شیخ ضياءالرحمن کی سوانح حیات

شیخ ضیاء الرحمن بن ظفر اللہ رحمہ اللہ  پاکستان کے ممتاز علماء اور مبلغین میں سے ایک تھے، جو وسیع علم ، فہم اور ٹھوس فکرو بصارت، تقریری مہارت، اور قیادت کی وجہ سے دور دور تک علماء وفضلاء کے حلقوں میں جانے جاتے تھے ۔

سلسلہ نسب :

ضياء الرحمن بن ظفر الله بن عطاء الله بن چندو بن احمد.

شیخ ضياءالرحمن کا خاندان:

 آپ کے خاندان کا تعلق ہندوستانی ریاست انبالہ کے ضلع روپڑ کے گاؤں ملک پور سے تھا۔جب پاک و ہند کی تقسیم ہوئی اور پاکستان آزاد ہوا تو ان کے دادا نے وہاں سے پاکستانی صوبہ پنجاب کے شہر میاں چنوں ہجرت کی، اور وہیں آباد ہو گئے۔

یہ خاندان اپنے والد، پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ  کے ذریعے جانا جاتا تھا جو اپنے علم و تدریس، اخلاص اور سلف صالحین کے عقیدہ پر عمل پیرا ہونے اور اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے لیے مشہور و معروف تھے ، اور متدین و دین پسند شخص تھے، جو خدمتِ دین کرنے ، ثقافت اسلامیہ،قرآن کریم کی زبان کے فروغ کیلئے، اس کے اصولوں کے تحفظ کرنے میں پیش پیش تھے ، اسی لئے آپ کا خاندان آنے والی نسلوں کیلئے سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔

جامعہ ابی بکر الاسلامیہ جیسی عظیم بین الاقوامی دانش گاہ کا قیام ایک عظیم کارنامہ ہے ،جس کا قیام شیخ ضياءالرحمن رحمہ اللہ  کے والد محترم شیخ محمد ظفر اللہ hکے نمایاں ترین کارناموں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے جوپاکستان کی پہلی وہ جامعہ ہے جہاں دینی تعلیم عربی زبان میں سلف صالحین کی تعلیمات کے مطابق دی جاتی ہیں۔

آپ کی ولادت اور پرورش:

 شیخ ضیاء الرحمن رحمہ اللہ  جمعۃ المبارک دس جمادی الاول 1397 ہجری بمطابق 29 اپریل 1977 عیسوی کو صوبہ سندھ کے دار الحکومت کراچی کے محلہ ماڈل کالونی میں پیدا ہوئے۔

آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت آپ کے والد گرامی نے کی ، اس کے بعد آپ نے قرآن کریم کی تعلیم جامع مسجد الفاروق کے امام مسجد حافظ ثناء اللہ صاحب کے پاس حاصل کی اور اسکول کی ابتدائی تعلیم ماڈل ڈے کیئراسکول سے حاصل کی۔

1988ء میں جب شیخ کی عمر گیارہ سال تھی تو آپ نے علوم اسلامیہ کے حصول کے لیے جامعہ ابی بکر میں داخلہ لیا۔اس جامعہ کا شمار پاکستان میں علم کے میناروں میں ہوتا تھا، اور جامعۃ السعودیہ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔

اساتذہ:

جامعہ کے تعلیمی سلسلے میں شیخ کے اساتذہ میں شیخ عبد اللطيف أرشد، شیخ أبو عبد المجيد بلتستانی، ڈاکٹر خليل الرحمن لکھوی، شیخ فاروق سعيدی، شیخ عطاء الله ساجد، شیخ أيمن الدقاق، شیخ بشير أحمد صلاد صومالی، شیخ بشار احمدصومالی ، شیخ علی مصطفى دھراوی مصری ، شیخ حسين نادی مصری، أبو عمر عبد الهادی شامی، شیخ محمد طاهر باغ، ڈاکٹر حسين لکھوی، شیخ امین جزائری، شیخ ضیاء الدین ابرلی امریکی ، شیخ ابو عمر یوسف طالقانی ، ڈاکٹر عبدالحئ مدنی وغیرہ شامل ہیں ، یہی وہ عظیم ہستیاں ہیں جن کے سامنے زانوئے تلمذطے کر کے شیخ نے تفقہ فی الدین کی سیڑھیاں چڑھیں اور اصول و فروع کی معرفت حاصل کی۔

جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے دو مرحلوں یعنی ثانویہ اور متوسطہ کے سات سالہ دور میں آپ بہترین کارکردگی کی بناء پر اپنے رفقا ء و ساتھیوں میں ممتاز حیثیت پا چکے تھے۔

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ:

سنہ 2000 عیسوی میں سعودی عرب کی مشہورو معروف اسلامک اسلامک یونیورسٹی ، جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے شعبہ کلیۃ الشریعہ میں آپ کا داخلہ ہو گیا، جہاں شیخ نے نامور علماء و مشائخ سے علوم شرعیہ کی تعلیمات حاصل کی اور ساتھ ساتھ مسجد نبوی ﷺ میں کبار علماء کے دروس سے بھی مستفید ہوتے رہے جن میں شیخ عبد المحسن العباد، شيخ ڈاکٹر صالح العبود ، شیخ ڈاکٹر عبد الرحمن بن سعدی الحربي اور شیخ ڈاکٹرعبد العزيز بن صالح الطويان شامل ہیں۔

جامعہ اسلامیہ سے سند فراغت حاصل کرنے کے بعد آپ نے اپنا تعلیمی سلسلہ پاکستان آ کر جاری رکھا اور جامعہ کراچی سے اسلامک اسٹڈیز میں ماسٹر(M.A) کی ڈگری حاصل کی۔

تعلیمی قابلیت:

جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی سے سن 1991 میں متوسطہ کی سند «جيد جدًا» کے درجے کے ساتھ حاصل کی۔

کراچی بورڈ سے سن 1994 میں شعبہ «سائنس» سے میٹرک مکمل کیا۔

جامعہ ابی بکر اسلامیہ کراچی سے سن 1995 میں ثانویہ کی سند «جيد جدًا» کے درجے کے ساتھ حاصل کی۔

وفاق المدارس سلفیہ پاکستان سے سن 2000 میں «ممتاز» گریڈ کے ساتھ عالیہ کی سند حاصل کی ۔

معروف اسلامک یونیورسٹی ، جامعہ اسلامیہ مدینہ نبویہ سے سن 2004 میں «ممتاز مع مرتبة الشّرف الثّانية» کے ساتھ سند فراغت حاصل کی ۔

سعودی عرب کی معروف درسگاہ جامعہ اسلامیہ میں عربی لغت کا ڈپلومہ کورس کیا ۔

وفاق المدارس السلفیہ پاکستان سے سن 2009 عیسوی میں «ممتاز» کے گریڈ کے ساتھ عربی اور اسلامی علوم میں ماسٹرکی ڈگری حاصل کی۔

کراچی یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات کے کلیہ قرآن و سنہ میں پی۔ایچ۔ڈی کے طالب علم تھے۔

تدریسی سرگرمیاں:

 2004ء میں معروف اسلامک یونیورسٹی ، جامعہ اسلامیہ مدینہ نبویہ سے واپسی کے بعد شیخ نے اپنی عملی زندگی کا آغاز جامعہ ابی بکر اسلامیہ میں تدریس سے کیا، جہاں آپ کو ابتدائی طور پر مرکز اللغۃ العربیۃ کے مرحلے میں تدریس کا موقع ملا پھر آپ آہستہ آہستہ اس تدریسی سفر کو مزید وسیع کرتے گئے یہاں تک کہ آپ نے مرحلہ ثانویہ اور اس کے بعد کلیۃ الحدیث الشریف میں بھی تدریس کے فرائض انجام دیئے۔

شیخ ضياءالرحمن رحمہ اللہ  مختلف علوم و فنون جیسا کہ حدیث ، میراث اور فقہ الاسلامی وغیرہ کی تدریس کرتے رہے۔

شیخ – رحمہ اللہ – جامعہ ابی بکر اسلامیہ اور جامعہ عائشہ صدیقہ للبنات میں ایک ماہر ، عمدہ اور مستقل مزاج استاد کے طور پر جانے جاتے تھے۔

خطبات اور تقاریر:

شیخ رحمہ اللہ ہر عیسوی مہینے میں اس ترتیب سے خطبات جمعہ ارشاد فرماتے: پہلا مسجد عمر بن الخطاب میں ، دوسرا مسجد الفاروق میں ، تیسرا مسجد بلال میں اور چوتھا مسجد الفاروق میں۔

ہر ہفتے جامعہ ا بی بکر الاسلامیہ کی مسجد عمر بن خطاب میں درس ارشاد فرماتے۔

ہفتےمیں تین دروس جامعہ عائشہ صدیقہ للبنات میں ارشاد فرماتے۔

ہر ہفتے رول ماڈل انسٹيٹیوٹ میں بھی آپ کا ایک درس ہوتا۔

اسی طرح روزانہ کی بنیاد پر مختلف مساجد و مدارس میں مختلف موضوعات پر بھی آپ کے دروس ہوتے۔

نشریات:

شیخ رحمہ اللہ کی تقاریر انٹرنیٹ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نشر کی گئیں۔

شیخ  رحمہ اللہ  کے خطبات جمعہ، عیدین، اور نماز استسقاءوغیرہ کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگز بھی نشر کی گئیں۔

اسی طرح شیخ رحمہ اللہ کئی ایک ٹی وی چینلز پر بھی مختلف موضوعات کے حوالے سے ریکارڈنگ کرواتے رہے۔

اہم ذمہ داریاں:

جامعہ ا بی بکر الاسلامیہ کے انتظامی اور تعلیمی امور کے نگران اعلی تھے۔

 دینی مقالات اور مضامین لکھنے میں مسلسل حصہ لیتے رہے۔

 جامعہ ا بی بکر الاسلامیہ سے شائع ہونے والے رسالے «اسوۂ حسنہ» کے جنرل سپروائزر تھے۔

 شیخ رحمہ اللہ  تعلیم و تربیت اور دعوت و تبلیغ کے میدان میں ایک فعال راہنما تھے، جو مختلف سیمینارز، کانفرنسز، دینی اجتماعات اور فورمز میں شرکت کرتے اور ان کے انعقاد کا اہتمام بھی کرواتے، ساتھ ساتھ خطبات جمعہ ، عیدین اور دیگر سرگرمیوں میں بھی آگے آگے نظر آتے۔

 شیخ رحمہ اللہ  ممتاز مذہبی رہنما تھے، آپ نے اسلامی تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

اپنی زندگی کے آخری سالوں میں آپ نے دفاع صحابہ کمیٹی کے انعقاد میں کلیدی کردار ادا کیا ، جو کہ اہلحدیث علماء کی مرکزی اور متفقہ کمیٹی ہے اور اسلام و مسلمانوں کی بہبود کیلئے بہت سی خدمات انجام دے چکی ہے۔

اہم مناصب:

شیخ رحمہ اللہ  سن 2004 تا 2006 مساعد مدیر الجامعہ کے ذمہ داری نبھاتے رہے۔

شیخ رحمہ اللہ  مارچ 2006 تا جولائی 2013 وکیل الجامعہ کی ذمہ داری نبھاتے رہے۔

شیخ رحمہ اللہ  جولائی 2013 تا مئی 2018 نائب مدیر الجامعہ کی ذمہ داری نبھاتے رہے۔

شیخ رحمہ اللہ  مئی 2018 تا 12 سبتمبر 2023 مدیر الجامعہ کی ذمہ داری نبھاتے رہے۔

شیخ رحمہ اللہ  جامعہ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے بھی رکن تھے۔

یاد رہے جامعہ ا بی بکر الاسلامیہ کی یہ ساری ذمہ داریاں پھولوں کی سیج کی طرح ہر گز نہیں تھیں بلکہ یہ ایک کانٹے دار راستہ تھا ، اس کے باوجود شیخ رحمہ اللہ  نے بحسن وخوبی ان تمام ذمہ داریوں کو نبھایا اور جامعہ نے آپ کے سایہ عاطفت میں خوب ترقی و خوشحالی کی منازل طے کیں ، جو یقینا اللہ کے فضل و احسان کے بعد شیخ رحمہ اللہ کی انتھک محنتوں کا ثمرہ ہے۔

سیمینار، کانفرنسز اور کورسز:

شیخ رحمہ اللہ  نے 11 مارچ 2006 بمطابق 10 صفر 1427سے لے کر 20 مارچ 2006 بمطابق 19 صفر 1427 کو جامعہ اسلامیہ عالمیہ (International Islamic university)، اسلام آباد کے شعبہ دعوت اکیڈمی کے تحت ہونے والے سیمینار بعنوان’’ دینی مدارس کا ادارتی انتظام اور شخصیت سازی ‘‘میں شرکت کی۔

شیخ رحمہ اللہ  نے 17 اپریل 2022کو جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں ہونے والے «پیغام پاکستان سیمینار» کا انعقاد جامعہ اسلامیہ عالمیہ (International Islamic university)، اسلام آباد کے ساتھ مل کر کروایا جس میں کثیر تعداد میں علماء اورسینئر طلبہ نے شرکت کی۔

سیرت نبوی ﷺ کے حوالے منعقدہ قومی کانفرنس میں شرکت فرمائی جو «سیرت النبی ﷺ اور جدید دور کے تقاضے» کے عنوان سے 8 نومبر 2022 کو جامعہ کراچی کے کالج آف آرٹس اینڈ سوشل سائنسز کے ہال میں منعقد ہوئی۔

شیخ رحمہ اللہ  نے شخصی نشو نما ، ذاتی مہارتوں کو بروئے کار لانے کے فن،فن گفت و شنید اور قائل کرنے کے فن، فن خطابت ، مواصلاتی سائنس، اور دیگر مختلف تربیتی کورسز میں شرکت بھی کی اور ان موضوعات پر لیکچرز بھی دیے۔

شیخ رحمہ اللہ نے اندرون اور بیرون ملک متعدد سیمینارز اور کانفرنسوں میں شرکت کی جن میں دفاع رسولﷺ ، حقوق النبیﷺ اور دفاع صحابہ yکے حوالے سے ہونے والے پروگرامز قابل ذکر ہیں۔

شیخ رحمہ اللہ  نے پاکستان بھرمیں اور بیرون ممالک میں مساجد و مدارس اور دیگر مقامات و مواقع پر سینکڑوں عوامی خطبات اور تقاریر فرمائیں۔

بیرون ممالک میں سیمینارز:

شیخ رحمہ اللہ  نے سن1995میں مصر کی معروف اسلامک یونیورسٹی جامعۃ الازہر میں بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی۔

اجازات علمیہ:

شیخ رحمہ اللہ  کو کئی ایک مشائخ نے سند حدیث اور اجازۃ علمیہ عنایت فرمائی جن میں یہ مشائخ بھی شامل ہیں :

شیخ ثناء الله زاھدی۔

شیخ محمد بن عبداللہ شجاع آبادی۔

تزکیے:

شیخ رحمہ اللہ  کو کئی ایک مشائخ نے تزکیے اور حسن سلوک و سیرت کے سرٹیفکیٹ سے نوازا، جن میں یہ مشائخ بھی شامل ہیں:

محترم شیخ صالح بن عبدالرحمٰن الحصین  رحمہ اللہ

ڈاکٹر شیخ عبدالرحمٰن بن سعدی الحربی جو سن 1425 میں جامعہ اسلامیہ مدینہ یونیورسٹی کے شعبہ کلیۃ الحدیث کے ڈین تھے۔

سن 1425 ہجری میں اسلامی یونیورسٹی کے تدریسی عملے کے اہم رکن ڈاکٹر شیخ عبدالعزیز بن صالح الطویان کی طرف سے بھی آپ کو ایک تزکیہ دیا گیا۔

خیراتی کام:

بحمد للہ ، شیخ رحمہ اللہ  باقاعدگی سے خیراتی کاموں اورفلاحی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے، جن میں سے چند ایک یہ ہیں:

مساجد ، مدارس اور جامعات کی تعمیر کروانا۔

انڈس جنرل ہسپتال میں رضاکارانہ طور پر خون کے عطیہ کی مہم میں حصہ لیا۔

شیخ رحمہ اللہ  ہمیشہ سفر حج و عمرہ کے دوران علماء سے رابطہ میں رہتے ، اسی لئے مملکت سعودی عرب کے کئی علماء سے آپ کی اچھی بات چیت بھی تھی اور آپ سعودی عرب کے دورے بھی کیا کرتے تھے۔

شیخ رحمہ اللہ  نے اپنے دروس میں علوم دینیہ کو مد نظر رکھا، آپ کے اہم موضوعات میں ، اللہ تعالیٰ کی محبت، محبت رسول ﷺ، اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت شامل ہیں ۔

شیخ رحمہ اللہ  کا منہج یہی تھا کہ وہ مسلمانوں کی تکفیر کو سخت نا پسند فرماتے، اسی طرح فسق و فجور کے فتوے اور بدعتی ہونے کے طعنوں سے آپ حد درجہ دور رہتے۔

شیخ رحمہ اللہ  نے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کی طرف سے بھیجے جانے والے کئی ایک دعوتی وفود میں حصہ لیا اور مملکت پاکستان کے سارے ہی صوبوں کا وقتا فوقتا دورہ کرتے رہے ، جہاں کہیں بھی وہ تشریف لے جاتے وہاں کچھ دن قیام ضرور فرماتے، اور یہ دعوتی سرگرمیاں تقریبا ہر سال ہی جاری رہتیں۔

شیخ رحمہ اللہ  جود وسخاوت اورمحبت کا پیکر تھے اور دوسروں کو عزت دینے والے نوجوان تھے ، عاجزی اور انکساری آپ کی طبیعت کا خاصہ تھی، آپ با کردار ، عمدہ گفتار، وعدے کو پورا کرنے والے ، اور اپنے پہلو میں نرم مزاجی رکھنے والے شخص تھے، نہ ہی تو آپ کسی کو نقصان پہنچاتےاور نہ ہی کسی کی بے عزتی کرتے، اسی طرح کسی کا مذاق اڑانا، استہزاء کرنا ، فضول باتوں میں حصہ لینا آپ کو سخت نا پسند تھا، شیخ رحمہ اللہ  نے کبھی کسی کے جذبات و احساسات کو ٹھیس نہ پہنچائی ، ہمیشہ دوستوں اور دشمنوں کا احترام کیا ، بڑے چھوٹے کے مرتبے کا خیال رکھتے، اور اس طرح کے بے تحاشا ایسے اوصاف تھے جن کی وجہ سے شیخ رحمہ اللہ  کو پورے پاکستان میں لوگ پسند کرتے اور عزت کی نگاہ سے دیکھتے۔

مصروف زندگی:

شیخ رحمہ اللہ  نے ایک مصروف زندگی گزاری ، آپ کی زندگی میں جمود اور سکون پسندی بالکل بھی نہ تھی ، آپ ہمیشہ ہی مصروف عمل رہتے ، کبھی کسی پروگرام میں بطور مہمان خصوصی شرکت کر رہے ہیں تو کبھی خود کسی سیمینار کا انعقاد کروا رہے ہیں، کسی وقت جامعہ کے معاملات کو دیکھنے میں مصروف ہیں تو کسی وقت آپ کے سامنے ان مدارس و معاھد کے معاملات ہیں جوآپ کے تحت چل رہے تھے ، بہت کم ہی آرام و سکون کا وقت ملتا ہمیشہ بس یہی فکر رہتی کہ کوئی فائدے مند کام کر گزریں، امت کی آسانی کی خاطر آپ نےا پنی زندگی کو کئی پُر خطر راستوں پر ڈال رکھا تھا، اور ساری مصروفیات کے باوجود آپ نے جو بھی کام کیا عمدہ انداز سے کیا اور بہتر سے بہترین کی منازل ہی طے کرتے رہے۔

خطابت:

شیخ رحمہ اللہ  اپنے زمانہ طالب علمی سے ہی عمدہ خطابت ، شاندار انداز ، جاندار موضوعات، ذخیرہ الفاظ ، جدید معلومات اور بہترین دلائل و براہین کی روشنی میں اپنی بات دوسروں تک پہچانے کے فن سے جانے جاتے تھے، پھر یہ سارے اوصاف وقت کے ساتھ ساتھ مزید نکھرتے گئے یہاں تک کہ یہ بات بھی دیکھی گئی کہ لوگ جوں ہی آپ کی تقریر کا سنتے جوق در جوق سننے کیلئے چلے آتے ، اور پھر تقریر کے وقت حاضرین کی حالت یہ ہوتی کہ ہر کوئی غور سے آپ کو گفتگو سن رہا ہوتا، مجمع پر سکتہ طاری ہوتا ، کوئی نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھتا جیسا کہ ان کے سر پر پرندے بیٹھے ہوں، آپ صائب الرائے شخصیت تھے ، ہمیشہ مسلمانوں کو نئی سوچ اور فکر دیتے اور ان کی مشکلات کا حل پیش کرنے میں مصروف رہتے ۔

تعریفی سرٹیفکیٹ:

شیخ رحمہ اللہ کو اسلامی تنظیموں اور یونیورسٹیوں کی طرف سے ان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے متعدد بار تعریفی سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا، جن میں سے کچھ یہ ہیں:

شعبہ قرآن و سنت ۔کالج آف اسلامک اسٹڈیز ۔ جامعہ کراچی کی جانب سے علوم قرآن و سنت میں ان کی خدمات پر اعزازی شیلڈ دی گئی۔

انڈس یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، کراچی کی طرف سے 9اکتوبر 2021ء کو شیخ رحمہ اللہ  کی خدمات کے اعتراف میں تعریفی سرٹیفکیٹ پیش کیا گیا ۔

شیخ رحمہ اللہ  کی علمی حیثیت اور علماء کرام کے تعریفی کلمات:

یوں تو شیخ رحمہ اللہ  کی تعریف اورذکر خیر میں علماءکرام نےاپنے خیالات کا اظہار اتنا زیادہ کیا ہے کہ ان سب کو یہاں پر ذکر کرنا ممکن نہیں ہے ، اسی لئے چند ایک علماءکرام کے اقوال پر اکتفا کرتے ہیں:

محدث العصر فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن ناصر رحمانی d فرماتے ہیں : « شیخ ضياءالرحمن رحمہ اللہ  بہت سے علوم شرعیہ میں مہارت رکھتے تھے، ہم ان کے تقویٰ ، اخلاص اور پرہیزگاری کی وجہ سے ان سے محبت کرتے تھے۔ ان کی دین حنیف کیلئے بہت سی خدمات جلیلہ ہیں جن میں جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کیلئے کی گئی کاوشیں خصوصا قابل ذکر ہیں ، اللہ انہیں جزاء خیرعطا فرمائے اور اپنی رضا اور خوشنودی عطا فرمائے۔

فضیلۃ الشیخ حافظ مسعود عالم d نے آپ کے اوصاف حمیدہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: شیخ ضياءالرحمن رحمہ اللہ  بہترین عالم، متقی، پرہیزگار، ، بدعت کا قلع قمع کرنے والے ، امور دینیہ کی ذمہ داری نبھانے والے ، عزم و ہمت کے پہاڑ ، مضبوط ارادوں کے مالک، بہترین سوچ کے علمبردار، خوف الہی رکھنے والے ، شعائر اسلام کی تعظیم کرنے والے ، اور قرآن و حدیث کا علم و فہم اور عمدہ ملکہ استنباط کے حامل عالم دین تھے۔

شیخ ضياءالرحمن رحمہ اللہ کے استاد محترم، فضیلۃ الشیخ ابو عمر محمد یوسف طالقانی d (جو جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے شیخ الحدیث ہیں ) اپنے تلمیذ رشید شیخ ضياءالرحمن رحمہ اللہ  پر ان کی علمی استعداد پر عموما اور حدیث النبوی ﷺ میں مہارت پر خصوصا فخر محسوس کرتے تھے۔

شہادت کا واقعہ:

شیخ ضیاء الرحمٰن کو 12 ستمبر 2023 بروز منگل کی رات کراچی شرقی کے علاقےگلستان جوہر میں قاتلانہ حملے کا نشانہ بنایاگیا، جہاں نامعلوم حملہ آوروں نے ان پر گولیاں چلائیں ، فوری طور پر شیخ رحمہ اللہ  کو ہسپتال منتقل کیا گیا ، جہاں آپ نے اپنی جان، جان آفریں کے سپرد کردی۔

شیخ رحمہ اللہ  کی شہادت کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پوری دنیا میں پھیل گئی، مختلف جگہوں سے فون آنے لگے ، مختلف ممالک میں شیخ رحمہ اللہ  کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی، تعزیتی تقریبات منعقد ہوئیں اور علماءکرام نے مختلف مقامات پرآپ کاذکر خیر کیا ، آپ کی شہادت کو امت مسلمہ کےحق میں بہت بڑا نقصان گردانا ، اور شیخ رحمہ اللہ کیلئے بلندیٔ درجات کی دعا کی۔

آخر میں ، میں یہی کہوں گا کہ شیخ ضياءالرحمن رحمہ اللہ  پہلے مبلغ نہیں ہیں جنہیں اس راہ میں شہید کیا گیا، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ جیسے رب العالمین نے فرمایا ہے کہ: ’’یہ چاہتے ہیں کہ اپنی پھونکوں سے اللہ کا نوربجھا دیں حالانکہ اللہ اپنے نور کو مکمل کئے بغیر نہ مانے گا اگرچہ کافر ناپسند کریں ۔‘‘ ہماری اللہ سے دعا ہے کہ وہ شیخ ضياءالرحمن رحمہ اللہ  اور ان کےو الد شیخ محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ  کی مغفرت فرمائے، ان کی شہادتوں کو شرف قبولیت بخشے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

شیخ ضياءالرحمن رحمہ اللہ  کی وفات کی خبر بہت بڑی ہے اور دل غمگین اور افسردہ ہے اور ہم صرف وہی کہتے ہیں جس سے ہمارا رب کو راضی ہو اور وہ یہی ہے کہ ’’شیخ !ہم آپ کے جانے سے غمگین ہیں۔‘‘

شیخ ضياءالرحمن رحمہ اللہ کی نماز جنازہ مشہور عالم دین شیخ مسعود عالم d نے پڑھائی، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ بعد ازاں شیخ ضياءالرحمن رحمہ اللہ  کے جسد خاکی کو کراچی کے علاقے ملیر کینٹ میں واقع «متا» قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

admin

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago