قسط نمبر:7
اور فر مایا : اور نہ کہو اللہ تین ہیں”اور فر مایا: ’’اور جو تم سے سلام کرے تو اسے یہ نہ کہہ دو کہ تو ایمان والا نہیں۔‘‘اور فر مایا: ’’راعنا نہ کہاکرو” ۔“ اور اللہ تعالیٰ کی راہ کے شہیدوں کو مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں۔لیکن تم نہیں سمجھتے” اور ہر گز ہر گز کسی کام پر یوں نہ کہنا کہ میں اسے کل کروں گا، مگر ساتھ ہی ان شا ء اللہ کہہ لینا”تو ان کے آگے اُف تک نہ کہنا”جس بات کی تجھے خبر ہی نہ ہو ان کے پیچھے مت پڑ۔ اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارنا۔اور اپنی اولاد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو۔اپنا ہاتھ اپنی گر دن سے بندھا ہوا نہ رکھ۔“ اور کسی جان ناحق کو ما رنا” اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ” اور زمین پر اکڑ کر مت چل” اس کی مثالیں قرآن میں بہت زیادہ ہیں۔تو وہ یہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا قرآن میں اور ہم کو یہ نہیں کہا: ایسا نہ کہو کہ قرآن میرا کلام ہے”
اور یقیناً ملائکہ نے اللہ تعالیٰ کے کلام کو کلام کہا ہے ۔ اور اس کومخلوق کا نام نہیں دیا۔اور اللہ تعالی ٰ کا فر مان ہے : یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے تو وہ پو چھتے ہیں تمھارے پر ور دگار نے کیا فر مایا ؟ جواب دیتے ہیں حق فر ما یا: اور وہ بلند و بالا اور بہت بڑا ہے”اس طرح ملائکہ نے عیسیٰ علیہ السلام اور محمد ﷺ کے درمیان وحی نہیں سنی۔اور ان دونوں کے درمیان بہت سالوں کا وقفہ تھا۔لیکن جب محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے وحی کی تو فر شتوں نے وحی کی آواز ایسی سنی جیسا کہ لو ہے کی آواز سر دان پر ہو تی ہے۔ تو ملائکہ نے یہ گمان کیا کہ یہ قیامت کی گھڑی ہے۔ تو وہ ڈر گئے۔ اور ان کے چہرے سجدے میں ہو گئے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ کا فر مان ہے: یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ یہاں تک کہ ان کے دلوں سے خوف جاتا ہے تو ملائکہ اپنے سر اٹھا تے ہیں تو ایک دوسرے سے پو چھتے ہیں تو کہتے ہیں “آپ کے رب نے کیا کہا؟اور یہ نہیں کہا کہ آپ کے رب نے کیا پیدا کیا۔ پس یہ بیان اس کے لئے ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ ہدا یت کا فیصلہ کرے۔
امام احمد رحمہ اللہ نے فر مایا: اس کے بعد جہمی نے ایک اور دعویٰ کیا۔ جہمی نے کہا: میں قرآن میں ایک آیت پا تا ہوں جو اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن مخلوق ہے ۔ ہم نے کہا: کو ن سی آیت؟ جہمی نے کہا: اللہ تعالی ٰ کا یہ فر مان “ ان کے پا س ان کے رب کی طر ف سے جو بھی نئی نئی نصیحت آتی ہے”تو جہمیہ نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا ہے: قرآن محدث ہے اور ہر محدث مخلوق ہو تی ہے ۔ پس مجھے اپنی عمر کی قسم لو گوں کو شبہہ میں ڈالا اور مذکورہ آیت متشابہہ آیت ہے ۔ہم نے کہا: ہم اس میں ایک بات کرتے ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتے ہیں۔اور کتاب اللہ میں دیکھتے ہیں۔ (ولا حول ولا قوۃ الا باللہ)
امام احمدرحمہ اللہ نے فرما یا : جان لو جب دو چیزیں ایک نام میں جمع ہو جائیں اور ان میں سے ایک (چیز)دوسرے سے اعلیٰ ہو ۔ پھر ان دونوں کی تعریف کی جائے تو اعلیٰ تعریف کا زیادہ اولیٰ ہو گا۔اور اگر دونوں کے لئے اسم ذم (مذمت والا نام) بو لا جاتا ہے تو دونوں میں سے ادنیٰ لفظ مذ مت کے اعتبار سے اعلیٰ سے زیادہ اولیٰ ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فر مان ہے : ’’بے شک اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ شفقت اور مہربانی کر نے والا ہے۔ ” اور جو ایک چشمہ ہے جس سے اللہ کے بندے پئیں گے” سے نیک لو گ مراد ہے بد کار نہیں۔ پس جب اسم الانسان اور اسم العباد میں جمع کیا تو اللہ کے اس قول کا معنی “ یعنی صرف نیک لوگ پیئے گے گنہگار نہیں پئیںگے۔اور جب انفرادی طور پر نیک لوگوں کا ذکر اللہ تعالیٰ کے فر مان میں ہو تا ہے ۔ تو یوں ارشاد ہو تا ہے۔ “ یقیناً نیک لوگ نعمتوں میں ہو ں گے”اور جب کفار کا انفرادی ذکر ہو تا ہے تو یہ فر مان ارشاد ہو تا ہے ۔ ’’اور یقیناً بد کار لوگ دوزخ میں ہوں گے۔”اور اللہ تعالیٰ کا فر مان ہے :“ اللہ تعالیٰ لوگوں کیساتھ شفقت اور مہر بانی کر نے والا ہے” پس مومن زیادہ حقدار ہے۔اگر چہ کافر اور مومن(الناس ) میں جمع ہیں۔ اس لئے جب مومن کا انفرادی ذکر ہو تا ہے تو اس کی تعریف ہو تی ہے، اللہ تعالیٰ کے اس فر مان کے مطابق“یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نر می کر نے والا رحم کر نے والا ہے” اور جب کفار کا انفرادی ذکر کیا تو اس کے لئے مذمت کا لفظ کہا گیا۔ اس فر مان کے مطابق: ’’خبردار ہو کہ اللہ کی لعنت ہے ظالموں پر”اور اللہ تعالیٰ کا کا فر مان: کہ اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہوا اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے”تو وہ یہ لوگ ہیں جو اس کی رحمت میں داخل نہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا فر مان ہیں : اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لئے رزق فراخی کر دیتا تو وہ زمین میں ضرور سر کشی کر تے”تو یہاں عباد کے اسم میں کفار اور مو من کو جمع کیا گیا۔ پس کفار مو منین کی نسبت لفظ سر کشی کے زیادہ حقدار ہیں۔ لیکن جب مو من کا انفرادی ذکر ہو تا ہے تو رزق کی فراخی میں اسکی تعریف ہو تی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے: ’’اور جو خرچ کر تے وقت بھی نہ تو اسراف کر تے ہیں نہ بخیلی” اور اللہ تعالیٰ کا فرمان: ’’اور ہمارے دیئے ہو ئے (مال) سے خر چ کرتے ہیں”اور یقیناً اللہ تعالیٰ نے داؤد ،سلیمان ،ذوالقر نین اور سیدناابو بکر ، عمر ، عثمان ، علی رضی اللہ عنہم کے لئے رزق فراہم کیا تھا۔لیکن انہوں نے سر کشی نہیں کی۔ اور جب انفرادی طور پر کافر کا ذکر ہو تا ہے ، تو سرکشی کا لفظ اس پر واقع ہو تا ہے۔جیسا کہ قرآن میں قارون کا ذکر ہے۔قارون تھا تو قوم موسیٰ علیہ السلام سے لیکن ان پر ظلم کر نے لگا تھا”اور جب نمرود کو اللہ نے بادشاہی دی تو اللہ تعالیٰ سے لڑنے لگا اور فر عون بھی جب موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اے ہمارے رب! تو نے فر عون کو اور اس کے سرداروں کو سا مان زینت اور طرح طرح کے مال دنیاوی زندگی میں دیئے”۔ پس جب ایک اسم میں کافر اور مو من اکھٹے ہو جائیں اور اس کے لئے مذمتی لفظ بو لا جائے تو مذمت کے لئے کافر مومن سے اولیٰ ہو گا۔(جاری ہے)
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…