Categories: مئی 2009

اسلامی نظام عدل اور مغرب

ازل سے اب تک اسلام ہی کے خلاف سازشیں کیوں کی جارہی ہیں ؟جبکہ اسلام تو عدل وانصاف کا علم بردار ہے، حدود اور سزائیں بھی ہر انسان کے اعمال کے اعتبار سے مقرر کی ہیں اسلام تو معاشرے کے جرائم پیشہ افراد کو سزاؤں کے بارے میں بھی مکمل عدل وانصاف اور مساوات کا ثبوت فراہم کرتاہے یعنی جو شخص بھی چاہے مرد ہو یا عورت امیر ہو یا غریب کسی بھی جرم کا ارتکاب کرے گا ، بغیر کسی تفریق وتمیز کے اسے اپنے جرم کی پوری پوری سزا ملے گی ۔1430 سال سے ہمارے کانوں سے یہ صدائے حق وعدل وانصاف ٹکرارہی ہے کہ :اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد  ﷺ بھی چوری کرے تو اس کا بھی ہاتھ کاٹ دوں گا۔‘‘

اسلام تو وہ نظام عدل ہے جس نے فرد اورمعاشرے کی اصلاح کیلئے ایک جماعت کو دوسری ایک فرد کو دوسرے کے ظلم وستم سے بچانے کیلئے اسلامی سزاؤں کو مقرر کیا گویا شرعی حدود اور سزاؤں سے مقصود انسانی حمایت اور اس کی عزت ، آبرو، قدرومنزلت شرف وناموس ، عقل وشعور ، سلوک امن اور عزت کی حفاظت کرناہے۔

اسلام نے انسان کو بہت بڑا اور بلند مقام بخشا ہے اور عزت وسعادت کی زندگی بسر کرنے کا طریقہ سکھایاہے ۔ اسلام ایک ایسا متحرک نظامِ حیات ہے جو کہ درجہ کمال کی بلندیوں کو چھور ہاہے۔ اس کو عظمت رفتہ اس لئے حاصل ہے کہ یہ ایک زندہ وجاوید آسمانی دستور حیات ہے ۔ ان کم عقل انسانوں کے وضعی قوانین کا مجموعہ نہیں ہے جو یہ سمجھنے سے بالکل قاصر ہوتے ہیں کہ کل ہمارے لیے کیا بہتر مقام تھا آج کیا ہے اور کل کیا ہوگا ؟ انسان کے خالق ومعبود برحق سے بڑھ کر اور کسی کو اس کی مصلحتوں کا علم نہیں ہوسکتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :

{ وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیَاۃٌ یَا أُولِی الْأَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ } (البقرۃ:۱۷۹)

’’اور اے ارباب دانش! قصاص کے حکم میں (اگرچہ بظاہر ایک جان کی ہلاکت کے بعد دوسری جان کی ہلاکت گوارا کرلی گئی ہے لیکن فی الحقیقت یہ ہلاکت نہیں ہے) تمہارے لیے زندگی ہے اور یہ سب کچھ اس لیے ہے تاکہ تم برائیوں سے بچو۔ اور اسی طرح بدکاری (زنا) کی سزاؤں میں بھی انسانی فلاح کو مدنظر رکھ کر سخت اور کڑی سزا مقرر کی گئی ہے تاکہ عزت اور نسل انسانی کی حفاظت کی جاسکے۔

ان عفت وعصمت انسانی کا پاس رکھنے والی سزاؤں کا سب سے پہلے ایک فرقہ ضالہ معتزلہ نے اس کے بعد خوارج نے انکار کیا تھا ان کے انکار کی وجہ محض انکار حدیث کے سلسلہ میں ان کی متعصبانہ سوچ تھی مگر آج کے نام نہاد وبعض مسلمان جو اپنے آپ کو مذہبی اسکالر تصور کرتے ہیں وہ بھی اس انکار میں شامل ہیں اور ان کے انکار کی وجہ مغرب کی خوشنودی ہے کیونکہ اہل مغرب نعوذ باللہ اسلام کی ایسی سزاؤں کو وحشیانہ سزائیں قرار دیتے ہیں اور کچھ مغرب کے ٹکڑوں پر پلنے والی این جی اوز بھی شامل ہیں اور کچھ بے اوقات دانشور بھی جو اسلامی حدود وتعزیرات پر گزگزکی لمبی زبانیںنکال رہے ہیںاور اسلامی قوانین کے بارے میں ایسے ایسے تبصرے کررہے ہیں جنہیں نوک زبان پر بھی نہیں لایا جاسکتا اور وہ اپنے آپ کو مسلمان بھی کہلواتے ہیں اور کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ  ﷺ متعین کردہ احکامات سے بھی سرے سے انکار کر رہے ہیں بلکہ مذاق اڑا رہے ہیں ایسے لوگوں کو یادرکھنا چاہیے کہ قرآن کریم اور رسول معظم  ﷺ کی مقرر کردہ سزاؤں کو غلط یا ظالمانہ کہنا بدترین گناہ ہے ایسے مسلمان کا ایمان خطرے میں ہی نہیں پڑھ جاتا بلکہ وہ اسلام سے خارج ہونے کے قریب تر پہنچ جاتاہے۔ چند ماہ پہلے سوات جب اجڑ رہا تھا ہر طرف آتش وآہن کی بارش ہورہی تھی تو سب خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے اب نظام عدل کے نفاذ کے ذریعے امن قائم ہورہا ہے تو ہر طرف ہاہاکار مچ گئی ہے ۔ واشنگٹن سے اسلام آباد تک سازشوں کے جال بنے جانے لگے اور ایک فتنہ اور متنازعہ ویڈیو کے ذریعے جس میں ایک سترہ سالہ لڑکی کو کوڑے مارتے ہوئے دکھایا گیا ہے جبکہ یہ سارا عمل مبہم اور غیر واضح ہے کہ لڑکی کون ہے اور کوڑے مارنے والے کون لوگ ہیں ؟ اس مبہم ویڈیو کی وجہ سے اسلامی نظامِ عدل کو بدنام کیا جارہاہے جبکہ رسول رحمت  ﷺ کا نظام عدل کے بارے میں فرمان ہے۔

حَدٌّ یُعْمَلُ فِی الْأَرْضِ خَیْرٌ لِاَہْلِ الْأَرْضِ مِنْ أَنْ یُمْطَرُوْا ثَلاَثِیْنَ صَبَاحاً ۔ وَفِی روایۃ ۔ أَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً ۔ (کتاب قطع السارق ، باب الترغیب فی اقامۃ الحد ، سنن النسائی ، حدیث نمبر:۴۸۲۰)

’’کسی ملک میں اسلامی حدود کا جاری ہونا وہاں کہ لوگوں کے لیے تیس دن (اور ایک دوسری روایت کے مطابق ) چالیس راتیں (اللہ کی رحمت) بارش برسنے سے بہتر ہے۔‘‘

اسلامی حدود کو وحشیانہ سزا کا طعنہ دینے والوں کو اپنے کرتوتوں کا جائزہ لینا چاہیے کہ انہوں نے حال ہی میں محترمہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی پہ کیا کیا ظلم نہیں ڈھائے ۔ ابو غریب جیل اور گوانتا ناموبے میںظلم کی داستانیں کسی سے مخفی نہیں مگر پھر بھی اسلامی سزاؤں کو وحشیانہ سزائیں قرار دینے میںاور اس کا پروپیگنڈہ کرنے میں اپنے پھیپھڑوں تک کا زور لگارہے ہیں اعداء اسلام کی اسلام مخالفت تو کچھ سمجھ میں آتی ہے مگر اپنے آپ کو مسلمان کہلانے والوںکی اسلامی دشمنی سمجھ سے بالاتر ہے۔

اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود میں حد رجم کا انکار کرنے والوں کو سید عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اس خطبہ کو غور سے پڑھنا چاہیے جو انہوں نے اپنی خلافت کے آخری ایام میں مسجد نبوی میں جمعہ کے دن مسلمانوں کے ایک کثیر مجمع کے سامنے ارشاد فرمایا تھا۔ جسے تقریباً سب محدثین نے اپنی اپنی کتابوں میں درج کیا ہے۔ اس خطبہ کے درج ذیل الفاظ قابل غور ہیں۔ آپ نے خطبہ کے دوران فرمایا :’’اس کتاب اللہ میں رجم کی بھی آیت موجود تھی جسے ہم نے پڑھا ، یاد کیا اور اس پر عمل بھی کیا۔ رسول اکرم  ﷺ کے زمانہ میں بھی رجم ہوا اور ہم نے بھی آپ کے بعد رجم کیا۔ مجھے ڈرہے کہ کچھ زمانہ گزرنے کے بعد کوئی یہ کہنے لگے کہ ہم رجم کے حکم کو کتاب اللہ میں نہیں پاتے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اللہ کے اس فریضہ کو جسے اللہ نے اپنی کتاب میں اتاراچھوڑ کر مرجائیں۔ کتاب اللہ (سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی کتاب اللہ سے مراد تمام منزل من اللہ احکام ہوتے تھے) میں رجم کا حکم برحق ہے۔ اس پر جو زنا کرے اور شادی شدہ خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ جبکہ اس کے زنا پر کوئی شرعی ثبوت یا حمل موجود ہو۔ (بخاری ، کتاب المحاربین ، باب رجم الحبلیٰ من الزنا اذا احصنت)

محسن انسانیت ،رحمت دوعالم رسول اللہ  ﷺ نے بذات خود اپنے عہد مبارک میں ماعزنامی شادی شدہ شخص کو اپنے خلاف خود چار مرتبہ شہادت دینے کے بعد رجم کرنے کا حکم صادر فرمایا تھا۔ (بخاری،مسلم ، ابو داؤد اور ترمذی)

اور اسی طرح رسول اکرم  ﷺ نے غامدیہ جو کہ شادی شدہ تھی اور زنا سے حاملہ تھی اس کے اعتراف پراُسے سنگسار کیا گیا تھا۔ (مسلم)

اسلامی حدود اور سزا ئیں اگرچہ بظاہر سخت مگر امن عالم کی ضامن بھی ہیں دنیا میں امن وسلامتی انہیں حدود پر عمل پیرا ہونے سے ہوتاہے۔ ورنہ بدامنی ، قتل وغارت گری ، چوری ،ڈاکہ ،زنی وبدکاری اور زنا کاری عام ہوجاتی ہے آج بھی اگر غور کیا جائے تو جن ممالک میں کچھ نہ کچھ حدود نافذ ہیں وہاں جرائم کی شرح بنسبت ان ممالک کے جہاں مادر پدر آزادی ہے بہت کم ہے۔

United Nations Surney کی رپورٹ 1998سے 2000تک میں مذکور ہے کہ امریکہ میں کل جرائم کی شرح 11,87,7218 رہی اور برطانیہ میں کل جرائم کی شرح 65,23,706 رہی اور السعودیہ العربیہ میں کل جرائم کی شرح 84,599 رہی اور اسی طرح خواتین پر جنسی تشد کی شرح امریکہ میں 95,136 رہی اور برطانیہ میں 13,395 رہی اور جبکہ سعودیہ العربیہ میں صرف 59 رہی ۔

ان حقائق سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ اسلامی حدود کا نفاذمعاشرے میں ہمہ جہتی امن کے قائم ہونے کی ضمانت ہے امن وامان کی نعمت حاصل کرنے کیلئے تمام لوگوں کو مقدور بھر کوششیں کرنی چاہیے اسی میں دنیا وآخرت کی فلاح وکامرانی ہے اور اسلامی نظام عدل کے خلاف سازشیںکرنے والوںکو اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے ڈرنا چاہیے کیونکہ اس کی پکڑ بہت سخت ہے اور یہ بھی یادرکھنا چأہیے کہ مرنے کے بعد جانا بھی اسی رب العالمین کے پاس ہے جس نے ان حدود کو نافذکرنے کا حکم دیا ہے اور ویسے بھی یہ بات حقیقت ہے ۔ بقول مولاناابو الکلام آزاد رحمہ اللہ : زندگی اور موت کا باہمی فاصلہ ایک قدم سے زیادہ نہیں ہوتا۔

وما علینا إلا بلاغ المبین ۔

ڈاکٹر مقبول احمد مکی

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago