ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبدالرحمن بن ابی الموالی نے محمد بن منکدر سے، کہا میں سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ ایک کپڑا اپنے بدن پر لپیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے، حالانکہ ان کی چادر الگ رکھی ہوئی تھی۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے کہا اے ابوعبداللہ! آپ کی چادر رکھی ہوئی ہے اور آپ ( اسے اوڑھے بغیر ) نماز پڑھ رہے ہیں۔ انھوں نے فرمایا: میں نے چاہا کہ تم جیسے جاہل لوگ مجھے اس طرح نماز پڑھتے دیکھ لیں، میں نے بھی نبی کریم ﷺکو اسی طرح ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا تھا۔
Narrated By Muhammad bin Al-Munkadir : I went to Jabir bin ‘Abdullah and he was praying wrapped in a garment and his robe was Lying beside him. When he finished the prayers, I said «O ‘Abdullah! You pray (in a single garment) while your robe› is lying beside you.» He replied, «Yes, I did it intentionally so that the ignorant ones like you might see me. I saw the Prophet praying like this.»
معانی الکلمات:
| فِي ثَوْبٍ | ایک کپڑے/چادر میں |
| مُلْتَحِفًا | لپیٹے ہوئے |
| وَرِدَاؤُهُ | اور اس کی چادر |
| مَوْضُوعٌ | رکھی ہوئی، پڑی ہوئی |
| انْصَرَفَ | وہ (نمازسے)فارغ ہوئے |
| أَحْبَبْتُ | میں نے پسند کیا، چاہا |
| أَنْ يَرَانِي | کہ وہ مجھے دیکھیں |
تراجم الرواۃ:
1نام ونسب: عبد العزیز بن عبد اللہ بن یحییٰ بن عمرو بن أویس القرشی العامری الأویسی
کنیت: ابو القاسم المدنی الفقیہ
محدثین کے ہاں مقام ومرتبہ: امام ابن حجر اور ذہبی رحمہما اللہ کے ہاں ثقہ تھے۔
2نام ونسب: ابن أبی الموالی: عبد الرحمن بن أبی الموال زید وقیل عبد الرحمن بن زید بن أبی الموال المدنی القرشی الہاشمی
کنیت: ابو محمد مولیٰ آل علی
محدثین کے ہاں مقام ومرتبہ: امام المیمونی فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے عبد الرحمن بن ابی الموالی کے بارے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ان سے حدیث لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ امام ابن حجر کے ہاں صدوق اور امام ذہبی کے ہاں ثقہ تھے۔
وفات: 173ہجری
3نام ونسب: محمد بن المنکدر بن عبد اللہ بن الھدید بن عبد العزی بن عامر بن الحارث القرشی التیمی
کنیت: ابو عبد اللہ ویقال ابو بکر
محدثین کے مقام ومرتبہ: امام سفیان ابن عیینہ فرماتے ہیں کہ ابن المنکدرسچائی کا خزانہ ہیں، امام ابن حجر کے ہاں ثقہ اور امام ذہبی نے ان کو امام کہا ہے۔
پیدائش : 54 ہجری وفات: 130ہجری
3نام ونسب: جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللهِ کاترجمہ حدیث نمبر 40 میںملاحظہ فرمائیں۔
تشریح
مردوں کے لئے ایک کپڑے مثلاً ایک چادر یا صرف قمیض میں نماز پڑھنا جائز ہے بشرطیکہ کندھے ڈھکے ہوئے ہوں لیکن بہتر یہ ہے کہ دو (یا زیادہ) کپڑوں میں نماز پڑھیں۔ بعض لوگ تکمیل ہئیت کے لیے چادر اوڑھنے کو ضروری خیال کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہی جب عام حالات میں چادر کا استعمال زینت کی تکمیل کے لیے ضروری خیال کیا گیا ہے تو نماز میں بھی چادر کی ضرورت ہونی چاہیے ۔ امام بخاری رحمہ اللہ تنبیہ کرنا چاہتے ہیں کہ نماز کی صحت کا مدار کپڑوں کی گنتی یا نوعیت پر نہیں اس کی صحت کے لیے ستر پوشی کافی ہے، اگر ستر پوشی ایک ازار سے ہوجائے تو چادر کی ضرورت نہیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ چادر اوڑھنے سے زینت بڑھ جاتی ہے، لیکن نماز کی صحت کے لیے ایسا کرنا ضروری نہیں، جیسا کہ سیدنا جابررضی اللہ عنہ نے چادر کے ہوتے ہوئے عمل کے جائز ہونے کی وضاحت کرنے کے لیے اس کے بغیر نماز ادا کی ہے۔باب :میں سیدنا عمررضی اللہ عنہ کا ایک فرمان بیان ہوا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی پر کشادگی فرماتا ہے تو اس وسعت کا اظہار ہوتا چاہیے۔ اس ارشاد سے وہم ہو سکتا ہے کہ شاید وسعت کی صورت میں ایک کپڑے سے نماز جائز نہ ہو۔ ممکن ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس وہم کے ازالے کے لیے اس باب کا انعقاد کیا ہو، کیونکہ اس میں وضاحت ہے کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے پاس دوسری چادر موجود تھی، لیکن انھوں نے اس وسعت کے باوجود ایک ہی کپڑے میں نماز ادا فرمائی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ وسعت کے باوجود ایسا کرنا جائز ہے اور ایسا کرنا تقوی کے خلاف نہیں۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے زبانی مسئلہ سمجھانے کے بجائے عملی تعلیم کا اہتمام کیا ہے، کیونکہ اس سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ عام لوگوں کی عادت ہے کہ وہ سنن وآداب اور مستحبات کے ساتھ فرض و واجب جیسا معاملہ کرتے ہیں، حالانکہ ہر ایک کو اپنے اپنے مقام پر رکھنا چاہیے، اس لیے سیدناجابر نے لوگوں کو تعلیم دی اس سےیہ بھی معلوم ہوا کہ تعلیمی مقاصد کے پیش نظر بعض اوقات اولیٰ اور بہتر چیز کو ترک کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کیا، کیونکہ نماز ایک کپڑے میں پڑھنا جائز ہے، تاہم بہتر ہے کہ اگر زیادہ کپڑوں کی گنجائش ہو تو نماز میں انھیں استعمال کیا جائے۔ واللہ أعلم
کسی کام میں مشغولیت کی وجہ سے نافع رحمہ اللہ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے تھے تو نماز کے بعد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں نے تمہیں دو کپڑے نہیں دیئے تھے؟ نافع نے کہا: جی ہاں! ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں تمہیں ایک کپڑے میں باہر بھیجوں تو چلے جاؤ گے؟ نافع نے کہا: نہیں۔ سیدناابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا اللہ اس کا مستحق ہے کہ اس کے لئے زینت اختیار کی جائے یا لوگ؟ نافع نے کہا: اللہ، پھر ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی کریم ﷺ(یا عمر رضی اللہ عنہ) نے فرمایا:
اگر تم میں سے کسی کے پاس دو کپڑے ہوں تو ان میں نماز پڑھے ۔[التمهيد 6/371وسنده صحيح]
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…