شیخ القرآن والحدیث مولانا محمود احمد حسن رحمہ اللہ کی رحلت کے باعث علمِ دین کی دنیا ایک ایسے آفتاب سے محروم ہوگئی ہے جس کی روشنی سے دہائیوں تک مدارس، مساجد، میدان اور قلوب منور ہوتے رہے۔ جماعت غرباء اہلحدیث پاکستان کی مرکزی درسگاہ جامعہ ستاریہ اسلامیہ کے شیخ الحدیث، استاذُالاساتذہ، مرجعِ اہلِ علم اور ہزاروں تشنہ لبوں کی علمی پیاس بجھانے والے مولانا محمود احمد حسن رحمہ اللہ کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا شاید کبھی پر نا ہوسکے۔
مولانا مرحوم کا تعلق ان علمی خانوادوں سے تھا جنہوں نے برصغیر میں علم و دعوت کی شمعیں روشن کیں۔ آپ کے اکابر 1947ء میں حیدرآباد دکن (بھارت) سے ہجرت کرکے پاکستان آئے اور سندھ میں سکونت اختیار کی۔بعد ازاں کراچی کے علاقے حسرت موہانی کالونی میں سکونت پزیر ہوئے یہاں ناظرہ قرآن کریم کی تعلیم ہماری نانی جان مرحومہ( زوجہ حضرت احمد اللہ خان شاکی بھوپالی رحمہ اللہ) سے حاصل کی،اور اس نسبت سے ہماری والدہ صاحبہ کے ہم جماعت/ کلاس فیلو بھی ہوئے۔
ابتدائی تعلیم کے بعد شیخ صاحب نے برنس روڈ پر واقع مدرسہ عربیہ اسلامیہ دارالسلام میں تعلیم کا آغاز کیا۔ یہاں آپ کو عظیم محدث امام وقت حضرت مولانا عبدالستار محدث دہلوی رحمہ اللہ کی شاگردی نصیب ہوئی، جن کے ممتاز اور قابلِ فخر تلامذہ میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ اسی دوران راقم الحروف کے والد مرحوم الشیخ ڈاکٹر خورشید احمد رحمہ اللہ سے دوستی کا رشتہ قائم ہوا جو ان کی وفات تک برقرار رہا۔ اس وجہ سے میں استاذ محترم کو «چچا ماموں» کے ڈبل رشتہ سے مخاطب کیا کرتا تھا اور شیخ صاحب بھی اس بات پر خوش ہوتے، ہمیشہ شفقت اور محبت سے پیش آتے۔
تکمیلِ تعلیم کے بعد امام صاحب رحمہ اللہ نے آپ کی علمی صلاحیتوں، تدریسی ذوق اور فہمِ دین کو دیکھتے ہوئے اسی ادارے میں بطور مدرس مقرر فرمایا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں سے ایک طویل، بابرکت اور مثالی تدریسی زندگی کا آغاز ہوا۔
بعد ازاں بدین کے علاقے ٹنڈو غلام علی میں مدرسہ محمدیہ کے صدر مدرس کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
مولانا عبدالعظیم حسن زئی لکھتے ہیں کہ شیخ محترم کو قرآن و کتب حدیث کے ساتھ کتب فنون پر بھی ایسی مہارت حاصل تھی کہ جس کتاب کی تدریس آپ کے سپرد کی جاتی، یوں محسوس ہوتا گویا وہی آپ کا اصل میدان ہے۔ عربی زبان پر عبور اس درجے کا تھا کہ عربی سے اردو اور اردو سے عربی ترجمہ کے لیے مختلف ادارے آپ کی خدمات حاصل کرتے رہے۔
1985 میں جامعہ ستاریہ اسلامیہ کے سنگ بنیاد کی تقریب میں امام کعبہ الشیخ عبداللہ السبیل رحمہ اللہ کی تقریر کی اردو ترجمانی آپ نے ہی فرمائی تھی، اسی طرح عرب وفود کے لئے ترجمانی اور سپاس نامے پیش کرنا بھی اس دور میں آپ کی ذمہ داری ہوا کرتی تھی۔
جامعہ ستاریہ کے اولین شیخ الحدیث مولانا قاری عبدالحکم کرم الجیلی رحمہ اللہ کے انتقال کے بعد مولانا محمود احمد حسن رحمہ اللہ کو متفقہ طور پر شیخ الحدیث مقرر کیا گیا۔ آپ نے یہ منصب محض عہدہ نہیں بلکہ امانت سمجھ کر نبھایا اور تادمِ آخر صحیح البخاری سمیت کتبِ حدیث کی تدریس کرتے رہے۔ تقریباً 35 برس تک صحیح البخاری کا درس دینا آپ کی زندگی کا امتیازی باب ہے۔
آپ کا درس محض الفاظ کی ترسیل نہیں ہوتا تھا بلکہ فکر، دل اور عمل کو جھنجھوڑ دینے والا ہوتا۔ درس شروع ہوتے ہی سامعین ازخود قریب سمٹ آتے۔ حدیث سنانے کے بعد فرمایا کرتے:
“میں آپ کو ایک نقطے کی بات بتاتا ہوں…”
اور پھر قرآن کی آیات، احادیثِ نبویہ اور سلف کے آثار کا ایسا سیلِ رواں بہتا کہ اہلِ مجلس علم کی گہرائی میں اترتے چلے جاتے۔ قیامت، جہنم اور جنت جیسے موضوعات پر آپ کا بیان دلوں کو ہلا دینے والا اور ایمان تازہ کرنے والا ہوتا۔ جہنم کا تذکرہ کرتے تو آنکھیں نم اور دل لرز جاتے، اور جب جنت کی بشارتیں سناتے تو چہروں پر مسکراہٹ اور امید کی روشنی پھیل جاتی۔
نامور خطیب اور عالم دین مولانا محمد ابراہیم بھٹی، سابق رکن اسلامی نظریاتی کونسل رانا شفیق خان پسروری، مولانا ضیا ء الحق بھٹی، مولانا رانا خلیق، مولانا یاسین پرواز، مولانا مفتی عبدالحنان سامرودی، مولانا عبدالخالق فریدی، مولانا عبدالعظیم حسن زئی، مولانا مفتی صہیب شاھد، مفتی عبدالوکیل ناصر ، مولانا یحییٰ مجید، مولانا جمیل اظہر وتھرا، مولانا نعیم راشد ، مولانا طفیل عاطف، مولانا معاذ احمد بحرین ،مولانا ابراہیم جوناگڑھی ،مولانا محمد احمد نجیب،مولانا ابراہیم نوڑھیو،اور راقم الحروف سمیت آپ کے تلامذہ ہزاروں کی تعداد میں اندرون وبیرون ملک پھیلے ہوئے ہیں اور مختلف میدانوں میں خدمات دین سرانجام دے رہے ہیں۔
جب درس بخاری دیتے تو گھنٹوں پر محیط علمی نکات بیان کرتے قرآن کی آیات باہم مربوط اس طرح یکے بعد دیگرے بیان کرتے کہ طلباء ہی نہیں علماء بھی حیران رہ جاتے۔
مجاہدینِ اسلام سے خصوصی محبت آپ کی شخصیت کا نمایاں وصف تھی۔ شہر ہو یا پہاڑ، اجتماع ہو یا تربیتی نشست—جہاں دعوتِ دین کا کام ہوتا، آپ وہاں موجود ہوتے۔ ایک موقع پر فرمایا کہ “بخاری کی بعض احادیث شہروں میں نہیں، میدانوں اور پہاڑوں میں جا کر پوری طرح سمجھ آتی ہیں”، اور پھر اپنے مشاہدے سے حدیث کا عملی مفہوم واضح کیا، جو سامعین کے لیے عمر بھر کا سبق بن گیا۔
طویل تدریسی زندگی میں آپ کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں سے تجاوز کرگئی جو آج ملک کے طول و عرض اور بیرونِ ممالک میں دینِ اسلام کی خدمت میں مصروف ہیں۔ یہ سب آپ کے لیے صدقۂ جاریہ ہیں۔ بیماری اور کمزوری کے باوجود آپ نے درس و تدریس کا سلسلہ حتی المقدور جاری رکھا جب طبیعت خراب ہوتی اور دارالتدریس میں آنے کی ہمت وطاقت نا ہوتی تو اپنے گھر پر طلباء کی کلاس لگاتے۔
ملک کے طول وعرض میں خطابت کے جوہر دکھائے علمی خطابات کیے۔ شیخ محترم دنیا سے جاتے جاتے بھی یہی پیغام دے گئے کہ دنیا فانی ہے، اصل تیاری آخرت کی ہے۔
گذشتہ روز جامع مسجد امام ابن تیمیہ میں آپ کی نمازِ جنازہ آپ کے صاحبزادے حافظ فواد حسن کی امامت میں ادا کی گئی، جس میں نامور شیوخ الحدیث، علماء کرام، طلبہ، جماعتی کارکنان اور عقیدت مندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مختلف دینی و علمی جماعتوں کے قائدین نے آپ کے انتقال کو علمی دنیا کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا۔
مولانا محمود احمد حسن رحمہ اللہ کا جانا ایک فرد کا جانا نہیں، ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ مگر ان کا علم، ان کی تربیت اور ان کے شاگرد زندہ رہیں گے اور یہی ان کی اصل زندگی ہے۔
اللہ رب العزت مرحوم کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور ہمیں ان کے علم و اخلاص کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…