شہادت حیاتِ جاوداں ہے

کراچی پھر لہو لہان ہے،گولیوں سے سینے داغے جارہے ہیں اور خون اُبل اُبل کر زندہ انسانوں کو غسل دے رہا ہے۔درندگی، سفاکیت، خون آشامی اور قتل و غارت کے بازار میں لاشوں کے انبار لگتے جارہے ہیں۔حکومت سو رہی ہے، قانون نافذکرنے والے ادارے اپنے فرائضِ منصبی سے چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہیں اور سفاک قاتل، خونی بھیڑیے،لٹیرے اور انسانیت کے دشمن جاگ رہے ہیں۔اور دن رات بے گناہ انسانوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں۔کوئی پرسانِ حال نہیں بے بسوں کی فریاد سننےوالا کوئی نہیں،سہاگنیں بیوہ، بچے یتیم اور ماں باپ بے سہارا ہورہے ہیں۔لوگوں کے کندھے اپنے جواں سال بیٹوں، بھائیوں، دوستوں اور عزیز و اقارب کے جنازے اُٹھا اُٹھا کر تھک چکے ہیں۔آنکھیں رو رو کر خشک ہوچکی ہیں، سکتے کا عالم ہے۔مگر لاشیں گرانے والوں کے نہ ہاتھ تھکے، نہ ہمتیں پست ہوئیں ہیں اور نہ یہ خونی کھیل کھیلتے ہوئے ایک لمحے کے لیے بھی خوفِ خدا اور کسی قادرِ مطلق ہستی کے سامنے جواب دہی کا کوئی تصور ان کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔

ایک طویل عرصے سے ہمارے ملک میں اُن اہل ِ علم کو اور اُن مذہبی شخصیات کو چن چن کر شہید کیا جارہا ہے جو پاسبانِ منبر و محراب ہیں۔جنہوں نے اللہ کے دین کے لیے اپنی زندگیوں کو وقف کر دیا ہے۔ہزاروں کی تعداد میں طلبا قرآن و سنت کا علم ان عظیم ہستیوں سے سیکھ کر اللہ کے دین کی نشر و اشاعت کے لیے ملک کے اطراف و اکناف میں مصروفِ عمل ہیں۔لیکن دین کے دشمنوں کو ان سعید ہستیوں کی دین متین کی آبیاری ایک آنکھ نہیں بھاتی۔اسلام سے عداوت رکھنے والے خارجی اور داخلی عوامل برسوں سے برسرِ پیکار ہیں۔

ابھی چند دن پہلے ہی ایک قرآن و سنت کے داعی اور حق و صداقت کے علمبر دار فضیلتہ الشیخ ضیا ء الرحمٰن مدنی جو اہلِ حدیث مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے تھے، کو اس وقت گولیاں مار کر شہید کردیا جب وہ ایک پارک میں چہل قدمی کے لیے آئے ہوئے تھے۔مرحوم کم سخن لیکن وسیع النظر عَالِم دین تھے۔ان کی مثال اس سمندر کی سی تھی جس کی اوپر کی سطح ساکن مگر اندر کی سطح موتیوں کے گراں قیمت خزانوں سے معمور تھے۔وسعت ِ نظر، قوتِ حافظہ اور علم ِ دین کے اسرار رموز سے پوری طرح آگا ہ تھے۔علمِ حدیث کے حافظ، قوت ِ حافظہ اور نکتہ شناس علم اور ادب میں بلند پایہ، معقولات میں ماہر اور زہد تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے۔ایسے جلیل القدر انسان کو خون میں نہلاکر علومِ دینیہ کے پیاسوں کو ایک شفیق اور مَر دم شناس ہستی سے محروم کردیا۔آپ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ، گلشن اقبال،کراچی کے مہتم، استاذ، جامعہ کے مجلہ ماہنامہ «اسوۂ حسنہ» کے مدیر مسؤول اور جامعہ مسجد الفاروق، ماڈل کالونی کے خطیب تھے۔

دنیا میں ہر قوم نے اپنے ماضی کے اُن واقعات و حوادث کی ہمیشہ تعظیم کی ہے جن کے اندر قوم و ملک کے لیے کوئی غیر معمولی تاثیر یا عبرت پائی جاتی تھی اور ہمیشہ اُن کوانسانی بڑائیوں اور عظمتوں کی یاد گاروں، تہواروں،عمارتوں، تاریخوں،قومی، روایتوں اور قومی مجمعوں کے انعقاد کے ذریعہ زندہ رکھنا چاہا ہے، جن کے اندر خود اس قوم کی کوئی عظمت اور بڑائی پوشیدہ ہے۔

موت مٹ جانے یا فنا ہوجانے کا نام نہیں ہے، بلکہ اس دنیائے فانی سے اُس دنیا میں منتقل ہوجانے کا نام ہے جس کی حد و انتہا کسی کو معلوم نہیں، اور اُن دین حق کے جاں نثاروں کی موت جو اللہ کی راہ میں شہید کر دیے جائیں انہیں تو حیاتِ جاوداں عطا کردی جاتی ہے۔شہید اپنے خون کا نذرانہ دے کر حق و انصاف کا سر بلند کرتا ہے۔اسی لیے تو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْيَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُوْنَ

«جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ہوں ان کو مرا ہوا نہ سمجھنا (وہ مرےنہیں ہیں)بلکہ اللہ کےنزدیک زندہ ہیں اور اُن کو رزق مل رہا ہے۔» (آلِ عمران :169)

ایسا ہی ایک مردِ آہن جرات و عظمت کا پیکر جس کی سرشت میں باطل کے سامنے جھکنا، دبنا اور ڈرنا لکھا ہی نہیں تھادین کی سر بلندی اور اُس کی اشاعت کے لیے اپنے جسم وجان کی توانائیاں کھپانے والا ضیا ء الرحمٰن المدنی، حلقہ علم و فضل میں ایک بلند تر نام جس کی زندگی اللہ کے دین کی نشر و اشاعت کے لیے وقف تھی، اُس عظیم ہستی کو دشمن دین اور دشمن انسانیت کے سفاک درندوں نے عین اس وقت گولیوں کا نشانہ بنایا جب وہ اپنے فرض منصبی، فروغِ علم دین اور درس و تدریس کے عظیم فریضے سے فارغ ہوکر کچھ دیر کے لیے ایک پارک میں محوِ خرام تھے۔ اور اس طرح علم و فضل اور اعلیٰ سیرت و کردا ر کا حامل اپنے رفیق اعلیٰ کے پاس پہنچ گیا۔علوم دین کے عظیم استاذ، رحیم و شفیق ہستی، اور تقریر و تحریر کے ماہر اپنے پیاروں، تلامذہ اور سینکڑوں چاہنے والوں کو تڑپتا، سسکتا چھوڑ گئے، لیکن اسے تو مرنے کے بعد حیاتِ جاوداں حاصل ہوگئی۔اس لیے کہ موت تو زندگی کے تسلسل کا نام ہے۔

بلا شبہ دہشت گردی اور اس کی مختلف شکلوں سے نپٹنے کے لیے قانون کا مؤثر ہونا اور قانون نافذ کرنے والوں، گواہی دینے والوں اور عدلیہ کو معقول اور قرارِ واقعی تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔لیکن جتنا یہ پہلو اہم ہے اتنا ہی اہم یہ پہلو بھی ہے کہ تمام انسانوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور قانون کے تحت مکمل انصاف کے حصول کو یقینی بنایا جائے اور قانون کے غلط استعمال کے ہر دروازے کو بند کر دیا جائے۔دہشت گردی کسی بھی شکل میں ہو ایک گھناؤنا جرم ہے، لیکن دہشت گردی اور خوف و ہراس پھیلانے کے نام پر انسان کا نشانہ بنایا جانا بھی اتنا ہی گھناؤنا جرم ہے۔یہی وجہ ہے کہ مناسب check & balance کے بغیر اور ہر کسی کے لیے قانون کے اندر جواب دہی (accountability)کے مؤثر نظام کے بغیر معاشرے میں نہ عدل قائم ہوسکتا ہے اور نہ امن وامان اور عزت اور جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ان پہلوؤں میں توازن ضروری ہے۔

یہ ضرورت اس وجہ سے بھی اور بڑھ جاتی ہے کہ ہمارے ملک میں مسلسل بگاڑ کے باعث جس طرح عوام کے ایک حصے میں جرم کے رجحانات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اسی طرح یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جن افراد اور اداروں پر قانون نافذ کرنے کی ذمہ داری ہے ان میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو شتر بے مہار بن گئے ہیں اور کرپشن اور ظلم و زیادتی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔یہ ایک تکلیف دہ امر ہے کہ عوام دونوں طرف سے پس رہے ہیں،مجرموں کا بھی وہ نشانہ ہیں اور پولیس اور قانون نافذکرنے والے افراد میں ایسے خاصی تعداد میں موجود ہیں جو آلۂ ظلم و ستم بن گئے ہیں اور عملاً اپنے کو قانون سے بالا تر تصور کرتے ہیں بلکہ اُن کا زعم ہے کہ وہ خود ہی قانون ہیں۔

ہمارے ملک میں اصل مسئلہ قانون کی موجودگی کا نہیں، قانون کے احترام اور اس کے عملی نفاذکا ہے۔دہشت گردی کے مقابلے کے لیے 1997ء سے قانون موجود ہے جس میں ایک درجن سے ز یادہ ترامیم ہوچکی ہیں اور مزید بھی ہوسکتی ہیں، لیکن عملاً اس پر اور دوسرے قوانین پر عمل نہیں ہورہاہے۔پھر قانون نافذ کرنے والے ادارے اور افراد اپنی صلاحیت کار کے اعتبار سے وقت کی ضرورت کو پورا کرنے کے لائق نہیں ہیں۔سروسز میں کرپشن نے گھر کر لیا ہے اور سیاسی بنیادوں پر تقرریوں نے ان کی وفاداری، ساکھ اور کار کردگی ہر ایک کو تباہ کردیا ہے۔حکومت کا اپنا رویہ بھی صاف ستھرا نہیں ہے ۔وہ دستور، قانون اور قومی مفاد کے مقابلے میں ذاتی اور گروہی مفادات کو فوقیت دیتے ہیں۔پولیس میں ہزاروں کی تعداد میں سیاسی بنیادوں پر یا رشوت لے کر تقرریاں ہوتی ہیں اور ہر بر سرِ اقتدار پارٹی نے اپنے اپنے دور میں بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے ہیں۔

غیر منصفانہ طرزِ عمل اور اس کے تحت بنائی جانے والی معاشی پالیسیاں معاشرے میں بد اخلاقی، بے حسی، مفا د پرستی اور جھوٹے معیارِ زندگی کو پھلے پھولنے کی راہ ہموار ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں معاشرے کے اخلاق و کردا ر مزید بگڑتے جاتے ہیں اور اس طرح اخلاقی پستی اور کرپشن کا اشتراک ملک و قوم کی تباہی اور اس کی جڑیں کھوکھلی کرنے کا باعث بنتا ہے۔حق تلفی، اقربا پروری، نا ہل اور بد قماش لوگوں کا ملک کے حساس اداروں میں تقرر، معاشرے کے اصل حق داروں میں مایوسی، ہیجان،باہمی نفرت ا ور چپقلش پیدا کر کے حب الوطنی کے جذبہ کو انتقامی ذہنیت میں تبدیل کر دیتا ہے ۔

معاشرہ جب تک انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کا عملی فیصلہ نہیں کرتا اور غیر منصفانہ طرزِ عمل کی مکمل بیخ کنی نہیں کرتا اس وقت تک اصلاح معاشرہ اور نفاذ قانون اور انتظامی امور کی تمام کوششیں ریت پر لکھی تحریر ثابت ہوں گی، کیوں کہ اخلاقی برائیاں اور کردار عمل کی کجی نا انصافی اور طبعی قوانین کے بر عکس عمل کرنے سے ہی جنم لیتی ہیں اس لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ ان برائیوں اور کرپشن زدہ ماحول میں کوئی سدھار پیدا ہوسکے، جیسا بیج بویا جائے گا، ویسا ہی پودا سطح زمین پر اپنا سر ابھارے گاکہ یہی فطرت کا قانون ہے۔

اخلاق پرور معاشی، سیاسی اور معاشرتی نظام اپنی اصل روح کے ساتھ موجود نہ ہو تو عبادات کے باوجود عام مسلمانوں کے عقیدے اور عمل میں تضاد اور دُوئی پیدا ہوجانا یقینی ہے اور اس تضاد کے سبب انسانوں کے لینے اور دینے کے پیمانے الگ الگ ہوجائیں گے۔یہی وجہ ہے کہ مغربی دانش وروں اور پالیسی سازوں نے دین اور دنیا کو الگ الگ خانوں میں تقسیم کر دیا اور اسے اپنے پر زور پروپیگنڈے کے ذریعے سے عالمی افق پر پھیلا دیا اور استحصالی ذہن ر کھنے والے مسلمان حکمرانوں نے بھی اس باطل نظریے کو اس کی تمام گمراہیوں سمیت اپنالیا، اس لیے کہ خود انہیں بھی اسی طرح کےدو خانوں میں بٹے نظام میں اپنے پایۂ اقتدار کو مضبوط رکھنے کا موقع بھی ہاتھ آگیا اور اسی روش نے آمرانہ حکو متوں کی راہ ہموار کی جس کی تباہ کاریوں کو پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک بھگت رہے ہیں۔

ہم اپنی بات کریں تو حقیقت یہ ہے کہ ہمارا دشمن ہمیں فرقوں، گروہوں اور جماعتوں میں تقسیم در تقسیم کرنا چاہتا ہے تاکہ ظلم و بربریت کی آندھیاں ہمیں خس و خاشاک کی طرح اڑا لے جائیں۔اور یہ کوششیں اسی دن سے شروع ہوگئی تھی جب پاکستان ایک آزاد ریاست کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا تھا۔ جب کہ مسلمان تو اسی وقت سے ان دشمنوں کا شکار ہے جب اس نے پہلی بار اسلام کا لبادہ اوڑھا تھا، اسی دن سے حق و باطل کی معرکہ آرائی کی شروعات ہوگئی تھی جو آج تک ایک تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز

چراغِ مصطفوی سے شرارِ بو لہبی!

اس معرکہ آرائی کا سب سے بڑا ہدف پاسبانِ منبر و محراب ہیں۔کیوں کہ دین اسلام کی آب یاری اور اس کی ترویج و ترقی کا منبع محور یہ سعید روحیں ہی تو ہیں۔دشمن اسلام چاہتے ہیں کہ اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹادیں اور اس شجر طیبہ کو اپنے خون ِجگر سے پروان چڑھانے والوں کو بھی ایک ایک کر کے ختم کر دیں، مگر یہ ایک دیوانے کے خواب کے سوا کچھ بھی نہیں، کیوں کہ دین متین کے رکھوالے اور اس کی تبلیغ و اشاعت کے متوالے مر کربھی زندہ رہتے ہیں۔شہدائے بدر، شہدائے احد، شہدائے خیبر اور شہدائے کربلااور دیگر معرکہ حق و باطل کے

شہدا کا نام اگرآج زندہ ہے تو یہ اُن کی عظمت و شان،ایمان کی پختگی، عزیمت و استقلال کا اعتراف ہے جو عالمگیر سطح پر پھیلا ہوا ہے۔یہ تمام نفوس قدسی قیامت تک اپنے کار ناموں، عظیم سیرتوں اور اسلام کے لیے جان کے نذرانے پیش کرنے کے سلسلے میں ہی زندہ و تابندہ رہیں گے۔ ان کے سینوں سے ابلتے ہر لہو سے ایک اور جری اور سرفروش اور جواں مَردہستی جلوہ آرا ہوتی رہے گی ۔

’’ ضیا ‘‘روشنی کو کہتے ہیں، یہ دشمنِ دیں ایک روشنی کو بجھائیں گے تواسی بجھی ہوئی روشنی کےجِلَو سے سینکڑوں روشنیو ں کے منارے روشن ہوجائیں گے۔معرکہ کفر و اسلام کے آغاز سے آج تک شہدا کی جماعت ہی ہے جو اپنی جان و مال سے اسلام کو بچاتی رہی ہے اور جن کے خون کی بدولت اسلام پھلتا پھولتا رہا ہے۔مسلمانوں کی عظمت و شوکت کی حفاظت میں ان شہدائے کرام کا بنیادی کردار ہےجن کی شہادت کے جذبے کے آگے کفر پاش پاش ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔ان شا ء اللہ۔ان اہلِ علم و فضل اور اللہ کے دین کی سر بلندی کے لیے اپنا تن من دھن لگا نے والوں کو شہید کر دینے والے ظالموں کا کوئی نام و نشان تک نہیں ہے یا اگر قانون کی گرفت میں آگئے تو ذلت آمیز زندگی جی رہے ہیں جب کہ جن کے خون سے ان بد بختوں نے اپنے ہاتھ رنگے تھے ان کی دعوت وتبلیغ اور ان کی تعلیمات اور ان کے علوم و افکار سے بے شمار علم دین کے پیا سے فیض یاب ہورہے ہیں اور دوسروں تک پہنچارہے ہیں، گویا تعلیم و تزکیہ،علم و آگہی اور فہم وفراست کےچراغ سے چراغ روشن ہورہے ہیں اور اس دنیا کی بساط لپیٹے جانے تک یہ چراغ اسی طرح اپنی ضیا پاش کرنوں سے دنیا کے اندھیروں کو روشن اور تابناک کرتے رہیں گے۔ ان شاء اللہ۔

نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

admin

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago