Categories: مئی 2009

فیوض القرآن

الأمر

أَمَرَ : اَمَرَ ، یَأْمُرُ ۔ نَصَرَ ، یَنْصُرُ سے جس کا مطلب بہت زیادہ ہوجانا ۔ (تاج العروس)

أَمْرٌ : سے مراد حکم ہے ۔ ( ابن الفارس)

اور کبھی کبھی اس سے مراد معاملہ ، حادثہ ، واقعہ یا حالت لیا جاتاہے۔( ابن الفارس)

اگر اس سے مراد حکم ہے تو اس کی جمع ’’أوامر‘‘ ہوگی اور اس سے مراد معاملہ ، حادثہ ،واقعہ یا حالت ہوتو اس کی جمع أمور ہوگی ۔ اگر ہمزہ کسرۃ کے ساتھ ہوتو پھر اس سے مراد خلاف عقل سلیم یا خلاف شرع بات مراد ہوتی ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :

{لَقَدْ جِئْتَ شَیْئاً إِمْراً}(الکہف :۷۱)

’’کہ تم تو بہت ہی عجیب اور منکر بات کو لائے ہو۔‘‘

أَمِرَ باب سَمِعَ : امیر یا حاکم ہونا

ابن فارس نے اس کے بنیادی معنی نشان یا علامت کے بیان کئے ہیں یہیں سے اس کے معنی مشورہ کرنے کے آتے ہیں لہذا ’’اِئْتِمَار‘‘ سے مراد مشورہ کرناہے ۔ لہذا فرعون نے اپنے سرداروں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معاملہ کے متعلق گفتگو کی اور ان سے کہا:

{فَمَاذَا تَأْمُرُوْن}َ(الشعراء : ۳۵)

’’سو تمہارا اس بارے میں کیا مشورہ یا رائے ہے۔‘‘

اور اسی طرح سورت قصص میں ہے کہ شہر کے دوسری طرف سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا :

{إِنَّ الْمَلَأَ یَأْتَمِرُونَ بِکَ لِیَقْتُلُوکَ } (القصص:۲۰)

’’کہ سرداران قوم تیرے بارے میں باہمی مشورے کررہے ہیں کہ تجھے قتل کردیا جائے۔‘‘

لہذا الأمیر حاکم کوکہتے ہیں :

{إِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُکُمْ} (النساء :۵۸)

’’اللہ تمہیں حکم دیتاہے۔‘‘

الإِمْرَۃ کے معنی حکومت کے ہیں ۔ (تاج العروس،القاموس المحیط)

إمارۃ کے معنی بھی یہی ہیں ۔(تاج العروس ، القاموس المحیط)

الأَمَّارَۃ کے معنی ہیں بہت زیادہ حکم دینے والا ۔

قرآن مجید میں بعض مقاما پر لفظ ’’اَمْرٌ‘‘ خَلْقٌ کے ساتھ میں بھی ہے جیسا کہ قرآن میں ہے :

{أَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ} (الأعراف:۵۴)

’’یادرکھو! اللہ ہی کیلئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا ۔‘‘

اشیاء کی تخلیق کے حوالے سے بھی یہ لفظ قرآن نے استعمال کیاہے۔

{فَإِذَا قَضَی أَمْرًا فَإِنَّمَا یَقُولُ لَہُ کُنْ فَیَکُونُ}(غافر : ۶۸)

’’وہ جس کام کو کرنا چاہتاہے کہہ دیتاہے کہ ہوجا بس وہ وہیں ہوجاتاہے۔‘‘

اشیاء کی تخلیق کے حوالے سے یہ مرحلہ عالم امر کہلاتاہے جس کے بعد عالم خلق کی صورت میں اشیاء محسوس صورت میں ہمارے سامنے آتیں ہیں۔

٭ قرآن مجید میں اس کے درج ذیل مشتقات استعمال ہوتے ہیں :

أمر ، أمرتُ ، أمرتَ ، أمرْنَا، أمروا  آمر ، تأمر ، تأمرون ، تأمرین ، یأمر ، یأمران ، وأمر ، أمرتُ ، أُمرتَ ، أمرنَا ، أمروا، تؤمر ، تؤمرون ، یؤمرون ، الآمرون ، الأمارۃ ، أمّارۃ ، أمر ، الأمور  یأتمرون ، وائتمروا ، إمراً۔

٭ قرآن مجید میں یہ لفظ درج ذیل مفاہیم میں استعمال ہوا ہے۔

۱۔ الدین : دین اسلام

{حَتَّی جَاء َ الْحَقُّ وَظَہَرَ أَمْرُ اللَّہِ } (التوبۃ : ۴۸)

’’یہاں تک کہ حق آپہنچا اور اللہ کا حکم غالب آگیا یعنی اللہ کا دین ۔‘‘

{فَتَقَطَّعُوا بَیْنَہُمْ أَمْرَہُمْ}(المؤمنون:۵۳)

’’پھر انہوں نے خود ہی اپنے دین کے آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیے۔‘‘

{وَتَقَطَّعُوْا أَمْرَہُمْ بَیْنَہُمْ } (الأنبیاء :۹۳)

’’مگر لوگوں نے آپس میں اپنے دین میں فرقہ بندیاں کرلیں۔‘‘

۲۔ قول : کلام یا بات

{اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَہُمْ  أَمْرَہُمْ}(الکہف :۲۱)

’’جبکہ وہ اپنی بات میں آپس میں اختلاف کررہے تھے۔‘‘

{فَتَنَازَعُوا أَمْرَہُمْ بَیْنَہُمْ وَأَسَرُّوا النَّجْوَی}(طہ:۶۲)

’’پس یہ لوگ آپس کے باتوں میں مختلف رائے ہوگئے اور چھپ چھپ کر مشورہ کرنے لگے۔‘‘

۳۔ العذاب : عذاب

{وَقَالَ الشَّیْطَانُ لَمَّا قُضِیَ الْأَمْرُ}(إبراہیم : ۲۲)

’’اور شیطان نے کہا کہ جب عذاب آجائے گا۔‘‘

۴۔ قیامت :

{أَتَی أَمْرُ اللّٰہِ} (النحل : ۱)

’’اللہ تعالیٰ کا حکم آپہنچا یعنی قیامت۔‘‘

۵۔ موت :

{وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْکُمُ الْأَمَانِیُّ حَتَّی جَاء َ أَمْرُ اللَّہِ }(الحدید:۱۴)

’’اور انتظار میں ہی رہے اور شک وشبہ کرتے رہے اور تمہیں تمہاری فضول تمناؤں نے دھوکے میں ہی رکھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آپہنچا یعنی موت آگئی۔‘‘

۶۔تدبرکرنا

{یُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَائِ إِلَی الأَرْضِ}(السجدۃ:۵)

’’وہ آسمان سے لیکر زمین تک ہر کام کی تدبیر کرتا ہے۔‘‘

{یُنَزِّلُ الْأَمْرَ بَیْنَہُنَّ} ( الطلاق:۴)

’’اس کا حکم ان کے درمیان اترتاہے۔‘‘

۷۔ حکم

{إِنَّ اللَّہَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ }

(النحل : ۹۰)

’’بیشک اللہ تعالیٰ عدل واحسان کا حکم کرتاہے۔‘‘

{إِنَّ اللَّہَ یَأْمُرُکُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَی أَہْلِہَا }(النساء:۵۸)

’’بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں حکم کرتاہے کہ امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچا دو۔‘‘

۸۔ گناہ

{فَذَاقَتْ وَبَالَ أَمْرِہَا} (الطلاق:۹)

’’پس انہوں نے اپنے کرتوت کا مزہ چکھ لیا یعنی گناہ کا ۔‘‘

{لِیَذُوْقَ وَبَالَ أَمْرِہِ}(المائدۃ:۹۵)

’’تاکہ وہ اپنے کرتوت کا مزہ چکھ سکے یعنی گناہ کا ۔‘‘

۹۔مدد

{یَقُولُونَ ہَلْ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ مِنْ شَیْء ٍ قُلْ إِنَّ الْأَمْرَ کُلَّہُ لِلَّہِ }(آل عمران :۱۵۴)

’’وہ کہتے ہیں کہ کیا ہمیں بھی کسی چیز کا اختیار ہے (یعنی فتح ونصرت) آپ کہہ دیں کام کُل کاکُل اللہ تعالیٰ کے اختیار کیلئے یعنی (مدد)۔‘‘

{لِلَّہِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ } (الروم:۴)

’’اللہ کی طرف سے یہی ہے مدد پہلے بھی اور بعد میں بھی۔‘‘

۱۰۔فعل یعنی کام (أمور) حادثہ /واقعہ

{أَلَا إِلَی اللَّہِ تَصِیرُ الْأُمُورُ }(الشوری :۵۳)

’’آگاہ رہو کہ تمام کام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹتے ہیں ۔‘‘

{وَمَا أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیدٍ }(ہود:۹۷)

’’اور فرعون کا کوئی حکم درست تھا ہی نہیں۔‘‘

الشیخ شاہ فیض الابرار صدیقی

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago