میٹھے تھے جن کے پھل، وہ شجر کٹ کٹا گئے!

فضیلۃ الشیخ الرجل الإلٰهي جناب مولانا حافظ عبدالعزیز علوی صاحب رحمہ اللہ کا جنازہ چند ہی دن پہلے پڑھا ہے۔ ان سے پہلے مسند تفسیر و حدیث پر چہکتے حضرت مولانا حافظ محمد بن عبدالسلام بھٹوی رحمہ اللہ یکایک خاموش ہوگئے اور برادرِ مکرم جناب مولانا محمد یونس بٹ رحمہ اللہ کا غم بھولتا نہیں کہ 2024ء کا سورج غروب ہونے کو آیا، 26 دسمبر کی رات جب سب لوگ سونے کی تیاری میں تھے تو أَخ فی اللہ برادرم جناب مولانا عطاء اللہ ساجد بھی اپنے رب کو لبیک کہتے ہوئے، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سو گئے اور ساتھ ہی نقیبِ جہاد جناب عبدالرحمٰن مکی بھی راہی ملکِ عدم ہوگئے ۔رحمہما اللہ

جانا تو ہر ایک کو ہے، مگر اہلِ اللہ اور ربّانی علماء کے جانے سے یہ دھرتی سُونی ہوئی جاتی ہے۔ ولا نقول إلا ما یُرضِی رَبَّنَا ……. إنا لِلہ وإنا إلیه راجعون۔ سچ فرمایا رسول اللہﷺ نے کہ علماء کے اٹھنے سے علم اٹھتا ہے۔ ولا نشتکی إلّا إلٰی اللہ تبارك وتعالیٰ۔ اللہ تعالیٰ ان سب کی حسنات قبول فرمائے اور بشری لغزشیں معاف فرما دے۔ آمین!

فضیلۃ الشیخ المرحوم جناب عطاء اللہ ساجد صاحب کے ساتھ شناسائی اس وقت ہوئی جب میں 1974-75ء میں جامعہ سلفیہ میں آخری سال میں داخل ہوا۔

حضرت الاستاذ جناب مولانا محمد صدیق شیخ الحدیث تھے اور جناب مولانا عبیدالرحمٰن مدنی صاحب مدیرالتعلیم۔ میں جناب منیر قمر سیالکوٹی حفظہ اللہ، مولانا بنیامین چھتوی رحمہ اللہ اور محمد اشرف جاویدحفظہ اللہ کا ساتھی بنا تھا۔ تو ہمارے ممدوح مولانا عطاء اللہ ساجد صاحب رحمہ اللہ پچھلے ہی سال فارغ التحصیل ہو کر دفتر جامعہ میں مشغول کیے گئے تھے۔ اس طرح ان سے شناسائی ہوئی۔ مگر قربت بلکہ رشتہ داری بعد کا مرحلہ ہے، پھر وہ جامعہ اسلامیہ مدینہ پہنچے اور میں ان سے اگلے سال غالباً 1978ء میں جامعہ اسلامیہ پہنچا تو قدیمی احباب جناب حافظ عبدالستار حماد، حافظ عبدالغفار اعوان اور مولانا داؤد فہیم نے اپنے دستر خوان کا ساتھی بنا لیا۔ ان میں جناب عطاء اللہ ساجد رحمہ اللہ بھی تھے۔ سب ہی مل جل کر اپنی خدمت آپ کرتے تھے اور جناب ساجد صاحب انتہائی متعاون تھے۔ کسی بھی خدمت سے انھیں عار نہ تھی۔ بڑے متواضع، منکسر المزاج اور خوش طبع تھے۔ ہمارا یہ مجموعہ مسجد نبوی کے قریب شارع الحرّة الشرقیة پر عمارہ السبیعي میں مقیم تھا۔ جامعہ اور مسجد نبوی آنے جانے میں اکثر ان کا ساتھ رہتا تھا۔

کلاس میں کلیۃ الحدیث میں انھیں جناب خلیل الرحمٰن لکھوی حفظہ اللہ (حال مدیر معہدالقرآن کراچی) کے ساتھ خاص مناسبت اور قربت تھی۔ ان کے بیان مطابق ان کی جمع پونجی انھی کے پاس ہوتی تھی اور ضروریات انھی کے ذریعے حاصل کرتے تھے، بالخصوص پاکستان آتے ہوئے تحائف وغیرہ خریدنے کے لیے انھی کی خدمات لیتے تھے۔ 1980ء میں فراغت ہوئی۔ تو شیخ خلیل الرحمٰن لکھوی نے ان سے پوچھا کہ آئندہ کا کیا پروگرام ہے؟ کہا کہ بس …… جہاں آپ جائیں تو مجھے بھی ساتھ لے چلیں، پھر شیخ خلیل الرحمٰن صاحب اور دیگر تو بطور مبعوث منتخب کر لیے گئے۔ مگر شیخ ساجد صاحب کا نام منتخب نہ ہو سکا۔ تو وہ انھیں شیخ ظفراللہ صاحب مرحوم (مدیر جامعہ ابی بکر) کی تائید سے اپنے ساتھ جامعہ ابی بکر میں لے آئے۔

شیخ خلیل الرحمٰن لکھوی صاحب حفظہ اللہ کراچی پہنچنے کا واقعہ بڑے دلچسپ انداز میں بیان کرتے ہیں کہ ہم چار ساتھی (بشمول ساجد صاحب) اپنی تیاری کر کے مکہ پہنچے۔ عمرہ کیا۔ ساجد صاحب کے 900 ریال اور ساتھیوں کے سفری لیٹر وغیرہ میرے دستی بیگ میں تھے۔ عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد بیگ تکیہ بنا کر میں حرم میں لیٹ گیا۔ نیند غالب آگئی۔ اچانک آنکھ کھلی تو بیگ غائب تھا۔ إنا للہ وإنا إلیه راجعون۔ مکتب شُرطہ حرم نے شکایت درج کرنے سے انکار کر دیا۔ سب پریشان حال …………. میرے دادا جان کے ایک شاگردِ خاص جو لکھوکے میں پڑھتے رہے تھے اور میرے والد ماجد مولانا حبیب الرحمٰن لکھوی رحمہ اللہ کے ہم سبق تھے، ان کا نام بھی عطاء اللہ تھا۔ پاکستان بننے سے پہلے ہجرت کر کے سعودیہ منتقل ہو گئے تھے۔ حنّاکیہ میں مقیم تھے۔ اور بطور داعیہ متجوّل دعوت و تبلیغ کا کام کرتے تھے، کبھی کبھی مدینہ منورہ میں ملنے آتے۔ بڑی محبت اور شفقت فرماتے کہ میرے استاذ محترم کا پوتا اور ہم سبق کا بیٹا ہے۔ انھیں میرے بیگ کے گم ہونے کا پتا چلا تو مجھے تلاش کرتے رہے، مگر ملاقات نہ ہو سکی۔

تاہم کسی کو 900 ریال دے کر چلے گئے کہ خلیل الرحمٰن صاحب کو دے دینا۔ جزاہ اللہ خیراً۔ میں نے وہ 900 ریال محترم ساجد صاحب کے حوالے کر دیے، مگر اصل پریشانی جوں کی توں رہی۔ یعنی پاسپورٹ اور ورقۃ السفر وغیرہ بیگ میں تھا۔ سبھی دعائیں کر رہے تھے۔ آخر اللہ کریم نے سُن لیں۔ ہوا یوں کہ ایک دن عصر کی نماز میں امام حرم جناب شیخ ابن السُبیّل رحمہ اللہ میرے ساتھ عام صف میں کھڑے تھے۔ سلام پھیرنے کے فوراً بعد میں نے انھیں سلام کہتے ہوئے مصافحہ کیا۔ اور اپنا ماجرا سنایا۔ انھوں نے سن کر فرمایا کہ آؤ میرے ساتھ۔ اپنی گاڑی میں اپنے دفتر میں لے گئے۔ قہوہ پلایا اور کھجوریں بھی کھلائیں۔ اپنے سیکرٹری سے کہا: اندر جو بیگ ہے لے کر آئیں۔ وہ لے آئے۔ میرا ہی بیگ تھا۔ الحمدللہ۔ امام صاحب نے دریافت فرمایا: سامان پورا ہے؟ میں نے جواباً عرض کیا۔ جی ہاں! سوائے نو سو ریال کے۔ تو انھوں نے مجھے فوراً ہزار ریال عنایت فرما دیے اور دعاؤں کا تحفہ مزید در مزید تھا۔ سب ساتھی سجدہ شکر بجا لائے۔ میں نے وہ ہزار ریال تین حصوں میں برابر بانٹ دیے۔ الحمد للہ.

یہاں جامعہ ابی بکر میں آ کر ان کی تنخواہ سولہ سو روپے مقرر ہوئی، پھر تین ہزار ہوئی۔ اس کے بعد وہ بھی مبعوث ہو گئے تھے۔ اللہ کریم نے ہمارے ممدوح کو کتب دراسیہ میں بڑا رسوخ عنایت فرمایا تھا۔ تدریسی اوقات کے علاوہ بھی طلبہ ان سے خوب خوب استفادہ کرتے تھے۔

میرے خالہ زاد جناب پروفیسر یوسف ضیاء صاحب ان کا تذکرہ بڑے پیار سے کرتے ہیں کہ میں نے ان سے بلوغ المرام، علم الصیغہ اور کافیہ وغیرہ کتابیں پڑھیں اور کہتے ہیں کہ ان آخری دنوں میں بلوغ المرام کا درس دینے کے لیے جب کتاب کھولتا ہوں تو جناب شیخ بڑی شدت سے یاد آ رہے ہیں۔

ضیاء صاحب کا بیان ہے جامعہ ابی بکر میں مجھے ان سے بڑی قربت رہی۔ آپ کی چیک بُک تک میرے پاس ہوتی تھی۔ بنک میں رقم جمع کرانی، لے کر آنی۔ گھر میں منی آرڈر کرنا میری ذمہ داری ہوتی تھی۔ 1991ء تک جب تک کہ میں جامعہ میں رہا یہ خدمت سرانجام دیتا رہا۔

شیخ کو بازار گردی اور اس طرح کے دیگر اشغال سے مناسبت نہ تھی حتی کہ اکاؤنٹ کھلوانے خود بنک میں جانے کے لیے تیار نہ ہوئے، میں نے بنک کے اہل کار سے منت سماجت کر کے فارم حاصل کیے، آپ کے دستخط کروائے اور اکاؤنٹ کھلوایا۔

بیان کرتے ہیں کہ دورانِ سبق مجھے اُونگھ آجاتی تھی تو بڑے پیار سے متنبہ کرتے کہ ’’یا یوسفُ! أَعرِضْ عن ھٰذَا!‘‘

راقم الحروف 1987ء میں جامعہ میں حاضر ہوا اور پھر مدیر امتحانات بنا دیا گیا تو جناب ساجد صاحب رحمہ اللہ میرے معاون خصوصی تھے۔ انتہائی بے نفس اور محنتی۔ ہم نے ادارۃ الامتحان میں خوب خوب کام کیا۔ طلبہ کی متعدد لسٹیں بنتی تھیں۔ اپنے حصے کا کام مکمل کر کے مجھے فرماتے کہ ذرا مجھے دکھائیں اور میرےحصے کا کام بھی کر دیتے اور کبھی کام باقی ہوتا اور طے کیا جاتا کہ باقی کل کریں گے تو اگلے دن دفتر کھولتے اور کام شروع کرتے، تو بتاتے کہ فلاں کام اور فلاں فائل تو میں نے رات ہی مکمل کر دی تھی۔۔رحمہ اللہ …….. بہت خوبیاں تھیں مرنے والے میں!

شیخ نے اپنی تنخواہ میں سے تھوڑا تھوڑا پس انداز کر کے اپنے والد گرامی جناب محمد شفیع صاحب مرحوم کو حج بھی کروایا۔ جو انھوں نے مولانا محمد عائش اور چوہدری ہدایت اللہ صاحب رحمہما اللہ(برادرِ شیخ ظفراللہ)کی معیت میں کیا۔ اس پر ان کی فرحت و شادمانی دیدنی تھی۔

مجھے ان بزرگوار سے بھی شرف ملاقات حاصل ہے۔ بڑے کم گو اور صالح طبیعت کے مالک تھے۔ ان کی وفات بھی اِنْ شاء اللہ شہادت کی موت تھی کہ ایک صبح تہجد کے لیے بیدار ہوئے، مسجد پہنچے، غسل خانے کا آہنی دروازہ کھولنے لگے تو بڑا شدید کرنٹ لگا اور اچانک ہی اپنے مالک کے دربار میں حاضر ہو گئے۔ ان کے بعد ایک اور صاحب آئے اور ان کے ساتھ بھی ایسے ہی ہوا۔ رحمہم اللہ۔ شیخ کے چھوٹے بھائی جناب عبدالمنان صاحب پیدائشی معذور ہیں ویل چیئر پر ہی ان کا آنا جانا ہوتا ہے۔ جب تک والدہ حیات تھیں اپنی ہمت سے بڑھ کر خدمت کرتی رہیں۔ ان کے بعد شیخ مرحوم نے یہ ذمہ داری نبھائی اور اب وہ بڑے ہی اُداس ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی ساری ہی مخلوق کا ربّ ہے اور اپنی حکمتیں وہ خود ہی بہتر جانتا ہے۔ اللہ کریم اس بھائی کی بھی مدد فرمائے اور اپنا ہی محتاج رکھے۔

کراچی میں ہمیں رہائش کے لیے ماڈل کالونی کی دارالسلام بلڈنگ میں ہمسائیگی کا شرف حاصل رہا۔ اس طرح گھروں میں آنا جانا اور قربت بڑھی اور یہ اپنائیت ہمیں آپس میں سمدھی بنا گئی کہ ان کی دوسری لخت جگر میرے گھر کی رونق بنی اور عزیزی عمار فاروق ان کا داماد ٹھہرا۔ اللہ کریم مزید خیرات و برکات سے نوازے۔

شیخ کی حِس مزاح بڑی عمدہ تھی ہلکے پھلکے انداز میں مزے کی باتیں کر جاتے تھے۔ ہمارے نوخیز علماء کے بعض اجتہادات محل نظر بھی ہوتے ہیں۔ فرماتے کہ ہم نے تو انھیں کہا تھا کہ ’’مقلدین کی سی تقلید نہ کیا کریں مگر یہ کہتے ہیں کہ ’’ہماری کریں!‘‘

ماڈل کالونی کی مسجد الفاروق میں مغرب کا درس قرآن ایک علمی حلقہ تھا اور شیخ اس کی روح رواں تھے وہ احباب اب تک محبت سے یاد کرتے ہیں۔

شیخ کو کتب دراسیہ کے علاوہ عربی، اردو اور فارسی ادب سے گہرا لگاؤ تھا اور حافظ مسعود عالم صاحب حفظہ اللہ نے آپ کو ’’شیخ الکل فی الکل‘‘ کا لقب دیا ہے۔ میں نے نواب صدیق حسن خان کے فارسی رسالہ ’’المقالة الفصیحة‘‘ کے ترجمہ میں ان سے بہت استفادہ کیا۔ تقابل ادیان میں عیسائیت پر بالخصوص آپ کی بڑی گہری نظر تھی۔ بائبل کا عربی نسخہ ان کی نظر میں رہتا تھا۔

دارالسلام نے جب کتب احادیث کے ترجمہ کا پروگرام بنایا تو ان کی ایک تحریر مولانا عبدالجبار صاحب المحترم حفظہ اللہ رفیق دارالسلام کی نظر سے گزری۔ فوراً بھانپ گئے اور پھر سنن ابن ماجہ کا ترجمہ و فوائد انھی کے شُستہ قلم کا نمونہ ہے۔ اس کے علاوہ فتاویٰ، قصص الانبیاء اور الطب النبوی بھی ترجمہ کیں۔ منہاج المسلم اور زاد المعاد کا بھی ترجمہ کیا۔ معلوم نہیں مکمل ہو سکا یا نہیں۔

میں نے اندازہ لگایا کہ تحریر میں بڑے بااعتماد اور پُرکشش تھے۔ میری طرح بار بار لکھنے کے تکلف میں نہ پڑتے تھے ؎

ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے

کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور

آخر عمر میں گردے میں پتھری کے علاوہ نظر کا عارضہ بھی رہا، مگر ان امور کا خواہ مخواہ ذکر کرتے رہنا عادت نہ تھی۔ اہلِ خانہ، بیٹے اور متعلقین اصرار سے دریافت کرتے تو بتاتے تھے اور پھر ان کی توجہ اور اصرار سے ہی آنکھ کا آپریشن کروایا۔ آخری مہینوں میں گردے کے آپریشن کا مشکل ترین مرحلہ بھی اللہ کریم نے آسان فرمایا دیا اور بڑے اعتماد سے جامعہ علوم اسلامیہ میں حاضر ہوتے رہے۔ اور مولانا عبدالسمیع حفظہ اللہ نے گواہی دی کہ شیخ محترم اپنے وقت کے بڑے پابند اور محافظ تھے۔ اور طلبہ کو اضافی وقت دینے میں خوشی محسوس کرتے تھے اور کہتے تھے کہ شاید یہ ہمارے حق الخدمت لینے کا کفارہ بن جائے۔ انھوں نے ذکر کیا کہ میرے مطب میں آتے تو محسوس کیا کہ میری وجہ سے دیگر مریضوں اور ضرورت مندوں کی حق تلفی ہوتی ہے اور جامعہ میں طلبہ میں مشغول ہونے کی وجہ سے طلبہ کا حرج ہوتا ہے اور وقت نہ ملا تو ایک پرچہ پر اپنا مسئلہ لکھ کر رہنمائی حاصل کی۔

ہمارے ممدوح علماء و طلبہ کا مرجع تھے۔ قریب و دور کے علماء آپ سے ملنے کے لیے تشریف لاتے رہتے تھے۔ کراچی سے ہمارے ساتھی جناب مولانا محمد یونس صدیقی صاحب حفظہ اللہ اور بھائی پروفیسر سعید مجتبیٰ سعیدی صاحب منکیرہ (ضلع بھکر) سے بالخصوص ان کی ملاقاتیں اس الفت و محبت کا مظہر ہیں اور جنازے میں بڑی دور دور سے علماء اور طلبہ شریک ہوئے۔

نماز جنازہ جمعہ کے روز عصر کے بعد طے ہوئی۔ اس موقع پر سردی کے علاوہ بارش بھی ہو گئی۔ ایک عزیز نے بتایا کہ یہ گھرانا عجیب ہے کہ ان بزرگوں کی وفات پر بالعموم بارش ہوتے دیکھی گئی ہے۔ جنازے كے لیے اپنے ایك محب اور صالح نوجوان شاگرد جناب شفیق الرحمٰن فرخ صاحب رحمہ اللہ (پھولنگر) کے بارے میں وصیت لکھی تھی کہ وہ ان کے منہ بولے بیٹے تھے۔ مگر عجیب اتفاق کہ وہ تو خود دو سال پہلے وفات پا گئے تھے۔ إنا للہ وإنا إلیه راجعون، پھر جناب مولانا عبدالسمیع حفظہ اللہ کے بارے میں کہا تھا۔ تو انھوں نے جنازہ پڑھایا۔

آنجناب کی رحلت سے مجھے تعلق داری میں خلا آنے کے علاوہ علمی تعاون میں کمی کا بڑی شدت سے احساس ہوا ہے۔ اہل اللہ اور علماء ہیں کہ بڑی تیزی سے روانہ ہوتے جا رہے ہیں اور رخصت ہونے والوں کی جگہ پُر نہیں ہو رہی۔ رہے نام اللہ کا! اور حسرت سے میری زبان پکار رہی ہے ؎

نالۂ من برسانید بمرغانِ چمن

کہ ہم آوازِ شُما در قفص افتادہ ایست

’’باغِ (جنت) کے پرندوں تک میری آواز بھی پہنچا دو کہ تمھارا ایک ہم آواز ابھی تک پنجرے میں پڑا ہے۔‘‘

شیخ ساجد صاحب مرحوم کے شخصی احوال تذکرۂ علمائے اہل حدیث جلد سوم (مرتبہ جناب پروفیسر محمد یوسف سجاد) میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

الشيخ عمر فاروق السعيدي

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago