Categories: اگست2009

فیوض القرآن

أ ن ث

 أنث اس کے بنیادی معانی نرم کے ہیں۔ مکان أنیث جس زمین میں گھاس وغیرہ جلدی اُگے۔ اسے ’’أرض أنیثہ‘‘ یعنی نرم زمین بھی کہا جاتاہے ۔ سیف أنیث ایسی تلوار جو قاطع نہ ہو یعنی کندتلوار ۔

أنّث لہ : نرم ہونا ، نرمی برتنا (تاج العروس)

اس سے أنثی کا لفظ بنایا گیا جس سے مراد مادہ ہے جو نر کے مقابلہ میں ہو۔

راغب اصفہانی /مفردات میں لکھتے ہیں : أنثی جو ذکر کی ضد ہے اور چونکہ تمام حیوانات میں مؤنث مقابلہ مذکر نرم اور ضعیف ہوتی ہے اس لئے اسے انثی کہاجاتاہے۔(المفردات /۹۳) (لسان العرب ۲/۱۱۳)

لہذا ہر وہ چیز جس میں فاعلیت کے بجائے انفعال کا پہلو غالب ہو و ہ انثی کہلائے گی۔ (المفردات /۹۳)

اسی اعتبار سے جمادات کو بھی اِسی نام سے موسوم کیا گیا ہے اور اللہ کے علاوہ جن اشیاء کو معبود بنایا جاتاہے۔( فائدہ ) انہیں إناث کہنے میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ وہ کمزور اور ضعیف ہوتے ہیں قوت فاعلیت ان میں نہیں پائی جاتی ضعیف اور کمزورکہنے سے ان کا بطلان بھی واضح ہوجاتاہے اور ان کی مزعومہ مقام کا رد بھی ہوجاتاہے۔

جیسا کہ سورۃ النساء میں کہا گیا ہے:

{ إِنْ یَدْعُونَ مِنْ دُونِہِ إِلَّا إِنَاثًا}(النساء :۱۱۷)

’’یہ تو اللہ کو چھوڑ کر صرف عورتوں کو پکارتے ہیں ۔‘‘

قرآن مجید میں اس کے درج ذیل مشتقات استعمال ہوتے ہیں :

انثی ، الأنثی ، الأنثیین ، إناثا

اور قرآن مجید میں یہ لفظ درج ذیل مفاہیم میں استعمال ہوا ہے۔

۱۔ بیٹیاں

ارشاد ربانی ہے :

{أَلَکُمُ الذَّکَرُ وَلَہُ الْأُنْثَی }(النجم:۲۱ )

’’کیا تمہارے لیے لڑکے اور اللہ کیلئے لڑکیاں ہیں۔‘‘

ارشاد الٰہی ہے :

{وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُہُمْ بِالْأُنْثَی ظَلَّ وَجْہُہُ مُسْوَدًّا وَہُوَ کَظِیمٌ }(سورۃ النحل : ۵۸)

’’ان میں سے جب کسی کے ہاں لڑکی کے پیدا ہونے کی خبر دی جائے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتاہے اور دل ہی دل میں کڑنے لگتاہے۔‘‘

ارشاد خداوندی ہے:

{أَوْ یُزَوِّجُہُمْ ذُکْرَانًا وَإِنَاثًا } (الشوری :۵۰)

’’یا انہیں جمع کردیتاہے بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی۔‘‘

۲۔ جانوروں میں تانیث

اللہ رب العزت سورۃ الأنعام میں فرماتے ہیں:

{ قُلْ آَلذَّکَرَیْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَیَیْنِ } (الأنعام :۱۴۴)

’’آپ کہیے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے ان دونوں نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں مادہ کو ۔‘‘

۳۔ بتوں میں تأنیث

فرمان باری تعالیٰ ہے :

{وَجَعَلُوا الْمَلَائِکَۃَ الَّذِینَ ہُمْ عِبَادُ الرَّحْمَنِ إِنَاثًا أَشَہِدُوا خَلْقَہُمْ}(الزخرف :۱۹)

’’اور انہوں نے رحمان کے عبادت گزار فرشتوں کو عورتیں قرار دے لیا ، کیا ان کی پیدائش کے موقع پر یہ موجود تھے۔‘‘

ارشاد حق تعالیٰ ہے :

{إِنْ یَدْعُونَ مِنْ دُونِہِ إِلَّا إِنَاثًا} (النساء :۱۱۷)

’’یہ تو اللہ کو چھوڑ کر صرف عورتوں کو پکارتے ہیں ۔‘‘

الشیخ شاہ فیض الابرار صدیقی

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago