1986 میں برادر مکرم فضیلۃ الشیخ محمد ابراہیم طارق صاحب حفظہ اللہ کے کے ہمراہ حصول تعلیم دین کے سلسلہ میں عالمی دانش گاہ جامعہ ابی بکرالاسلامیہ کراچی پہنچا ابھی عیدالاضحی کی تعطیلات ختم ہوئی تھیں۔ جامعہ میں میں نے مدیر جامعہ عظیم اسکالر، ممتاز ماہر تعلیم، مفکر اسلام الشیخ پروفیسر محمد ظفراللہ صاحب کو دیکھا جن کا نقش ذہن میں آج تک محفوظ ہے۔ درمیانہ قد، سفید شلوار قمیض میں ملبوس، سرخی مائل گندمی رنگ، سر پر جناح کیپ، لمبی سیاہ داڑھی ( جو کہ آخر عمر میں زیادہ تر سفید ہوگئی تھی) مسکراتے ہوئے پیاری سے آواز ملتے ہوئے السلام علیکم کہا کرتے تھے۔
پیدائش
شیخ محمد ظفراللہ چوہدری عطاءاللہ کے گھر 1943 کو ملک پور نزد روپڑ ضلع انبالہ میں پیدا ہوئے۔
تعلیم
آپ نے میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد ولی کامل امیر المجاہدین صوفی محمد عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ کے ادارے جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن کا رخ اختیار کیا اور یہاں سے فراغت حاصل کرنے کے بعد کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کیا اور پھر اسی یونیورسٹی میں لیکچرار مقرر ہوئے۔ 1978 میں جامعہ امام محمد بن سعود الریاض میں مزید تعلیم کے حصول کےلیے چلے گئے اور وہاں سے عربی ادبیات کی تکمیل کی۔
اساتذہ
آپ کے اساتذہ کرام میں شیخ پیر محمد یعقوب، شیخ الحدیث محمد یعقوب ملہوی، شیخ الحدیث مولانا محمد صادق خلیل، مولانا عبدالصمد روف، شیخ الحدیث محمد رفیق صاحب، شیخ الحدیث مولانا عبدالرشید ہزاروی صاحب، ڈاکٹر محمد مظہر بقا ( سابق چیئرمین شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ کراچی ) اور دیگر بلند پایہ علماء کرام رحمهم الله شامل ہیں۔ ان کے علاوہ سعودیہ عربیہ کے اساتذہ کرام بھی ہین جن سے آپ نے اکتساب علم کیا۔
سیرت و کردار
شیخ محمد ظفراللہ صاحب بہت سی خوبیوں کے مالک تھے۔ آپ دل کے صاف، معاملے کے کھرے، نہایت ہی اچھے دوست، طلبہ کےلیے مشفق باپ جیسے، ملک بھر میں تعلقات رکھنے والے، نرم و ملائم گفتگو کرنے والے، نماز کے پابند، قرآن مجید کی کثرت سے تلاوت کرنے والے، بات کو ہمیشہ سنجیدگی سے لینے والے، صبح و شام کے اذکار کی پابندی کرنے والے، یاد الہی سے اپنی زبان کو ہمیشہ تر رکھنے والے، علماء کے قدردان، غرباء و مستحقین کا خیال رکھنے والے، اپنے مسلک کی بات کو ہمیشہ موعظ حسنہ کے انداز میں سمجھانے والے، آپ کا مطالعہ بھی وسیع تھا۔ آپ کا کتب سے لگاو کس قدر تھا اس کا اندازہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے مکتبہ ( لائبریری) سے لگایا جاسکتا ہے۔ جس میں تفسیر، حدیث، اصول حدیث، فقہ واصول فقہ، تاریخ، اسماءالرجال، مذاہب دنیا وغیرہ الغرض ہر موضوع پر کتب موجود ہیں۔ شیخ مرحوم کا یہ عظیم کارنامہ ہے جو آپ کی بےپناہ کوشش و کاوش اور بلند ہمت ہونے کا مرہون منت ہے۔ اور کتب کے وسیع ذخیرے کی صورت میں اصحاب علم و فضل اور اصحاب ذوق کے سامنے ہے۔
دور طالب علمی
آپ کا حصول علم کا دور بھی نہایت شاندار تھا۔ دوران تعلیم آپ کو مطالعہ کی خوب عادت تھی۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ جامعہ تعلیم الاسلام مامون کانجن کی تعمیر و ترقی مین کوشاں رہے۔ اور جامعہ کو گاوں ( اوڈانوالہ) سے شہر منتقل کرنے کےلیے آپ نے ہراول دستے کا کام کیا۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ مین روزانہ ساتھیوں کو ساتھ لیتا اور اگلے دن کے کام کےلیے گارا تیار کرتا اور اینٹیں ڈھوتا تھا۔ اور صوفی محمد عبداللہ صاحب کی خدمت بھی کیا کرتا تھا۔ اور وہ آپ پر شفقت کی نگاھ رکھا کرتے تھے۔ صوفی صاحب مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔ ایک دفعہ صوفی صاحب نے شیخ محترم پروفیسر محمد ظفراللہ سے فرمایا کہ:
کیا میں تیرے لیے ایسی دعا نہ کروں کہ اللہ تعالی دست غیب سے تیری ضروریات تجھے عطاء کرتا رہے۔
صوفی صاحب کی بات سن کر شیخ محمد ظفراللہ صاحب نے عرض کی کہ: حضرت اس دعا کے بجائے میرے لیے ایسی دعا فرمائیںکہ اللہ تعالی مجھے دین کی خدمت کا کوئی بڑا موقع عطاء فرمائے۔ صوفی صاحب نے اللہ تعالی سے عاجزی کے ساتھ دعا کی اور یہ دعا اللہ تعالی نے جامعہ ابی بکرالاسلامیہ کی صورت میںقبول فرمائی۔
جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کا قیام
شیخ محمد ظفراللہ رحمۃ اللہ علیہ کے قلب و ذہن میں فروغ علم کا ایک خاص داعیہ اور جذبہ کارفرما تھا۔ جس کا اظہار آپ کے قول و فعل اور حرکات و سکنات سے ہوتا رہتا تھا۔ آپ نے 1978 میں آپ نے روشنیوں کے شہر کراچی کے علاقہ گلشن اقبال میں جامعہ ابی بکرالاسلامیہ کےلیے قطعہ اراضی خریدا اور جماعت مجاہدین کے نام سے اس کی رجسٹری کروائی۔ اور پھر عالم اسلام کی ہر دلعزیز شخصیت امام کعبہ فضیلۃ الشیخ محمد بن عبداللہ بن السبیل صاحب کے دست مبارک سے اس کا سنگ بنیاد رکھوایا۔ اور یہی جگہ تشنگان علوم نبوت کےلیے نشان منزل ٹھہری۔ جہاں پر اکناف عالم سے فرزندان توحید آتے رہتے ہیں اور اپنی جھولیوں اور دامنوں کو قال اللہ و قال الرسول کے ہیرے اور موتیوں سے بھر کر واپس لوٹتے ہیں۔ شیخ مرحوم کی ساری سرگرمیوں کا مرکز یہی جامعہ تھا۔ آپ کی زندگی کے لیل و نہار اور شب و روز کے تمام تر لمحات اسی محور کے گرد گھومتے تھے۔ آپ اپنے تعلیمی مرکز کو برصغیر کے تمام مراکز علمی سے منفرد مقام دینے کے خواہاں تھے اور آپ بحمداللہ اس میں کامیاب ہوئے اس کی انفرادیت کا اندازہ اس حقیقت سے کیجیے۔
* جامعہ کا نصاب جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ اور جامعہ محمد بن سعود ریاض سے ہم آہنگ ہے۔
* جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں ذریعہ تعلیم عربی قرار دیا گیا جو کہ بحمداللہ کامیابی سے چل رہا ہے۔
* یہ کسی غیرعرب ملک کی پہلی غیرسرکاری جامعہ ہے جس میں ذریعہ تعلیم عربی ہے۔
* جامعہ کے اساتذہ کا انتخاب عالم اسلام کی سات مشہور جامعات سے کیا گیا ہے۔
1۔ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ، 2۔ جامعہ ام القری مکہ مکرمہ، 3۔جامعہ امام محمد بن سعود ریاض، 4۔ جامعہ بغداد عراق، 5۔جامعہ خرطوم سوڈان، 6۔ جامعہ ازہر مصر، 7۔جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی
* جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کا بنیادی مقصد عقیدہ سلف کی نشرواشاعت اور اس کے مطابق قرآن و سنت کے احکام کو طلبہ کے ذہنوں میں راسخ کرنا اور امت اسلامیہ کو اتفاق و اتحاد کی سیدھی راہ پر لگانا۔
* جامعہ ابی بکر الاسلامیہ سے فارغ التحصیل حضرات اس وقت تقریبا چالیس سے زائد ممالک میں تدریسی اور تبلیغی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
* جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کو بین الاقوامی اسلامی جامعات کی رکنیت کا اعزاز حاصل ہے جو کہ « رابطۃ الجامعات الاسلامیہ» کے نام سے موسوم ہے۔ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی کے علاوہ پاکستان میں اس تنظیم کی رکن صرف انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد ہے۔
جامعہ کے ذیلی ادارے:
پروفیسر محمد ظفراللہ صاحب نے جہاں دن رات جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کےلیے انتھک جد و جہد کی وہاں پر جامعہ کے تحت مختلف مساجد و مدارس قائم کیے۔ جن میں حرمین کمپلیکس ( سپرہائی وے) جامعہ عائشہ الصدیقہ رضی اللہ عنہا للبنات (ماڈل کالونی) مدرسہ ابوبکر الصدیق (ملیر ) جامع مسجد عمر بن عبدالعزیز ( ڈیفنس) جامع مسجد سلمان فارسی ( گلستان جوہر) جامع مسجد الفاروق ( ماڈل کالونی) جامع مسجد علی بن خلفان ( شیرین جناح کالونی) جامع مسجد رحمانیہ ( نیو کراچی) مرکز ابن القاسم ( ملتان) کلیۃ البنات ( ڈی جی خان ) عمار بن یاسر ہائی اسکول ( ڈیرہ غازی خان) معھد الشریعہ ( کوٹ ادو) جامعہ محمدیہ ( رحیم یار خان ) وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ اندرون سندھ، پنجاب، بلوچستان اور کے پی کے میں بھی بہت سے مدارس و مساجد کی شیخ مرحوم سرپرستی فرمایا کرتے تھے۔
درحقیقت جامعہ عائشہ الصدیقہ رضی اللہ عنہا للبنات شیخ مرحوم کا وہ عظیم کارنامہ ہے جس کے فوائد کو اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو شیخ محترم کی حسنات میں ایک عظیم دفتر ہوگا۔ ان شاءاللہ
جامعہ عائشہ الصدیقہ رضی اللہ عنہا للبنات سے فارغ التحصیل ہونے والی طالبات اس وقت بالخصوص کراچی، اندرون سندھ اور ملک بھر میں دینی تعلیم و تبلیغ کو عام کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ جو کہ آپ کی خدمات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
شعبہ جات
1۔ مرکز اللغۃ العربیۃ : یہ شعبہ عربی زبان کی تعلیم کےلیے خاص ہے۔ اور یہ دو مراحل پر مشتمل ہے۔
* دو سالہ کورس: یہ مرحلہ ان طالب علموں کےلیے ہے جو عربی زبان سے بالکل واقفیت نہیں رکھتے اور نہ ہی انہوں نے کسی مدرسہ میں پڑھا ہوتا ہے۔
* ایک سالہ کورس: یہ ان طلاب علم کےلیے ہے جو عربی زبان سے کچھ نہ کچھ واقفیت رکھتے ہیں اور انہوں نے میٹرک یا اس کے مساوی تعلیم حاصل کی ہوتی ہے۔
2۔ المعھد العلمی الثانوی:- اس شعبہ میں تعلیم کی مدت چار سال تک ہے۔ اور اس شعبہ میں ان طالب علموں کو داخلہ دیا جاتا ہے جو مرکز اللغۃ العربیۃ سے فارغ ہوچکے ہوتے ہیں یا عربی زبان پر مکمل عبور رکھتے ہیں۔ اس شعبہ کی سند ( ڈگری) سعودی عرب اور کویت کے جامعات میں قبول ہے۔ اور اس کی بنیاد پر ان جامعات میں طالب علموں کو داخلہ دیا جاتا ہے۔
3۔ کلیۃ الحدیث الشریف:- یہ شعبہ حدیث نبوی میں تخصص کا ہے۔ اور اس میں مدت تعلیم تین سال تک ہے۔ اس شعبہ مین ان طالب علموں کو داخلہ دیا جاتا ہے جو کہ جامعہ ھذا یا کسی دوسرے جامعہ سے ثانویہ کی سند حاصل کرچکے ہوں۔
4۔شعبہ تحفیظ القرآن الکریم :- قرآن مجید کو حفظ کرنے والے خوش نصیب بچوں کےلیے یہ شعبہ قیام جامعہ سے ہی قائم ہے۔ پھر اس کو الحرمین کمپلیکس ( سپرہائی وے) پر قیام کے بعد منتقل کردیا گیا تھا اب بھی دوکلاسیں جامعہ میں ہی جاری ہے۔
اساتذہ کرام
جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی میں بڑے بڑے مشائخ عظام و اساتذہ کرام تدریس کرتے رہے اور موجود ہیں۔ ان میں سے بعض کے اسماء گرامی ذکر کیے جاتے ہیں۔ فضیلۃ الشیخ مفتی خلیل الرحمن لکھوی صاحب حفظہ اللہ سابق مدیر التعلیم و بانی المعھد القرآن الکریم گلستان جوہر کراچی، محدث العصر فضیلۃ الشیخ علامہ عبداللہ ناصر رحمانی صاحب حفظہ اللہ امیر جمعیت اہل حدیث سندھ و بانی ورئیس المعھد السلفی للتعلیم والتربیۃ گلستان جوہر کراچی، فضیلۃ الشیخ عطاءاللہ ساجد صاحب حفظہ اللہ، فضیلۃ الشیخ حافظ مسعود عالم صاحب حفظہ اللہ، حافظ محمد شریف صاحب حفظہ اللہ رئیس مرکز التربیۃ فیصل آباد، فضیلۃ الشیخ شبیر احمد نور، فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر نصیر احمد اختر صاحب حفظہ اللہ، فضیلۃ الشیخ عمرفاروق السعیدی صاحب حفظہ اللہ، فضیلۃ الشیخ محمد یونس صدیقی صاحب حفظہ اللہ، قاری عبدالحلیم طور صاحب، فضیلۃ الشیخ سلیمان خان صاحب حفظہ اللہ حال مقیم گوجرانولہ، فضیلۃ الشیخ فضیلۃ الشیخ عبداللطیف رحمۃ اللہ علیہ، فضیلۃ الشیخ محمد داود احمد صاحب حفظہ اللہ، فضیلۃ الشیخ عبدالرحمن چیمہ صاحب حفظہ اللہ لودھراں، فضیلۃ الشیخ حافظ عبداللہ منشا رحمہ اللہ، فضیلۃ الشیخ محمد فاروق قصوری صاحب، فضیلۃ الشیخ ابوخالد المدنی صاحب حفظہ اللہ، فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبدالجواد مصری صاحب، فضیلۃ الشیخ حسام الدین فلسطینی صاحب، فضیلۃ الشیخ ابو محمد السوری صاحب، فضیلۃ الشیخ ابومعاذ المصری، فضیلۃ الشیخ محمد امین سوڈانی صاحب، فضیلۃ الشیخ محمد موسی موساک یوگنڈہ، فضیلۃ الشیخ حسین المصری صاحب، فضیلۃ الشیخ ابو عمر عبدالھادی شامی صاحب، فضیلۃ الشیخ ایمن الدقاق شامی صاحب، فضیلۃ الشیخ بشیر احمد صلاد صاحب صومالی، فضیلۃ الشیخ ضیاءالدین صاحب امریکی، فضیلۃ الشخ محمد امین عزیز صاحب وغیرہ
موجود اساتذہ کرام جو اس وقت جامعہ میں تشنگان علوم نبوت کی علمی پیاس بجھا رہے ہیں ان کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں:
فضیلۃ الشیخ محمد حسین لکھوی صاحب مدیر التعلیم، استاذی مکرم فضیلۃ الشیخ ابوعبدالمجید محمد حسین صاحب حفظہ اللہ، فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر محمد طاہر آصف صاحب، فضیلۃ الدکتور مقبول احمد مکی صاحب، فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فضل الرحمن صاحب، فضیلۃ الشیخ محمد طاہر باغ صاحب، فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار صدیقی صاحب، فضیلۃ الشیخ عبدالجبار صاحب، فضیلۃ الشیخ محمد شریف صاحب، فضیلۃ الشیخ خالد حسین گورایہ صاحب، فضیلۃ الشیخ ظفرالدین بشامی صاحب، فضیلۃ الشیخ محمد طیب صاحب، فضیلۃ الشیخ محمد شاہد نجیب صاحب۔
میدان تبلیغ
شیخ محمد ظفراللہ صاحب نے جہاں پر قرآن و سنت کی تعلیم کو عام کرنے کے لیےتگ و دو کوشش و کاوش کی وہاں پر آپ تبلیغی میدان میں بھی پیچھے نہیں رہے۔ آپ نے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں ایک شعبہ دعوت و تبلیغ بھی قائم کیا تھا اور اس کے ابتدائی ناظم مولانا محمد شریف حصاروی صاحب حفظہ اللہ کو مقرر کیا تھا۔ آپ خود بھی اس فریضہ کےلیے ملک کے طول و عرض میں سفر کیا کرتے تھے۔ اور بالخصوص سندھ کے مختلف گاؤںگوٹھوں میں تشریف لے جایا کرتے تھے اور اپنے ساتھ طلبہ و اساتذہ پر مشتمل وفد بھی لے جاتے تھے۔ اور ان ساتھیوں کو مختلف مساجد میں درس قرآن اور خطبات جمعہ کےلیے ٹھہراتے اور پھر اگلے دن دعوت دین کا یہ قافلہ واپسی کےلیے عازم سفر ہوا کرتا تھا۔
مکتبہ صوت الاسلام
پروفیسر محمد ظفراللہ صاحب بڑے وژنری شخص تھے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ میدان تبلیغ و جہاد میں بھی آپ کی خدمات بہت زیادہ ہیں۔ آپ نے قرآن مجید کو اردو ترجمہ کے ساتھ عوام کو سنانے کےلیے بقیۃ السلف ولی کامل حافظ محمد یحی عزیز میر محمدی صاحب کا انتخاب کیا۔ اور آپ نے ان کا قیمتی وقت لے کر محترم حافظ صاحب کی آواز میں ریکارڈنگ کا انتظام کیا۔ اور اس کےلیے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں باقاعدہ ایک شعبہ « مکتبہ صوت الاسلام» کے نام سے قائم کیا۔ حافظ محمد یحی عزیز میر محمدی صاحب کم و بیش تین سال جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی میں مقیم رہے۔ جہاں مجھ جیسے مبتدی طالب علم کو آپ کی زیارت کرنے اور آپ کے پیچھے نمازیں پڑھنے کا شرف حاصل ہوتا رہا۔ اور وہ نقشہ آج بھی ذہن نشین ہے جس طرح سے محترم حافظ محمد یحی عزیز میر محمدی صاحب چوتھی منزل سے نیچے تشریف لاتے اور وضوء کےلیے پانی کا لوٹا آپ کے ہاتھ میں ہوتا آپ باغیچے کے کونے میں بیٹھ کر وضوء کرتے اور اذان سے قبل ہی مسجد میں پہنچ جاتے۔ اور مجھے یادنہیں کہ حافظ صاحب نے کوئی نصیحت کی ہو اور اس پر عمل نہ ہوا ہو۔ طلبہ آپ ایک ایک نصیحت پر عمل کیا کرتے تھے۔
محترم حافظ محمد یحی عزیز میر محمدی صاحب کی مترنم آواز میں قرآن مجید بمعہ ترجمہ اور سورہ فاتحہ و بقرہ کی تفسیر اور جہاں سے ضروری سمجھا وہاں مختصر تفسیر 45 آڈیو کیسٹوںمیں ریکارڈ کیا گیا۔ اور پھر یہ کیسٹیں ملک کے طول و عرض میں قرآن مجید اور اس کے ترجمہ و تفسیر سے شغف رکھنے والے لوگوں میںتقسیم کی گئیں۔
اعتدال پسندی
شیخ محمد ظفراللہ صاحب اپنے مسلک پر کاربند رہتے ہوئے دیگر مسالک کے لوگوں کے ساتھ رواداری اور اعتدال پسندی کے قائل تھے۔ اور آپ نے اس کےلیے عملی اقدامات بھی کیے اور ملک کے مختلف شہروں میں اس مقصد کےلیے اتحاد امت کانفرنسوں کا انعقاد کیا۔ سب مسالک کے جید اور کبار علماء سے آپ کے اچھے مراسم تھے جس کی وجہ سے سب لوگ آپ کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے۔
سرزمین حرمین سے محبت
پروفیسر محمد ظفراللہ رحمہ اللہ کو سرزمین حرمین شریفین سے بہت زیادہ لگاو تھا۔ آپ بار بار زیارت حرمین کی غرض سے جایا کرتے تھے۔ 1986 میں جب ایران کے حکمران خمینی نے اسے رافضی عزائم کو تکمیل دیتے ہوئے حجاج کرام پر اپنے ایرانی غنڈوں کے ذریعہ سے حملہ کروایا تو آپ بےچین ہوگئے۔ آپ نے خمینی اور روافض کے عزائم کو دنیا کے سامنے آشکار کرنے کےلیے کراچی سمیت ملک بھر میں تقدس حرمین شریفین کانفرنسوں کا انعقاد کیا۔ اسی طرح سے جب 1990 میں عراقی حکمران صدام حسین نے کویت پر غاصبانہ قبضہ کیا اور سعودی عرب کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوگئے تو آپ نے اس وقت بھی ملک بھر میں تحفظ حرمین شریفین کانفرنسوں کا اہتمام کیا۔ اور عوامی رائے کو سعودی عرب کے حق میں ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
امانت و دیانت
شیخ محمد ظفراللہ رحمہ اللہ کی امانت و دیانت مسلمہ تھی۔ ایک ایک روپئے کا حساب رکھا کرتے تھے تاکہ قوم کی یہ امانت ضایع نہ ہو۔ اور جس نے بھی جس مقصد کےلیے تعاون کیا ہے وہ اس جگہ خرچ ہونا چاہیے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ یہ ایسا معاملہ ہے جس سے قوموں کو عروج حاصل ہوتا ہے۔ آپ تو اپنی آمدن کا بیشتر حصہ جامعہ اور طلبہ کی ضروریات پر صرف کردیا کرتے تھے۔
تنظیمی تعلق
شیخ محمد ظفراللہ صاحب کا آغاز سے ہی تعلق برصغیر پاک و ہند کی عظیم جہادی تحریک ’’جماعت مجاہدین ‘‘سے قائم ہوا اور تادم واپسیں اسی سے منسلک رہے۔ کسی اور طرف دیکھنا گوارہ بھی نہ کیا اور اس سلسلہ مبارک کو قائم و دائم رکھا جیسا کہ معروف قلم کار ذہبی دوراں مولانا محمد اسحاق بھٹی صاحب تحریر فرماتے ہیں:
چوہدری محمد ظفراللہ کا تعلق جماعت مجاہدین سے تھا۔ اور یہ وہ جماعت ہے جس کی بنیاد سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید نے رکھی تھی۔ یہی جماعت ان کے نزدیک کتاب و سنت کی داعی تھی اس کی سیاست کو وہ مبنی برصحت قرار دیتے تھے۔ جس منہج حکومت اور طرز امارت کا قیام اس کے سربراہون کے پیش نظر تھا ان کے نقطہ نظر کے مطابق وہی علی منھاج النبوۃ کہلانے کا مستحق تھا۔
نہایت افسوس ہے کہ اس وقت حالات نے ایسا رخ اختیار کرلیا تھا کہ وہ جماعت کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکی لیکن اپنے پیچھے ایسے نقوش و آثار چھوڑ گئی جو لوگوں کےلیے کامل رہنمائی کا باعث ہوسکتے ہیں۔ اور پکار پکار کر کہہ رہے ہیں:فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ
برصغیر کی وہ اولین جماعت تھی جو انتہائی اخلاص کے ساتھ محض اس لیے میدان عمل میں اتری تھی کہ:لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا( کاروان سلف صفحہ 509)
بھٹی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ اس جماعت کی تنظیم اب بھی موجود ہے لیکن وہ لوگ اپنے عمل و سعی کو اخباری کالموںمیں نمایاںکرنے کے خواہاں نہیں وہ جو کچھ کرتے ہیں اس سے مقصود صرف رضائے الہی ہے۔ لوگوں میں اس کا ڈھنڈورا پیٹنے اور اپنی سرگرمیوں کی تشہیر کرنے کی انہیں عادت نہیں امور خیر خاموشی سے سرانجام دینا ان کا طریق عمل ہے۔( کاروان سلف)
بحمداللہ یہی چیز ہمارے ممدوح شیخ محمد ظفراللہ رحمہ اللہ میں پائی جاتی تھی۔ آپ ریاکاری اور نمود و نمائش سے کوسوں دور رہتے تھے اور اپنے عمل کے اجر کے طلب گار صرف رب العالمین سے رہتے تھے۔ جو کہ ہمارے اسلاف کا شیوہ تھا۔
شیخ محمد ظفراللہ صاحب جماعت مجاہدین پاکستان کے نائب امیر تھے لیکن عاجزی و انکساری کی انتہاء اور اطاعت امیر کا جذبہ اس قدر تھا کہ آپ فرمایا کرتے تھے اگر میرے امیر غازی عبدالکریم صاحب مجھے جامعہ سے چلے جانے کا کہہ دیں تو میں اس کےلیے تیار ہوں یا امیر صاحب مجھے جو بھی حکم دیں میں وہ بجا لانے کےلیے ہر وقت مستعد ہوں۔
جماعت مجاہدین کے امراء
سید احمد شہید بالا کوٹ کے مقام پر جام شہادت نوش کیا دور امارت 1807 تا 1831۔مولانا شاہ اسماعیل شہید، سید احمد شہید کی امارت و امامت شہید ہوئے۔
مولانا ولی محمد پھلتی شہید 1831 تا 1840
مولانا سید نصیر الدین دھلوی فروری 1840تا ستمبر 1840
مولانا سید عبدالرحیم شہید ستمبر 1840 تا جون 1841
مولانا عنایت علی 1841 تا 1846
مولانا ولایت علی 1846 تا 1852
مولانا عنایت علی 1852 تا 1858
مولانا نوراللہ 1858 تا 1862
مولانا عبداللہ 1862 تا 1902
مولانا عبدالکریم 1902 تا 1915
مولانا نعمت اللہ شہید 1915 تا 1921
مولانا رحمت اللہ شہید 1921 تا 1921
مولانا فضل الہی وزیرآبادی 1921 تا 1928
مولانا محمد بشیر شہید 1928 تا 1934
مولانا فضل الہی وزیرآبادی 1934 تا 1951
مولانا صوفی عبداللہ 1951 تا 1975
مولانا محمد سلیمان 1975 تا 1983
غازی عبدالکریم 1983 تا فروری 2008
محترم ڈاکٹر محمد راشد رندھاوا صاحب حفظہ اللہ فروری 2008
(تعارف جماعت مجاہدین مرتب پروفیسر چوہدری عبدالحفیظ )
اطاعت امیر
پروفیسر محمد ظفراللہ صاحب اطاعت امیر کے نہ صرف قولی بلکہ عملی طور پر بھی قائل تھے۔ اور آپ کی خواہش کا اظہار آپ کے سفر حرمین کے دوران بھی ہوتا ہے۔ جب آپ حرم کعبہ میں بیٹھے روتے ہوئے دعا کررہے تھےکہ:
یااللہ مجھے امیر کی بھرپور اور مکمل اطاعت کی توفیق عطاء فرما۔
جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی کے کچھ تعمیری کام کی تکمیل کے بعد آپ مولانا محمد سلیمان صاحب ( اس وقت کے) امیر جماعت مجاہدین کی خدمت میںحاضر ہوئے اور عرض کی کہ شیخ صاحب جامعہ ابی بکر الاسلامیہ عنقریب اپنی تعلیمی سرگرمیاں شروع کرنے جارہا ہے حاضری کا مقصد اس بات کی وضاحت کرنا ہے کہ یہ ادارہ جماعت مجاہدین کا ادارہ ہے۔ میں جماعت مجاہدین کے ایک کارکن کی حیثیت سے کام کررہا ہوں اگر آپ پسند فرمائیں اور مجھے اجازت دیں تو میں تعلیم کا باقاعدہ آغاز کرسکوں اور اگر آپ چاہیں تو یہ ذمہ داری کسی اور کو سونپ دیں۔
مگر مولانا محمد سلیمان صاحب نے پروفیسر محمد ظفراللہ صاحب ہی کو جامعہ کی تمام تر انتظامی ذمہ داریاں سرانجام دینے کا حکم دیا۔
ایک دفعہ امیر غازی عبدالکریم صاحب نے فضیلۃ الشیخ محمد ظفراللہ سے فرمایا کہ میں آپ کو جماعت کی نائب امارت سے ہٹانے کا ارادہ رکھتا ہوں آپ کا کیا خیال ہے؟ تو فضیلۃ الشیخ محمد ظفراللہ نے علی وجہ البصیرت فورا امیر کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوئے کہا کہ حضرت الامیر آپ کا حکم ہو تو مین جامعہ اور جماعت کے جملہ معاملات سے سبکدوش ہونے کےلیے تیار ہوں۔ پھر غازی عبدالکریم صاحب نے آپ پر اعتماد کرتے ہوئے دونوں ذمہ داریاں سرانجام دینے کا پابند کردیا۔ آپ کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے غازی عبدالکریم صاحب نےآپ کی شہادت کے بعد پروفیسر چوہدری عبدالحفیظ ( رحمۃ اللہ علیہ ) کو جامعہ کا مدیر اور محترم ڈاکٹر راشد رندھاوا صاحب حفظہ اللہ کو جماعت کا نائب امیر بنایا۔ ان کے اس دور اندیش فیصلے کے جماعت اور جامعہ پر مثبت اثرات مرتب ہوئے۔
جہاد میں حصہ
شیخ پروفیسر محمد ظفراللہ جہاں پر تعلیمی و تبلیغی میدان میں نمایان نظر آتے ہیں وہاں پر میدان جہاد سے بھی پیچھے نہیں رہے۔ آپ جہاد افغانستان و کشمیر میں بھی سرفہرست نظر آتے ہیں۔ سرزمین افغانستان پر جب سرخ ریچھ نے پنجے گاڑے تو مجاہدین نے اس کا مقابلہ کیا اور اس کو افغانستان سے نکل جانے پر مجبور کردیا تو اس میدان میں جہاں دیگر تنظیموں نے کام کیا وہاں پر پروفیسر محمد ظفراللہ اور آپ کی جماعت، جماعت مجاہدین نے اپنا معسکر قائم کیا اور اسلحہ کے ڈپو بنائے جہاں سے مجاہدین کو مسلح کرکے دشمن کے خلاف میدان جہاد میں بھیجا جاتا تھا۔ اسی طرح سے کشمیری مجاہدین سے بھی تعاون میں شیخ محمد ظفراللہ سرفہرست تھے۔ الغرض آپ نے ملکی و غیرملکی اصحاب خیر اور اپنی جیب خاص سے کروڑوں روپے کا تعاون کرکے جہاد میں حصہ لیا۔
شعبہ تصنیف و تالیف
شیخ محمد ظفراللہ نے قرآن و سنت کی تعلیم و تبلیغ کو عام کرنے کےلیے جامعہ میں تصنیف و تالیف کا شعبہ بھی قائم کیا جہاں سے کئی کتب شائع کی گئیں۔ جن میں سے کتاب التوحید کی طباعت و تقسیم سرفہرست ہے۔
طلبہ سے محبت
شیخ محمد ظفراللہ دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ سے خصوصی محبت کیا کرتے تھے۔ آپ جامعہ کے طلبہ کےلیے آسمان کے تارے توڑ لانے کے جذبات رکھتے تھے۔ اور ان طلبہ کے راحت و آرام کا بڑا خیال رکھا کرتے تھے۔ اور طلبہ کو نماز میں صف اول میں شامل ہوتے دیکھ کر بڑے مسرور ہوا کرتے تھے۔ ایک دفعہ شیخ مرحوم فجر کی نماز میں تشریف لائے تو آپ کو آخری صف کے کونے میں جگہ ملی آپ یہ دیکھ کر کہ تقریبا تمام طلبہ ہی پہلی رکعت میں شامل ہیں بڑے خوش ہوئے اور آگے تشریف لاکر اعلان فرمایا کہ آج طلبہ کےلیے خصوصی کھانا بنوایا جائے گا اور فروٹ کا انتظام بھی کیا جائے گا۔ پھر شیخ مرحوم نے اپنی نگرانی میں بڑا عمدہ کھانا بنوایا اور فروٹ بھی منگوایا جسے بعد از نماز ظہر اساتذہ کرام کے ساتھ ملکر اپنے ہاتھوں سے طلبہ کو کھانا اور فروٹ کھلایا۔ جزاہ اللہ خیرا
مجلہ کی تمنا
یہ بات غالبا 1993 کی ہے ہم جامعہ الاحسان الاسلامیہ کراچی کی آخری کلاس کے طلبہ تھے۔ یہ ادارہ استاذی مکرم شیخ محمد سلیمان خان صاحب حفظہ اللہ ( متخرج جامعہ ابی بکرالاسلامیہ کراچی ) اور استاذ العلماء مفتی محمد یوسف قصوری صاحب دامت برکاتھم العالیہ امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث سندھ نے اپنے رفقاء کرام الحاج منشی عبدالکریم رحمۃ اللہ علیہ اور چوہدی محمد اقبال جٹ صاحب وغیرہ کے تعاون سے قائم کیا تھا۔ شیخ محمد سلیمان خان صاحب کا پروفیسر محمد ظفراللہ رحمہ اللہ سے گہرا اور قلبی تعلق تھا آپ گاہے بگاہے جامعہ الاحسان الاسلامیہ تشریف لایا کرتے تھے اور طلبہ و اساتذہ کو قیمتی نصیحتوں سے نوازا کرتے تھے۔ ایک دن جماعتی امور پر گفتگو کرتے ہوئے فرمانے لگے کہ جماعت کا ایک رسالہ ’’رحیق‘‘ ہوا کرتا تھا میرا جی چاہتا ہے کہ ایک مجلہ جاری کیا جائے اور اس کا نام ’’رحیق ‘‘رکھا جائے۔
شیخ محمد ظفراللہ صاحب اپنی بےپناہ مصروفیات کی بناء پر اپنی حیات مستعار میں یہ کام نہ کرسکے لیکن آپ کی وفات کے بعد اکتوبر 2004 میں محترم ڈاکٹر مقبول احمد مکی صاحب حفظہ اللہ نے جامعہ کے تحت اور تعاون سے ’’مجلہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ ‘‘کے نام سے جاری کیا جس کا نام بعد ازاں ’’مجلہ اسوہ حسنہ ‘‘رکھ دیا گیا۔ بحمداللہ یہ مجلہ چودہ سال سے جاری ہے اور قارئین کرام بڑے ذوق و شوق سے اس کا مطالعہ کرتے اور اس سے مستفید ہوتے ہیں۔ مجلہ کے مضامین بڑے جاندار اور علمی ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی مجلہ کے ناشرین و معاونین کو جزائے خیر عطاء فرمائے۔ آمین
بیرون ممالک کا آخری دورہ
پروفیسر محمد ظفراللہ صاحب مصر میں ’’رابطۃ جامعات الاسلامیۃ ‘‘کے اجلاس میں شرکت کےلیے تشریف لے گئے واپسی پر کویت اور سعودی عرب بھی گئے۔ جب وطن واپس تشریف لائے تو بڑے خوش تھے اور فرما رہے تھے کہ اس سفر میں اپنے پرانے دوست و احباب جن سے ایک عرصہ سے نہیں مل سکا تھا ان سے بھی مل کر آیا ہوں اور سپرہائی وے پر مجوزہ یونیورسٹی کے قیام کےلیے ساتھیوں نے تعاون کا وعدہ بھی کیا ہے۔ لہذا یہ منصوبہ بہت جلد شروع کیا جائے گا۔
جماعتی اتحاد
شیخ محمد ظفراللہ اہل حدیث تنظیموں میں اتحاد کے خواہش مند تھے۔ اور آپ چاہتے تھے کہ یہ عظیم بکھری ہوئی قوت مل کر ایک ہوجائے تاکہ توحید و سنت کی آبیاری کا کام تیز رفتاری سے سرانجام دیا جاسکے۔ آپ نے اس اتحاد کےلیے عملی طور پر بھی کوششیں کیں۔ کراچی کی سطح پر ’’اہل حدیث سپریم کونسل ‘‘ کا قیام بھی آپ ہی کا مرہون منت ہے۔ اسی طرح سے آپ کی یہ خواہش بھی رہی کہ جماعت اہل حدیث کا اپنا وسیع بیت المال ہونا چاہیے۔ جہاں سے نادار، غرباء، مساکین، بیواوں اور مستحقین کو ان کا حق صحیح طور پر مل سکے۔ بےروزگار اور مجبور انسانیت کی دل کھول کر مدد ہوسکے۔
زندگی کا آخری سفر
آخر کار وہ وقت بھی آن پہنچا جس سے کسی کو مفر نہیں۔ آپ 30 جون 1997 کو پنجاب سے کراچی کےلیے تشریف لارہے تھے آپ کے ساتھ گاڑی میں آپ کے دو بیٹے ابوبکر اور عمیر، جوان سالہ بھانجا سعید عالم اور آپ کی خالہ تھیں۔ جب آپ کوٹ سمابہ نزد رحیم یار خان پہنچے تو آپ کی گاڑی کو حادثہ پیش آگیا جس سے آپ سمیت گاڑی میں سوار تمام افراد اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون
آپ کی وفات کی خبر کراچی پہنچی جہاں سے یہ خبر ملک بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ آپ کے رفقاء اور تلامذہ جس نے بھی یہ خبر سنی وہ سکتے میں آگیا اور ہر کوئی یہ خبر سنتے ہی دعائیہ کلمات ادا کرنے لگا۔
آپ دین اور دین پسند لوگوں سے بہت زیادہ محبت کیا کرتے تھے۔ آپ سے ملنے والا ہر شخص یہی تصور کیا کرتا تھا کہ شاید شیخ صاحب مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ آپ ہمیشہ جامعہ کی ترقی کےلیے کوشاں رہے۔
یکم جولائی 1997 کو جب آپ اور آپ کے بیٹوں اور بھانجے کی میتیں آپ کے گھر واقع ماڈل کالونی کراچی لائی گئیں تو کوئی بھی آنکھ ایسی نہ تھی جو اشک بار نہ ہو اور کوئی بھی انسان ایسا نہ تھا جو غمگین نہ ہو۔ جب یہ میتیں قریبی گراونڈ میں نماز جنازہ کےلیے لائی گئیں تو آپ کی ہر دلعزیزی کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ آپ کی نماز جنازہ کےلیے بلاتفریق مسلک ہزاروں لوگوں کا ہجوم پرنم آنکھیں لیے اور وفور جذبات میں غم کی تصویر بنا ہوا تھا اور دل و زبان سے اٹھتی ہوئی آہوں، سسکیوں اور دعاوں کا منظر دیدنی تھا۔ حماعت کے مشہور و معروف عالم دین بقیۃ السلف استاذالعلماء حافظ مسعود عالم صاحب حفظہ اللہ نے بڑے رقت آمیز انداز نماز جنازہ پڑھائی۔ آپ کے جنازہ میں ایک بڑی تعداد علماء و مشائخ کے علاوہ ملک بھر سے آئے ہوئے ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی۔ اور دل کی اتھاہ گہرائیوں سے دعائیں کیں۔
بعدازاں آپ کو آپ کے دو بیٹوں ابوبکر و عمیر اور بھانجے سعیدعالم کے ہمراہ ماڈل کالونی کے قبرستان میں سپرد خاک کردیاگیا۔
آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…