بانی جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمۃ اللہ علیہ بڑے دور اندیش تھے۔ صرف ایک جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی ہی آپ کی یادگار اور صدقہ جاریہ نہیں بلکہ یہ سلسلہ ملک بھر میں پھیلا ہوا ہے۔
آپ نے وطن عزیز پاکستان کے مختلف شہروں میں دینی مدارس و جامعات کا آغاز کیا اور پھر وہ ادارے مختلف دوست و احباب کے ذمے لگا دیے کہ وہ ان کا انتظام و انصرام کریں۔
آپ کی ایک یادگار مین سپر ہائی وے پر کراچی میں داخل ہونے سے پہلے دنبہ گوٹھ کے قریب جامع مسجد نور اور حرمین کمپلیکس بھی ہے۔ اور یہاں ایک وسیع قطعہ اراضی جامعہ کے لیے حاصل کی گئی تھی اور آپ کے مستقبل کے منصوبوں میں سے وہاں پر ایک بہت بڑی یونیورسٹی کا قیام بھی تھا جہاں دینی اور دنیاوی علوم پڑھائے جانے تھے۔ لیکن قدر الله ما شاء
گذشتہ ہفتہ کے دن جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی کے سابق طلباء کا اجتماع یہاں پر منعقد کیا گیا تھا جہاں پر سابق طلباء کے ساتھ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی کے اساتذہ کرام سمیت دیگر احباب بھی موجود تھے۔ اور سب مہمانوں کی مہمان نوازی میں مصروف تھے۔ اور مہمانوں کی تین وقت عمدہ ضیافت کی گئی۔
اس موقع پر حرمین کمپلیکس کی عمارت دیکھ کر وہ دن بھی یاد آ رہے تھے جب زمانہ طالبعلمی میں یہاں آیا کرتے تھے اور اپنے مربی و شیخ پروفیسر محمد ظفر اللہ صاحب کے لیے دعائیں نکل رہیں تھیں۔
مسجد النور میں ملتقی ابناء الجامعہ کا پروگرام بڑی خوبصورتی سے سجایا گیا تھے جو کہ منتظمین کے اعلیٰ ذوق کی غمازی کر رہا تھا۔
نماز مغرب کے بعد خوبصورت لان میں پھلوں کے ساتھ مہمان نوازی کی گئی جو کہ ہمارے دوست اور جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی کے ایک سابق طالب علم مولانا حافظ عبد الماجد صاحب آف سرگودھا کی طرف سے تھی اور وہ پھل بھی وہاں سے ساتھ لائے تھے۔ جزاہ اللہ خیرا
نماز مغرب کے بعد کا پروگرام بھی بڑا خوبصورت تھا جس میں شیر سندھ مولانا محمد ابراہیم طارق صاحب، لالا معاذ صاحب، حافظ عبد الستار عاصم نے اپنی خوبصورت آواز سے محفل کو چار چاند لگائے اور ہمارے استاذ فضیلۃ الشیخ عمر فاروق السعیدی صاحب حفظہ اللہ نے خوبصورت نصیحتیں بھی کیں۔
اللہ تعالیٰ نے حضور دعا ہے کہ اس گلشن کی حفاظت فرمائے اور اس کی آبیاری کرنے والوں کو برکتوں سے نوازے آمین یا رب العالمین
پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی مہمان نوازی
ابھی گھر سے واپس کراچی پہنچ رہا ہوں جب حرمین کمپلیکس کے پاس سے گذرا اور ایک نظر یہاں پر پڑی تو جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی اور حیات مستعار کے گذرے ہوئے ماہ و سال آنکھوں کے سامنے سے ایک فلم کی طرح سے گذر گئے اور خیالات کی دنیا میں کھو گیا۔
وہ دن بھی ذہن میں آ گیا جب حرمین کمپلیکس دنبہ گوٹھ میں مسجد النور کی سنگ بنیاد ولی حافظ محمد یحیی عزیز میر محمدی رحمۃ اللہ علیہ کے دست مبارک سے رکھی جانی تھی۔ اس تقریب سے ایک دو دن قبل کچھ طلباء کو جامعہ ابی بکر الاسلامیہ سے یہاں لایا جاتا ہے جن میں راقم الحروف بھی شامل تھا۔ اور ڈاکٹر مقبول احمد مکی صاحب مدیر مجلہ اسوہ حسنہ کراچی اور دیگر ساتھی بھی تھے۔
ہمارے مربی و شیخ پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمۃ اللہ علیہ کو پتہ چلا کہ ڈاکٹر مقبول احمد مکی صاحب کا روزہ ہے تو آپ بیریوں کے باغ میں چلے گئے اور واپس تشریف لائے تو آپ کے ہاتھ میں ایک بڑا اور پکا ہوا بیر تھا۔ شیخ صاحب نے ڈاکٹر مقبول احمد مکی صاحب کو وہ بیر دیا اور فرمانے لگے کہ یہ بیر کئی دنوں سے میری نظر میں تھا آج آپ کے لیے توڑ کر لایا ہوں اس سے روزہ افطار کریں۔
جب کام سے فارغ ہو گئے تو آپ خود بھی گاڑی میں ساتھ سوار ہوئے اور اپنے گھر ماڈل کالونی میں اتر گئے اور گاڑی کے ڈرائیور کو فرمانے لگے کہ ان طلباء کو لے جائیں اور کسی اچھے ہوٹل سے مرغی کے گوشت سے کھانا کھلائیں۔ پھر ڈرائیور عبدالحلیم صاحب نے اسی طرح سے کیا ہمیں لے کر یونیورسٹی روڈ پر آئے اور کھانا کھلایا۔
شیخ محترم رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ کچھ عرصہ رہنے کا موقع ملا آپ دل کے غنی اور کھلا ہاتھ رکھتے تھے اور بہت بڑے فیاض اور مہمان نواز تھے۔
اللہ تعالیٰ آپ کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے آمین یا رب العالمین
الشیخ عبدالرحمن ثاقب سکھروی
جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی علوم اسلامیہ کا وہ گلستان ہے جس کی خوشبو چہار عالم پھیلی ہوئی ہے۔ یہاں سے علمی اکتساب کرنے والے اکناف عالم میں شعبہ حیات کے مختلف شعبہ جات میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور وہ اپنے محسنین و معاونین اور اساتذہ کرام کے لیے صدقہ جاریہ ہیں۔
جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس ادارے نے عقیدہ توحید اور منہج سلف کو عام کرنے میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ فرقہ واریت کے بجائے احکام شریعت اسلامیہ کی تعلیم دی ہے۔ جب جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کی خدمات کو بنظر غائر دیکھتے ہیں تو اس کے بانی اور اپنے مربی و محسن شیخ پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے لیے دل سے دعائیں نکلتی ہیں۔
آپ نے جس سوچ اور فکر سے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کی بنیاد رکھی اور اپنے خون جگر سے سینچ کر پروان چڑھایا یہ آپ کے اعلی فکر کے دانشور اور عالم ربانی ہونے کی غمازی کرتا ہے۔ شیخ محمد ظفر اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے پاکستان جیسے ملک میں سب سے پہلے عربی زبان میں تعلیم دینے والا جامعہ قائم کرکے اور اس کا اعلی معیار تعلیم بنا کر مسلمانان عالم کو اس طرف متوجہ کیا اور پھر طالبان علوم نبوت جوق در جوق جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کی طرف کھنچے چلے آئے۔
جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی کی خدمات بہت زیادہ ہیں اور انہی خدمات کے اعتراف میں ہماری مادر علمی کو « رابطہ جامعات اسلامیہ « کا رکن بنایا گیا تھا اور پاکستان میں یہ اعزاز صرف دو جامعات کو حاصل ہوا تھا۔ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی اور اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد۔
جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی اپنے تعلیمی معیار اور طلباء کو دی جانے والی سہولیات کے اعتبار سے ہمیشہ طلباء کے لیے پرکشش رہا ہے۔
پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے ہمیشہ کوشش کی کہ وہ وقت کے جید اور ممتاز علماء کرام و مشائخ عظام کو جامعہ میں تدریس کے لیے منتخب کریں اور آج بھی ان اساتذہ کرام کے اسماء گرامی پاکستان کے ممتاز علماء کرام و مشائخ عظام میں لیے جاتے ہیں۔
جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی سے تعلق رکھنے والے طلباء دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں اور ہر کوئی اپنے اپنے انداز سے خدمات انجام دینے میں مصروف عمل ہے۔
ان طلباء کرام میں سے ہمارے ایک دوست جناب حافظ عبد الستار عاصم صاحب نے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے سابق طلباء کو سب سے پہلے چھانگا مانگا میں اکٹھا کیا تھا اور شاید کہ اس پروگرام میں مولانا شفیق الرحمن فرخ رحمۃ اللہ علیہ آپ کے ساتھی بنے تھے اور پھر دوسرا پروگرام بھی وہیں چھانگا مانگا میں ہوا تھا جس میں ہمارے بھائی شیخ ضیاء الرحمن شہید رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ بھی کراچی سے شریک ہوئے تھے۔ اس کے بعد تیسرا پروگرام جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی میں ہی منعقد ہوا تھا۔ اس کے بعد چوتھے ملتقی ابناء الجامعہ کے پروگرام رکھنے کی تیاری ہو رہی تھی سارے ساتھی اور دوست و احباب خوش تھے کہ پھر دوبارہ اپنی مادر علمی میں جمع ہوں اور اکھٹے ہو کر مل بیٹھیں گے اور پرانی یادیں تازہ کریں اپنے اساتذہ کرام کی قیمتی نصیحتیں سنیں گے لیکن اچانک شقی القلب اور درندوں نے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے مدیر شیخ ضیاء الرحمن مدنی صاحب کو شہید کر دیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون اللھم اغفرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ ۔۔ اللھم ادخلہ الجنۃ الفردوس
اور یوں یہ پروگرام ہوتے ہوتے رہ گیا اور غم میں ایسے ڈوبے، دلوں پر ایسے بادل چھائے کہ کوئی اس درد کا نہ پوچھے۔
وقت بڑی تیز رفتاری سے گذرتا گیا اور پھر اب 25 اکتوبر 2025 کو پروگرام رکھا گیا جس کا کئی سالوں سے انتظار تھا۔
25 اکتوبر 2025 کی صبح جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی میں چہل پہل تھی۔ دور دراز اور بیرون ملک سے آنے والے احباب ایک دن پہلے ہی پہنچ چکے تھے جبکہ کچھ دوست رات کو پہنچے تھے اور کراچی میں رہنے والے بھی پہنچ رہے تھے اور آپس میں مل کر خوش ہو رہے تھے سب کے چہروں پر مسکراہٹیں سجی ہوئی تھیں۔ ایک دوسرے کی خیریت دریافت کر رہے تھے اور جو ساتھی نظر نہیں آتا اس کے بارے پوچھتے کہ فلاں ساتھی کہاں ہے وہ نظر نہیں آرہا۔ اس دوران کچھ بچھڑ جانے والے ساتھیوں کے تذکرے بھی ہوئے کہ وہ گذشتہ ملتقی میں موجود تھے لیکن آج وہ موجود نہیں ہیں۔ اس موقع پر شیخ ضیاء الرحمن شہید رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ کی یاد بھی بڑی شدت سے آئی کہ گذشتہ پروگرام میں وہ آگے بڑھ بڑھ کر پروگرام میں حصہ لے رہے تھے لیکن آج ان کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔ بقول شاعر :
وہی بزم وہی ہجوم ہے اور وہی عاشقوں کا ہجوم ہے
ہے کمی تو بس میرے چاند کی جو تہہ خاک چلا گیا
جامعہ کے صحن میں سب ساتھی جمع تھے اور باہم محو گفتگو تھے وقت گذر رہا تھا۔ اعلان کیا گیا کہ طابور ( اسمبلی) کے لیے کھڑے ہو جائیں سب ساتھی آمنے سامنے دو قطاروں میں کھڑے ہو گئے شیخ ابو زبیر محمد حسین رشید صاحب حفظہ اللہ نے مائیک سنبھالا اور جامعہ کے سابق طالب علم اور امام محترم حافظ عبد الوحید صاحب حفظہ اللہ حال ساکن ریاض سعودی عرب کو قرآن مجید کی تلاوت کی دعوت دی محترم حافظ صاحب نے اپنی خوبصورت آواز میں تلاوت کی اس کے بعد پروفیسر یوسف ضیاء صاحب آف صادق آباد نے چند کلمات کہے اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔
اس کے بعد کہا گیا کہ سب بھائی مطعم میں جا کر طالب علمی دور کی طرح سے لائن میں لگ کر ناشتہ لیں سب ساتھیوں کا رخ مطعم کی طرف تھا اور پھر وہاں سے اپنی پسند کا ناشتہ لے کر اسی جگہ جہاں کبھی کسی دور میں تین وقت کھانا کھایا کرتے تھے انہی کرسیوں اور میزوں پر بیٹھ گئے اور لذیذ ناشتہ کیا۔ ناشتے سے فارغ ہو کر پھر دوبارہ صحن جامعہ میں جمع ہوگئے جو ساتھی پیچھے رہ گئے تھے وہ بھی پہنچ گئے یہاں پر ایک فوٹو سیشن ہوا جہاں سب ساتھی موجود تھے۔
اس کے بعد اعلان کیا گیا کہ بسوں کا انتظام ہے ساتھی بسوں میں سوار ہو جائیں اور جن کے پاس اپنی سواری موجود ہے یا وہ دوستوں کے ساتھ سفر کرنا چاہیں تو وہ ان کے ساتھ بیٹھ کر حرمین کمپلیکس نزد دنبہ گوٹھ مین سپر ہائی وے پہنچ جائیں کیونکہ پروگرام کا مقام وہ ہے۔ سب ساتھی وہاں پہنچ گئے راقم الحروف بھی برادر اکبر مولانا محمد ابراہیم طارق صاحب حفظہ اللہ کے ہمراہ وہاں پہنچ گیا۔ واضح رہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں ہمارے مربی و شیخ پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی کے لیے ایک وسیع قطعہ اراضی جو کہ کئی ایکڑوں پر مشتمل ہے حاصل کیا تھا۔ جہاں پر ایک بڑی اور خوبصورت مسجد کے ساتھ ساتھ ادارے کے لیے عمارتیں تعمیر کی گئیں تھیں۔ اور شیخ محترم کے منصوبوں میں سے ایک منصوبہ یہاں پر بہت بڑی یونیورسٹی کا قیام تھا۔ اور آپ نے اس کی باقاعدہ تیاری شروع کر دی تھی اور نقشے بھی تیار کر لیے تھے لیکن اجل نے مہلت نہ دی اور آپ اپنے رب کے پاس پہنچ گئے۔ اللھم اغفرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ ۔۔ اللھم ادخلہ الجنۃ الفردوس
سارے ساتھی حرمین کمپلیکس پہنچ چکے تھے اور سب کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے کہ آج ایک عرصے بعد یہاں پہنچے ہیں۔ خوبصورت مسجد النور اور اس کے سامنے دیدہ زیب پارک آنکھوں کو خیرہ کر رہا تھا اور منتظمین کے اعلیٰ ذوق ہونے کی گواہی دے رہا تھا۔
ساتھی وضوکرکے مسجد میں داخل ہو رہے تھے مسجد کے ہال میں خوبصورت لوگوں نے خوبصورت پروگرام ترتیب دیا ہوا تھا اسٹیج اور سامنے Uکی شکل میں کرسیاں اور ان کرسیوں کے سامنے خوبصورت پھول اور گلدستے سجائے ہوئے تھے۔
پروگرام کا آغاز حافظ عبیداللہ بن عبدالرحمن صاحب حفظہ اللہ مدیر جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی کی خوبصورت آواز میں تلاوت سے ہوا۔ اسٹیج سیکریٹری کے فرائض شیخ ابو زبیر محمد حسین رشید صاحب حفظہ اللہ نے ادا کیے۔ نظم سر نوید ظفر صاحب نے اپنی خوبصورت آواز میں پڑھی۔ ترحیبی یعنی استقبالیہ کلمات ڈاکٹر محمد طاہر آصف صاحب نائب مدیر جامعہ ابی بکر الاسلامیہ نے کہے اور مشارکین کو خوش آمدید کہا۔ جبکہ شیخ ابوعمر صاحب نے عربی اشعار کے ذریعے سے مہمانان گرامی کو خوش آمدید کہا۔
ان کے بعد نقابت کی ذمہ داری ڈاکٹر فیض الابرار صدیقی صاحب استاذ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ و پروفیسر کراچی یونیورسٹی نے سنبھالی اور استاذ العلماء فضیلۃ الشیخ عمر فاروق سعیدی صاحب حفظہ اللہ کو دعوت سخن دی۔ ( شیخ سعیدی صاحب کے سامنے راقم الحروف کو بھی زانوئے تلمذ تہہ کرنے کا شرف حاصل ہے)
استاذ محترم نے اپنے دھیمے لہجے اور انداز میں بڑی پیاری نصیحتیں کیں۔
اس پروگرام کے منصوبہ ساز اور ہمارے ساتھی محترم جناب حافظ عبد الستار عاصم صاحب آف برطانیہ کو دعوت خطاب دی گئی انہوں نے اپنی گفتگو میں ہمیں اپنی زمہ داریوں کا احساس دلایا اور کہا کہ ہمیں کسی بھی صورت میں اپنی مادر علمی کو نہیں بھولنا چاہیے بلکہ اپنی استطاعت کے مطابق دامے درمے اور سخنے تعاون کرتے رہنا چاہیے۔
اس کے بعد پاکستان کی معروف علمی شخصیت ڈاکٹر حماد لکھوی صاحب حفظہ اللہ نے خطاب فرمایا واضح رہے کہ ڈاکٹر حماد لکھوی صاحب بھی جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی کے فیض یافتگان میں سے ہیں۔
اسی طرح سے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی کے فاضلین میں سے شیر سندھ مولانا محمد ابراہیم طارق صاحب، حافظ عبد الوحید صاحب اور مولانا یوسف ضیاء صاحب نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
جبکہ مشائخ عظام میں سے استاذ العلماء فضیلۃ الشیخ مفتی خلیل الرحمٰن لکھوی صاحب حفظہ اللہ اور ولی کامل فضیلۃ الشیخ حافظ مسعود عالم صاحب حفظہ اللہ نے شرکاء کو خوبصورت نصیحتیں کیں۔
شرکاء سے تجاویز طلب کی گئیں۔ مختلف احباب نے اپنی اپنی تجاویز پیش کیں۔ ایک تجویز قاری شوکت حیات شاکر صاحب آف پاکپتن کی طرف سے دی گئی کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے بہت سے دوست بعد مکانی کی وجہ سے شریک نہیں ہو سکے لہذا کوئی ایک پروگرام پنجاب میں بھی منعقد ہونا چاہیے۔ ایک تجویز میں جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے میڈیا سیل کو مضبوط بنانے کے لیے درخواست کی گئی۔ جبکہ راقم الحروف نے تجویز پیش کی کہ پہلے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے مجلہ اسوہ حسنہ میں جامعہ کے فیض یافتگان کے تعارف کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا جو کہ بوجوہ رک گیا ہے اس سلسلے کو دوبارہ شروع کیا جانا چاہیے اس سے جامعہ کے فیض یافتگان کا ڈیٹا جمع اور مرتب ہوسکے گا کہ کون کون ساتھی کس جگہ پر خدمات انجام دے رہا ہے۔ اسی طرح سے بانی جامعہ ہمارے مربی و محسن شیخ پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمۃ اللہ علیہ سے لے کر شیخ ضیاء الرحمن مدنی شہید رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ تک سب مدیران، یہاں پر طلباء کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے والے اساتذہ کرام اور جامعہ کے فیض یافتگان کے حالات زندگی باقاعدہ مرتب و مدون کرنے چاہئیں تاکہ دنیا کو جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی کی خدمات سے آگاہی حاصل ہوسکے۔
اس دوران نماز ظہر وعصر ادا کی گئیں اور بڑا ہی لذیذ ظہرانہ دیا گیا۔ جبکہ پروگرام کے درمیان شیخ ضیاء اللہ صاحب کی طرف سے عجوہ کھجور اور زمزم پیش کیا گیا۔ حافظ عبد الستار عاصم صاحب کی طرف سے سب شرکاء کو خوبصورت قلم کا تحفہ دیا گیا۔ اسی طرح سے جامعہ کی طرف سے دیدہ زیب ملف / فائل کور کا تحفہ دیا گیا۔
نماز عصر کے بعد چائے اور سموسے پیش کیے گئے۔
نماز مغرب کے بعد جامع مسجد النور کے سامنے پارک میں چارپائیاں رکھی گئی تھیں جن پر اور کچھ ساتھی گھاس پر بیٹھ گئے اور یہاں پر خوب مجلس جمی، شیخ عبد الماجد صاحب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث سرگودھا کی طرف سے سرگودھا سے لایا فروٹ پیش کیا گیا۔
یہاں پر لالا معاذ احمد صاحب آف بھائی پھیرو، شیر سندھ مولانا محمد ابراہیم طارق صاحب اور حافظ عبد الستار عاصم صاحب نے اپنی اپنی خوبصورت آواز میں سامعین کو مختلف چیزیں سنائیں اور محفل کو خوب محظوظ کیا۔
واضح رہے کہ اس پروگرام کا خواب دیکھنے اور پھر اس میں رنگ بھرنے سے لے کر آغاز کرنے اور یہاں تک پہنچانے میں بنیادی کردار ہمارے دوست مولانا حافظ عبد الستار عاصم صاحب کا ہے۔ جزاہ اللہ خیرا
جبکہ اس میں آپ کے معاون بننے والے دوستوں میں
حافظ عبدالوحید انور بریطانیہ
حافظ عنایت اللہ سواتی امریکا
حافظ ضیا ءاللہ جدہ
حافظ عبدالماجد جدہ کے اسماء گرامی آتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سب ساتھیوں کو جزائے خیر عطا فرمائے آمین
آخر میں بھرپور عشائیہ دیا گیا جس میں بار بی کیو کا انتظام کیا گیا۔ اس کے بعد ساتھی رخصت ہوگئے۔
اللہ تعالیٰ ہماری مادر علمی کو تاقیامت شاد و آباد رکھے اور معاونین و محسنین کو جزائے خیر دے اور برکتوں سے نوازے آمین یا رب العالمین
الشیخ ضياء الله صاحب
الحمدللہ، دل کو بے حد خوشی اور مسرت ہوئی کہ اپنے محترم اساتذہ ، پیارے بھائیوں اور معزز ساتھیوں سے دوبارہ ملاقات کا موقع ملا، جن کے ساتھ ہم نے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی میں کے سنہری ایام گزارے۔
یہ بابرکت ملاقات ماضی کی حسین یادوں کو تازہ کر گئی اور علم، اخوت، محبت اور خلوص سے بھرپور اُن دنوں کی خوشبو کو ایک بار پھر زندہ کر گئی۔
میں نے اس ملاقات کے لیے خصوصی طور پر کراچی کا سفر کیا، اور بے شمار محبتوں، خوشیوں اور یادوں کے ساتھ اگلی صبح واپس لوٹا۔ یہ یادیں واقعی ناقابلِ فراموش ہیں اور ہمیشہ دل کے قریب رہیں گی۔
اللہ تعالیٰ اُن تمام احباب، اور منتظمین کو جزائے خیر عطا فرمائے جنہوں نے اس یادگار اجتماع کے انتظام و اہتمام میں دن رات محنت کی، اور ہمیں ایسے خوشگوار لمحات فراہم کیے جو ہمیشہ یاد رہیں گے۔
میری دلی خواہش ہے کہ اس طرح کی ملاقات ہر تین سے چار سال بعد منعقد کی جائے، تاکہ ہم ایک دوسرے سے دوبارہ مل سکیں، اپنے اساتذہ و احباب سے فیض حاصل کر سکیں، خوشیاں بانٹ سکیں اور پرانی یادوں کو تازہ کرتے رہیں۔
الشیخ عبدالرحمن ثاقب
علماء کرام و مشائخ عظام دوست و احباب
ملتقی ابناء الجامعہ کے کامیاب پروگرام پر مبارکباد پیش کرتا ہوں
حافظ عبیداللہ بن عبدالرحمن
شیخ محمد طاہر آصف صاحب
شیخ مقبول احمد مکی صاحب
حافظ عبد الستار عاصم صاحب
اساتذہ کرام جامعہ ابی بکر الاسلامیہ
جنہوں نے مشائخ کرام اور احباب سے ملاقات کا خوبصورت پروگرام ترتیب دیا۔ اور ہم سب اپنے اساتذہ کرام و مشائخ عظام کی نصیحتوں سے مستفید ہوئے۔
آج اس پروگرام کے متعلق کچھ لکھنے کا ارادہ تھا لیکن تنظیمی مصروفیات کی بنا پر اور اب شدید تھکاوٹ کی وجہ سے نہیں لکھ پایا۔ جلد ٹوٹے پھوٹے الفاظ احاطہ تحریر میں لانے کی کوشش کروں گا ان شاءاللہ
اپنی خصوصی دعاؤں میں یاد رکھیں شکریہ
الشیخ محمد بلال اظهرصاحب
الشیخ محمد طیب مدنی
ملاقات ہوئی تو دل نے کہا
یہ لمحہ قیمتی ہے سنبھال لو ذرا
سوچ رہا ہوں کہ ملتقی أبناء الجامعہ کو کیا عنوان دوں دل نے کہا:
یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی لیکن دل ودماغ میں احباب کی الفت ومحبت کے جھونکے چلنے لگے کہ اس سے بہتر کوئی اور عنوان رکھا جائے
پھر جیسے ، جیسے مادر علمی کے درخشندہ ستارے ، مہکتے پھول، روشن چراغ ،دمکتے مسکراتے پر نور چہرے نظروں کے سامنے سے گزرتے گئے مختلف عنوان ذہن میں آتے گئے جیسے:
یادوں کی بارات
یادوں کا سفر اور پرانے ساتھیوں کی خوشبو
وقت کے بعد رفاقت کی ایک شام
جب پرانے ہم مکتب دوبارہ ملے
گزرے لمحوں کی خوشبو
بچھڑے چہروں کی روشنی
دوستی کے وہ دن جو کبھی پرانے نہیں ہوئے
وقت بدلا لوگ بدلےمگر احساس وہی رہا
ملاقات کے بعد دل نے کہا یہ لمحہ قیمتی ہے
پرانے دوست نئی مسکراہٹیں اور یادوں کا سمندر
گزرے وقت کی راہوں میں دوستی اب بھی زندہ ہے
یادوں کی محفل میں رفاقت کا چراغ پھر جل اٹھا
میرے دوست مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے جیسے عنوان آتے رہے اب آپکو جو اچھا لگے اسے منتخب کر لیں
پھر آج وہی چہرے ملے برسوں کے بعد
یوں لگا جیسے زندگی لوٹ آئی اک پل کے بعد
جب سے أبناء الجامعہ کے گروپ میں ملتقی کا اعلان پڑھا دل کہے کہ کب وہ وقت آئے ، لیکن زندگی کی مختلف مصروفیات نے بہانے تراشنے شروع کردیے آخر مادر علمی کی محبت اور دوستوں سے شوق ملاقات نے کسی کی نہ سننے دی اور قدم خود بخود جانب منزل چلنے لگے
کبھی کبھی وقت کی دوڑ میں ہم اتنے آگے نکل جاتے ہیں کہ ماضی کی راہوں میں بچھے یادوں کے پھول بھی دھندلا سے جاتے ہیں مگر جب برسوں بعد وہی پرانے ہم مکتب ساتھی وہی چہرے وہی ہنسی کی بازگشت سامنے آتی ہے تو دل جیسے وقت کے جھرنوں میں واپس بہنے لگتا ہے
وہ لمحہ جب نظریں ایک دوسرے کو پہچانتی ہیں دل کے اندر ایک انجانی خوشبو پھیل جاتی ہے ہر جملے میں ماضی کی کہانیاں سانس لیتی ہیں وہی جامعہ وہی شرارتیں گویا وقت پلٹ کر پھر وہی صفحہ کھول دیتا ہے جہاں بچپن اپنی معصومیت کے عروج پر تھا
باتوں کا سلسلہ چلتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ زندگی نے سب کو کہاں کہاں پہنچا دیا مگر دل اب بھی وہیں ٹھہرا ہے جہاں دوستی بے غرض تھی جہاں خواب بانٹے جاتے تھے اور غم بانٹنے کا سلیقہ سیکھا جاتا تھا جہاں انبیاء کے وارث تیار ہوتے تھے
ان ملاقاتوں سے دلوں کی تجدید ہوتی ہے یہ یاد دلاتی ہیں کہ رشتے وقت سے نہیں احساس سے جڑے رہتے ہیں کچھ چہرے جاتے نہیں وہ دل کے دریچوں پر ہمیشہ مسکراتے رہتے ہیں۔
وقت نے چہرے بدل دیے دل نہ بدل سکے،
یادوں کے دیے بجھے نہیں جلتے ہی رہے
وقت نے بہت کچھ بدل دیا مگر کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جو بدلنے کے لیے نہیں، یاد رکھنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔
الشیخ حبيب الرحمن۔ اسلام اباد
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
دل کو بے حد خوشی اور مسرت ہوئی کہ مجھے اپنے پیارے بھائیوں اور معزز ساتھیوں سے دوبارہ ملاقات کا موقع ملا، جن کے ساتھ ہم نے کراچی میں جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے سنہری ایام گزارے۔
یہ بابرکت ملاقات ماضی کی خوبصورت یادوں کو تازہ کر گئی اور علم، بھائی چارے اور خلوص سے بھرپور ان دنوں کی خوشبو کو پھر سے زندہ کر دیا۔یہ واقعی ایک ناقابلِ فراموش ملاقات تھی، جو ہمیشہ ہمارے دلوں میں نقش رہے گی۔
اللہ تعالیٰ ان تمام احباب کو جزائے خیر عطا فرمائے جنہوں نے اس خوبصورت ملاقات کے انتظام و اہتمام میں حصہ لیا، اور ان کی یہ کاوشیں ان کے اعمالِ حسنہ کے میزان میں شامل فرمائے۔ آمين يارب العالمين
الشیخ محمد جميل العلوي (داعية في جمعية الدعوة والإرشاد ۔ المدينة المنورة)،والشیخ عتيق الرحمن (ناظم مرکز رحمان غني بزنس سوسائٹی کراچی)
جامعہ ابى بكر کراچی کے طلبہ کی یادگار ملاقات
الحمدللہ، جامعہ ابي بكر الاسلامیہ کراچی کے سابق طلبہ کی ملاقات ایک نہایت پُرمسرت اور روح پرور موقع ثابت ہوئی۔ یہ صرف ایک تقریب نہیں تھی بلکہ دلوں کے ملاپ، محبتوں کے اظہار، اور ماضی کی خوبصورت یادوں کو تازہ کرنے کا لمحہ تھا۔
اس ملاقات میں مختلف ادوار کے فارغ التحصیل طلبہ نے شرکت کی۔ چہرے پر خوشی، آنکھوں میں چمک، اور زبان پر شکر کے الفاظ تھے۔ سب ایک دوسرے سے بغل گیر ہو کر اپنے تعلیمی ایام، اساتذہ کی نصیحتوں، اور جامعہ کے روحانی ماحول کو یاد کر رہے تھے۔
شیخ حافظ مسعود عالم حفظہ اللہ اور الشیخ ابو عمار السعيدي نے نہایت پراثر کلمات میں طلبہ کو نصیحت فرمائی کہ وہ اپنی تعلیم اور علمِ دین کو امت کی خدمت کے لیے وقف کریں۔ شیخ خليل الرحمن حفظہ اللہ نے بھی محبت بھرا خطاب کیا جس میں اخلاص، استقامت، اور اجتماعیت کی اہمیت پر زور دیا۔اسی طرح الشیخ ڈاکٹر مقبول احمد، الشيخ عبدالستار، الشيخ طاهر آصف، الشيخ حافظ عبيد الله ،الشيخ ابراهيم طارق اور دیگر اساتذہ و منتظمین نے اپنی قیمتی آراء سے اس ملاقات کو یادگار بنایا۔ ان کی محنت، تنظیم، اور حسنِ انتظام نے تقریب کو کامیابی کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔
اس ملاقات نے نہ صرف پرانے رشتوں کو تازہ کیا بلکہ آئندہ کے لیے دعوتی، تعلیمی اور اصلاحی کاموں میں باہمی تعاون کا جذبہ بھی پیدا کیا۔ واقعی، یہ ایک ايسا دن تھا جو دلوں کو جوڑ گيا، محبتوں کو بڑھا گيا، اور ایمان کو تازہ کر گيا۔
آخر میں تمام شرکاء نے جامعہ اور اس کے اساتذہ کے لیے دعائیں کیں کہ اللہ تعالیٰ اس ادارے کو مزید ترقی، عزت، اور قبولیت عطا فرمائے، اور ہمیں علم و عمل کی راہ پر ہمیشہ قائم رکھے۔
ڈاکٹر اعجاز فاروقی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
اظہار تشکر کے لیے آپ کی خدمات میں کے اعتراف میں چند کلمات کو قبول فرمائے خصوصا جامعہ کے ذمہ داران اور اساتذہ کرام اور خدام حضرات جن کا میں دل کی گہرائیوں سے ان کی مہمان نوازی جو کہ سنت نبوی بھی ہے اور اظہار محبت اور شفقت اور عمدہ ذائقہ دار کھانا پیش کرنے پر کھانا پیش کرنے پر تمام حضرات کا مشکور و ممنون ہوں وہ ہمارے ساتھی جو دور دراز سے سفر کر کے تشریف لائے تھے جنہوں نے اس محفل کو رونق بخشی وہ بھی قابل تحسین ہیں اللہ تعالیٰ ان کے لیے اور ان کے بچوں کے لیے آسانیاں فرمائے اور دوبارہ ان کو اس بابرکت محفل میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…