أَمَرَ : اَمَرَ ، یَأْمُرُ ۔ نَصَرَ ، یَنْصُرُ سے جس کا مطلب بہت زیادہ ہوجانا ۔ (تاج العروس)
أَمْرٌ : سے مراد حکم ہے ۔ ( ابن الفارس)
اور کبھی کبھی اس سے مراد معاملہ ، حادثہ ، واقعہ یا حالت لیا جاتاہے۔( ابن الفارس)
اگر اس سے مراد حکم ہے تو اس کی جمع ’’أوامر‘‘ ہوگی اور اس سے مراد معاملہ ، حادثہ ،واقعہ یا حالت ہوتو اس کی جمع أمور ہوگی ۔ اگر ہمزہ کسرۃ کے ساتھ ہوتو پھر اس سے مراد خلاف عقل سلیم یا خلاف شرع بات مراد ہوتی ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :
’’کہ تم تو بہت ہی عجیب اور منکر بات کو لائے ہو۔‘‘
أَمِرَ باب سَمِعَ : امیر یا حاکم ہونا
ابن فارس نے اس کے بنیادی معنی نشان یا علامت کے بیان کئے ہیں یہیں سے اس کے معنی مشورہ کرنے کے آتے ہیں لہذا ’’اِئْتِمَار‘‘ سے مراد مشورہ کرناہے ۔ لہذا فرعون نے اپنے سرداروں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معاملہ کے متعلق گفتگو کی اور ان سے کہا:
’’سو تمہارا اس بارے میں کیا مشورہ یا رائے ہے۔‘‘
اور اسی طرح سورت قصص میں ہے کہ شہر کے دوسری طرف سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا :
’’کہ سرداران قوم تیرے بارے میں باہمی مشورے کررہے ہیں کہ تجھے قتل کردیا جائے۔‘‘
لہذا الأمیر حاکم کوکہتے ہیں :
’’اللہ تمہیں حکم دیتاہے۔‘‘
الإِمْرَۃ کے معنی حکومت کے ہیں ۔ (تاج العروس،القاموس المحیط)
إمارۃ کے معنی بھی یہی ہیں ۔(تاج العروس ، القاموس المحیط)
الأَمَّارَۃ کے معنی ہیں بہت زیادہ حکم دینے والا ۔
قرآن مجید میں بعض مقاما پر لفظ ’’اَمْرٌ‘‘ خَلْقٌ کے ساتھ میں بھی ہے جیسا کہ قرآن میں ہے :
’’یادرکھو! اللہ ہی کیلئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا ۔‘‘
اشیاء کی تخلیق کے حوالے سے بھی یہ لفظ قرآن نے استعمال کیاہے۔
’’وہ جس کام کو کرنا چاہتاہے کہہ دیتاہے کہ ہوجا بس وہ وہیں ہوجاتاہے۔‘‘
اشیاء کی تخلیق کے حوالے سے یہ مرحلہ عالم امر کہلاتاہے جس کے بعد عالم خلق کی صورت میں اشیاء محسوس صورت میں ہمارے سامنے آتیں ہیں۔
٭ قرآن مجید میں اس کے درج ذیل مشتقات استعمال ہوتے ہیں :
٭ قرآن مجید میں یہ لفظ درج ذیل مفاہیم میں استعمال ہوا ہے۔
۱۔ الدین : دین اسلام
’’یہاں تک کہ حق آپہنچا اور اللہ کا حکم غالب آگیا یعنی اللہ کا دین ۔‘‘
’’پھر انہوں نے خود ہی اپنے دین کے آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیے۔‘‘
’’مگر لوگوں نے آپس میں اپنے دین میں فرقہ بندیاں کرلیں۔‘‘
۲۔ قول : کلام یا بات
’’جبکہ وہ اپنی بات میں آپس میں اختلاف کررہے تھے۔‘‘
’’پس یہ لوگ آپس کے باتوں میں مختلف رائے ہوگئے اور چھپ چھپ کر مشورہ کرنے لگے۔‘‘
۳۔ العذاب : عذاب
’’اور شیطان نے کہا کہ جب عذاب آجائے گا۔‘‘
۴۔ قیامت :
’’اللہ تعالیٰ کا حکم آپہنچا یعنی قیامت۔‘‘
۵۔ موت :
’’اور انتظار میں ہی رہے اور شک وشبہ کرتے رہے اور تمہیں تمہاری فضول تمناؤں نے دھوکے میں ہی رکھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آپہنچا یعنی موت آگئی۔‘‘
۶۔تدبرکرنا
’’وہ آسمان سے لیکر زمین تک ہر کام کی تدبیر کرتا ہے۔‘‘
’’اس کا حکم ان کے درمیان اترتاہے۔‘‘
۷۔ حکم
(النحل : ۹۰)
’’بیشک اللہ تعالیٰ عدل واحسان کا حکم کرتاہے۔‘‘
’’بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں حکم کرتاہے کہ امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچا دو۔‘‘
۸۔ گناہ
’’پس انہوں نے اپنے کرتوت کا مزہ چکھ لیا یعنی گناہ کا ۔‘‘
’’تاکہ وہ اپنے کرتوت کا مزہ چکھ سکے یعنی گناہ کا ۔‘‘
۹۔مدد
’’وہ کہتے ہیں کہ کیا ہمیں بھی کسی چیز کا اختیار ہے (یعنی فتح ونصرت) آپ کہہ دیں کام کُل کاکُل اللہ تعالیٰ کے اختیار کیلئے یعنی (مدد)۔‘‘
’’اللہ کی طرف سے یہی ہے مدد پہلے بھی اور بعد میں بھی۔‘‘
۱۰۔فعل یعنی کام (أمور) حادثہ /واقعہ
’’آگاہ رہو کہ تمام کام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹتے ہیں ۔‘‘
’’اور فرعون کا کوئی حکم درست تھا ہی نہیں۔‘‘
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…