ان سطور کےعاجز راقم کے پیش نگاہ حضرت الاستاذ رحمہ اللہ کا اپنا تحریر کردہ خود نوشت، بعنوان: ’’آئینہ ایام‘‘ہے، جو کہ جماعت کے مؤقر رسالہ ’’ہفت روزہ الاعتصام‘‘ لاہور (جلد نمبر:74، شمارہ:46، 47-2022ء) میں شائع ہواتھا، حضرت الاستاذ کی سوانح عمری کو حیطہ تحریر میں لانے کےلیے اس خود نوشت سے استفادہ کیا گیا ہے کچھ معلومات ان کے صاحبزادے برادرم محمد زید فردوسی صاحب سے حاصل کی گئی ہیں جسے مرتب کرکے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہاہے۔
موت اٹل حقیقت ہے جس سے کسی کو انکاراورفرار نہیں مگر علما کی موت عظیم سانحہ اورالم ناک حادثہ ہے جس کی تکلیف مدت تک محسوس ہوتی ہے۔ ایسے علما میں سے ہی ایک ہمارے حضرت الاستاذ مولانا عبدالمجیدفردوسی مرحوم تھے جن کی جدائی کا صدمہ تازہ تازہ ہے۔استاذ مرحوم کے احوال ِزیست، حوالۂ قرطاس ہیں تاکہ ان کی یاد تازہ اور تابندہ رہے ۔؎
مرنے والا عزیز مر کر بھی زندہ رہتا ہے نیک یادوں سے
مذکورہ بالا پیرا گراف استاذجی مرحوم کے ایک مضمون سے- جو انھوں نے مولانا خلیل احمد مرحوم کی وفات کے موقع پر ماہنامہ محدث لاہور کےلیے لکھا تھا- لیا گیا ہے۔
ولادت:
مولانا عبدالمجید فردوسی رحمہ اللہ یکم مارچ 1948ء کو ضلع فیصل آباد کی تحصیل سمندری کے نواح میں واقع ایک گاؤں چک نمبر177گ ب ماڑی اٹاری میں محترم محمد یوسف صاحب کے گھر پیدا ہوئے۔
ابتدائی تعلیم:
پرائمری تک ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی ۔ گاؤں کی مسجد کے امام وخطیب مولانا شیر محمد انبالوی رحمہ اللہ (م 1997ء) سےناظرہ قرآن، ابتدائی ترجمہ پڑھا اور مسنون دعائیں یاد کیں۔
دارالعلوم تعلیم الاسلام اوڈانوالہ میں داخلہ:
حضرت صوفی محمد عبداللہ رحمہ اللہ(م 1975ء) اور ان کے رفقاء کی مدرسہ کےلیے فراہمی زر کے حوالے سے ان کے گاؤں آمد ورفت رہتی تھی، ایک مرتبہ ان کی والدہ محترمہ کی خواہش پر حضرت صوفی صاحب رحمہ اللہ اور ان کے رفقا کی دعوت ان کے گھر رکھی گئی، حضرت صوفی صاحب سے خیر وبرکت کی دعا کروائی گئی، والد محترمہ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر حضرت صوفی صاحب کو تھما دیا کہ یہ آپ کا بیٹاہے اسے مدرسہ میں داخل کرلیجیے۔حضرت صوفی صاحب رحمہ اللہ نے حسب معمول چوما شفقت فرمائی اور اسکول سے فارغ ہوکر اوڈانوالہ مدرسہ بھیجنے کا حکم فرمایا۔اس طرح 1961ء میں ان کا داخلہ اوڈانوالہ کے مدرسہ میں ہوا، اور درس نظامی کا چھے سالہ کورس مکمل کیا۔ اس دارالعلوم میں جن اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا وہ یہ ہیں:
اساتذہ کرام:
1۔ حضرت مولانا عبدالرشید اٹاروی رحمه اللہ (م: اکتوبر2011ء)ان سے درجہ اولیٰ اور ثانیہ کے اسباق پڑھے۔
2۔ حضرت مولانا ڈاکٹر اسماعیل گورایہ رحمه اللہ(م: جولائی 2024ء)، ان سے درجہ ثالثہ کے اسباق پڑھے۔
3۔ حضرت مولانا عبدالرشید راشد ہزاوی رحمه اللہ(م: مئی 2020ء)ان سے درجہ رابعہ میں سنن نسائی، مشکوٰۃ جلد ثانی، الفیہ ابن مالک، شرح نخبہ الفکر، دیوان حماسہ، تلخیص المفتاح وغیرہ کتب پڑھیں۔
4۔ شیخ الادب والتاريخ حضرت مولانا عبدالصمد رؤف رحمه اللہ(م: 2005ء)ان سے درجہ خامسہ میں صحیح مسلم، موطا امام مالک، تاریخ ادب عربی، دیوان متنبی، الکامل للمبرد، محاضرات بنو عباس، اور محیط الدائرہ 1966ء میں پڑھیں۔
