Categories: مئی 2009

کامیاب زندگی کے رہنما اصول

الحمد للہ وحدہ ۔ والصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ ۔ اما بعد ۔
{ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ ٭ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ ٭ وَالْعَصْرِ ٭ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِی خُسْرٍ ٭ إِلَّا الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ } (العصر : ۱ ۔۳)

وہ ذات قسم اٹھارہی ہے جس کے سوا کسی اور کی قسم اٹھانا جائز نہیں۔ اور قسم اٹھانے کی ضرورت نہ تھی کیونکہ ’’وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ حَدِیْثاً ‘‘ (النساء :۸۷) اللہ سے زیادہ سچی بات کس کی ہوسکتی ہے۔

فرمایا: تمام بنی نوعِ انسان خسارے میں ہے مگر چار صفات کے حامل لوگ اس سے مستثنی ہیں۔ صاحبِ ایمان و صاحبِ عمل اور اہلِ حق واہلِ صبر۔

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

لَوْمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ حُجَّۃً عَلَی خَلْقِہِ إِلاَّ ہٰذِہِ السُّوْرَۃَ لَکَفَتْہُمْ (الاصول الثلاثۃ :شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ)

’’اللہ تعالیٰ کوئی اور سورت نازل نہ بھی فرماتے تو لوگوں پر حجت قائم کرنے کیلئے یہی ایک سورت کافی تھی۔‘‘

یہ سورت مختصر مگر جامع کلام کا بے نظیر نمونہ ہے ۔ چند الفاظ میں ایک جہاں معنی پنہاں ہے ، گویا محاورے کی زباں میں دریا کو کوزے میں بند کرنا۔

اصحابِ رسول  ﷺ جب آپس میں ملتے تو ایک دوسرے کو سورئہ عصرضرور سناتے۔

زندگی برف کی طرح پگھل رہی ہے ۔انسان جن کاموں میں بھی اپنی مہلتِ عمر کو صرف کررہاہے وہ سب کے سب خسارے کے سودے ہیں۔ نفع میں صرف وہ لوگ ہیں جو ان چار صفات سے متصف ہوکر زندگی گزاریں ۔

اس کی مثال زہر کی ہے۔ زہر انسان کیلئے مہلک ہے ۔ زہر کی مہلک خاصیت اپنی جگہ اٹل ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ایک شخص نے اس کو کھایا یا ایک قوم نے اسے کھانے کا فیصلہ کرلیا ہے یا دنیا بھر کے انسانوں کااجماع اس پر ہوگیا ہے کہ زہر کھانا چاہیے۔ ٹھیک اسی طرح یہ بات اپنی جگہ اٹل ہے کہ چار مذکورہ بالاصفات سے خالی ہونا انسان کیلئے خسارے کاموجب ہے۔اس قاعدہ کلیہ میں ، اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ کوئی ایک شخص یا کسی قوم، یا دنیا بھر کے انسانوں نے کفر و بدعملی ، اور ایک دوسرے کو باطل کی ترغیب دینے اور بندگئ نفس کی تلقین کرنے پر اتفاق کرلیاہے۔

 قرآن ، خسران کو اپنی خاص اصطلاح بنا کر فلاح کے مقابلے میں استعمال کرتاہے۔ قرآن کا تصور ِ فلاح محض دنیوی خوشحالی کا ہم معنی نہیں بلکہ دنیا سے لیکر آخرت تک انسان کی حقیقی کامیابی پر حاوی ہے ، اسی طرح قرآن کا تصورِ خسران بھی محض دنیوی ناکامی یا خستہ حالی کاہم معنی نہیں بلکہ دنیا سے لیکر آخرت تک انسان کی حقیقی ناکامی ونامرادی پر حاوی ہے۔

 جب قرآن پورے زور اور قطعیت کے ساتھ کہتاہے کہ :{ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِی خُسْرٍ } ’’درحقیقت انسان بڑے خسارے میںہے۔‘‘ تو اس کا مطلب دنیا اور آخرت دونوں کا خسارہ ہے اور جب وہ کہتاہے کہ اس خسارے سے صرف وہ لوگ بچے ہوئے ہیں جن کے اندر حسب ذیل چار صفتیں پائی جاتی ہیں تو اس کا مطلب دونوں جہانوں میں خسارے سے بچنا اور فلاح پاناہے۔

ابدی کامیابی کی شرطِ اوّل ایمان ہے ۔ ایمان کیا ہے؟

’’اقرار باللسان وتصدیق بالقلب وعمل بالجوارح‘‘

’’زبان سے اقرار ، دل سے تصدیق اور اعضاء وجوارح سے اعمالِ خیر کا صدور۔‘‘

سیدناعمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بَیْنَمَا نَحْنُ جُلُوْسٌ عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ اصحابِ رسول مجلسِ رسول میں تشریف فرما تھے۔ ’’اِذْ طَلَعَ عَلَیْنَا رَجُلٌ ‘‘  اچانک ایک شخض نمودار ہوا ۔ ’’شَدِیْدُ بَیَاضِ الثِّیَابِ ‘‘ انتہائی سفید لباس زیب تن کیے ہوئے۔ شَدِیْدُ سَوَادِ الشَّعْرِ‘‘گہرے سیاہ بالوں والا۔ ’’لاَ یُرَی عَلَیْہِ أَثَرُ السَّفَرِ ۔ نہ تو مسافر دکھائی دیتا تھا کیونکہ کوئی آثارِ سفر نہیں ۔ وَلاَ یَعْرِفُہُ مِنَّا اَحَدٌ ۔ اور نہ ہی مقیم تھا کیونکہ ہم میں سے کوئی بھی اسے پہچانتا نہیں تھا۔ فَأَسْنَدَ رُکْبَتَیْہِ إِلَی رُکْبَتَیْہِ ، وَوَضَعَ کَفَّیْہِ عَلَی فَخِذَیْہِ ۔ لیکن بڑے ہی مہذبانہ اور متعلمانہ انداز سے رسول اللہ  ﷺ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیے اور استفسار کیا۔ یَا مُحَمَّدُ ! أَخْبِرْنِیْ عَنِ الْإِسْلاَمِ ۔ اے محمد  ﷺ ! مجھے اسلام کے بارے میں بتلائیں۔ آپ نے جواب دیا : الْاِسْلاَمُ اَنْ تَشْہَدَ اَنْ لاَّ اِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَأَنَّ مَحَمَّداً رَسُوْلُ اللّٰہِ و َتُقِیْمُ الصَّلاَۃَ وَتُؤْتِیَ الزَّکَاۃَ وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَیْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَیْہِ سَبِیْلاً ۔

اسلام شہادتَین کی گواہی دینا ، صوم وصلاۃ اور زکوۃ وحج بیت اللہ کی ادائیگی کانام ہے۔ پھرسائل نے بڑی ہی حیران کن بات کی۔ قاَلَ صَدَقْتَ۔ آپ نے سچ فرمایا۔ سیدناعمر رضی اللہ عنہ بھی اپنی حیرانی کااظہار فرماتے ہیں : فَعَجِبْنَا لَہُ یَسْأَلُہُ وَیُصَدِّقُہُ ۔ عجیب سائل ہے سوال بھی کرتاہے اور تصدیق بھی کیے جارہاہے۔ گویا خود ہی مُدّعی ، خود ہی منصف۔ پھر سوال کیا۔

أََخْبِرْنِیْ عَنِ الْإِیْمَانِ !ایمان کیاہے؟ جواب دیا۔

اَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰہِ وَمَلاَئِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَ بِالْقَدْرِ خَیْرِہِ وَشَرِّہِ۔

ایمان باللہ ۔اللہ کو ایک ماننا اور اس کی ذات وصفات میں کسی کو شریک نہ جانناہے۔

{قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ٭ اللَّہُ الصَّمَدُ٭ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ٭وَلَمْ یَکُن لَّہُ کُفُوًا أَحَدٌ}(الاخلاص: ۱۔۴)

توحید ربوبیت، توحید الوہیت، اور توحید اسماء وصفات کی معرفت حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔

{لَیْسَ کَمِثْلِہِ شَیْئٌ وَہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ }(شوری:۱۱)

اس کی مِثل ومثیل کوئی نہیں نہ ذات میں نہ صفات میں، وہ اپنی نظیر آپ ہے۔

جس طرح اللہ کی ذات وصفات میں کوئی شریک نہیں ،اسی طرح محمد رسو ل اللہ  ﷺ کی نبوت و رسالت اور اطاعت میں بھی کوئی شریک نہیں۔

{یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا أَطِیعُوا اللَّہَ وَأَطِیعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَکُمْ}(محمد :۳۳)

’’اے اہل ایمان! اللہ اور رسول اللہ  ﷺ کی اطاعت کرو، اور اپنے اعمال کو غارت نہ کرو۔‘‘

اور محض دعوئ ایمان نہیں بلکہ ایسا ایمان لاؤ جیسا ایمان لانے کا حق ہے۔

{یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُواْ آمِنُواْ بِاللّہِ وَرَسُولِہِ } (النساء:۱۳۶)

ایمان بالرسالۃ میں ملائکہ ، انبیاء ، کتب الہیہ اور خود قرآن پر ایمان لانا بھی شامل ہے کیونکہ یہ ان تعلیمات میں سے ہے جو اللہ کے رسول نے دی ہیں۔

سائل نے احسان ، قیامت اور علاماتِ قیامت کے بارے میں بھی سوالات کیے جب وہ جاچکا تو رسول اللہ  ﷺ نے کہا :’’یَا عُمَرُ ! أَتَدْرِیْ مَنِ السَّائِل؟عمر! جانتے ہو سائل کون تھا؟ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی:اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ ۔ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا: فَاِنَّہُ جِبْرِیْلُ أَتَاکُمْ یُعَلِّمُکُمْ دِیْنَکُمْ ۔ یہ جبرائیل تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھلانے آئے تھے۔ (مسلم فی کتاب الایمان )

خسارے سے بچنے کی دوسری شرط عملِ صالح ہے۔ عملِ صالح دو چیزوں سے مشروط ہے۔ اخلاصِ نیت اور اتباعِ سنت۔ یعنی ہر عمل خالص اللہ کیلئے ہو اور رسول اللہ  ﷺ کی سنت اور طریقے کے مطابق ہو۔

’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کا معنی ومفہوم بھی یہی ہے کہ عبادت صرف اللہ کی ،اور اطاعت صرف رسول اللہ کی (ﷺ )۔

 نیت اعمال کی روح ہے۔ جس طرح بے روح جسم بے کار ہے اُسی طرح اعمال بے وزن ہوں گے اگر نیت خالص نہ ہوگی۔ ریا تو رائی کے دانے کے برابر بھی قبول نہیںکیونکہ یہ تو شرک اصغر ہے۔

عن امیر المؤمنین أبی حفصٍ عمرَ بن الخطاب رضی اللہ عنہ قال : سمعتُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقولُ : اِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّیِّاتِ ، وَإنَّمَا لِکُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَی۔ (بخاری ومسلم)

نیت اعمال کی اساس ہے ۔بنیاد اگر ٹیڑھی ہے تو ’’تاثریا دیوار کج‘‘ عمارت آسمان کی رفعتوں کو چھوکر بھی کج ہی رہے گی۔ ایک گلاس خالص دودھ میں ایک قطرہ پیشاب ملانے سے دودھ خالص نہیں رہتا یہی مثال عملِ خالص کی ہے۔ اُسے طبیعتِ انسانی قبول نہیں کرتی اور اِسے ذاتِ ربانی بھی۔

قبولیتِ اعمال کی دوسری شرط اتباعِ سنت ہے۔ قرآن بیان کرتاہے۔

{ہَلْ أَتَاکَ حَدِیثُ الْغَاشِیَۃِ ٭ وُجُوہٌ یَوْمَئِذٍ خَاشِعَۃٌ ٭ عَامِلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ ٭ تَصْلَی نَارًا حَامِیَۃً}(غاشیۃ:۱۔۴)

روز قیامت بہت سے چہروں پر ذلت چھائی ہوگی اور تھکادینے والے اعمال کرنے والے آگ کا ایندھن بن جائیںگے۔

عبادات اور اعمال شاقہ کے باوجود لوگ جہنم میں جائیں گے کیونکہ ان کے اعمال باطل مذہب کے مطابق یا بدعات پر مبنی ہوںگے۔

 فرمان الٰہی ہے :

{قُلْ إِن کُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّہَ فَاتَّبِعُونِی یُحْبِبْکُمُ اللّہُ }(آل عمران:۳۱)

اے نبی کہہ دو! اگر اللہ سے دعوئ محبت ہے تو اس کی دلیل اطاعتِ رسول اللہ ہے۔ اس آیت نے تمام دعوے دارانِ محبت کیلئے کسوٹی اور معیار مہیا کردیاہے کہ محبت الٰہی کا طالب اگر اتباعِ محمد  ﷺ کے ذریعے یہ مقصد حاصل کرنا چاہتاہے تو پھر وہ یقینا کامیاب ہے اور اپنے دعوے میں سچاہے ورنہ وہ جھوٹا بھی ہے اور اس مقصد کے حصول میں ناکام بھی رہے گا۔

عن ام المؤمنین ام عبد اللہ عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَیْسَ عَلَیْہِ اَمْرُنَا فَہُوَ رَدُّ۔‘‘ (مسلم)

’’جس نے ایسا کام کیا جس پر ہمارا معاملہ نہیں ہے یعنی ہمارے بتلائے ہوئے طریقے سے مختلف ہے تو وہ مردود ومستردہے۔‘‘

ایمان کے بغیر عمل بیکار ہے ۔ ایمان اور عملِ صالح کی مثال پھول اور خوشبو کی سی ہے۔ پھول ہے تو خوشبوہے ، ایمان ہے تو عملِ صالح ہے۔

اعمال ،عدمِ ایمان کی وجہ سے اللہ کے ہاں بالکل بے وزن ہوں گے۔ قرآن نے ایسے اعمال کو سراب اور اندھیروں سے تشبیہ دی ہے۔

{أَعْمَالُہُمْ کَسَرَابٍ بِقِیعَۃٍ یَحْسَبُہُ الظَّمْآنُ مَاء حَتَّی إِذَا جَاء ہُ لَمْ یَجِدْہُ شَیْئًا }(النور:۳۹)

ان کے اعمال کی مثال سراب کی ہے جسے پیاسا شخص دور سے پانی سمجھتاہے لیکن جب اس کے پاس پہنچتاہے تو اسے کچھ بھی نہیں پاتا۔

{أَوْ کَظُلُمَاتٍ فِی بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَغْشَاہُ مَوْجٌ مِّن فَوْقِہِ مَوْجٌ مِّن فَوْقِہِ سَحَابٌ}(النور/۴۰)

یا پھر اس کی تمثیل ایسی ہے جیسے گہرے سمندر میں اندھیرا ، جسے موج نے ڈھانپ لیاہو، پھر اس کے اوپر ایک اور موج ، اور اس کے اوپر بادل۔‘‘

{ظُلُمَاتٌ بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍ}(النور :۴۰)

تاریکی پر تاریکی مسلط ہے۔

{ إِذَا أَخْرَجَ یَدَہُ لَمْ یَکَدْ یَرَاہَا } (النور:۴۰)

آدمی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے اپنا ہاتھ بھی سجھائی نہ دے۔

ایک اور مثال دے کر فرمایا:

{أَعْمَالُہُمْ کَرَمَادٍ اشْتَدَّتْ بِہِ الرِّیحُ فِی یَوْمٍ عَاصِفٍ} (ابراہیم:۱۸)

ان کے اعمال مثل اس راکھ کے ہیں جس پر تیز ہو ا آندھی والے دن چلے۔‘‘

ایمان اور عملِ صالح کا تعلق بیج اور درخت کا سا ہے۔جب تک بیج زمین میں نہ ہو ، کوئی درخت پیدا نہیں ہوسکتا، لیکن اگر بیج زمین میں ہو اور کوئی درخت پیدا نہ ہورہا ہوتو اس کے معنی یہ ہیں کہ بیج زمین میں دفن ہوکررہ گیا۔

خِرد نے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل

دل ونگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں  (اقبال)

{قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَکِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْإِیمَانُ فِی قُلُوبِکُمْ }(الحجرات:۱۴)

’’بادیہ نشین کہتے ہیں ہم ایمان لائے ۔ آپ کہہ دیں درحقیقت تم ایمان نہیں لائے بلکہ کہو کہ ہم اسلام لائے کیونکہ ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں پوری طرح راسخ نہیں ہوا۔‘‘

کامیاب زندگی کے رہنما اصولوں میں سے حق وصبر کی تلقین وتاکید کرنابھی ہے۔ ارشاد ربانی ہے :

{وَلْتَکُن مِّنکُمْ أُمَّۃٌ یَدْعُونَ إِلَی الْخَیْرِ وَیَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ } (آل عمران:۱۰۴)

تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف لائے اور نیک کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے روکے۔

امت محمدیہ کا شرف وفضل اور امتیاز کیا ہے؟

{کُنتُمْ خَیْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّہِ}(آل عمران:۱۱۰)

اس آیتِ مبارکہ میں امتِ مسلمہ کو ’’خیرِامت‘‘ قرار دیاگیاہے اور اس کی علت بھی بیان کردی گئی ہے جو امر بالمعروف ، نہی عن المنکر اور ایمان باللہ ہے۔ گویا یہ امت اگر ان امتیازی خصوصیات سے متصف رہے گی تو ’’خیرِ امت‘‘ ہے، بصورتِ دیگر اس امتیاز سے محروم قرار پاسکتی ہے۔

{وَاتَّقُواْ فِتْنَۃً لاَّ تُصِیبَنَّ الَّذِینَ ظَلَمُواْ مِنکُمْ خَآصَّۃً } (الأنفال:۲۵)

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے ترک کی وجہ سے وبال وعذاب کی سخت وعید وارد ہوئی ہے۔

امتِ خیر ہونا یقینا ایک اعزاز ہے ، یہ جو سہرا سجاہے  یقینا اس کے بھی کچھ تقاضے ہیں۔

” Uneasy Lies the head , that wears the crown “

راہ حق میں جو آزمائشیں اور مشکلات آئیں انہیں خندہ پیشانی سے برداشت کرنا ہی صبر ہے۔

یہ شہادتِ گہہ الفت میں قدم رکھناہے

لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا 

(اقبال)

’’ایمان وعملِ صالح‘‘ اور’’ تواصی بالحقِ والصبر‘‘ میں باہم دِگر کیا تعلق ہے؟

جس طرح ’’ایمان‘‘ سے ’’عملِ صالح‘‘ وجود میں آتاہے اسی طر ح ’’عملِ صالح ‘‘ سے ’’تواصی‘‘ وجود میں آتاہے۔ جس شخص کی نگاہوں میں ’’حق ‘‘ محبوب ہوجائے گا تو وہ اس کی خاطر ’’صبر واستقامت‘‘ کی کڑیاں بھی جھیلنے پر آمادہ ہوجائے گا۔ صبر درحقیقت محبتِ حق سے پیدا ہوتاہے۔ حق کے بارے میں حق پرست اور پرستارِ حق کا علم، اس کی محبت اور اس کی غیرت بڑھ جائے گی۔ وہ صرف یہی نہیں چاہے گا کہ خود ہی اس سے محبت کرے بلکہ یہ بھی چاہے گا کہ ساری دنیا اس سے محبت کرے اور وہ جہاں کہیں بھی حق کو مظلوم ومقہور اور باطل کو غالب وفتح مند دیکھے گا، تڑپ اٹھے گا اور غیور واو لو العزم انسان کی طرح دوسروں کو بھی ابھارے گا کہ وہ حق کی حمایت کیلئے کمر بستہ ہوں۔

ہم میں سے ہر کوئی اپنا احتساب خود کرے، اپنے گریبان میں جھانک کر خود سے سوال کرے، کیا وہ کامیاب زندگی کے ان رہنما اصولوں کو مشعلِ راہ بنا کر حیاتِ مستعار بسر کر رہاہے یا خسارے کا سودا کیے بیٹھاہے۔ اللہم لا تجعلنا منہم ۔ ٰامین

admin

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago