دورانِ نماز انگلیوں کی کیفیت

انفرادی و اجتماعی عبادات میں ایمان کے بعد نماز کو جو درجہ حاصل ہے وہ کسی اور عبادت کو حاصل نہیں اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ ہم مسلمان نماز پڑھنے کا ایسا خاص اہتمام کرتے کہ اس میں کوئی نقص نہ رہتا مگر ہماری کم علمی اور غفلت نے اس کو بھی کوتاہیوں سے خالی نہ چھوڑا ۔موجودہ دور میں مسلمانوں میں اپنے دین کے حوالے سے انتہائی بیزاری پائی جاتی ہے اور بعض لوگوں میں تھوڑا بہت جو دینی عمل نظر آتا ہے وہ بھی دین کا صحیح علم نہ ہونے کی وجہ سے قرآن و حدیث سے عاری اور خشوع و خضوع سے خالی ہے ۔قران کریم میں اللہ تعالی عزوجل کا فرمان ہے۔

’’جو اپنی نمازوں میں خشوع کرتے ہیں ۔‘‘(المومنون :۲)

نماز ادا کرتے وقت تمام ارکان، واجبات اور شرائط کا پورا پورا خیال رکھیں اور مکمل خشوع و خضوع اور حضور قلب و جوارح کی یکسوئی کے ساتھ نماز ادا کریں۔

اللہ تعالی کے ہاں کسی عمل کی قبولیت کے لیے جہاں یہ شرط ضروری ہے کہ وہ اخلاص پر مبنی ہو ،وہیں یہ امر بھی لازمی ہے کہ اس عمل کو انجام دینے کا طریقہ وحی الہی اور سنت نبوی ﷺ پر مشتمل ہو۔

امام ابن قیم رحمہ اللہ اپنی کتاب مدارج السالکین میں لکھتے ہیں عبادت کے دو اصول ہیں:

۱۔ اللہ تعالی کے لیے اخلاص

۲۔ رسول اللہ ﷺ کی اتباع۔

ہم اس موضوع میں نماز پڑھتے وقت انگلیوں کا رخ اور اس کے متعلق امور کی طرف توجہ دلائیں گے۔

قارئین! آپ جانتے ہیں نماز میں انگلیوں کا رخ بہت ہی اہم ہے اور دینی امور سے تعلق رکھتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ ہم اسے سیکھیں اور دوسروں کو سکھلائیں اسے یاد رکھیں اور دوسروں کو بھی یاد دلائیں نماز کے دوران چار کیفیات ہیں تکبیر اولی سے سلام تک قیام رکوع سجدہ اور تشہد یعنی قعدہ ۔

تکبیر اولی

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے حتی کہ آپ کے کاندھوں کے سامنے آ جاتے ۔(صحیح مسلم :862)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ سیدھ لمبے اٹھاتے ۔(سنن ترمذی :240)

اس حدیث کی تشریح میں لکھا ہے انگلیوں کو سیدھا رکھنا درمیان میں فاصلہ نہ رکھنا یعنی انگلیوں کو سیدھا اور اونچا کرنا اور مدًا کے یہی معنی ہیں۔

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ہر تکبیرورفع الیدین سے دس نیکیاں ملتی ہیں ہر انگلی کے بدلے ایک نیکی لکھی جاتی ہے ۔(فتح الباری : 2/283)

قیام

قیام میں ہاتھ کس طرح باندھے جائیں ؟کیفیت کیا ہوگی ؟قیام میں ہاتھ باندھنے کی کیفیت میں ہاتھ کے اوپر ہاتھ رکھنا یا اسے پکڑ لینا دونوں طرح ہے۔

سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے بائیں ہاتھ کی پشت پر ،جوڑ پر اور کلائی پر رکھا۔(سنن ابی داؤد :727)

سیدنا بلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہماری امامت کرواتے تو اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے ۔ (ترمذی:252)

کلائی کو کلائی پر رکھ کر کہنی پکڑنا کسی حدیث سے ثابت نہیں، ہاتھ باندھنے کے متعلق مردوں اور عورتوں میں کوئی فرق نہیں ،رسول اللہ ﷺ نے مرد اور عورت کے طریقے نماز میں کوئی فرق نہیں بتایا۔

رکوع

سیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم ﷺ جب رکوع کرتے تو اپنی ہتھیلیوں سے اپنے گھٹنوں کو پکڑ لیتے اور انگلیوں کو کھول لیتے اور اپنی کمر کو برابر کرتے ۔(سنن ابی داؤد :731)

صفۃصلاۃالنبی میں ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر اس طرح غالب رکھتے گویا کہ انہیں پکڑے ہوئے ہیں اور ہاتھ کی انگلیوں کو پھیلا کر رکھتے اور مسئ الصلاۃ کو اس کے کرنے کا حکم دیا اور فرمایا جب رکوع کرو تو اپنی انگلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھو اور ہاتھ کی انگلیوں کو پھیلا کر رکھو۔

سجدہ

سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ جب سجدہ کرتے ہیں تو اپنی انگلیاں ملا لیتے تھے ۔(ابن خزیمہ :642)

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب سجدہ کرتے تو اپنی انگلیوں کا رخ قبلے کی طرف کرتے ۔ (البیہقی 2/113 )

اگر ان احادیث پر عمل کیا جائے ،ہاتھ کی پانچوں انگلیوں کو انگوٹھے سمیت اگر قبلہ رخ کیا جائے تو تقریبا ایک دوسرے میں ان کا رخ قبلے سے پھر سکتا ہے۔

تابعی امام محمد سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا لوگ یہ پسند کرتے تھے کہ سجدے میں ہاتھوں کی انگلیاں ملائی جائیں۔

تابعی امام حفص بن عاصم تبع تابعی عبدالرحمن بن قاسم سے فرمایا :اے بھتیجے !سجدے میں ہاتھوں کی انگلیاں ملا کر انہیں قبلہ رخ کر دے، کیونکہ چہرے کے ساتھ ہاتھ بھی سجدہ کرتے ہیں۔

امام سفیان ثوری رحمہ اللہ سجدے میں انگلیاں ملاتے تھے ۔(مصنف ابن ابی شیبہ 2/620)

سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے جب سجدہ کیا تو نہ دونوں ہاتھوں کو بچھائے ہوئے تھے اور نہ ہی سمیٹے ہوئے تھے اور پاؤں کی انگلیاں قبلہ رخ تھیں ۔ (صحیح بخاری: 828)

اس حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ مسنون سجدے کے لیے انگلیوں کو قبلہ رخ کرنا ایک خاص صفت ہے۔ دورانِ سجدہ انگلیوں کے بطون (اندرونی حصے )پر اپنے دونوں پاؤں کو کھڑا رکھتے اور ایڑیوں کو اونچا کرتے اس سے پاؤں کا اگلا حصہ اور انگلیاں قبلہ رخ ہو جائیں گی نیز اس دوران میں اپنی انگلیوں کو ملا کر رکھتے ہیں کیونکہ اگر انہیں ملا کر نہ رکھا جائے تو بعض انگلیوں کے سرے قبلے سے ہٹ جائیں گے ۔(فتح الباری 2/382)

دوران نماز سجدے میں اپنے دونوں پاؤں ملا کر رکھتے اور انہیں کھلا نہ رکھنا بھی سنت ہے ۔حدیث میں آتا ہے سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک رات بستر سے گم پایا میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ سجدہ میں پڑے ہیں ،نبی کریمﷺ کی دونوں ایڑیاں باہم ملی ہوئی ہیں اور پاؤں کی انگلیاں کا رخ قبلہ کی طرف ہے ۔(صحیح ابن خزیمہ :654)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نمازی کو سجدہ کرتے وقت اپنے دونوں پاؤں ملا کر رکھنے چاہیے اور پاؤں کی انگلیوں کا رخ قبلے کی طرف ہونا چاہیے۔

جلسہ استراحت

پہلی اور تیسری رکعت کے دونوں سجدوں سے فراغت کے بعد اچھی طرح بیٹھنے کے بعد دونوں ہاتھوں کو زمین پر ٹیک لگا کر کھڑے ہونے کو جلسۂ استراحت کہتےہیں ، اٹھتےوقت دونوں ہاتھوں کی کیفیت کیا ہو گی؟

امام ابو قلابہ تابعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ نے ہمارے پاس آ کر کہا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز کے متعلق نہ بتاؤں پس انہوں نے فرض نماز کے علاوہ وقت میں نماز ادا کی، جب پہلی رکعت کے دوسرے سجدے سے سر اٹھایا تو بیٹھ گئے پھر اپنے دونوں ہاتھوں کا زمین پر سہارا لے کر کھڑے ہوئے ۔ (صحیح بخاری:824)

اس کے دو طریقے ہیں کھلے ہاتھوں اٹھنا چاہیے یا مٹھی بند کر کے۔

ارزق بن قیس رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ نماز میں جب دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو آٹا گوندنے والے کی طرح مٹھی بند کر کے زمین پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوتے تھے ،میں نے ان سے اس متعلق دریافت کیا انہوں نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔(ابو اسحاق الحربی فی غریب الحدیث 2/525 صحیح)

قعدہ یعنی تشہد

سیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا :رسول اللہ ﷺ (سجدوں سے) فارغ ہو گئے پھر بیٹھے اور اپنے بائیں پاؤں کو بچھا لیا اور اپنے دائیں پاؤں کی انگلیوں کا رخ قبلہ کی طرف کر دیا اور اپنی دائیں ہتھیلی کو اپنے دائیں گھٹنےپر رکھا اور بائیں کو بائیں گھٹنےپر اور اپنی انگلی سے اشارہ کیا۔ (سنن ابی داؤد :734)

تشہد میں شروع سے آخر تک شہادت کی انگلی اٹھا کر حرکت دیتے رہنا سنت نبوی ہے تشہد میں انگلی اٹھانے کے دو طریقے ہیں:

۱۔دائیں ہاتھ کی تین انگلیاں بند کر لی جائیں پھر انگوٹھے اور درمیانی انگلی کی جڑ میں رکھ کر انگشت شہادت کو قبلہ رخ کریں اور اسے مسلسل ہلاتے رہیں ۔(سنن ابی داؤد:987)

دائیں ہاتھ کی دونوں انگلیاں بند کر لی جائیں پھر انگوٹھے اور درمیانی انگلی سے حلقہ بنا کر شہادت کی انگلی کو متواتر حرکت دیتے رہیں ۔(صحیح مسلم :579)

خلاصہ

نماز میں ہاتھوں کی کیفیت اور طریقہ کار جو کہ نبی کریم ﷺ سے تواتر کے ساتھ ہمیں ملتا ہے وہ کوشش کر کے لکھ دیا گیا ہے کہ ہاتھوں کو رفع الیدین کے لیے کاندھوں تک اٹھانا، ہتھیلیوں کو قبلہ رخ رکھنا، انگلیاں بشمول انگوٹھے سیدھے رکھنا پھر دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کے اوپر رکھنا ۔دوران رکوع کمر بالکل سیدھی ہو ،دونوں ہاتھ گھٹنوں پر ہوں پھر سیدھا کھڑا ہوا جائے اور سجدہ ریز ہونے سے پہلے زمین پر پہلے ہاتھ اور پھر گھٹنے رکھیں سجدے میں دونوں ہاتھ اور پاؤں کی انگلیاں اور انگوٹھے قبلہ رخ ہوں، دونوں ایڑیاں ملی ہوئی ہوں ،سجدے سے اٹھنے کے بعد دوسری رکعت سے پہلے جلسہ استراحت کیا جائے کہ ہر ہڈی اپنے جوڑ پرآ جائے، اٹھتے ہوئے دونوں ہاتھ زمین پر قبلہ رخ ہوں اسی طرح دوسری رکعت ادا کی جائے اور پھر دوران قعدہ یعنی تشہد میں دائیں ہتھیلی دائیں گھٹنے پر اور بائیں ہتھیلی بائیں گھٹنے پر ہوں کہ انگلیاں اور انگوٹھے قبلہ رخ ہوں اور دائیں انگشت شہادت کو سلام تک متواتر حرکت دیں۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں اپنی نماز سنت کے مطابق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

یاسین شیخ

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago