درمیان میں صف بنانا مکروہ ہے۔(فتاوي اللجنة الدائمة (5/295)
امام طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:ایک جماعت نے ستون کےدرمیان صف بنانے کی ممانعت کی حدیث کی وجہ سے نا پسند کیا ہے اور اسکی وجہ تنگی نہ ہونا ہے (یعنی اور جگہ موجود ہے) اور اسکی حکمت یا تو صف کاانقطاع ہے یا جوتے رکھنے کی جگہ ہے ۔(نیل الاوطار)
قرآن مجید میں آتا ہے :
نماز قائم کرو ۔
نبی کریم ﷺنے فرمایا : صفوں کا برابر اور سیدھا کرنا بھی نماز کے قائم کرنے میںداخل ہے۔ (متفق علیہ بخاری :723، مسلم 433)
برادران اسلام! غور کریں کہ صف بندی کی کتنی سخت تاکید ہے اور ہم ہیں کہ ستونوں کے درمیان صف بنا کر اپنی نمازیں خراب کر رہے ہیں۔ آج کا مسلمان نمازی صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرح صف بندی کیوں نہیں کرتا ؟
آیئے !ہم سب مل کر اس بات کا عہد کریں کہ ہم اپنی زندگیوں کو پوری طرح قرآن وسنت کے تابع بناتے ہوئے اپنے اندر عمل کی وہی کیفیات پیدا کریں گے جو ہمارے اکابر اور سلف صالحین کا خاصہ تھیں۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…