زندگی کا بیشتر حصہ لوکل بس میں ہی سفر کرکرکے گزراہے اور اس پر کسی قسم کی احساس کمتری بھی نہیں ، عجیب عجیب صورتحال سے واسطہ پڑتا رہتاہے ، کبھی کنڈیکٹر کا جھگڑا ، کبھی عوام الناس کی دھنیگامشتی تو کبھی گھٹیا گانوں کا شور۔
مگر کبھی کبھی کوئی ایسا واقعہ ہوجاتاہے کہ بھلائے نہیں بھولتا اور عقل سے محوہی نہیں ہوتا۔ ایک مدرسے کا طالب علم ہونے کے ناطے سے خاکسار دنیا کوایک الگ ہی زاویے سے دیکھتاہے۔ اس کے خیالات کو دقیانوسی اور اس کے افکار کو رجعت پسندی سے تعبیر کیاجاتاہے۔ مگر ان سب چیزوں کے باوجود خاکسار ایک مشاہدہ کرنے والی آنکھ اور حساس دل کا مالک ہے۔
ابھی کچھ ہی دنوں پہلے کی بات ہے کہ ہماری ایک کراچی یونیورسٹی کی بہن ایک ظالم ٹرک کا نشانہ بن گئی اور میں اب تک یہ واقعہ بھلا نہیں پارہا ہوں جب بھی یونیورسٹی کے سامنے سے گزرتاہوں تو عجیب سا احساس ہوتاہے۔
اب ذرا چندروز پہلے کا واقعہ بھی ملاحظہ کیجئے جس میں دکھ اور سکھ کا پہلو یکساں موجود ہے۔
دن ساڑھے بارہ بجے کے قریب میں اپنے ایک ذاتی کام کے سلسلے میں صفوراگوٹھ کی جانب جانے کیلئے G3 بس میں سوار ہوا اور سب سے آخری سیٹ پر براجمان ہوکر زندگی کی افراتفری کا مشاہدہ کرنے لگا ، جیسے ہی بس شیخ زید یونیورسٹی کے سامنے پہنچی ، میری ایک پردے دار ، باحیا اور باغیرت بہن جو شاید یونیورسٹی کی طالبہ ہی تھی ، پھرتی سے مردوں کے کمپارٹ مینٹ میں داخل ہوئی۔ اپنا جوتا اتارا اور اپنی سیٹ کے بالکل پیچھے والی سیٹ پر بیٹھے پینٹ شرٹ میں ملبوس لڑکے کے منہ پر پوری قوت سے اپنا جوتا دے مارا۔ اس اچانک رونما ہونے والے واقعے نے سب کو اپنی جانب متوجہ کرلیا اور بس میں مکمل سکوت طاری ہوگیا ،میری وہ بہن ٹھہری اور اپنی تمام قوت کو مجتمع کرکے پھر ایک جوتا مارا تو اس لڑکے کا منہ سرخ ہوگیا، ہم سب ہکابکارہ گئے اور میری وہ باعفت بہن کسی مضبوط مرد کی مانند چنگھاڑ کر اس سے مخاطب ہوئی اور زور سے چلائی : اترجا ابھی اتر جا ورنہ اور ماروں گی۔
اللہ کی قسم ! اس سراپہِ عفت کا یہ حکم ہوا اور وہ لڑکا کودکر بس سے اتر گیا۔ میری منزل بھی آگئی اور میں بھی اس لڑکے کے پیچھے پیچھے نیچے آگیا۔ مگر دل ہی دل میں اس بہن کو سلام پیش کرتارہا کہ آج کے اس پر فتن اور بے حیائی کے دور میں بھی میری ایسی مائیں ، بہنیں زندہ ہیں جو اپنی عفت پرکسی ہوس پرست کو ڈاکہ نہیں ڈالنے دیتیں۔ میرا دل اس خوشی سے سرشار ہوگیا۔
دوسرے ہی لمحے اس قبیح الفطرت انسان کا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے آگیا جس نے مجھے اس خیال ہی سے شرمندہ کردیا کہ میں اس بہن کے دفاع میں کچھ بھی نہ کرسکا اور میری طرح سب لوگ ہی حیران اور خاموش تھے اس خفت نے میرے جسم پر کپکپی طاری کردی۔
اس روز میں توجہ کے ساتھ کوئی کام نہ کرسکا مجھے رہ رہ کر یہ خیال آرہا تھا کہ ہم کہاں جارہے ہیں؟ ہم اپنے بہن بھائیوں کی کیسی تربیت کررہے ہیں؟ انہیں کیا سکھا رہے ہیں؟ کیا میں بھی اس جرم میں برابر کا شریک تو نہیں؟
یہ واقعہ آج کئی دن ہونے کے باوجود مجھے ستائے جارہاہے۔ خدارا اس امت کیلئے دعا کریں اپنے اردگرد کے لوگوں کی اصلاح کریں تاکہ روزِ محشر رب العزت سے یہ عرض کردیں کہ الٰہ العالمین میں نے اپنے حصے کا کام کردیا تھا۔ وباللہ التوفیق
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…