5۔ شیخ التفسیر والحديث حضرت مولانا محمد یعقوب ملہوی رحمه اللہ(م: 1981ء)ان سے تفسیر بیضاوی، تفسیر جامع البیان صحیح بخاری، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، ہدایہ، مختصر القدوری، اور دیگر مطول کتب پڑھیں۔فراغت: 1967ء میں فراغت کے موقع پر حضرت مولانا محمد اسحاق حسینوی رحمه اللہ(م: 2003ء) نے زبانی امتحان لیا، کلاس میں اول آنے پر ادارے کی جانب سے کچھ کتب بطور انعام ملیں اور حضرت صوفی صاحب رحمه اللہ نے نماز جمعہ کے بعد دستار بندی فرمائی اورحسبِ معمول دعاؤں سے خوب نوازا۔
ہم درس علمائے کرام:
استاذ محترم رحمہ اللہ کے ہم درس علمائے کرام کے نام درج ذیل ہیں: مولانا محمد منیر شیخوپوری، مولانا رفیع الدین اٹاروی رحمہ اللہ (م 2002ء)، مولانا عبدالرحمن بن اللہ دتہ ذہبی کٹوی، مولانا رفیق ملتانی جہانیاں ( خانیوال)، مولانا محمد اسحاق حسینوی قصور، مولانا عبدالرشید ساہیوال، مولانا محمد مختار بنگلہ دیش، مولانا محمد صالح جھنگوی، مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ جنڈاں والہ، (بن مولانا حافظ ثناء اللہ حنیف) مولانا محمد یوسف عینوآنہ۔
فاضل عربی کی تیاری اور امتحان:
فاضل عربی کی تیاری وامتحان کے سلسلے میں مدرسہ اشاعۃ الاسلام لکڑ منڈی جھنگ بازار فیصل آباد میں داخلہ لیا، جہاں فاضل عربی کے مولانا عبدالمالک اور پروفیسر عبدالقیوم استاد تھے۔ حکیم عبدالمجید نابینا صدر انجمن، اور مفتی سیاح الدین کاکا خیل کے ارشادات عالیہ سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔امتحان کی کامیابی پر سرگودھا بورڈکی جانب سے سند جاری ہوئی۔ مفتی کاکا خیل صاحب نے نصیحت کرتے ہوئے حضرت استاد صاحب رحمہ اللہ سےفرمایا: کہ مجھے معلوم ہے کہ تم اہل حدیث ہو، ادارے میں نماز با جماعت میں رفع الیدین کرو اور آمین بالجہر کہا کرو، ہماری وجہ سے سنت پر عمل نہ چھوڑو ورنہ ہم سمجھیں گے کہ اگر تم کسی غیر مسلم ملک میں جاؤگے تو ان لوگوں کی وجہ سے اسلام چھوڑ دوگے۔
مزید تعلیم کے لیے گوجرانوالہ جانا پھر اوڈانوالہ واپسی:
جامعہ اسلامیہ (آبادی حاکم رائے گوجرانوالہ) میں حضرت العلام مولانا حافظ گوندلوی رحمہ اللہ(م1985ء) کے بابرکت علم سے فیض یاب ہونے کے لیے استاذ محترم اپنے چار دیگر ساتھیوں کے ہمراہ جنوی 1969ء کو گئے، ان ساتھیوں کے نام یہ ہیں؛ استاذ محترم، مولانا رفیع الدین، مولانا خلیل احمد(م2011ء)، اور مولانا عبدالغفور۔ پہلے دن مولانا ابوالبرکات احمد مدراسی رحمہ اللہ (م 1991ء) پر مغز نصائح سنیں، ایک دن ظہر کے بعد حضرت العلام حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ کا درس قرآن سنا، وہ علمی ماحول، درس کا نقشہ اور اس کے اثرات آج بھی دل و دماغ میں تازہ اورنقش ہیں۔
استاذ محترم اور مولانا خلیل احمد سے صرف ایک دو دن سے زیادہ استفادہ نہ کرسکے کیوں کہ اوڈانوالہ سے حضرت استاذ مولانا محمد یعقوب ملہوی رحمہ اللہ گوجرانوالہ تشریف لائے اور استاذ محترم اور مولانا خلیل احمد سے علیحدگی میں بات کی کہ آپ دونوں کو بطور مدرس یہاں سے اوڈانوالہ لے جاناچاہتاہوں ۔ استاذ محترم نہ جانے پر آماد ہ تھے جبکہ مولانا ملہوی مرحوم لے جانے پر مصر تھے۔ بالآخر مولانا ابوالبرکات مدراسی اور مولانا عبدالحمید ہزاروی(م2020ء) رحمہھااللہ کے مشورہ پر استاذ محترم مولانا یعقوب ملہوی مرحوم کے ساتھ 8 جنوی 1969ء/18 شوال 1390ھ کو اوڈانوالہ کا قصد کیا۔
اساذ محترم نے مولانا ملہوی مرحوم سے گزارش کی کہ میں اپنے والدین اور حضرت صوفی رحمہ اللہ سے اس سلسلے میں اجازت کا خواہش مند ہوں جو کہ میرے لیے ضروری ہے، چنانچہ اس اجازت کے لیے استاذ محترم والدین کے پاس حاضر ہوئے انھوں نے حضرت صوفی صاحب رحمہ اللہ سے اجازت لینے کےلیے راہنمائی کی، حضرت صوفی صاحب کی خد مت میں استاذ مکرم حاضر ہوئے ان کا جسم اور پاؤں دبا کر پہلے ان کی خدمت کی، پھر ان کی خدمت میں اس مسئلے کو رکھا جس کے لیے وہ حاضر ہوئے تھے۔ اسے سن کر حضرت صوفی صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’ میرا حکم ہے کہ اوڈانوالہ مدرسہ میں پڑھاؤ، وہ میرا مدرسہ ہے( یہاں یہ واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل حضرت صوفی صاحب مرحوم نے مدرسہ کسی وجہ سے اوڈانوالہ سے ماموں کانجن منتقل کرلیا تھاتو اوڈانوالا کے احباب گاؤں کے مدرسہ کے تسلسل کو قائم کرنے کے خواہش مندتھے، اس لیے مولانا ملہوی مرحوم سے گزارش کی گئی کہ اس مدرسہ کو قائم کرکے آپ ہی اس کا نظم نسق سنبھالیں، اس کا نام دارالعلوم تقویۃ الاسلام رکھاگیا)تو اس طرح فروری 1969ء میں تدریس کا آغاز ہوا۔
آغاز تدریس:
حضرت استاذ مولانا ملہوی مرحوم کے حکم سے درجہ اولیٰ کے سباق سے پڑھانے کا سلسلہ شروع ہوا ۔ ابتدائی کتب کی تدریس کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے علم میں اضافہ ہوتا ہے اور تدریسی صلاحیت میں پختگی بھی آتی ہے۔
استاذ محترم کی ابتدا میں تنخواہ مبلغ 75 روپے مقرر ہوئی، استاذ محترم حضرت ملہوی رحمہ اللہ نے جب 1946ء میں تدریس کا آغاز اوڈانوالہ کے مدرسہ میں کیا تو ان کی تنخواہ 40 روپے مقرر ہوئی تھی۔
مدرسہ کے بالکل ابتدائی دور (غالباَ1932ء)میں جب مولاناحافظ محمد اسحاق حسینوی رحمہ اللہ یہاں بطورمدرس تشریف لائے تو ان کی تنخواہ اس وقت 18 روپے تھی۔
1971ءمیں 106 راوی روڈ لاہور میں علمائے کرام کے ایک بورڈ نے- جس میں مؤرخ اہل حدیث مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ ( م2015ء) بھی شامل تھے- زبانی امتحان لیا، یوں وفاق المدارس السلفیہ کی سند حاصل ہوئی۔
مضمون نویسی:
استاذ محترم نے دور طالب علمی میں فضائل جہاد پر ایک مضمون لکھا جو سید ابوبکر غزنوی رحمہ اللہ (م1976ء) کی زیر ادارت طبع ہونے والے ’’ ہفت روز توحید‘‘ چھپا۔ حج بیت اللہ کی سعادت حاصل ہونے بعد اس سفر نامہ کو مع ضروری مسائل کے تحریر کیا تھا، جسے حکیم محمد رمضان صاحب (ملتان) نے شائع کیا تھا۔
استاذ محترم کا فردوس القرآن کے نام سے ایک کتابچہ ہے جو تفسیری نکات اور اصول تفسیر سے متعلق ہے جوکہ غیر مطبوع ہے۔ شیعہ اعتراضات اور اس کا مسکت نا قابل تردید جواب بھی لکھا ۔
استاذ محترم مرحوم نے اوڈانوالہ میں قائم بنات کے مدرسہ میں بھی تدریس کے فرائض انجام دیے۔
گوجرہ شہر میں تین سال متواتر رمضان المبارک میں طالبات کو تفسیر کا دورہ کروایا جس میں تفسیر سے متعلق ضروری ابحاث اور فرق باطلہ کے بارے میں نوٹ لکھوائے۔
ادارۃ الحکمۃ الاسلامیہ مدینہ ٹاؤن فیصل آباد سے حکمت کے کورس کا موقع ملا، اور سند بھی ملی۔
استاذ محترم کا ذاتی کتب خانہ بھی ہے، مدرسہ کا کتب خانہ کے بھی نگران رہے جہاں طلبہ کو کتابیں مطالعہ کے لیے دی جاتیں، ان کتب سے بھی بھر پور انداز میں فائدہ اٹھایا، فارغ اوقات میں مدرسہ کے کتب خانہ کی جو کتاب جلد کے قابل ہوتی استاذ محترم خود اس کی جلد بندی کرتے۔
حج بیت اللہ کی سعادت:
استاذ محترم کو اللہ تعالیٰ نے حج بیت اللہ کی سعادت سے بہرہ ور فرمایا، پہلاحج2006ء اوردوسراحج 2009ء میں کیا۔( ان سطورکا عاجز راقم نومبر 2008ء کو جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں تعلیم کی غرض سے گیا تھا، 2009ء کے حج کے ایام میں حضرت استاذ محترم مرحوم کے آمد کے موقع پر مدینہ منورہ میں ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی اور خدمت کا بھی موقع ملا، الحمدللہ علی ذٰلک)۔
خطابت ونقابت:
استاذ محترم اپنے اساتذہ مولانا محمد یعقوب ملہوی رحمہ اللہ اور مولانا عبدالرشید ہزاروی رحمہ اللہ کے انداز خطابت سے بہت متاثر تھے ان کے اسلوب خطابت نے ان کے قلب و ذہن پر گہرے نقوش اور عمدہ اثرات مرتب کیے۔اواڈانوالہ اور اپنے ماڑی اٹاری میں خطبات جمعہ کے مواقع میسر آتے رہے۔مدرسہ میں ہونے والی کانفرنس جو کہ تقریب بخاری کی مناسبت سے ہوتی اس میں استاذ جی نقابت کے فرائض انجام دیتے رہے، راقم سطوراپنے زمانہ طالب علمی (1995ء تا 2005ء) میں استاذجی محترم کو تقاریب بخاری اور دیگر جلسوں کے موقع پرنقابت کرتے دیکھتا رہاہے۔
حضرت الاستاذ مولانا محمد یعقوب ملہوی رحمہ اللہ کے حکم پر جنگ شہر میں جامع مسجد الفیصل سیٹلائٹ ٹاؤن میں 1980ء سے 2004ء تک جمعہ کا خطبہ دیتے رہے، پھر 4 سال کا عرصہ مرکزی جامع مسجد اہل حدیث چک نمبر 425 گ ب واہلہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں خطبہ دیتےرہے، بعد ازاں 2008ء سے وفات تک جامع مسجد مبارک اہل حدیث جھنگ میں خطبہ ارشاد فرماتے رہے۔
علاوہ ازیں دعوت و تبلیغ کی غرض سےاوڈانوالہ کے گرد نواح کے گاؤں دیہات میں بھی وعظ ونصیحت کےلیے جاتے، حضرت استاذ جی مرحوم کےقصور سے تعلق رکھنے والےہونہار شاگرد محترم جناب قاری عبدالرحیم حامد صاحب واٹس ایپ کے ایک گروپ میں اپنےصوتی پیغام میں استاذ جی کے ایک سالانہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں ہونےوالے تبلیغی دورہ کا بتارہے تھے کہ استاذ محترم کا معمول تھا کہ رمضان المبارک کے آخری دنوں میں قصور تشریف لاتے، وہاں کے گاؤں دیہات کی مختلف مساجدمیں ان کے دروس کے سلسلے ہوتے اور 29 رمضان کو واپس تشریف لے جاتے۔
’’فردوسی ‘‘ نسبت کی وجہ:
استاذ محترم اپنی خود نوشت میں لکھتے ہیں: ’’ جب ماموں کانجن میں 1963ء میں مدرسہ کی تعمیر شروع ہوئی تو حضرت صوفی صاحب نے قد آور بورڈ لکھوایا ’’ دارالعلوم تعلیم الاسلام الفردوس، ماموں کانجن ضلع فیصل آباد‘‘ اس دور میں جو طلبہ پڑھتے رہے انھوں نے اس وجہ سے ’’ فردوسی‘‘ لکھنا اور کہلانا شروع کردیا اور عملی بے بضاعتی کے باوجود رحمت الٰہی سے پر امید ہوں کہ ان شاء اللہ جنت فردوس نصیب ہوگی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ استاذ محترم کی اس دعا کو قبول فرمائے جنت الفردوس کا انھیں مکین بنائے آمین۔
عادات وخصائل: استاذ جی مرحوم نہایت اعلیٰ طبیعت کے حامل عظیم انسان تھے، سنجیدگی و متانت کا پیکر تھے۔طلبہ کے ساتھ رویہ نہایت مشفقانہ تھا، ان کے ساتھ ایک شفیق باپ کی طرح پیش آتے، خبر گیری کرتے، ان کی ضروریات کا خیال رکھتے۔گاؤں میں بھی سب لوگ عزت سے پیش آتے، ہر ایک کے دکھ درد میں شریک ہوتے۔
اسباق نہایت عمدگی کے ساتھ پڑھاتے، مکمل کوشش ہوتی کہ طالب علم کو بات سمجھ آجائے۔عبارت کی تصحیح پر خوب توجہ دیتے، ہر جمعرات کو ہونے والے اصلاح البیان میں بیٹھ کر طلبہ کی تقاریر کو توجہ سے سنتے اور اس میں موجود اصلاح طلب پہلوؤں کی جانب رہنمائی کرتے۔الفاظ کی ادائیگی، عربی عبارت کی اغلاط کی تصحیح فرماتے۔دورانِ تدریس نصیحت آموز اسلاف سے متعلق واقعات سناتے۔
استاذ جی مرحوم نے خود داری اور صبر وقناعت کے ساتھ سادہ اندازمیں زندگی بسر کی ، اپنے گھر والوں، طلبہ کو بھی اسی سادگی کی تلقین و نصیحت کرتے۔ آپ کو کتابت کا بہت شوق تھا ان کے بیٹے بتاتے ہیں کہ ابا جی 1974ء سے ہر سال باقاعدگی سے معمول کے مطابق روزانہ ڈائری لکھا کرتے جس میں آپ اپنے معمولاتِ زندگی اور سلف صالحین کے تذکرے لکھا کرتے تھے جو یقینا ہم تمام اہل خانہ کےلیے زندگی گزارنےکےلیے ایک بہترین مشعل راہ ہیں۔ہر سال کی ڈائری بالکل اصلی حالت میں موجود ہے
شادی خانہ آبادی:
حضرت الاستاذ رحمہ اللہ کی شادی 1973ء کو اپنے ماموں محترم محمد یوسف صاحب (بھکر) کے ہاں ہوئی۔چار بیٹے، اور پانچ بیٹیاں ہیں، جن میں سے ایک بیٹاعبدالحفیظ چالیس دن زندہ رہ کر وفات پاگیاتھا۔ سب بیٹے بیٹیاں شادی شدہ اور صاحبِ اولاد ہیں۔
استاذ جی مرحوم کے صاحبزادوں کے نام :
بڑے بیٹےڈاکٹر عبد الحمیدہیں، کوالیفائیڈ ڈسپنسر DHMS اور B Pharmacy کی ڈگری حاصل کی ہے، اب سمندری کے قریب سرکاری ہسپتال میں ملازمت کرتے ہیں ۔
محمد زید، یہ دوسرے بیٹے ہیں، انھوں نےماسٹر کی ڈگری حاصل کی ہے اور ایم فل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ان شاء اللہ۔ جامعہ کریمیہ اسلامیہ رجانہ روڈ سمندری سےحفظ قرآن مکمل کیا۔ درس نظامی کی تعلیم دارالعلوم تقویۃ الاسلام اوڈانوالہ سے حاصل کی، تجوید وقراءت کی سند جامعہ دارالحدیث محمدیہ عام خاص باغ ملتان سے حاصل کی، حکمت کا کورس بھی مکمل کیا ۔ اب دارالعلوم تقویة الاسلام اوڈانوالہ میں درس نظامی پڑھا رہے ہیں اور ذاتی مطب بھی ہے۔
محمد اسامہ، یہ تیسرے صاحبزادےہیں، انھوں نے حفظ قرآن کی سعادت دارالعلوم تقویة الاسلام اوڈانوالہ سے حاصل کی اس کے بعدکمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کیا ہے، میڈیکل کی بھی تعلیم حاصل کی ہے، اور اب اسی شعبہ سے منسلک ہیں اور ذاتی کاروبار کررہے ہیں۔والحمد للہ
حضرت الاستاذ کے دامادوں کا ذکرخیر:
حضرت استاذ جی مرحوم کی پانچ بیٹیاں ہیں سب کی سب شادی شدہ ہیں۔بڑے دامادقاری محمد صدیق ہیں۔درس نظامی جامعہ سلفیہ فیصل آباد سے مکمل کیا ہے، ساتھ تجوید و قراءت بھی پڑھی ہے، ۔اور اب ایک کمپنی میں ملازمت کررہے ہیں۔
دوسرے دامادمولانا محمد حمزہ حامدہیں، ان کا تعلق بھکر سے ہے مرکز علوم اسلامیہ ستیانہ بنگلہ (فیصل آباد) سے دینی تعلیم مکمل کی ہے، کچھ عرصہ مرکز ابن قاسم ملتان میں بھی زیر تعلیم رہے اور اب جامعہ دارالحدیث محمدیہ عام خاص باغ ملتان میں بطور مدرس خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
تیسرے داماد قاری محمد نوازہیں، ان کا تعلق چک 361 ج ب گوجرہ سے ہے درس نظامی کی تعلیم جامعہ سلفیہ فیصل آباد سے مکمل کی ہے، اور اب فیصل آباد کے ایک گاؤں میں امامت وخطابت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔اور اپنا مدرسہ بھی چلا رہے ہیں، الحمدللہ ۔
چوتھے داماد، استاذ جی مرحوم کے برادر زادےقاری ابوبکر مدنی ہیں، جو کہ استاذ جی کے برادر اصغرشیخ الحدیث ڈاکٹر حافظ محمد رفیق مدنی کے صاحبزادے ہیں، انہوں نے حفظ قرآن مرکز ابن قاسم ملتان سےمکمل کیا۔تجوید وقراءت اور درس نظامی جامعہ دارالحدیث محمدیہ عام خاص باغ ملتان سےمکمل کیا ۔اس کے بعدسات سال تک ام القریٰ یونیورسٹی مکہ مکرمہ میں تعلیم حاصل کی اور BS کی ڈگری لی، اور دیگر علوم حاصل کیے۔اور اب جامعہ دارالحدیث محمدیہ عام خاص باغ ملتان میں تدریس کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور BZU University میں بطور لیکچرار بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
پانچویں دامادمحمد لقمان ہیں، ان کا تعلق بھکر سے ہے انہوں نے ملتان سویڈش کالج سے ڈپلومہ کیا ہے، اور دیگر علوم پڑھےاور اب بیرون ملک ملازمت کررہے ہیں۔تمام داماد الحمدللہ صوم و صلاة کے پابند ہیں ۔
تلامذہ:
حضرت الاستاذ مرحوم کا تدریسی دور 1969ء سے لے کر وفات 2024ء تک طویل مدت پر مشتمل ہے جوکہ 55 سال بنتے ہیں، اس طویل مدت میں آپ سے پڑھنے والے ہزاروں کی تعداد میں ہوں گے۔سب تلامذہ کے نام لکھنا تو ممکن نہیں تاہم ان میں سے چیدہ چیدہ اہم تلامذہ کے نام یہاں درج کیے جاتے ہیں، کچھ نام حضرت الاستاذ رحمہ اللہ کی ایک ڈائری میں لکھےملےہیں۔مشہور تلامذہ کے نام یہ ہیں: شیخ الحدیث حافظ محمدامین یعقوب ملہوی حفظہ اللہ، شیخ الحدیث مولانا محمد رمضان سلفی (لاہور)، شیخ الحدیث مولانا عبداللہ رفیق حفظہ اللہ (لاہور)، مولانا محمد حسین بلتستانی ( کراچی)، ڈاکٹر شیخ الحدیث حافظ محمد رفیق المدنی (ملتان)پروفیسرڈاکٹر نصیر اختر(لاہور)حافظ خالد فردوسی مرحوم (م 2019ء، اوڈانوالہ)، پروفیسر خالد حمید( اسلام آباد)، شیخ الحدیث مولانا نعیم رضوان (سرگودھا)، رانا محمد جمیل خاں (سرگودھا)، مولانا عبداللہ سلیم (سرگودھا)، قاری محمدافتخار مجاہد(مدرس شعبہ حفظ مدرسہ اوڈانوالہ) مولانا عطاءالرحمٰن خلیل (مدرس مدرسہ اوڈانوالہ)، مولانا نور آصف (مدرس مدرسہ اوڈانوالہ) مولانا عبدالرقیب بن مولانا عبدالصمد رؤف (سابق مدرس مدرسہ اوڈانوالہ)، مولانا حافظ عمار فاروق سعیدی(منڈی واربرٹن)، مولانا اقبال قاسم (مریدکے)، قاری عبدالرحیم حامد(قصور)، مولانا حافظ زین العابدین احمد (قصور)، ڈاکٹر خبیب احمد بلغاری بلتستانی( اسلام آباد)، مولانا محمد صالح براہوی بلتستانی(اسلام آباد)، قاری عبد الہادی(لاہور)، مولاناعبدالعظیم کشمیری(آزادکشمیر)، مولاناعبدالخالق (سرگودھا)، مولاناثناءاللہ ثاقب( فیصل آباد)، قاری محمد فاروق ( سرگودھا)حافظ عبدالرحمن آزاد( فیصل آباد)، مولانامحمدیاسین(شورکوٹ)، قاری عبدالرحمن واسع(تاندلیانوالہ)، مولاناعبدالغفور(قصور)، قاری محمداقبال(پتوکی)،مولانامحمدسعیدالفت(قصور)، مولانا محمداکرم(قصور)، مولانامحمد ارشد(سمندری)، مولانا عبداللطیف (ناگرہ، ٹوبہ)، مولانا حافظ ابوبکرامین بن حافظ محمد امین (مدرس مدرسہ اوڈانوالہ)، مولانا محمد ابراہیم (نورستان)، مولانا شمس الحق (ڈھاکہ بنگلہ دیش)، حافظ شبیر احمد (پیر محل)، حافظ عبدالوحید بن مولانا عبدالحفیظ(اوڈانوالہ)، مولاناحافظ محمد طاہر(اوڈانوالہ)، مولاناسعدی (بلتستان) مولانا مہدی(بلتستان)، مولانا عبدالواحد دانش(ناگرہ) مولانا محمد طاہر مدنی(بلتستان)مولانا اشرف علی(بلتستان)مولانا محمد علی(بنگلہ دیش)مولانا حکیم عبدالمجید اظہر(فیصل آباد) مولانا عبدالسلام طیب(فیصل آباد) مولانا محمد یوسف بن مولانا عبدالغفور (اوڈانوالہ)مولانا محمد احمد طیب بن مولانا عبدالغفور( اوڈانوالہ) مولانا حافظ امیر الٰہی (لیہ) مولاناحافظ محمد سعید (لیہ) مولاناحافظ محمد حنیف شاہ(تلوکر) مولاناحافظ محمد رفیق شاہ (تلوکر)حافظ محمد عبداللہ(بلتستان) مولانا محب اللہ(افغانستان)مولانا مقبول احمد(کمالیہ) مولانامزمل اقبال(اوڈانوالہ) مولانا ذکاءالرحمن ذکی(فیصل آباد)، مولانا حافظ عبدالوحید نیازی(اوڈانوالہ)، قاری محمد زید فردوسی(اوڈانوالہ)مولانا شوکت علی(قصور) اور ان سطورکا راقم عبدالمجید محمد حسین بلتستانی۔یہ کچھ چیدہ چیدہ نام ہیں جو درج کیے گئے ہیں سب شاگردوں کے ناموں کو تحریر میں لانا مشکل ہے ممکن بھی نہیں۔
وفات:
28/اکتوبر2024ءیہ استاذ محترم کی زندگی کاآخری دن ہے جسےانھوں نے عام معمول کے مطابق گزارا، اس دن مکمل اسباق کی تدریس کی، ساری نمازیں باجماعت ادا کیں۔عشاء کی نماز بھی اپنے گھر کے قریب مسجد میں باجماعت ادا کی۔نماز کے بعد سینے میں درد اٹھا تو مسجد کے ہال سے باہر آئے اور وضو خانے کے پاس بیٹھ گئے اور بے ہوش ہوگئے۔بے ہوشی سے قبل زبان پر اللہ اکبر، لاالہ الااللہ کے کلمات تھے ان کے بیٹے بھی قریب ہی تھے فورا قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا لیکن جانبر نہ ہوسکے اور اسی بے ہوشی کے عالم میں تقریبا نو بجے کے قریب وہ وفات پاگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وفات کے وقت ان کی عمر 78 سال تھی۔
ان کی وفات کی خبر لمحوں میں ملک کے اطراف واکناف میں پھیل گئی۔
اگلے دن 29/ اکتوبر بروز منگل ظہر کی نماز کے بعد اڈانوالہ گاؤں کی مرکزی جامع مسجد میں شیخ الحدیث حضرت حافظ محمد امین یعقوب ملہوی حفظہ اللہ کی اقتدا میں نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں بڑی تعداد میں علما و طلبہ، فیض یافتگان اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنےوالے افراد نے شرکت کی۔ بعد ازاں اوڈانوالہ گاؤں کے قبرستان میں ردائے خاک اوڑھ کر تاقیامت ابدی نیند سوگئے۔
29/اکتوبر کی صبح فجر کی نماز کے بعد حافظ محمد امین صاحب نے حسب معمول درس ارشاد فرمایا جس میں انھوں نے ان کی خدمات جلیلہ کا تذکرہ احسن انداز میں کیا، وہ درس صورت میں افادہ عام کے لیے قارئین کی نذر کیا جارہا ہے، ملاحظہ کیجیے:
رات مولانا عبدالمجید اچانک وفات پاگئے، اور موت ہمیشہ اچانک ہی آتی ہے، فوت ہونے والے کو نہیں پتا کہ میں نے فوت ہوجانا ہے، نہ اس کے لواحقین کو علم ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے موت کا علم اپنے پاس رکھا ہے۔یہ ایسا راز ہے جس سے کسی کو مطلع نہیں کیا جاتاہے، مولانا عبدالمجید صاحب رحمہ اللہ دن کو(مدرسہ میں اسباق) بھی پڑھا کر گئے ساری نمازیں وہیں ( گھر کے پاس چھوٹی مسجدمیں) پڑھیں۔حتی کہ عشاء کی نماز جو ان کی زندگی کی آخری نماز تھی وہ بھی انھوں نے بخیر وخوبی پڑھی۔لیکن اچانک اللہ کے پاس چلے گئے۔( اللہ تعالیٰ ان کے )درجات بلند فرمائے۔ انھوں نے پوری زندگی اللہ کے دین کے راستے میں صرف کی ۔پہلے یہاں ( اوڈانوالہ میں) پڑھا، یہ کوئی سن 1961ء کی بات ہے جب مولانا عبدالمجید صاحب یہاں پڑھنے آئے۔گھریلو حالات پڑھا ئی والے نہ تھے بلکہ زمین داری کے تھے۔لیکن ان کی والدہ محترمہ جو بہت دین دار خاتون تھیں انھوں نے اپنے دو بیٹوں ( موالانا صاحب اور مولانا ڈاکٹر حافظ رفیق مدنی صاحب) کو (دین) پڑھایا اور بڑے مشکل حالات میں پڑھایا گھر میں کام کرنے والے کی ضرورت تھی لیکن والدہ نے بڑی محنت سے ان کو یہاں بھیجا۔الحمد للہ اسی گاؤں (اوڈانوالہ) میں پڑھا اور اسی گاؤں میں پڑھانا شروع کیا۔ جو آدمی نیک نیتی سے پڑھائے اللہ تعالیٰ اسے ضائع نہیں کرتے ۔ مولاناعبدالمجید صاحب نے وفات تک 55 سال پڑھایا۔ یعنی جنوری 1969ء سے لے کر اکتوبر 2024ء تک۔1969ء میں بہت کم تنخواہ تھی ایک سو روپے سے بھی کم، 75 روپے سے شروع ہوئی تھی، اس دوران ادھر ادھر سے پیشکش بھی ہوئی لیکن اپنی اسی کم تنخواہ میں گزارا کیا۔ اپنی زندگی میں وقت کے بہت پابند تھے ذمہ داری کا حساس کرنے والے مکمل وقت دینا یہ ان کی امتیازی صفت تھی۔میں (حافظ امین صاحب) نے 1971 ء سے لے کر 1973ء تک ان سے مختلف کتابیں پڑھیں، بڑی محنت اور تیاری کے ساتھ پڑھانے والے تھے۔ جب مدرسہ الگ ہوا حضرت صوفی صاحب رحمہ اللہ اپنی بعض ضرورتوں کی وجہ سے ماموں کانجن منتقل ہوئے تو گاؤں والوں نے فیصلہ کیا کہ اس مسجد کو جو 35 سال سے آباد تھی بے رونق نہیں ہونے دیں گے، یہ ان اوائل اساتذہ میں سے تھے جو یہاں پڑھانے لگے مولانا عبدالمجید صاحب اور مولانا خلیل احمد صاحب یہاں سے پڑھ کر حضرت حافظ محمد محدث گوندلوی رحمہ اللہ کے پا س گوجرانوالہ گئے یہ اس وقت اس مدرسے کی ریت تھی کہ جو لڑکے پڑھنے میں اچھے ہوتے انہیں کہا جاتا کہ جاؤ ایک سال گوجرانوالہ میں حضرت حافظ صاحب محدث گوندلوی رحمہ اللہ کے پاس پڑھو انھوں نے ابھی جا کر داخلہ لیا ہی تھا کہ ابا جان (مولانا یعقوب ملہوی رحمہ اللہ) وہاں گئے اور بات کی یہ ان کا حکم سمجھ کر وہاں سے آگئے، اور ایسے آئے کہ اس گاؤں کے ہو کر رہ گئے یہ وہ عرصہ ہے جو انھوں نے اس گاؤں میں گزارا اور بہترین گزارا۔ادھر ادھر سے پیشکش ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ایسا خلوص عطا فرمایا تھا کہ وہ قناعت کے ساتھ ادھر ہی رہے جب یہاں کام شروع کیا تھا تو کچی رہائش تھی کوئی سہولتیں بھی نہیں تھیں تنخواہ بھی کم تھی ان حالات کے باوجود اپنی ذمہ داری نبھاتے رہے۔حضرت صوفی صاحب رحمہ اللہ کا احترام بھی برقرار رکھا پہلے ان کے پاس گئے ان سے گزارش کی کہ مجھے میرے استا د صاحب کہہ رہے ہیں کہ ادھر پڑھاؤاگر آپ اجازت دیں گے تو میں پڑھاؤں گا۔ حضرت صوفی صاحب رحمہ اللہ بڑے وسیع القلب آدمی تھے، فرمانے لگے: ضرور پڑھاؤ وہ ادارہ بھی میرا قائم کردہ یہ ادارہ بھی میرا ہے۔ ابا جی کا حکم مان کر ادھر(گوجرانوالہ) سے آئے اور حضرت صوفی صاحب کی اجازت سے پھر انھوں نے یہاں پڑھانا شروع کیا۔ 76 سال کی بڑی قابل رشک عمر پائی۔سارے اساتذہ میں بہترین استاد تھے۔ ملازمت مزدوری سمجھ کر نہیں بلکہ دین کا کام سمجھ کر کیا، اب تو عمر زیادہ ہوگئی تھی شروع میں کئی کام کیے، مکتبہ ان کے پاس رہا ۔ ابا جی کی آخری عمر میں انھوں نے اور مولانا خلیل احمدصاحب نے کئی جمعے پڑھائے۔ میں یہاں نہیں ہوتا تھا اباجی کی آخری زندگی میں عیدیں میں نے پڑھائی ہیں۔ کبھی مطالبہ نہ تھا کہ ہم جو اضافی کام کرتے ہیں ہماری تنخواہیں بڑھائی جائیں۔مولانا عبدالصمد رؤف صاحب جو ہم سب کے استاد تھے مولانا خلیل صاحب کے مولانا عبدالمجید صاحب کے بھی، انھوں نے یہیں پڑھا اور1950ءسے کر 2005ء تک اسی طرح سادگی سے بغیر کسی لالچ طمع کے پوری ذمہ داری سے پڑھایا، یہ 55 سال بنتے ہیں۔ 2005ء میں وہ فوت ہوئے۔ اباجان کی وفات کے بعد اساتذہ میں سے پہلی وفات ان کی ہوئی۔ابا جان نے بھی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ زندگی یہیں لگائی، یہیں پڑھے اور یہیں پڑھایا، ابا جان نے 1935 ء سے لے کر 1981ء وفات تک۔ مولانا عبدالصمد صاحب نے 2005ء تک۔ ان کے بعد، مولانا عبدالحفیظ صاحب 2006ء میں، پھر مولانا خلیل احمد صاحب 2011ء میں، پھرحافظ محمد خالد صاحب اپنے اسی گاؤں کے، 2019ء میں وہ فوت ہوئے، اور اب مولانا عبدالمجید صاحب2024ء میں ۔ یہ بہت اچھی زندگی ہے موت تک انسان نیکی کا کوئی کام کرتا رہے ۔مولانا عبدالمجیدصاحب کے بارے میں جیسا کہ میں نے بتایا ہے ان کی وفات مسجد میں اور اللہ تعالیٰ کا ذکرتے ہوئی، انھوں نے آخری دن سارے سبق پڑھائے ۔ساری نمازیں باجماعت ادا کیں، حتیٰ کہ زندگی کی آخری نماز عشاء بھی باجماعت ادا کی اور اس کے بعد ’’ اللہ اکبر‘‘ ’’ لاالہ الااللہ‘‘ پڑھا اور بے ہوش ہوگئے اور اسی حالت میں وفات ہوئی۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…