زندگی کے مختلف مراحل میں جب کوئی شخص مختلف اقسام کے مصائب اور مشکلات میںگھر جاتا ہے یا مسائل ومصائب کا حل حسب منشاء نہیںنکلتاتو شدید دکھ اور رنج کی کیفیت میں خود کشی جیسا انتہائی قدم اٹھانے سے بھی گریزنہیںکرتاکیونکہ وہ اپنے اندرمزید ناکامیوں کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیںپاتا۔ اس نامناسب اقدام کو کسی بھی سماج و معاشرہ میں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتااسلام بھی اس عمل کو حر ام قرار دیتا ہے ۔ ایسا کرنے والوں کا ٹھکانہ سوائے جہنم کے اور کہیں نہیں ہے جب کہ ملکی قانون میں یہ اقدام بذات خود کوئی برا نہیں ہے اور نہ قابل مواخذہ ہے کیوں کہ ہر شخص اپنی ذات کا مالک ہے اور وہ اس میں تصرف کرنے کا پورا اختیار رکھتا ہے البتہ اقدام خود کشی کو ضرور جرم قرار دیاگیا ہے ۔
اس حوالے سے تو کوئی اختلاف نہیںپایا جاتا لیکن اگر کوئی شخص کسی لا علاج بیماری میںمبتلا ہو یا عمرکے کسی بھی حصے میں لاعلاج اور مہلک بیماری میں مبتلا ہو جائے حتٰی کہ اپنی ذاتی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر ہو جاتا ہے اور تکلیف انتہا درجے کی ہو کہ مریض تو کجا لو احقین اور احباب دیکھ کر شدید اذیت میں مبتلا رہتے ہیں۔ اسی طرح بعض مریضو ںکی تکلیف کی شدت کم کرنے کے لئے دوا اور آلات کے ذریعہ مستقل طور پر بے ہوشی میںرکھا جاتا ہے ۔اس صورت میںاگر ان تدبیروں کو بروئے کار نہ لایا جائے تومریض کا زندہ رہنا مشکل ہو جاتا ہے اور اس کی تکلیف میںاضافہ ہوجا تا ہے ۔ ایسے وقت میںمریض خودیا اسکے قریبی رشتہ دار چاہتے ہیں کہ ایسے مریض کا زندہ رہنانہ رہنے کے برابر ہے تو کیوںنہ اسے مناسب تدبیر کے ذریعہ موت کی آغوش میں پہنچادیا جائے ۔ اس طرح سے مریض کو بھی ناقابل برداشت تکلیف سے نجات مل جائے گی اور ان کے احباب کو بھی پریشانیوں سے چھٹکارا مل جائے گا جو مریض کی دیکھ بھال اوراس کی خدمت کی وجہ سے ہو تی ہے ۔ اس عمل کو جدید علم ِطب میں قطع حیات بہ جذبہ رحم کہا جا تا ہے۔ جس کے لئے Mercy killingکی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ ایک تیسری نوعیت جو سمجھ میںآتی ہے وہ یہ کہ مریض پیدائشی طور پر یا وقتی طور پر کسی جان لیوا بیماری میںمبتلا ہے مثلا دماغی بخار ، پولیو، نمونیہ ، کینسر ، یا شدیدبڑھاپا اپاہج وغیرہ جو بذات خود مہلک اور تکلیف دہ بیماریاںہیں ، جن کا ڈاکٹروں کی تشخیص کے مطابق کو ئی علاج نہیں۔ ایسی صورت میں وہ کسی دوسری بیماری میں مبتلا ہو جا تا ہے تو ایسی صو رت میں اس نئی بیماری کا علاج سے شفا یا بی کے با وجو د اس کی صحت پر کوئی خا ص اثر پڑنے والا نہیںہے۔
مغربی طریقہ علاج میں ایسے مریض کو مناسب طریقہ سے قبل از وقت مار دیا جا ئے تاکہ وہ اپنے لئے اور اپنے لواحقین کے لئے مزید پریشانی اور اذیت کا سبب نہ بنے ۔ اس کا آغاز بھی ایک انگریز ڈیرک ہیمرے نے ۱۸۸۰م میں کیا جب اس کی بیوی نے ایسے کسی لاعلاج مرض میں مبتلا ہو کر خود جان دے دی تھی اس کے بعد ڈیرک اس فکر کا داعی بن گیا اور ڈیرک نے جس فکرکی وکالت اور حمایت کی ہے وہ یہ کہ تکلیف دہ بیماری کی تکلیف کم کرنے کے لئے اور اس کی سانس کو برقرار رکھنے کے لئے جوادویہ یا آلات استعمال کیے جاتے ہیں وہ روک لئے جائیں اور اس کی دوا بند کردی جائے تا کہ مریض سکون سے دنیا سے رخصت ہو جائے ۔
اس عمل کو بروئے کار لانے میں حرج ہی کیاہے؟
مذکورہ تفصیلات کی روشنی میںغور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس عمل کو بروئے کار لانے میں لاعلاج اور شدید تکلیف میں مبتلا مریضوں کے ساتھ انتہائی ہمدردی کاپہلومضمرہے تاکہ نہ مریض زیادہ تکلیف اور پریشانیوں سے دو چار ہو اور نہ اس کے متعلقین اس کے علاوہ اس کے علاج پر جو روپے خرچ ہورہے ہیں وہ بھی محفوظ رہ سکیں۔ اگر مریض یا اس قریبی متعلق کی مرضی سے اس عمل کو بروئے کار لایا جائے تو بظاہر اس میں کیا قباحت ہے؟
کیا اسلام اس عمل کی اجازت دیتا ہے؟
لیکن اسلامی پہلو سے اس معاملہ پر اگر غور کیا جائے تو معلو م ہوتا ہے کہ اگر اسلام میںاس کی اجازت ہوتی تو پھر وہ خود کشی جیسے اقدام کو ناجائز اور حرام نہ ٹھہراتا۔ خو د اختیاری موت اور خود کشی کے مفاسد معاشرے پر ایک ہی جیسے مرتب ہوتے ہیں۔ اس صورت میںمسلمانوںکو اس پر عمل کرنے کی اجازت ہوگی یا نہیںیہ ایک اہم مسئلہ ہے جس کا حل تلاش کیا جانا از حد ضروری ہے ۔ کیوںکہ شریعت الٰہی کا کردار ایک شفیق طبیب کی طرح جو مریض کی حالت ،عادت مرض کی قوت اور ضعف کے تقاضے کے مطابق مریض کو مرض کی اصلاح پر آمادہ کرتا ہے ، یہاں تک کہ جب مریض کی صحت مستقل ہو جاتی ہے تو اس کے لئے ایک معتدل لائحہ عمل تجویز کردیتا ہے جو اس کی تمام حالتوں کیلئے مناسب ہوتا ہے۔
اس سلسلہ میں اسلام کا موقف کیا ہے اس کے جاننے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ہم اس مسئلہ پر غور کریںکہ اسلام میںانسان کی جان کی کیا قدر وقیمت ہے اور کسی بندہ کو اپنی جان کے ختم کرنے کا حق حاصل ہے یا نہیں؟ اسی کے سا تھ یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ جب کوئی انسان بیمار پڑتا ہے تو اس بارے میں مریض، اسکے رشتہ دار اور ڈاکٹروں کا کیا فرض بنتا ہے۔ اسکے بعد بآسانی فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ اسلام اس کی اجازت دیتا ہے کہ نہیںاور اگر دیتا ہے تو کیوںاور اس میںکون سی مصلحت مضمر ہے؟
زندگی اللہ کی طرف سے عطا کی ہوئی ایک امانت ہے
انسان دنیا میںآتا ہے تو پہلے اسے بڑے دشوار مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ۔ نو ماہ مادرشکم میں رہتا ہے جو ایک طرح سے اس کی دنیا ہوتی ہے ۔ پھر وہ ایک خاص وقت میں کٹھن مرحلہ سے گزر کر اس دنیا میں آتا ہے اس وقت نوزائیدہ بچے پر کیا گزرتی ہے وہ وہی جانتا ہے مگر وہ اس تکلیف کابعد میں اظہار نہیںکرسکتا اسی طرح اس کی ماںکی جو حالت ہوتی ہے ۔ اسکا ذکر قرآن مجید میںاس طرح کیا گیا ہے:’’پیٹ میںرکھا اس کی ماںنے اسکو اور جنا اسکو تکلیف سے۔‘‘ ( احقاف :۱۵)
یہ مشیت خدا وندی ہے کہ تکلیف کے باوجود عورت دوسرا بچہ جننے کیلئے عمرکے ایک خاص حصے تک تیار رہتی ہے، ورنہ اس تکلیف کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ ایک بچہ جننے کی تکلیف کا تصور کرکے آئندہ دوسرا بچہ پیدا کرنے کے لئے تیار نہ ہو ، یہی وجہ ہے کہ اس حالت میںکسی کی موت ہوجاتی ہے تو وہ شہادت کی موت قرار دی گئی ہے ۔ جیساکہ اللہ کے رسول ﷺنے فرمایاکہ ـ ولامرأۃ تموت بجمع شہیدپیدائش کے بعد سے لیکربچہ کے ہو ش سنبھالنے تک اسکی بڑی حفاظت کی جاتی ہے۔ اگر بچہ کو ہلکی سی بھی تکلیف ہوتی ہے۔ تو ماںتڑپ اٹھتی ہے۔ اور اسکی بے چینی اسے سکون سے رہنے نہیںدیتی اس سے معلوم ہوا کہ بظاہر بچہ کی دیکھ بھال اور اسکی حفاظت والدین کرتے ہیں مگر در حقیقت اسکی ساری نگہبانی خدائے عزوجل کررہاہے۔ جس نے اسے عدم سے وجود بخشا ہے ایسی صورت میںانسان کی جان کا مالک بھی خدا ہی ہے۔ جس نے اسکو پیدا کیا اور وہی اسکی جان ختم کرنے کا بھی اختیار رکھتا ہے ۔ اگر کوئی اسکے عطا کردہ وجود میں خلل ڈالتا ہے یا اسکو ہلاک کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ عنداللہ مجرم ہے۔
زندگی اور اسکے مسائل کے بارے میںاسلام کا نقطئہ نظر موجو دہ مغربی اور ہندووانہ نقطئہ نظر سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ وہ اس دعویٰ ہی کو تسلیم نہیںکر تا کہ انسان اس دنیا میںکسی بھی چیز کا حتٰی کہ اپنی ذات کا مطلق مالک ہے اور وہ اس میںاپنی آزاد مرضی سے تصرف کرسکتا ہے ۔ اسکے نزدیک یہ پوری دنیا اللہ تعالی کی پیداکردہ ہے اور وہ اسے چلا رہا ہے اس لئے وہی اسکا حقیقی مالک بھی ہے اس دنیا میں انسان خود سے نہیں ٓٓآیا بلکہ اللہ تعالی نے اسکو وجود بخشا ہے اور اسی نے اسکے لئے سامان زیست فراہم کیا ہے اسلئے وہی اسکی ذات پر مالکانہ اقداربھی رکھتا ہے۔ انسان اپنی ذات یا اپنے کسی اقدام کے بارے میںکوئی آزادانہ فیصلہ نہیں کرسکتا ورنہ اسکی حیثیت اس مجرم کی ہوگی جو دوسرے کی چیزوں کو اپنی مرضی سے استعما ل کرے اور ان کے بارے میںفیصلے صادر کرتا پھرے اسکا مطلب یہ ہے کہ انسان کو یہ فیصلہ کرنے کا حق ہی نہیںہے کہ اسے کب تک دنیا میں رہنا ہے اور کب یہاںسے کوچ کرنا ہے جس نے زندگی دی ہے وہی فیصلہ کرے گا کہ زندگی کب واپس لی جائے گی ۔
اللہ کے نزدیک کسی انسان کی جان کتنی محترم ہے اور اسکا اس دنیا میںآناکتنا ضروری ہے اسکا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ زمانہ جاہلیت میںلوگ تنگ دستی کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل کردیتے تھے تاکہ وہ اسکی پرورش کے بوجھ سے آزاد رہیں۔ مگراسلام نے نہ صرف اسکی مخالفت کی بلکہ اس فعل کو حرام قرار دیا اور فرمایا :
(اور نہ قتل کرو اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے ہم ہی روزی دیتے ہیںانکو اور تم کو بھی ، بے شک انکا مارنا بڑی خطا ہے)(بنی اسرائیل :۳۱)
ایک اور مقام پر اسی بات کو اس طرح بیان کیا گیا ہے۔
’’اور اپنی اولادوں کو مال میںکمی کے خوف سے قتل نہ کرو ہم انکو بھی رزق دیتے ہیںاور تم کو بھی ۔‘‘ (انعام ـ:۵۱)
دونوںآیتوںمیںالگ الگ دو لوگوںکو خطاب کیا گیاہے۔ ایک وہ ہے جو فی الحال مفلس تو نہیںمگر ڈرتے ہیںکہ جب عیال زیادہ ہوگئے تو کہاں سے ان کو کیا کھلائیں گے جب کہ دوسرے طبقہ کو عیا ل سے پہلے اپنی روٹی کی فکر ستارہی تھی اسلئے ایک جگہ’’ خشیۃ املاق‘‘اور دوسری جگہ میںاملاق کے ذریعہ خبردار کیا گیا کہ تم کو رزق کے بارے میںفکر مند ہونے کی ضرورت نہیںہے ہم انکو بھی رزق دیںگے اور تم کو بھی ـــاگر کوئی آدمی کثرت اولاد کے بوجھ سے چھٹکارا پانے کے لیے بچے کو وجود میںآنے سے قبل ہی ماںکے شکم میںتلف کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسلام اس عمل کو حرام ٹھہراتا ہے یا پھر سرے سے ہی کوئی شخص یہ چاہے کہ عورت دوسرا بچہ ہی نہ جنے اور اسکے لیے وہ احتیاطی تدابیر عمل میںلاتا ہے تو اس عمل کو بھی اسلام نے اچھا قرار نہیں دیا ہے اس طرح کے بہت سے احکا م قرآن و حدیث اور فقہ اسلامی میںملتے ہیںجن سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جس خالق نے مفلسی کے عالم میں کسی کو وجود بخشا ہے تو وہی اس کو رزق بھی فراہم کرتا ہے۔ لہذا اسے ہی اختیارہے کہ کب کسی کی جان لینی ہے انسان کے ذمے یہ ہے کہ وہ اسکی حفاظت کرے اور اس میں کوئی تصرف نہ کرے ۔
کوئی بیماری ایسی نہیں جس کا علاج نہ ہو :
اللہ تعالی نے انسان کو پیداکیا تو ساتھ ہی اسکے دکھ، درد، آلام ومصائب کے علاوہ راحت و سکون اور صحت و تندرستی کو بھی اسکی زندگی کا اہم حصہ بنایا ، جب کبھی انسان بیمار پڑجاتا ہے تو بعض اوقات یہ بیماری بغیر دوا و علاج کے چند روز کے بعد خو د ہی ختم ہو جاتی ہے، اورآدمی صحت یا ب ہو جا تا ہے ۔ اسی طرح بعض وقت بیماری میںشدت ہوتی ہے اور تکلیف بھی تو بغیر دوا اور ڈاکٹروں کی مدد کے اس اس کی بیماری ختم نہیں ہوتی تھوڑی سی حفاظت اور علاج وپرہیز اسے تندرست وتوانا بنا دیتاہے اورذراسی بے تو جہی اس کی زندگی کو خطرہ میںڈال دیتی ہے۔ ایسی صورت میں انسان کا فرض ہے کہ وہ اپنی جان کی حفا ظت اور تندر ست رکھنے کے لئے مناسب ادویہ اور تدابیر اختیار کرے اگر وہ ایسا نہیںکرتا اور اسکی وجہ سے اس کی جان کو کوئی خطرہ پہنچتا ہے تو وہ عند اللہ گنہگار ہوگا،کیونکہ صحت وتندرستی کو برقرار رکھنے کے لئے اللہ تعالی ٰنے ایسی کوئی بیماری نہیںاتاری ہے جس کا اس نے تریاق یا اسکی دوانہ پیدا کی ہو اللہ کے رسول ا فرماتے ہیںـکوئی ایسی بیماری نہیں اتاری اللہ تعالیٰ نے جس کی شفا نہ پیدا کی ہو ۔
ایک دوسری حدیث میںاللہ کے رسو ل نے بیمار لوگوںکو علاج کرنے اور دوا کی اہمیت کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا ـاس ذات نے دوا بھی اتاری ہے جس نے بیماریاںاتاری ہیں ۔
اللہ تعالی نے انسان کو پیدا کیا اور اسکی زندگی کا ایک عنصر صحت وتندرستی اور بیماری کو بھی بنایا اور بیماری کے ساتھ اس نے دوا بھی پیدا کی تاکہ وہ اس کو استعمال کرکے تندرست ہو جائے مگر بعض وقت مریض اپنی صحت کے لئے جو دوا تجویز کرتا ہے وہ دوا تو ٹھیک ہوتی ہے مگر وہ اپنا اثر نہیںدکھاتی اور بے اثر ہو کر رہ جاتی ہے جس سے انسان کی زندگی خطرے میںپڑجاتی ہے۔
جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے دوا کے با اثر ہونے کے متعلق فرمایا ہے:
ہر مرض کی دوا ہے جب دوا لگ جا تی ہے تو اللہ کے حکم سے صحت ہو جاتی ہے ۔
اسی لئے فقہا نے لکھا ہے کہ صحت کی بحالی کے لئے دوا کرنا مباح ہے ، بشرطیکہ اعتماد یہ ہو کہ شفا ء دینے والا اللہ ہے اور اگرصرف یہ اعتقاد ہوکہ دوا ہی شافی ہے تو جائز نہیں ہے ۔
معالج کا با خبر اور تجربہ کار ہونا ضروری ہے
اسلام نے صحت کی حفا ظت کے لئے تجربہ کار اور علم رکھنے والے ڈاکٹروں سے رجو ع کرنے حکم دیا ہے کیونکہ حاذق طبیب ہی مریض کی صحت کو اچھی دوا کے ذریعہ بر وقت بحال کر سکتا ہے اور وہ یہ را ئے دے سکتا کہ کون سی چیز اس کو تندر ست رکھنے میں مفید ہو سکتی ہے اور کون سی غیر مفید چنانچہ ایک روا یت میں آتاہے کہ جس کے راوی حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ ہیں ، وہ فرماتے ہے کہ میںبیمار ہوا تو اللہ کے رسول ا عیادت کے لئے تشریف لائے، میرے سینہ پر دست مبارک رکھا ، میں نے اپنے قلب کے اندر اسکی ٹھنڈک محسوس کی، آپ انے فرمایا :تمہیں دل کی شکا یت ہے تم قبیلہ ثقیف کے حارث بن کلدہ کے پاس جائو وہ اس مرض کا علاج کرتا ہے ، اس تکلیف میں آدمی کو مدینہ کے سات اچھی قسم کے چھو ہا رے گٹھلیوں سمیت کٹو اکر پھانکتے رہنا چاہئے ۔
آپ ﷺنے نہ صرف جان کار اور تجربہ کار ڈاکٹروں سے علاج کرنے کا حکم دیا بلکہ ساتھ میں آپ نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ نا وا قف اور نا تجربہ کار طبیب سے علاج نہیں کرانا چا ہئے، اس سے نہ صرف صحت خراب ہوتی ہے بلکہ جان کے ہلا ک ہونے کا پورا پورا خطرہ رہتا ہے ، اس لئے اللہ کے رسول ﷺ نے ناواقف ڈاکٹروں کو بھی خبر دار کیا ہے کہ بغیر صحیح جانکاری کے کسی کا علاج نہیں کرنا چاہئے ۔ طب کو اچھی طرح نہ جاننے کے باوجو د جس نے علاج کیا اور اس سلسلہ میں وہ متعارف نہیں تھا تووہ کسی بھی نقصان کا ضامن ہوگا ۔
ایک دوسری حدیث میں آپ ، ﷺنے فرمایا کہ : جس شخص کا پہلے سے طبیب ہونا معلوم نہیںتھا اس نے لو گوں کا بہ تکلف علاج کیا اور نقصان پہنچایا تو وہ نقصان کاضامن ہو گا ۔ (جاری ہے )
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…