وجودالٰہ کی تکفیر اور نبی الرحمن سے تنفیر جب حد درجہ بلوغت پاگئی اور سفینۃ الذنوب بحر المعاصی میں مثیل جبل جا بنی تو استھزأً نوح علیہ السلام سے کہنے لگے ـ:اے نوح علیہ السلام کیا نبوت چھوڑ کر نجاریت اختیار کرلی ہے؟ اور یہ کشتی جو تو تیار کرررہا ہے خشکی میں تیرائے گا؟ نوح علیہ السلام جو ساڑھے نو سو برس سے دعوت دے رہے تھے بڑے حوصلے وہمت سے ان متکبر ِ،متنفر ،مغرور اور متذنب افراد کی نفی کرتے ہوئے اور مؤمنین کو تسکین ،راحت ، اطمینان اور توکل علی اللہ کا درس دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
’’اس کشتی میں سوار ہوجاؤ اللہ ہی کے نام سے اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے یقینا میرا رب بڑی بخشش اور بڑے رحم والا ہے۔‘‘
قارئین کرام ! یہ وہ اسم اللہ ہے کہ جس سے انسان اپنے ظاہری اعمال میں تسھیل وتیسیر اور باطنی افعال میں تسکین واطمینان محسوس کرتا ہے اور شرور الناس والجنات سے محفوظ اور شیاطین کی تذلیل وتزجیر کا سبب بنتا ہے ۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ارشاد ہے ۔
سیدنااسامہ بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ جو نبی کریم ﷺ کے ہمراہ اونٹنی پر سوار تھے ارشاد فرماتے ہیں کہ : اونٹنی ذرا سی پھسلی تو میں نے کہا ستیا ناس ہو شیطان کا تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ نہ کہو اس سے شیطان پھولتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ اس نے اپنی قوت سے گرایا ہے ۔ ہاں بسم اللہ کہنے سے وہ مکھی کی طرح ذلیل وپست ہوجاتا ہے ( رواہ احمد ۵؍۵۹ وسندہ صحیح شیخ البانی رحمۃ اللہ نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے دیکھئے (صحیح الترغیب :۳۱۴۹)اور تفسیر ابن کثیر (اردو)جلد ۱،صفحہ ۴۴ )اور امام نسائی نے اپنی کتاب ’’ الیوم واللیلۃ ‘‘ میں بیان کیا ہے کہ بسم اللہ کہہ یہ بسم اللہ کی برکت ہے ۔ (النسائی فی الکبری :۶؍ ۴۲ ۱ اور تفسیر ابن کثیر صفحہ ۴۴)
جیساکہ قرآن مجید میں سلیمان علیہ الصلاۃ والسلام کے خط کے بارے میں ہے کہ جب بلقیس نے اس میں مکتوب {إِنَّہُ مِنْ سُلَیْمَانَ وَإِنَّہُ بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } (النمل ۳۰)پڑھاتو اس کے قلب پر ابر رحمت نے بارش برسائی تو دوسری ہی دعوت پر وہ مشرف بااسلام ہوگئی :
بقولِ شاعر :
کر ابتداء اذکر اسم اللہ
وہی رحمن الرحیم ہے تنہا
وسعت ہے رحمت اسکی سب پر
جس لب نے اسم الٰہ ہے پڑھا
۱۔ہر سورت کی ابتداء میں بسم اللہ
نبی کریم ﷺجب غار حرا میں مشغول عبادت تھے تو یکدم غارکی تاریکی میں ایک فرشتہ نمودار ہوا اور کہنے لگا : ’’اِقْرَأْ‘‘تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ماانا بقاری ‘‘ اس نے آپ کو سینے سے لگایا اور پھر کہا اور آپ نے پھر وہی دہرایا اور یہ تین مرتبہ ہوا پھر چوتھی بار اس نے کہا ’’ اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَقَ‘‘(سورۃ العلق :۱) پڑھیے اپنے رب کے نام ساتھ جس نے تخلیق کیا ۔اور پھر آپ نے پڑھنا شروع کیا۔(فتح الباری شرح صحیح بخاری حدیث نمبر۳ جلد ۱ کتاب بدء الوحی باب : ۳)
امام القرطبی رحمہ اللہ ارشاد فرماتے ہیں کہ: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکََ‘‘یعنی پڑھیے قرآن میں سے جو آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے ۔اپنے رب کے نام سے ابتداء کریں اور (بسم اللہ )کی ہر سورت کی ابتداء میں تذکیر کریں ۔ (الجامع الاحکام القرآن القرطبی جلد ۲۰؍۱۱۹)
۲۔ گھر سے نکلتے وقت بسم اللہ !
’’(میں اس گھر سے )اللہ کے نام کے ساتھ (نکل رہاہوں )میں نے اللہ پر بھروسہ کیا اور اللہ کی توفیق کے بغیر گناہ سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت ۔‘‘
۳۔گھر میں داخل ہوتے وقت بسم اللہ!
’’اے اللہ میںتجھ سے گھر میں داخلے کی اور گھر سے باہر کی بھلائی کا سوال کرتا ہو۔اللہ کے نام کے ساتھ ہم (گھر میں )داخل ہوئے اور اللہ کے نام کے ساتھ ہم نکلے اور اپنے رب پر ہی ہم نے توکل کیا ۔(پھر سلام کہیے)۔
۴۔مسجد میں داخل ہوتے وقت بسم اللہ !
’’اللہ کے نام کے ساتھ ( ہی نکلتا ہوں) اور صلوٰۃ وسلام ہو رسول اللہ ﷺ پر اے اللہ! میرے لئے تو اپنی رحمتوں کے دروازے کھول دے ۔‘‘
۵۔ مسجد سے خارج ہوتے وقت بسم اللہ ’’بسم اللہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ اللہم انی اسئلک من فضلک اللہم اعصمنی من الشیطان الرجیم ۔‘‘ (ابوداؤد ، دیکھئیے صحیح الجامع : ۴۵۹۱ ، ابن السنی حدیث نمبر : ۸۸ الالبانی نے اسے حسن کہا ہے ، ابوداؤد :۱/۱۲۶ دیکھئے صحیح الجامع ۱/۵۲۸ ، مسلم ، ۱/۴۹۴ اور ( اللہم اعصمنی من الشیطان الرجیم)کے الفاظ ابن ماجہ کے ہیں صحیح ابن ماجہ ۱/۱۲۹ )
’’ اللہ کے نام کے ساتھ (میں نکلتاہوں) اور صلوٰۃ وسلام ہو رسول اللہ ﷺ پر ۔ اے اللہ ! یقینا میں تجھ سے تیرا فضل مانگتاہوں ۔ اے اللہ! مجھے محفوظ فرمادے شیطان مردودسے۔‘‘
اور اسی طرح کھانا کھانے سے پہلے ، ذبح کرتے وقت ، سواری پر سوار ہوتے ہوئے اور اگر پھسل جائیں ، بیت الخلاء میں داخل ہونے سے پہلے ، وضو کرنے سے پہلے اور جماع سے پہلے بسم اللہ پڑھنا مسنون ہے۔ (درج بالا اذکار ’’حصن المسلم ‘‘ سے ماخوذ ہیں)
٭ کیا بسم اللہ قرآن حکیم کی آیت ہے ؟
یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کتاب اللہ کی ابتداء اس سے کی اور علماء کا اتفاق ہے کہ یہ سورۃ النمل کی بعض آیات میںسے ہے یعنی {إِنَّہُ مِنْ سُلَیْمَانَ وَإِنَّہُ بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } (النمل ۳۰)
٭ کیا بسم اللہ قرآن مجید کی ہر سورت کی آیت ہے ؟
محمد بن علی بن عبد اللہ الشوکانی رحمہ اللہ ارشاد فرماتے ہیں :’’ولا خلاف أنہا آیۃ فی اثنا سورۃ النمل ، ولا خلاف فی اثباتہا خطا فی اوائل السور فی المصحف إلا فی اول سورۃ التوبۃ واما التلاوۃ فلا خلاف بین القراء السبعۃ فی اول فاتحۃ الکتاب وفی اول کل سورۃ إذا ابتداء بہا القاری ما خلا سورۃ التوبۃ ۔‘‘ (نیل الأوطار شرح منتقی الأخبار ، اعداد وتحقیق : عبد المنعم ابراہیم جلد ۳ ، ص/۱۱۵۵ )
’’اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ یہ سورۃ النمل کی بعض آیت ہے اور اس اثبات میں بھی کسی کا اختلاف نہیں کہ یہ مصحف کی ہر سورۃ کی ابتداء میں لکھی جاتی ہے سوائے سورئہ التوبۃ کے اور جہاں تک تلاوت کا تعلق ہے تو قراء السبعۃ میں کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ یہ سورۃ الفاتحہ اور دوسری تمام سورتوں سوائے توبہ کی ابتداء میں پڑھی جائے۔‘‘
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :
’’اور یہ جمہور علماء کا قول ہے کہ بسم اللہ قرآن کی مفرد آیت ہے نہ کہ ہر سورت کی اور اسے نماز میں سرًّا پڑھا جائے گا۔‘‘
الامام محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ ارشاد فرماتے ہیں :’’والصحیح انہا لیست من آیاتہا ولا من غیر الفاتحۃ ، بل ہی آیۃ مستقلۃ۔‘‘ (الشرح الممتع ج/۳ ، ص/۵۷)
’’اور صحیح یہ ہے کہ یہ فاتحہ کی آیت نہیں ہے اور نہ ہی غیر الفاتحہ کی بلکہ یہ مستقل آیت ہے۔‘‘
اگر کوئی شخص یہ دلیل دے کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے جب وہ اونگھ رہے تھے پھر ایک دم مسکراتے ہوئے سراٹھایا پس ہم نے کہا : اے رسول اللہ ﷺ کس شے نے آپ کو ہنسایا ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ابھی مجھ پر ایک سورت اتری ہے ۔ پس پڑھنے لگے : {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ ٭ إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ ٭ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ ٭ إِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الْأَبْتَرُ } پھر کہا کیا جانتے ہو الکوثر کیا ہے ؟ پس ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول جانے … ۔‘‘ (رواہ مسلم )
اور اس سے اثبات دے کر بسم اللہ ہر سورت کی آیت ہے تو ہم کہیں گے کہ آپ کی دلیل تو صحیح ہے مگر استدلال خطأ ہے کیونکہ اس بات میں کوئی شک نہیں بلکہ امت کا اجماع ہے کہ سورت الکوثر کی تین آیات ہیں نہ کہ چار اور اگر ہم اسے تسلیم بھی کرلیتے ہیں تو بھی اثبات نہیں ہوتا کیونکہ جب پہلی وحی کا نزول ہوا تو اس میں بسم اللہ نازل نہیں ہوئی بلکہ ابتداء {اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَقَ} (العلق:۱) سے ہوئی ہے ۔ اور اسی طرح سورت الملک کی تیس آیات جس کے شروع میں بسم اللہ نہیں پڑھی۔ واللہ اعلم (صحیح الترمذی ، حدیث نمبر :۲۳۱۵ حسن ، التعلیق الرغیب ۲/۲۲۳ ، المشکاۃ :۲۱۵۳)
٭ فاتحۃ الکتاب کی کتنی آیاتیں ہیں ؟
اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا ہے کہ
’’یقینا ہم نے آپ کو سات آیات دے رکھی ہیں جو دہرائی جاتی ہیںاور عظیم قرآن بھی دے رکھا ہے۔‘‘
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : نہ تورات میں اور نہ ہی انجیل میں مثیل ام القرآن ہے کوئی ، اور یہ ہی السبع المثانی ہے اور یہ ہی ہے کہ جسے رب تعالیٰ نے تقسیم کیا ہے اپنے اور بندے کے درمیان۔‘‘ (رواہ ابن حبان، حدیث نمبر :۷۷۵، ج/۳ ، اسنادہ صحیح علی شرط مسلم)
ابو سعید ابن المعلی رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے ہیں اور پھر ارشاد فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ‘‘ یہ ہی السبع المثانی ہے جو مجھ پرنازل ہوئی اور قرآن العظیم ہے۔‘‘ (النسائی ، حدیث نمبر :۸۷۶ ، صحیح ابی داؤد ، ج/۱، ص/۱۳۱۱)
٭ کیا بسم اللہ فاتحۃ الکتاب کی آیت ہے ؟
ابو زکریا عبد السلام بن عبد الرؤف الرستمی حفظہ اللہ ارشاد فرماتے ہیں کہ :’’اس میں نو اقوال ہیں :
۱۔یہ سورئہ فاتحہ کی آیت ہے اور دوسری تمام سورتوںکی اور یہ مشہور مذہب امام شافعی ، الثوری ، عبد اللہ بن مبارک رحمہم اللہ تعالیٰ کا ہے ۔
۲۔یہ مطلقاً کوئی بھی آیت نہیں ہے اور اسے امام مالک رحمہ اللہ نے اختیار کیا ہے۔
۳۔یہ صرف فاتحہ کی آیت ہے اسے بعض شافعیہ نے اختیار کیا ہے ۔
۴۔یہ قرآن کی مستقل آیت ہے نہ کہ فاتحہ اور دوسری سورتوں کی اور اسے اختیار کیا حنفیہ کے متأخرین اور قراء المدینہ اور بصرہ نے اور وہ ان کے نزدیک بالکل صحیح ہے۔
۵۔ یہ بعض آیت ہے ہر سورت کی۔
۶۔یہ سورئہ فاتحہ کی آیت ہے اور جزء ہے اور دوسری سورتوں کی جزء ہے۔
۷۔اس کے برعکس ہے۔
۸۔یہ بعض آیت ہے فاتحہ کی فقط۔
۹۔یہ کہ جائز ہے اسے آیت بنانا بعض سورتوں کی اور نہ بھی بنانا اس دلیل پر کہ یہ کبھی سورتوں کی ابتداء میں نازل ہوئی اور کبھی نازل نہ ہوئی۔
اور اسی پر امام السیوطی رحمہ اللہ تفسیر البیضاوی کے حواشی میں راضی ہوئے ہیں۔ (البیان فی ام القرآن ، مؤلف عبد السلام رسمتی ، صفحہ : ۲۴)
یہ وہ اقوال ہیں جن پر بسم اللہ کا مسئلہ مبنی ہے اور اس کی اساس تین اقوال پر ہے۔
۱۔ قول إمام الشافعی رحمہ اللہ تعالیٰ
۲۔قول إمام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ
۳۔قول إمام أبی حنیفہ رحمہ اللہ اہل البصرۃ اور اہل المدینہ کے قول پر اور اسی پر جمہور کا اتفاق ہے۔
اب ان کے دلائل اور استدلالات پر مفصلا اور مجملا نظر ڈالتے ہیں۔
مذہب الأول : امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے متبعین کے استدلالات پر نظر :
۱۔ ام سلمۃ رضی اللہ عنہا أن رسول اللہ ﷺ قرأ فی الصلاۃ بسم اللہ الرحمن الرحیم فعدّہا آیۃ ،وَ الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ( آیتین) الرحمن الرحیم ( ثلاث آیات ) ۔‘‘ (مختصر استدراک الحافظ الذہبی علی مستدرک ابی عبد اللہ الحاکم ، تحقیق ودراسۃ عبد اللہ بن حمد اللحیدان ، مجلد /۱ ، حدیث نمبر/ ۴۵)
ام سلمہ رضی اللہ عنہا ارشاد فرماتی ہیں کہ بیشک رسول اللہ ﷺنے نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی اور اسے آیت شمار کیا اور الحمد للہ رب العالمین ( دو آیتیں) ہیں الرحمن الرحیم تیسری آیت ہے ۔‘‘
تخریج : حاکم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سند میں مذکور راوی عمر بن ہارون اصل فی السنۃ ، اور صحیحین نے اس سے روایت نہیں کیا ہے ، امام الذہبی کہتے ہیں اس کے ضعفت پر اجماع ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ متروک ہے ۔ اسے روایت کیا ہے البیہقی نے (۲/۴۴) ابن خزیمۃ (۱/۲۴۸۔۲۴۹) حدیث : ۴۹۳، دار القطنی نے (۱/۳۰۷، حدیث :۲۱) اور الطحاوی نے شرح معانی الآثار میں (۱/۱۹۹) عبد اللہ بن حمد اللحیدان فرماتے ہیں کہ جو پیچھے بیان کیا ہے کہ حدیث حاکم کی سند سے ضعیف جداً ہے ، اور جبکہ طحاوی کے اسناد فقط ضعیف عنعنۃ کی وجہ سے اور ابن جریج مدلس ہے۔‘‘ (صفحہ نمبر :۱۸۴)
’’سیدناابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ اپنی نماز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع کیا کرتے تھے۔‘‘ (امام ترمذی نے کہا ہے کہ اس کی اسناد یہ نہیں ہیں اور شیخ الالبانی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف کہا ہے)
’’سیدناعلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اپنی نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے تھے۔‘‘ (امام الدار القطنی نے فرمایا کہ اسنادہ علوی لا بأس بہ ) ابو الحجاج المزی رحمہما اللہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اس کی جو اسناد ہیں اس پر حجت قائم نہیں ہوسکتی ۔’’ سلیمان‘‘ جو اس کا راوی ہے ہم اسے نہیں جانتے۔)
’’عبد الرحمن بن عبد اللہ العمری روایت کرتے ہیں اپنے باپ سے اور وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور وہ نبی کریم ﷺ سے کہ :’’بیشک جب وہ نماز پڑھتے تو ابتدا بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کرتے تھے۔‘‘ (ابن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبد الرحمن اور اسکا باپ دونوں ضعیف ہیں)
ابو بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیںانہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں مسجد میںسے نہیں نکلوں گا یہاں تک کہ تمہیں ایک آیت یا سورت کی خبر دوںجو کبھی نازل نہیںہوئی۔جو سلیمان علیہ السلام کے بعد سوائے مجھ پر ، پس آپ چل پڑے اور میں نے آپ کی اتباع کی اور یہاں تک کہ آپ مسجد کے دروازے پر جا پہنچے پس آپ نے اپنا ایک قدم باہر نکالا اور دوسرا اندر تو میں کہا : کیا آپ بھول گئے ہیں ؟ پس میری طرف اپنا چہرہ کیا اور ارشاد فرمایا : تم قرآن کی ابتداء کس طرح کرتے ہو جب تم نماز شروع کرتے ہو؟ میں نے کہا : ’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔‘‘ سے آپ نے کہا یہی ہے ، یہی ہے ، پھر آپ نکل گئے ۔ ( ابن الجوزی فرماتے ہیں کہ سلمہ اور عبد الکریم کے بارے میں احمد اور یحی فرماتے ہیں کہ دونوں کچھ نہیں ہیں اور امام نسائی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ یزید (جو کہ اس سند میں ہے) متروک الحدیث ہے۔
حاکم فرماتے ہیں کہ صحیح ہے ۔ امام الذہبی فرماتے ہیں کہ اس میں مثنی بن الصباح ہے ، امام نسائی رحمہم اللہ نے فرمایا ہے کہ وہ متروک ہے۔ عبد اللہ بن حمد اللحیدان فرماتے ہیں کہ پیچھے جو بتایا ہے کہ مثنی بن الصباح ضعیف ہے ، اور ابن حجر نے اس کی تلخیص کی ہے اور فرمایا ہے کہ حدیث اس اسناد سے ضعیف ہے اور الالبانی رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ ضعیف ہے۔ ( ۴/۱۸۱ ، ضعیف الجامع)
سیدناابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی علیہ الصلاۃ والسلام کے پاس جبرئیل امین علیہ السلام آئے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی اور بتایا کہ یہ سورت ہے۔
قارئین کرام ! یہ وہ استدلالات ہیں جن سے ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ کو فاتحہ او ر ہر سورت کی آیت شمار کیاجاتاہے جبکہ یہ تمام کے تمام استدلالات ضعیف الاسنا دہیں کہ جس پر حجت قائم نہیں ہوسکتی اور خاص طور پر قرآن کی آیت۔ واللہ أعلم
سوائے ایک حدیث کے جسے بعض نے صحیح اور بعض نے ضعیف ، بعض نے مرفوع اور بعض نے موقوف کہا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم الحمدللہ پڑھو ، پس بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھاکرو ، یقینا یہ ام القرآن اور ام الکتاب اور سبع المثانی ہے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم اس کی (فاتحہ) کی ایک آیت ہے۔
تفسیر القرطبی کے حاشیہ میں مکتوب ہے : ’’اس حدیث کی سند ’’الأصول والتصویب‘‘ میں’’سنن الدارقطنی‘‘ اور’’ تہذیب التہذیب‘‘ سے مضطرب وارد ہوئی ہے اور عبد الحمید بن جعفر اس کی کنیت ابو الفضل ہے اور کہلواتا ابو حفص ہے اور اس کی کنیت ابو بکر نہیں ہے بلکہ اس سے ابو بکر الحنفی روایت کرتے ہیں ۔ تہذیب التہذیب کی طرف رجو ع کریں۔ (القرطبی ۱/۹۳)
امام الزیلعی رحمہ اللہ نصب الرایۃ میں فرماتے ہیں کہ :’’ابو بکر الحنفی فرماتے ہیں کہ میں نوح سے ملااور اس نے مجھے حدیث بیان کی سعید المقبری سے اور انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہی حدیث مگر اسے مرفوع نہیں کیا۔‘‘ ( جاری ہے )
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…