سفر کا مادہ عربی لغت میں متعدد معنی رکھتا ہے ۔سفر کے لغوی معنی مسافت طے کرنا ہے ۔سفر کو سفر اس لیے کہتے ہیں کہ یہ انسان کے اچھے ،برے اوصاف کو ظاہر کر دیتا ہے ۔سفر ذریعہ ہے مرغوب چیز کی طرف پہنچ کا یا ناپسندیدہ چیز سے خلاصی پانے کا۔

سفر کی اقسام میں سے یہ بھی ہے کہ سفر مباح ہو، باقی رہا بغیر مقصد کے زمین میں سیاحت اور ایسے مقام کی طرف سفر کرنا جو جانا پہچانا ہو ممنوع ہے ۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کہا :اسلام میں بے مقصد سیاحت کوئی چیز نہیں اور نہ کسی نبی یا کسی نیک آدمی کا فعل ہے۔ (مراسیل ابی داؤد :286)

سفر میں لوگوں کے اچھے برے اخلاق کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسے کہ محاورہ ہے کہ تمہیں کسی آدمی کے اخلاق کا اس وقت تک پتہ نہیں چل سکتا جب تک اس کی نافرمانی نہ کر لو یا اس کے ساتھ سفر نہ کر لو۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو دوسرے کی تعریف کرتے ہوئے دیکھا تو اس سے پوچھنے لگے کیا تو نے اس کے ہمرا ہ سفر کیا ہے؟ اس نے کہا :نہیں ،پھر پوچھا کیا اس کے ساتھ کوئی مجلس اختیار کی ہے؟ اس نے کہا :جی نہیں ،تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں تو اسے نہیں پہچانتا۔(ارواء الغلیل8/200)

یہ بات قطعی دلائل سے ثابت ہے کہ سفر عذاب کا ٹکڑا ہے جیسے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا :سفر عذاب کا ٹکڑا ہے جو تمہیں کھانے، پینے اور سونے سے روکے رکھتا ہےلہذا جب سفر کی ضرورت پوری ہو جائے تو اپنے گھر جلدی واپس آنا چاہیے ۔(صحیح البخاری :1804)

سفر ایک ایسی ضرورت ہے جس سے کسی کو بھی مفر نہیں حج ،عمرہ ،جنگ، طلب علم ،تجارت ،دوستوں اور قرابت داروں کی ملاقات ،سیر و تفریح کے لیے ہے ۔سفر یا تو فرض ہے یا واجب ۔اسی لیے شارع اسلام نبی مکرم ﷺنے سفر کے احکام و آداب کا خاص طور پر اہتمام کیا ہے۔ہر مسلمان پر لازم ہے کہ احکام سفر کی آگاہی حاصل کرے اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کرے ۔سفر ایسا مضمون ہے اس پر ضخیم کتاب لکھی جا سکتی ہے ۔ہم اس مضمون ِسفر کے کچھ آداب اور ممنوع چیزوں کا ذکر کریں گے۔

1۔دعا     2۔عذاب کی جگہ    3۔مسجد 4۔ہنی مون

5۔گھنٹی گانے       6۔ عورت کا تنہا سفر           7۔دن و وقت

بے شمار مسلمان مرد اور عورتوں کو جہالت ، غفلت اور اس کامل دین کے تمام شعبہ جات میں بے پرواہی کا شکار ہیں ۔اس مختصر سے مضمون میں آداب سفر کا بیان ہے تاکہ لاعلم اور بھولے ہوئے مسلمانوں کو یاد دہانی ہو جائے ۔دین اسلام تمام دوسرے ادیان و مذاہب سے امتیازی خصوصیت کا حامل ہے اور زندگی کے ہر لمحہ اور شعبہ پر محیط ہے۔ زندگی و موت کہ ہر شعبے کے متعلق تفصیلی احکامات سے روشناس کرواتا ہے۔

سفر کے آداب میں سب سے پہلے آداب دن و وقت ہے ۔سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺجمعرات کے دن ہی سفر کرنا پسند فرماتے تھے ۔اور دوسری روایت ہے کہ کم ہی ایسا ہوتا تھا کہ رسول اللہ ﷺجمعرات کے علاوہ کسی اور دن میں سفر کریں ۔(صحیح البخاری :29 50)

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تم رات کے وقت سفر کرنے کو اختیار کرو اس لیے کہ زمین رات کو لپیٹ دی جاتی ہے ۔(سنن ابو داؤد :2511)

دعائے سفر

ہم میں سے اکثر لوگوں کو دعائے سفر و سواری کی دعا کا فرق ہی نہیں معلوم ۔دعائےسفر یہ ہے۔

اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا، وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ} اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنِ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اَللّٰهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا، اَللّٰهُمَّ اطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ، اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ (سنن أبي داود:2602، سنن الترمذي، حديث:3446)

اللہ سب سے بڑا ہے ،اللہ سب سے بڑا ہے ،اللہ سب سے بڑا ہے ،پاک ہے وہ ذات جس نے اسے( سواری کو )ہمارے تابع کر دیا ورنہ ہم اسے قابو میں کر لینے والے نہیں تھے اور یقین ہم اپنے رب ہی کی طرف واپس جانے والے ہیں ۔اے اللہ !ہم تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی ،تقوی اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جسے تو پسند فرمائے ۔اے اللہ !ہم پر ہمارا یہ سفر آسان کر دے اور اس کی لمبی مسافت ہم سے لپیٹ دے ۔اے اللہ !اس سفر میں تو ہی (ہمارا )ساتھی ہے اور (تو ہی ہمارا )جانشین ہے گھر والوں میں ۔اے اللہ !میں سفر کی مشقت (اس کے )تکلیف دہ منظر اور مال اور گھر والوں میں بری تبدیلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔

اور دعائےسواری یہ ہے:

بِسْمِ اللهِ ،الْحَمْدُ لِلهِ {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا، وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ}
الْحَمْدُ لِلَّهِ، الْحَمْدُ لِلهِ، الْحَمْدُ لِلهِ، اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ. (سنن أبي داود:2602)

اللہ کے نام سے ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے ۔پاک ہے وہ ذات جس نے اسے (سواری کو )ہمارے تابع کر دیا ورنہ ہم اسے قابو میں کرنے والے نہیں تھے اور بے شک ہم اپنے رب ہی کی طرف واپس جانے والے ہیں ۔سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے ،سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہیں ،اللہ سب سے بڑا ہے ،اللہ سب سے بڑا ہے ،اللہ سب سے بڑا ہے ،اے اللہ تو پاک ہے یقینا میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ،پس تو مجھے معاف فرما دے ،بے شک تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کر سکتا۔

ملک میں موجود آثار قدیمہ (عذاب کی جگہیں)کی سیاحت کرنے والے لوگوں کو شرعی احکام کا علم نہیں کیونکہ نبی کریم ﷺسے ایسے علاقوں میں جانے کی ممانعت ثابت ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺحجر بستی (اس مقام پر صالح علیہ السلام کی قوم ثمود آباد تھی یہ وہی قوم ہے جس پر اللہ کا عذاب زلزلے ،شدید دھماکے اور بجلی کی کڑک کی صورت میں نازل ہوا تھا )کے پاس سے گزرے تو فرمایا :ان لوگوں کی رہائش گاہوں میں داخل نہ ہونا جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں بھی وہی عذاب پہنچ جائے جو انہیں پہنچا تھا ہاں ایک حال میں داخل ہو سکتے ہیں کہ وہاں روتے ہوئے جاؤ پھر نبی کریم ﷺنے اپنا سر مبارک ڈھانپا اور سواری کو تیز دوڑانے لگے حتی کہ اس وادی کو عبور کر لیا۔(صحیح البخاری 4419)

دوسری حدیث میں ہے :تم ان عذاب دیے گئے لوگوں پر داخل نہ ہونا اِلاّ یہ کہ تم روتے ہوئے وہاں جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر وہی عذاب آجائے جو ان پر پہنچا تھا ۔(صحیح البخاری :4426)

اللہ تعالی نے سورۃ محمد آیت نمبر 10 میں ارشاد فرمایا:

اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ١ٞ وَ لِلْكٰفِرِيْنَ اَمْثَالُهَا

’’کیا ان لوگوں نے زمین میں چل پھر کر اس کا معائنہ نہیں کیا کہ ان سے پہلے کے لوگوں کا نتیجہ کیا ہوا؟ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کر دیا اور کافروں کے لیے اسی طرح کی سزا ہیں۔‘‘

آپ نے اللہ تعالیٰ اوررسول اللہ ﷺکے احکام پڑھ لیے ہیں جبکہ ہم ہیں کہ موجودڑو اور ٹیکسلا کے کھنڈرات کی سیر کو جاتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے تباہ و برباد کر دیا اور سزا دی ۔کیا ہم عبرت نہیں لیتے؟

ہمارے معاشرے میں اغیار سے یہ رسم بھی آگئی ہے کہ شادی کے بعد پہلے سفر ہنی مون پر جایا جاتا ہے۔ یہ سفر غیر مسلموں کی نقالی ہے جو انتہائی قابل نفرت اور برا عمل ہے ۔ہمارے اسلاف میں اس قسم کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

ہنی مون کے غرض سے مختلف ممالک کا سفر کرنا خصوصا غیر اسلامی ممالک میں جا کر کئی دن گزارنا کفار کی عادات میں سے ایک بری عادت ہے کیونکہ ان ممالک کی طرف سفر میاں بیوی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے جب انسان بے حیائی ، فحاشی، شراب نوشی، سرعام زنا اور عورتوں کے مختصر لباس کا نظارہ کرتا ہے تو وہ اس ماحول سے متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کی غیرت بھی ختم ہو سکتی ہے جو میاں اور بیوی دونوں کے لیے خطرناک ہے اور ممکن ہے کہ وہ دونوں دین اور اخلاق سے ہی دور ہو جائیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ عورت اس ماحول کو دیکھ کر حیا کا تاج اتار دے اور بے حیائی کے سیلاب میں بہہ جائے ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔آمین

گرمی سردی کی چھٹیوں میں طلبہ و طالبات تفریحی مقامات کی سیر کی غرض سے سفر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی زمین بہت وسیع ہے۔ اس کی سیاحت کرنی چاہیے۔

کیا انہوں نے زمین میں سیر و سیاحت نہیں کی جو ان کے دل ان باتوں کے سمجھنے والے ہوئے یا کانوں سے ہی ان واقعات کو سن لیتے بات یہ ہے کہ صرف آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوتی بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ (سورۃ الحج :44)

اللہ تعالی کے وسیع و عریض زمین کی سیاحت و سفر کرنا تو جائز ہے (مگر جائز طریقے سے )۔مگر ہمارے معاشرے میں اس سے قطع نظر سفر کیا جاتا ہے بلکہ معاملہ اس قدر سنگین ہے کہ نوجوان طالبات کی ٹولیاں اسلامی احکامات کے برخلاف نامحرم ساتھیوں کے ساتھ سفر کرتی ہیں بلکہ ہفتوں ساتھ رہتی ہیں جبکہ رسول اللہ ﷺکاارشاد ہے:کسی عورت کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے محرم کے بغیر ایک دن اور رات کا سفر کرے ۔(صحیح البخاری 1339)

لہذا کسی عورت کے لیے کسی قسم کا کوئی سفر ہو یا ریل گاڑی اور کار کے ذریعے ،اِلا یہ کہ اس کے ساتھ اس کا باپ یا بھائی یا خاوند یا بیٹا یا ایسا رشتہ دار ہو جس کے ساتھ اس کا نکاح حرام ہو ہم گھروں کے سربراہان سے بھی امید رکھتے ہیں اور انہیں ان کے ایمان اور دینی غیرت کا حوالہ دے کر دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنی بہنوں ،بیٹیوں اور بیویوں کو بغیر محرم کے باہر نکلنے کی اجازت نہ دیں کیونکہ ان عورتوں کے تنہا سفر میں بے شمار خطرات و مشکلات درپیش ہیں جن کا علم ہر صاحب شعور آدمی کو حاصل ہے ۔اس میں شک نہیں کہ اللہ کی زمین پر مساجد بہترین خطے اور بازار بدترین ٹکڑا ہے ۔اللہ کے بندے اس کی عبادت اور خوشنودی کے لیے ان مساجد کا رخ کرتے ہیں ۔دراصل اس عالم رنگ و بو میں کوئی قطعۂ ارضی ایسا نہیں جس کا فضل و شرف اپنا ذاتی ہونا کہ اس کے فضل و شرف کی وجہ سے اس کی طرف رخت سفر باندھنا جائز ہو ،ہاں تین مساجد ایسی ہیں جن کی زیارت کی خاطر سفر کرنا عبادت اور باعث اجر و ثواب ہے ۔اس کی فضیلت کے متعلق شریعت نے ہمیں آگاہ کیا ہے۔

مسجد نبوی ،مسجد الحرام اور مسجد اقصی ہے یہ تین مساجد ایسی ہیں جن کی زیارت کے لیے سفر کرنا مسنون ہے ان کے علاوہ کسی بھی مسجد کی زیارت کے لیے سفر کرنا ممنوع ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺسے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا :تین مساجد مسجد الحرام ،مسجد نبوی اور مسجد اقصی کے علاوہ کسی طرف بھی رختِ سفر نہ باندھا جائے ۔(صحیح البخاری 1189)

ہم بہت شوق سے لاہور کی بادشاہی مسجد اور اسلام آباد کی فیصل مسجد سیاحت کی غرض سے دیکھنے جاتے ہیں ۔جس شخص کو علم نہ ہو اسے معذور سمجھا جائے گا لیکن سنت طریقہ معلوم ہو جانے کے بعد اسے چاہیے کہ وہ سنت کی مخالفت نہ کرے اور نہ ہی ایسا کوئی عمل کرے جس سے نبی کریم ﷺنے منع فرمایا ہے۔

گانے کو موسیقی بھی کہا جاتا ہے جو کہ یونانی زبان کا لفظ ہے گانے اور موسیقی میں ایک فرق ہے گانا تو محررگیت یا اشعار کو کہتے ہیں جبکہ موسیقی ایسا گانا جس کے ساتھ ساز (میوزک )شامل ہو۔

موسیقی کی تاریخ بہت پرانی ہے ہر انسانی معاشرے میں کسی نہ کسی حیثیت سے اس کا وجود ملتا ہے اسے لذت نفس اور مسرت و تفریح کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے ہندو مت اور دیگر مذاہب میں موسیقی کو مذہبی حیثیت بھی حاصل ہے ۔

ساز (میوزک )انسان کےنفس میں لذت کا احساس پیدا کر دیتا ہے بلکہ کچھ دیر کے لیے انسان اگر اس نغمے ترانے اور ساز (میوزک )کی طرف متوجہ ہو جائے تو وہ دنیا و ما فیہا سے بھی بے خبر ہو جاتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اسلام ہر اس چیز کو ناپسند کرتا ہے جو انسان کو اس کے مقصد حیات سے غافل کر دے ۔خاص کر اگر انسان سفر میں سواری پر ہو اور ساز (میوزک )اس دنیا و ما فیہا سے غافل کر دے تو بہت بڑا حادثہ ہو سکتا ہے اس لیے شریعت اسلامیہ سے ان سب چیزوں کی حرمت منقول ہے قوالی کو بھی گمراہ کن بدعت قرار دیتے ہیں۔

سیدنا ابو عمر رضی اللہ عنہ یا سیدنا ابو مالک الاشعری سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا :یقینا میری امت میں کچھ ایسے لوگ ضرور پیدا ہوں گے جو زنا کاری ،ریشم کا پہننا،شراب نوشی اور گانے بجانے کو حلال سمجھیں گے ۔(صحیح البخاری 5590)

آج ہمارا معاشرہ اسلام اور جاہلیت کے مخلوط تصور سے آلودہ ہو چکا ہے اگر ایک طرف اسلامی تعلیمات اور ہماری تہذیبی روایت کی کچھ روشن اور تابناک جھلکیاں ہیں تو دوسری جانب بر صغیر کے تاریخی اثرات اور مغربی ثقافت و تہذیب بھی بکثرت موجود ہے۔ہم سفر میں بہت شوق سے گانے قوالی سنتے ہیں کہ وقت جلدی گزر جائے گا ہمیں پتہ نہیں کہ اس عمل سے ہم اللہ تعالی کو راضی کر رہے ہیں یا شیطان کو۔

سیدنا سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد محترم سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا :فرشتے اس قافلے کے ساتھ نہیں جاتے ہیں جس میں گھنٹی ہو ۔(سنن نسائی 5223)

اس زمانے میں آمد و رفت کے ذرائع اونٹ گھوڑے تھے اور اب اس کی شکل کار و جہاز نے لے لی ہے ۔شریعت کا حکم ایک ہی ہے نبی اکرم ﷺنے گھنٹی کو شیطانی ساز فرمایا ہے ۔(سنن ابی داؤد 2556)

کیونکہ یہ جانوروں اور انسانوں کو مست کرتی ہے گویا موسیقی کے حکم میں ہے ۔فرشتوں سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں ورنہ محافظ فرشتے اور کاتبین فرشتے تو ہر وقت ساتھ رہتے ہیں ۔گویا گھنٹی والی جگہ فرشتوں کے بجائے شیطان ہوتا ہے ۔اس لیے وہاں اللہ تعالی کی رحمت نہیں ہوتی ۔(حافظ صلاح الدین یوسف)

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہماری دنیا و آخرت کا سفر آسان فرما دے اور دونوں جہانوں کے سفر کو اپنی رضامندی اور نبی کریم ﷺکی سنت کے مطابق ادا کرنے والا بنا دے۔ آمین

admin

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago