Categories: مئی 2009

مولانا شاہ محمد اسماعیل شہید دہلوی رحمہ اللہ

تاریخ شہادت : ۲۴/ذی قعدہ ۱۲۴۶ھ مطابق ۵ مئی ۱۸۳۱ء

حضرت مولانا شاہ اسماعیل شہید بن شاہ عبد الغنی دہلوی بن امام شاہ ولی اللہ دہلوی عالم کبیر ، مجاہد فی سبیل اللہ شہید دہلوی اپنی ذہانت ، سمجھ ، بہادری ، قوت نفس ، دین کے معاملات میں سختی کے اعتبار سے افرادنیامیں سے ایک فرد تھے۔ (نزہۃ الخواطر ج /۷)

حضرت شاہ صاحب ایک جید عالم ، دینی مفکر ، قاطع بدعت ، بلند پایہ مبلغ اور عظیم مجتہد تھے۔ وہ غیر معمولی علمی وسعت کے مالک ، دین الٰہی سے انتہائی محبت رکھنے والے ، زہد وورع اور تقویٰ وطہارت کے پیکر ، بڑے نیک سیرت ، اور متقی وپرہیزگار تھے۔ ذہانت ، فطانت ، ذکاوت، شجاعت ، بلند مرتبہ اخلاقی بلندی اور بے پناہ بصیرت کے مالک تھے۔

مولوی رحمان علی بریلوی تذکرہ علمائے ہند میں لکھتے ہیں :

ایں مولوی عبد الغنی بن مولانا شاہ ولی اللہ درریاضت ورسائی فکر یگانہ روزگار ومشار إلیہ علمائی کبار بود

یعنی شاہ عبد الغنی کے یہ فرزند اور مولانا شاہ ولی اللہ کے پوتے دیانت اور فہیم وفکر میں یگانہ روزگار تھے۔ حلقہ کبار علمائے میں مشارٌ إلیہ تھے۔(صفحہ:۱۷۹)

مولانا سید نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’اتحاف النبلاء‘‘ میں فرماتے ہیں :

ہر یکے ازایشاں بے نظیر وقت وفریددہر وحید عصر درعلم وعمل وعقل وفہم وقوت تقریر وفصاحت تحریر ورع وتقویٰ ودیانت وامانت ومراتب ولایت بود وہم چنیں اولاداولاد ایں سلسلہ طلائے ناب امت ۔(صفحہ :۴۳)

یعنی اس خاندان کا ہر فردعلم وعمل ، عقل وفہم ، زور تقریر ، فصاحت تحریر ورع وتقویٰ ، دیانت وامانت اور مراتب ولایت میں یگانہ روزگار ، فرید دہر اور وحید عصر تھا ۔ ان کی اولاد کی اولاد بھی درجات بلند پر فائز تھی۔

اور حضرت نواب صاحب اپنی دوسری تصنیف ’’ابجد العلوم‘‘ میں فرماتے ہیں :

وکلہم کانوا علماء نجباء کلہم فقہاء کاسلافہم واعمامہم کیف وہم من بیت العلم الشریف والنسب الفاروقی المنیف۔

حضرت شاہ محمد اسماعیل شہید دہلوی رحمہ اللہ کے مرتبہ کا آدمی ہندوستان میں پیدا نہیں ہوا۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں ۔

ہندوستان نے ایک مولوی پیدا کیا وہ مولوی شاہ محمد اسماعیل کی ذات تھی۔ (اسپکٹنس آف شاہ اسماعیل شہید: ص/۴۴)

مولانا محمد حنیف ندوی رحمہ اللہ تذکرہ شاہ اسماعیل شہید دہلوی مرتبہ مولانا محمد خالد سیف کے مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ مولانا شاہ محمد اسماعیل شہید فرزند توحید تھے۔

مولانا شاہ اسماعیل شہید اپنی زندگی میںجو دینی ، مذہبی ، علمی اور سیاسی کارنامے انجام دیتے تھے۔ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی ان کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا فرمایا کرتے تھے۔

{الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی وَہَبَ لِی عَلَی الْکِبَرِ إِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ } (إبراہیم : ۳۹)

’’اللہ تعالیٰ کی ستائش ہے کہ اس نے بڑھاپے میں سے اسماعیل اور اسحاق عطا کیے۔‘‘

مولانا شاہ اسماعیل حضرت شاہ عبد العزیز رحمہ اللہ کے بھتیجے تھے اور مولانا شاہ محمد اسحاق نواسے تھے۔‘‘

محترمہ ڈاکٹر ثریا ڈارصاحبہ حضرت شاہ صاحب کے بارے میں رقمطراز ہیں:

’’حضرت مولانا شاہ اسماعیل شہید بن شاہ عبد الغنی بن شاہ ولی اللہ کا شمار أئمہ دین فقہائے متقین اور بلندپایہ محدثین میں ہوتاہے۔ آپ نسباً فاروقی تھے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بہت سی صفات ان میں موجود تھیں اپنے جد امجد حضرت شاہ ولی اللہ کے کمالات واوصاف سے بھی وہ متصف تھے۔ شاہ ولی اللہ نے ہندوستان میں خدائے بزرگ وبرتر کی توحید کو پھیلانے اور شرک وبدعت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا جو سلسلہ شروع کیا تھا یعنی جن اصلاحات کے آپ بانی وناشر تھے ۔ شاہ اسماعیل شہید نے ان کو آگے بڑھانے کا عزم کیا اور اس کیلئے میدان میں اترے۔ (شاہ عبد العزیز محدث دہلوی اور ان کی علمی خدمات ۔ صفحہ :۱۶۹)

مولانا شاہ اسماعیل موضع پھلت ضلع مظفر نگر میں ۱۲ ربیع الثانی ۱۱۹۳ ھ مطابق ۱۲ اپریل ۱۷۷۹ء ؁ کو پیدا ہوئے ۔ ۶ سال کی عمر میں پڑھنا شروع کیا۔ ۸ سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کرلیا۔ ۱۱ سال کی عمرمیں صرف ونحو کی ابتدائی کتابیں اپنے والد محترم سے پڑھ لیں۔ حدیث کی تحصیل اپنے تایا حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی سے کی ۔ اس کے علاوہ دوسرے علوم یعنی ریاضی ، جغرافیہ اور تاریخ کی تحصیل بھی حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی سے کی۔

حضرت شاہ صاحب علوم دینیہ کی تحصیل کے ساتھ ساتھ جسمانی تربیت کی طرف بھی متوجہ ہوئے۔ فنون سپہ گری کیلئے جسمانی ورزشیں نہایت اہمیت رکھتی ہیں چنانچہ آپ نے اس فن میں کمال حاصل کیا اس کے علاوہ تیرا کی میں بھی آپ نے مکمل مہارت حاصل کر لی۔

جب حضرت سید احمد دہلی تشریف لائے تو آپٌ نے ان کا دامن پکڑا اور ان کے ہاتھ پر بیعت کرکے ان کے خدام میں شامل ہوگئے۔ اس کے بعد آپ نے دہلی کی جامع مسجد میں وعظ وتبلیغ کا سلسلہ شروع کیا۔ اور وعظ وتبلیغ کا آغاز جمعۃ الوداع کی نماز کے بعد کیا۔

ڈاکٹرثریا ڈار صاحبہ لکھتی ہیں کہ ’’شاہ اسماعیل فنون سپہ گری اور علوم وفنون میں دسترس حاصل کرنے کے بعد اپنی جسمانی شان وشوکت اور جلالت علمی کے ساتھ ہندوستان کے مسلمانوں کے سامنے آئے۔ انہوں نے دہلی کی جامع مسجد میں جمعۃ الوداع کی نماز کے بعد ہر طبقے اور درجے کے لوگوں کے درمیان بڑی بہادری اور دلیری سے زور دار الفاظ میں اللہ کی توحید بیان کی اور شرک وبدعت کی تردید کی یہ ان کا پہلا دل پذیر اور پرتأثیر وعظ تھا۔ اس وعظ کا آغاز آیات قرآن مجید اور احادیث نبوی سے کیا اور لوگوں کو قرآن وحدیث کی روشنی میں ان بداعمالیوں ، بداعتقادیوں اور بریلویوں سے دور رہنے کی واشگاف الفاظ میں تلقین کی جو اس عہد کے مسلم معاشرے کا ایک ضروری حصہ بن چکی تھیں۔ (شاہ عبد العزیز محدث دہلوی اور ان کی علمی خدمات : ص:۱۷۷)

یکم شوال ۱۲۳۶ھ؁ مطابق ۱۸۲۰ء؁ کو نماز عید کے بعد مولانا شاہ اسماعیل شہید حضرت سید احمد شہید اور مولانا عبد الحی بڑھانوی کی معیت میں چارسو مردوں اور عورتوں کے ساتھ حج بیت اللہ کیلئے رائے بریلی سے روانہ ہوئے۔ حج بیت اللہ سے واپسی کے بعد آپ حضرت سید صاحب کے ہمراہ ہندوستان کو غلامی سے نجات دلانے اور پنجاب وسرحد کے مسلمانوں کو سکھوں کے ظلم وستم سے بچانے کیلئے جہاد کیلئے سروسامان کی تیاری میں مصروف ہوگئے۔ ۱۲۴۱ھ؁ میں اقامت جہاد کیلئے حضرت سید صاحب کی قیامت میں راجپوتانہ ، سندھ ، بلوچستان اور افغانستان اور صوبہ سرحد کے کھلے ریگستانوں ، وسیع میدانوں ، بلند پہاڑوں اور تنگ دروں کا سفر کرنے کے بعد آپ بالاکوٹ پہنچے۔ سکھوں سے بڑی معرکہ کی جنگ ہوئی مگر مجاہدین سکھوںکے گھیرے میں آگئے۔ اور آپ نے اور حضرت سید احمد دونوں نے جام شہادت نوش فرمایا۔ یہ واقعہ۲۴/ذی قعدہ ۱۲۴۶ھ مطابق ۵ مئی ۱۸۳۱ء؁کو بالاکوٹ میں پیش آیا۔

نیا کردند خوش رسمے بخاک وخون غلطیوں

خدا رحمت کندایں عاشقانِ پاک طنینت را

تصانیف

حضرت شاہ محمد اسماعیل شہید دہلوی نے اوائل عمری میں مجاہدانہ زندگی کے ساتھ مذہبی اور دینی مسائل پر کتابیں اور رسالے لکھنا شروع کردیں۔ ان کی علمی قابلیت اور عقل سلیم کا اندازہ ان کی تصانیف سے کیا جاسکتاہے۔ آپ کی تصانیف عربی ، فارسی اور اردو میں تصانیف کی تفصیل درج ذیل ہے۔

رد الاشراک (عربی ) ۔ صراط مستقیم (فارسی) ۔ منصب امامت (فارسی ) ۔ رسالہ درعلم منطق (فارسی) ۔ تنویر العینین فی اثبات رفع الیدین (عربی ) ۔ ایضاح الحق (الصریح فی احکام المیت والضریح) (فارسی) ۔ طبقات (عربی) اصول فقہ ( عربی) ، حقیقت تصوف (فارسی) ۔ رسالہ یک روزی (فارسی) مبحث امکان النظیر واقناع النظیر (فارسی )

تقویۃ الإیمان (اردو)

یہ حضرت شاہ  صاحب کی لاجواب کتاب ہے ۔ جس میں اسلام کے بنیادی عقائد کی توضیح اور شرک کی تردید کی گئی ہے اور اس کتاب کا بنیادی موضوع توحید ہے۔ اس میں حضرت شاہ صاحب نے تمام مسائل کو قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان کیا ہے۔ کسی امام یا مجتہد کا قول نقل نہیں کیا۔ اس کتاب نے ہندوستان میں ایک انقلاب برپا کردیا۔اور اس کتاب نے لوگوں کو بہت زیادہ نفع پہنچایا۔ مولانا رشید احمد گنگوہی لکھتے ہیں کہ :

تقویۃ الإیمان سے لوگوں کو بہت نفع ہوا چنانچہ مولوی اسماعیل صاحب کی حیات ہی میں دوڈھائی لاکھ آدمی درست ہوگئے تھے۔ اور ان کے بعد جو نفع ہوا اس کا اندازہ ہوہی نہیں سکتا۔(فتاوی رشیدیہ ۔ ص/۴۱)

حضرت شاہ صاحب نے یہ کتاب حرمین شریفین جانے سے قبل تصنیف کی تھی۔رحمہم اللہ

عبدالرشید عراقی

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago