قارئین کرام !تقریبا وطن عزیز کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں مویشی منڈی لگتی ہے اور ان مویشی منڈیوں میں بہت بڑا بیوپار و کاروبار ہوتا ہے لیکن دیکھا گیا ہے کہ یہاں اکثر شرعی امور کی مخالفت کی جاتی ہے ایک مسلمان بیوپاری پر لازم ہے کہ وہ تجارت و بیوپار کرتے ہوئے مکمل طور پر شرعی امور کا خیال رکھے اور سنت طریقے کے مطابق کاروبار کرے تاکہ وہ گناہ سے بھی محفوظ رہے اور اس کا کاروبار نفع بخش ہو۔ یہاں کون سی شرعی مخالفتین کی جاتی ہیں ہم نے مختصر ان کی وضاحت کی ہے تاکہ ایک تاجر اور بیوپاری ان سے محفوظ رہے۔
1۔ عیب چھپانا
مویشی منڈی میں جانور فروخت کرتے وقت اکثر دھوکہ دیا جاتا ہے جانور کا عیب چھپا کر بیچا جاتا ہے حتی کہ ایسے جانوروں کے عیب بھی چھپائے جاتے ہیں جنہیں خرید کرنے والا قربان کرنے کے لیے خرید کرتا ہے راقم کو ایک بیوپاری نے بتایا کہ عید الاضحی کے ایام میں اس نے ایک بچھڑا دیکھا جس کا کان دو حصوں میں کٹا ہوا تھا اسے ایلفی لگا کر جوڑ دیا گیا تاکہ خریدار کو پتہ نہ چل سکے۔ یہ دھوکہ ہے جس سے اسلام نے سختی سے منع کیا ہے اور اس سے سودے سے برکت مٹ جاتی ہے۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
پس اگر دونوں (بیچنے والے اور خریدار) نے سچ بولا اور ہر بات صاف صاف کھول دی تو ان کے سودے میں برکت ہوتی ہے لیکن اگر کوئی بات چھپا کر رکھی یا جھوٹ بولا تو ان کی برکت ختم کر دی جاتی ہے ۔(صحیح بخاری: 2079)
غزالی رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں:
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ جب کسی چیز کو بیچنے کے لیے کھڑے ہوتے، تو اس کے عیب واضح کر دیتے، پھر خریدار کو اختیار دیتے اور کہتے: اگر تم چاہو تو لے لو، اور اگر چاہو تو چھوڑ دو۔ ان سے کہا گیا: اگر تم ایسا کرو گے تو تمہاری کوئی خرید و فروخت مکمل نہیں ہو گی۔ تو انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ ﷺ سے ہر مسلمان کے ساتھ خیرخواہی پر بیعت کی ہے۔ (احياء علوم الدين: 76/2)
2۔دودھ چھوڑنا
ہمارے معاشرے میں یہ فعل بھی عام پایا جاتا ہے کہ جب کسی دودھ دینے والے جانور کو منڈی میں لے جاکر بیچنے کا ارادہ ہوتا ہے تو دو دن سے اسے دوھنا بند کر دیا جاتا ہے تاکہ جب جانور منڈی پہنچے تو اس کا دودھ زیادہ دکھائی دے یہ بھی دھوکہ ہے اس سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
( بیچنے کے لیے ) اونٹنی اور بکری کے تھنوں میں دودھ روک کر نہ رکھو۔ اگر کسی نے ( دھوکہ میں آ کر ) کوئی ایسا جانور خرید لیا تو اسے دودھ دوہنے کے بعد دونوں اختیار ہیں ۔ چاہے تو جانور کو رکھ لے ، اور چاہے تو واپس کر دے ۔ اور ایک صاع کھجور اس کے ساتھ دودھ کے بدل دے دے ۔(صحيح بخاري: 2148)
3۔ زیادہ کھلانا
ہمارے معاشرے میں دھوکہ کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ جب جانور کو بیچنے کے لیے منڈی لے جایا جاتا ہے تو اس روز اسے زیادہ کھلایا جاتا ہے تاکہ وہ طاقت ور دکھائی دے اور زیادہ بھاؤ میں بکے، جب کہ حقیقت میں وہ جانور کمزور ہوتا ہے اور خریدنے والا موٹے تازے جانور کے پئسے ادا کرتا ہے۔ لہذا یہ بھی ایک قبیح حرکت ہے ایسے لوگوں سے رسول اللہ ﷺ نے براءت کا اظہار فرمایا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جس سے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔
4۔وقتی صحتمندی دکھانا
مویشی منڈیوں میں ایک اور دھوکہ بھی بہت زیادہ دیا جاتا یے کہ مریض جانور کو کوئی ایسا انجکشن لگائی جاتی ہے جس سے وہ عارضی طور پر صحیح ہو جاتا ہے اور خریدار صحت مند سمجھ کر خرید لیتا ہے لیکن جب گھر پہنچتا ہے تو اس کی بیماری ظاہر ہو جاتی ہے یہ دھوکہ ہے۔
سیدنا واثلہ بن الأسقع رضی اللہ عنہ ایک بازار میں کھڑے تھے۔ تو ایک شخص نے اپنی اونٹنی تین سو درہم میں بیچی۔ واثلہ رضی اللہ عنہ ذرا غافل ہوئے، اور وہ شخص اونٹنی لے کر روانہ ہو گیا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ اس کے پیچھے دوڑے اور آواز لگانے لگے:اے شخص! کیا تم نے یہ گوشت کے لیے خریدی ہے یا سواری کے لیے؟ .اس نے کہا: سواری کے لیے۔
واثلہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے پاؤں کے تلوے میں زخم ہے میں نے خود دیکھا ہے اور یہ مسلسل سفر نہیں کر سکتی۔ تو وہ شخص واپس آیا اور اونٹنی لوٹا دی۔تو بیچنے والے نے اس کی قیمت میں سے سو درہم کم کر دی۔ اور واثلہ رضی اللہ عنہ سے کہا:
اللہ تم پر رحم کرے، تم نے میری بیع خراب کر دی۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے رسول اللہ ﷺ سے ہر مسلمان کے ساتھ خیرخواہی پر بیعت کی ہے۔(موسوعة الاخلاق والزهد والرقائق: 252/2)
5۔ دانت توڑنا
عیدالاضحی کے ایام میں جب قربانی کے لیے جانور بیچے جاتے ہیں تو ہر خریدار دو دانت جانور خریدنا چاہتا ہے اور دو دانت جانور کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے تب بعض لوگ جانور کے دانت ہاتھ سے توڑ کر منڈی لے آتے ہیں اور تاثر دیتے ہیں کہ جانور دو دانت ہے اس سے ایک تو جانور کو اذیت دی جاتی یے جو کہ ایک ظلم ہے اور دوسری بات کہ خریدار کو دھوکہ دیا جاتا ہے اور وہ اعتماد کر کے کھیرا جانور ذبح کرلیتا ہے یقینا اس طرح کا سودا کسی صورت جائز و حلال نہیں ۔ امام ذہبی رحمہ اللہ نے الکبائر میں اور ہیثمی رحمہ اللہ نے الزواجر میں دھوکہ دینے کو کبیرہ گناہ قرار دیا ہے۔ ابن العربی کہتے ہیں:
دھوکے کی حرمت پر پوری امت کا اجماع ہے۔(صحیح فقة السنة: 396/4)
6۔ جعلی نوٹ دینا
مویشی منڈیوں میں دھوکے کہ ایک صورت جعلی نوٹ دینا ہے اکثر یہ دیکھا گیا یے کہ اگر ایک لاکھ میں سودا ہوتا ہے تو بیچنے والا اپنی سادہ طبیعت و مزاج کی وجہ سے پہچان نہیں پاتا جب گھر پہنچتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ پورے کا پورا ایک لاکھ جعلی دیا گیا ہے وطن عزیز میں جب سے پانچ ہزار کا نوٹ متعارف ہوا ہے اکثر پانچ ہزار کا جعلی نوٹ لوگوں کو لگ جاتا ہے جس جانور کو ایک سال تک محنت کرکے پالنے والا شخص جب مویشی منڈی سے واپس آتا ہے تو جعلی نوٹ لیکر خالی ہاتھ آتا ہے ۔
علامہ ابن حجر ہیثمی ان چیزوں کے نقصان بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:
اور انہی برائیوں (یعنی دھوکہ دہی) کی وجہ سےجو تاجروں، کاروباری لوگوں، ہنر مندوں اور مال و سامان کے مالکوں نے اختیار کیں، اللہ تعالیٰ نے ان پر ظالموں کو مسلط کر دیا، جنہوں نے ان کے مال چھین لیے، ان کی عزتیں پامال کیں، بلکہ کافروں کو بھی ان پر مسلط کر دیا، تو انہوں نے ان کو قید کیا، غلام بنایا، اور انہیں مختلف طرح کے عذاب اور ذلت چکھائی۔ اور کافروں کا مسلمانوں پر بار بار قید، لوٹ مار، مال اور عزت چھیننے کے لیے مسلط ہونا درحقیقت انھی آخری زمانوں میں ہوا، جب تاجروں اور دوسروں نے دھوکہ دہی کی بے شمار اور مختلف صورتیں، بڑے بڑے جرائم، فریب کاریوں، اور باطل چالاکیوں کے ساتھ لوگوں کے مال حاصل کرنے کے نت نئے طریقے ایجاد کیے، جن میں وہ اللہ کو دیکھنے والا نہیں سمجھتے، نہ اس سے ڈرتے ہیں۔(الزواجر عن اقتراف الكبائر: 400/1)
7۔جھوٹی قسمیں کھانا
مویشی منڈی میں اس چیز کی کثرت دیکھی گئی ہے کہ جانور بیچنے والا بہت زیادہ جھوٹی قسمیں کھاتا ہے کہ جی یہ میرا خود اتنے کا خرید کیا ہوا ہے یا مجھے اس کے زیادہ بھاؤ مل رہا تھا یہ عمل گناہ ہے اور اس پر بہت زیادہ وعید وارد ہوئی ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جار اشخاص سے اللہ تعالیٰ بغض رکھتا ہے جھوٹی قسمیں کھا کر سامان بیچنے والا ، مغرور و متکبر فقیر ، بوڑھا زنا کار اور ظالم بادشاہ ۔(سنن نسائی: 2577)
اور اگر سچی قسم ہو تب بھی سودے میں کثرت سے قسمیں کھانے سے منع کیا گیا یے۔ ایسا کرنے سے سودے سے برکت مٹ جاتی ہے۔ سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
بیع میں زیادہ قسمیں کھانے سے بچو کیونکہ وہ فروغ دیتی ہے ، پھر نفع کو مٹادیتی ہے ۔ (صحیح مسلم: 1607)
8۔ منڈی سے باہر خرید کرنا
اگر مویشی منڈی کے لیے نکلا جائے تو عموما دیکھا جاتا ہے کہ بیوپاری راستے میں کھڑے ہوتے ہیں اور جانور فروخت کرنے والے کو منڈی تک پہنچے نہیں دیتے، پہنچنے سے قبل ہی خرید لیتے ہیں یہاں تک کہ فروخت کرنے والے کو معلوم کرنے کا موقعہ ہی نہیں ملتا کہ منڈی کا بھاؤ آج کے دن کیسا ہے؟ اس طرح اکثر وہ سستے داموں جانور بیچ دیتے ہیں۔ یہ کسی جانور کا سودہ ہو یا کسی اور چیز کا اس طرح کرنے سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
رسول اللہ ﷺ نے (تجارتی) قافلوں کو آگے جا کر ملنے سے ، شہری کو کسی دیہاتی کے لیے بیع کرنے سے منع کیا ہے۔(صحیح بخاری: 1515)
9۔ سودے پر سودا
مویشی منڈی میں دیکھا گیا یے کہ دو لوگوں کے درمیان خرید وفروخت کی بات چل رہی ہوتی ہے اسی درمیان کوئی اور بیچ میں آکر کچھ رقم اوپر بتا کر خرید لیتا ہے یا ان کا سودہ خراب کر دیتا ہے۔ اس سے منع کیا گیا ہے۔ اس وقت تک اس سودے سے دور رہا جائے جب تک ان دونوں کا معاملہ ایک طرف نہ ہو جائے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے۔
10۔نمازوں کا خیال نہ رکھنا
مویشی منڈی میں جانے کے بعد بیوپاری حضرات نمازوں سے غافل ہو جاتے ہیں یہ عمل اللہ کی ذکر سے غفلت اور رازق کو چھوڑ کر رزق کی تلاش کرنا ہے جو یقینا بے وقوفی ہے، جو مؤمن کا شیوہ نہیں۔ مؤمن کسی حال میں بھی اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہوتا۔ اللہ رب العالمین کا فرمان ہے:
ایسے لوگ جنہیں تجارت اور خریدو فروخت اللہ کے ذکر سے اور نماز قائم کرنے اور زکوۃ ادا کرنے سے غافل نہیں کرتی اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن بہت سے دل اور بہت سی آنکھیں الٹ پلٹ ہوجائیں گی ۔
حدیث قدسی ہے :
ابن آدم! تو میری عبادت کے لیے یکسو ہو جا، میں تیرا سینہ استغناء و بےنیازی سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور کروں گا اور اگر تو نے ایسا نہیں کیا تو میں تیرا دل مشغولیت سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی دور نہیں کروں گا۔ (سنن ترمذی: 2466)
11۔جانوروں کے حقوق کی پامالی
مویشی منڈیوں میں دیکھا گیا ہے کہ جانوروں کو سخت گرمی میں سائے کے بغیر کھڑا کرکے، بھوکا پیاسا رکھا جاتا ہے اور گاڑیوں میں بھرنے کے وقت ٹھونس ٹھونس کر داخل کیا جاتا ہے۔ یہ ایک زیادتی ہے ۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
رحم کرنے والوں پر رحمان رحم کرتا ہے تم زمین والوں پر رحم کرو عرش والا تم پر رحم کرے گا۔ ( سنن ترمذی: 1924)
نیز آپ ﷺ نے فرمایا:
جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ (صحیح بخاری: 6013)
12۔شہری کا دیہاتی کی طرف سے بیع کرنا
بعض مویشی منڈیوں می شہری یا تاجر گاؤں سے آئے ہوئے شخص کا مال خرید کر زیادہ قیمت پر بیچتے ہیں، اس عمل سے بھی اسلام نے منع کیا ہے۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
نبی کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال و اسباب بیچے۔(صحیح بخاری: 2140)
طاوس بن کیسان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
آپ ﷺ کے اس ارشاد کا مطلب کیا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے ؟ تو انہوں نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ اس کا دلال نہ بنے۔(صحیح بخاری: 2163)
13۔بولی بڑھانا
مویشی منڈی میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک شخص صرف قیمت بڑھانے کی نیت سے بولی میں شامل ہوتا ہے اس کے خریدنے کا ارادہ نہیں ہوتا یہ ناجائز عمل ہے جس سے منع کیا گیا ہے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ۔
نبی کریم ﷺنے بولی بڑھانے سے منع فرمایا ہے۔ (صحیح بخاری: 2142)
بعض مویشی منڈیوں میں حلال جانداروں کے ساتھ دیگر حرام قسم کے جانداروں کا بھی خرید وفروخت ہوتا ہے جن میں کتوں کا کاروبار عام جام ہے۔ کافی قسم کے کتے بہت مہنگے داموں بیچے اور خرید کیے جاتے ہیں۔
کتا ایک نجس جانور ہے اسلام نے شوقیہ کتا رکھنے اور کتوں کا کاروبار کرنے سے منع کیا ہے۔ جس کام سے شریعت نے منع کیا ہے اس میں ایک مسلمان کے لیے کبھی بھی خیر نہیں ہو سکتا لہذا اس سے بازرہنا چاہیے۔
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
رسول اللہ ﷺنے کتے کی قیمت لینے سے منع فرمایا ہے۔(صحیح بخاری: 2237)
بعش مویشی منڈیوں میں بلیاں بیچی جاتی ہیں بلیوں کے مختلف اقسام مہنگے داموں بیچے جاتے ہیں اس بیوپار سے بھی رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
نبی کریمﷺ نے کتے اور بلے کی قیمت سے منع فرمایا ہے ۔ (سنن ابی داود: 3479)
بعض مویشی منڈیوں میں چھوٹے چھوٹے خوبصورت پرندے بھی خرید وفروخت کیے جاتے ہیں ان کی ممانعت وارد نہیں ہوئی لہذا ان کو خرید کیا جا سکتا ہے۔ فقیہ زماں علامہ ابن باز سے سوال کیا گیا۔ زینت کی خاطر پرندے خریدنا اور انہیں پنجروں میں قید رکھنے کا کیا حکم ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے جواب دیا:
اس میں کوئی حرج نہیں، اگر وہ ان کا اکرام کرے، اس پر ظلم نہ کرے، اور اسے دانہ پانی کی ضرورت پوری کرے؛ تو کوئی حرج نہیں۔(موقع الشيخ ابن باز)
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…