یوتھ کلب کے نوجوانوں کے نام فضیلۃ الشیخ حافظ مسعود عالم کی پُر مغز نصیحت ورہنمائی

فضیلۃ الشیخ حافظ مسعودِ عالم حفظہ اللہ یُوتھ کلب کے نوجوانوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

دین میں تفرقہ یہ بھی ہے کہ دعوت کو دین کے بعض اجزاء تک محدود کر لیا جائے کہ ہم اخلاقیات پر بات کریں گے، سیاست پر بات کریں گے، فلاں موضوع پر بات کریں گے، اور عقیدۂ توحید یا سنت و بدعت پر بات نہیں کریں گے۔

دعوت میں طبقاتی تقسیم کو پیشِ نظر رکھنا کہ ہم صرف ایلیٹ کلاس میں کام کریں گے، یا ہم محض مزدوروں اور غریبوں کے حقوق کیلئےکام کریں گے؛ انبیاء کا طریقہ نہیں ہے۔ ان کی دعوت سب طبقات کیلئےعام ہوتی تھی۔

نبی کریم ﷺ کو جب اللہ تعالیٰ نے طائف بھیجا تو عالیشان سواریاں دے کر نہیں بھیجا کہ اس سے طائف کے امراء متاثر ہوں۔ اور ان امیر زادوں نے آپ کو پیادہ اور سادہ حالت میں دیکھ کر ہی جھٹلا دیا تھا۔ سمجھنا چاہیے کہ دعوت کانٹوں کا راستہ ہے، شان و شوکت کا نہیں۔

انصار نے جب پوچھا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ، آپ کا دفاع کریں گے تو ہمیں کیا ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جنت۔ تو داعی اللہ تعالیٰ سے جنت کا سودا کرتا ہے، دنیاوی مال و دولت کا رسیا نہیں ہوتا۔ یہ مال اس امت کا فتنہ ہے۔جو کچھ مردوں نے کرنا ہے وہی عورتوں نے بھی کرنا ہے، اور ہر شعبے میں ان کا وجود ہونا چاہیے؛ یہ مغرب کا ایجنڈا ہے۔ ہمیں غیر شعوری طور پر ایسے اقدامات نہیں کرنے چاہئیں کہ مغربی تہذیب کے مقاصد پورے ہوتے ہوں۔

دین میں تفقہ ترجمہ پڑھنے اور میڈیا سے معلومات حاصل کرنے سے نہیں پیدا ہوتا، استاد سے سیکھنے سے پیدا ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ معلم تھے، اور صحابہ کرام آپ سے دین سیکھتے تھے۔ یہی سلف صالحین کا طریقہ ہے۔ علم سیکھنے اور محنت کرنے سے آتا ہے، یہاں تک کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ علم کی خاطر کھانا پینا بھی بھول گئے، تب علم حاصل ہوا۔

امام مالک رحمہ اللہ کو جب تک ستر علماء نے مسند پر بیٹھنے کی اجازت نہیں دی، نہیں بیٹھے۔ اور ہم سمجھتے ہیں کہ اچھا بولنا اور چار بندوں کو پیچھے لگا لینا فتوی دینے اور لوگوں کی رہنمائی کرنے کیلئے کافی ہے۔

بڑے سے بڑے فلاسفر، ڈاکٹر، سائینٹسٹ اگر دین کا علم نہ جانتے ہوں تو وہ جاہل ہیں۔ نفسیات، معاشیات اور سوشیالوجی کے کتنے ہی ماہرین ہیں جن کی زندگی جانوروں کی زندگی ہے! علمِ شرعی تو انسان کی حیات ہے۔ اس لیے علم حاصل کریں، علماء کے سامنے بیٹھیں، کیونکہ یہ علماء طائفہ منصورہ ہیں، ان کا اجماع حجت اور معصوم ہے، اور ان کے وجود سے دین کی بقاء ہے۔

علماء سے خود بھی بدگمان ہونا اور لوگوں میں ان کے خلاف بد اعتمادی پیدا کرنا دراصل دین دشمنی ہے۔ قرآن میں اسے منافقوں کا وتیرہ بتایا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ علماء کا حق نہ پہچاننے والا ہم میں سے ہے ہی نہیں۔

admin

Recent Posts

حج کے پس پردہ ایک عظیم انتظامی معجزہ

ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…

6 days ago

عاشوراء کا روزہ دس محرم الحرام کو رکھنا ہی راجح ہے

رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…

6 days ago

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتے

قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…

6 days ago

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور جوارِ نبوی ﷺ کی سعادت

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…

6 days ago

یہ تھے ہمارے عمر فاروق رضی اللہ عنہ

زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…

6 days ago

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…

6 days ago