بے شک اللہ سبحانہ وتعالی کی نعمتیں بے شمار ہیں جن سے یہ انسان مستفید و فیضیاب ہوتا ہے۔لیکن بعض نعمتیں ایسی ہیں جو بہت ہی عظیم الشان ہیں، ان عظیم نعمتوں میں ایک نعمت یہ قرآن عظیم ہے جو اللہ رب العزت نے انسانوں کی رہنمائی کے لئے نازل فرمایا۔یہ قرآن اللہ کا پیغام ہے اپنے بندوں کے نام، جس کے ذریعہ اللہ نے اپنے بندوں سے کلام فرمایا، اور پھر یہ کہ اس کا پڑھنا، اس کا سننا، اس پر عمل کرنا،یہ تمام چیزیں اللہ کی رحمت کے حصول کا ذریعہ ہے،جیسا کہ اللہ نے قرآن مجید میں فرمایا :
’’جب قرآن پڑھا جائے تو اس قرآن کو سنو اور خاموش رہا کرو اس طرح تم پر اللہ کی رحمتیں برسیں گی۔‘‘
اور اللہ کے نبی ﷺکا فرمان ہے :
جو لوگ بھی اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہوکر اس کی تلاوت کرتے ہیں اس کو پڑھتے پڑھاتے ہیں تو ان پر اللہ رب العزت کی طرف سے سکینت و اطمینان کا نزول ہوتا ہےاور اللہ کی رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے ان کو اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں،اور ان قرآن پڑھنے والوں کو اللہ اتنا محبوب رکھتے ہیں کہ ان کا تذکرہ اپنے مقرب فرشتوں میں فرماتے ہیں ۔
فرمایا :
یہ برکتوں والی کتاب ہم نے اتاری ہے تو اس کی پیروی کرو ۔اس کو اپنی زندگی کا رہنما بناو، دستور و قانون بناؤ، اور اس کی مخالفت سے اور ادھر ادھر ہونے سے بچنا اور ڈرتے رہنا، تمھاری ساری زندگی میں اللہ کی رحمتیں شامل ہوجائیں گی ۔۔ قرآن پر عمل پیرا ہونا تمھیں اللہ رب العزت کی رحمتوں کا مستحق بنادے گا، تو یہ قرآن مجید جس کا پڑھنا رحمت، سننا رحمت، عمل کرنا رحمت،یہ اس اللہ رحمن نے اتارا ہے۔۔۔ وہ رحمن ہے جس کی رحمتیں بے انتہاء ہیں ۔۔جو اپنی ذات میں بھی رحمن ہے اور اس کی فعلی رحمت پوری کائنات کو سموئے ہوئے ہے ۔۔ ہر کوئی اس کی رحمت سے فیضیاب ہورہا ہے ۔۔پھر اس انسان کو قرآن سکھایا اور بولنا سکھایا، ان دو نعمتوں کا ایک ساتھ ذکر ہونے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس قوت گویائی کا جو بہترین مصرف ہے وہ یہ قرآن مجید کی تلاوت ہے ۔۔
پھر یہ قرآن احسن الحدیث ہے ۔۔ رب تعالی کا ارشاد ہے :
یہ اپنی زبان کے اعتبار سے بھی خوبصورت ہے،کہ اس کے لئے اللہ رب العزت نے عربی زبان کا انتخاب فرمایا جو دنیا کی زبانوں کے اندر ایسی ممتاز و عظیم زبان ہے کہ کوئی اور زبان اس کے قریب بھی نہیں اور پھر جو اسکا اسلوب ہے وہ نہ شاعری ہے نہ نثر ہے بلکہ جو شاعری کی مٹھاس اور شیرینی ہوتی ہے اور جو نثر کا ذوق ہوتاہے ان دونوں کو اللہ نے جمع کردیا ہے ۔۔ نہ یہ خالی نثر ہے نہ یہ شعر کے اوازان و قوافی کی پابند ہے نہ کوئی نظم ہے۔ بلکہ ان سب سے ہٹ کر یہ ایسا کلام ہے کہ یہ انسان کے اندر اُتر جاتا ہے ۔۔ اسکی شیرینی انسان کو گرویدہ بنادیتی ہے ۔۔۔ جیسے بعض اوقات پڑھنے یا سننے والے کو سمجھ نہیں بھی آرہا ہوتا۔ اس کے جو علم و معرفت اور حقائق ہیں کہ انسان کی عقل جتنی بھی دوڑ دھوپ کرلے ان تک رسائی نہیں حاصل کی جاسکتی،اللہ رب العزت کی رہنمائی کے بغیر۔۔۔۔۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا :
اور فرمایا : ( هُدًى لِّلنَّاسِ ) تمام لوگوں کے لئے ہدایت ہے ۔۔۔ جو اس قرآن سے فائدہ اٹھانے والے ہیں وہ المتقین ہیں جو اس رب سے ڈر کر اس کی اطاعت میں زندگی گزارنے والے ہیں ۔۔۔جو رب کی بتائی ہوئی حقیقتوں پر بِن دیکھے ایمان رکھتے ہیں ۔۔۔ تو ان لوگوں کے لئے یہ قرآن خصوصی طور پر اور بالفعل ہدایت ہے ۔۔۔ اور عمومی طور پر یہ سارے لوگوں کے ہدایت ہے۔۔۔وہ زندگی کے کسی بھی شعبہ سے تعلق رکھنے والے ہوں ۔۔۔ کسی بھی زمانے میں پیدا ہونے والے ہوں ۔۔۔سب کے لئے یہ کلام رہنما ہے ۔۔۔ یہ قرآن اس راہ کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے جو بالکل سیدھا راستہ ہے ۔۔۔ دنیا کی زندگی میں کامیابی کا راستہ یہ قرآن مجید ہمیں سکھاتا ہے ۔۔۔ دنیا کی زندگی کے بعد برزخی زندگی میں آرام و سکون و سعادت کا راستہ یہ بھی قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے ۔۔۔ اور اس کے بعد جو زندگی ہمیں دوبارہ ملے گی اس کی بھی خوش بختی و سعادت کا راستہ یہ قرآن ہمیں بتاتا ہے ۔۔۔اور جو لوگ اس قرآن پر ایمان رکھتے ہیں ان کو اس بات کی بشارت دیتا ہے کہ ان کو بہت بڑا اجر عظیم ملے گا ۔۔۔اور جو قرآن پر ایمان نہیں لاتے ان کے لئے رب تعالیٰ نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے ۔۔۔ اور پھر جو دوسری آیت مبارکہ سورہ یونس کی ہے اس میں رب تعالی نے ارشاد فرمایا :
اے لوگوں تمھارے پاس، تمھارے بادشاہ، تمھارے پالن ہار کی طرف سے یہ وعظ آیا ہے ۔۔ اور جو تیرے سینے کے روگ ہیں یہ قرآن اس کے لئے نسخہ شفاء ہے ۔۔۔ تیرے دل اور سینے کی بیمایاں دور کردینے والا ہے ۔ اور یہ ہدایت ہے تمام لوگوں کے لئے اور اہل ایمان کے لئے سراسر رحمت ہے ۔۔۔
اے نبی ﷺآپ انہیں بتائیں کہ اللہ کے اس فضل اور اس کی اس رحمت پر لوگوں کو خوش ہونا چاہئے ۔۔۔کہ اللہ نے ہمیں سر چشمہ ہدایت نصیب کیا ۔۔۔ساری دنیا کے لوگ جو کچھ جمع کرتے ہیں، اموال، اولاد، جاگیر، یہ ان سب چیزوں سے بہتر ہے ۔۔۔ یہ اس لئے بہتر ہے کہ اس کے ساتھ جو اجر و ثواب ملتا ہے وہ کہیں زیادہ ہے ایک ایک حرف پر دس دس نیکیاں اور ہر آیت پر سینکڑوں نیکیوں کا مصداق بن جاتا ہے ۔۔۔رسول اکرم ﷺنے فرمایا ۔۔ تم میں سے کون اس چیز کو پسند کرتا ہے کہ وہ مدینہ کے بطحان یا عقیق علاقہ میں جائے اور وہاں سے دو اونٹنیاں موٹی،تازی، بچے دینے والی ۔۔۔ وہ وہاں سے ہانک کر لے آئے، چوری اور ڈکیتی کے بغیر (، عربوں کے ہاں اونٹنی بہت قیمتی مال تھا اور اج بھی کوئی کم قیمتی نہیں ہے) ۔۔۔ تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے فرمایا ۔۔ كُلُّنَا نُحِبُّ ۔۔۔۔ ہم سب یہ پسند کرتے ہیں ۔۔۔ تو فرمایا آو پھر مسجد میں دو آیتیں سیکھ لو، سمجھ لو ۔۔۔ یہ دو آیتیں ان دو اونٹنیوں سے کئی بہتر ہیں ۔۔ چار پڑھو تو چار سے بہتر ہے ۔۔۔ دس پڑھو تو دس سے بہتر ہے ۔۔۔ جتنی پڑھو اتنی اونٹنیوں سے بہتر ہے ۔۔۔یہ اونٹنیاں یہ دنیا کا مال جتنا کمالو اس نے ادھر ہی رہ جانا ہے جبکہ قرآن کے ساتھ تعلق لگاؤ اور یہ تعلق کل قیامت کے دن بندے کا سفارشی بن کر آئے گا ۔۔۔اور قرآن مجید اپنے پڑھنے والے کی وکالت کرے گا۔۔۔ کل قیامت کے روز سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران اپنے پڑھنے والے پر اس طرح سایہ کئے ہوئی ہوں گی ۔۔۔ جیسے دو گہرے بادل ہوتے ہیں۔یا جیسے دو پرندوں کے جھنڈ ہوتے ہیں ۔۔ اور اپنے پڑھنے والوں کے اللہ رب العزت سے سفارش و وکالت کریں گی۔ ۔۔ بلکہ رب تعالیٰ سے جھگڑا کریں گی ۔۔ کہ مالک ان کو چھوڑدے ۔۔۔
در حقیقت قرآن مجید وہ کتاب ہے جس نے انسان کو صحیح معنوں میں انسان بننے کی راہ دکھائی ہے ۔۔۔ کہ انسان رب تعالیٰ کا محبوب بن جائے اور عزت و سرفراز کے ساتھ رہے اور اس کے لئے دنیا بھی اچھی ہوجائے ۔ اور آخرت بھی ۔۔ صحیح معنوں میں انسان اسی وقت انسان بن سکتا ہے جب وہ قرآن مجید کی تعلیمات پر من و عن عمل پیرا ہو ۔۔۔ قرآن کا موضوع ہی یہی ہے کہ انسان کو کیسا ہونا چاہیے ۔۔۔ کس کام کو اپنانا چاہئے اور کس کو چھوڑنا چاہئے ۔۔۔ تیرا رازق کون ہے، خالق کون ہے، مالک کون ہے، اور تو کس کے سامنے جواب دہ ہے ؟؟؟
قرآن نے بتایا کہ اس دنیا میں تیرا مقام کیا ہے ۔۔ تو دنیا کی باقی چیزوں کی طرح نہیں ہے ۔۔۔ دنیا کی ساری چیزیں رب تعالیٰ نے تیرے لئے بنائی ہیں اور تجھے اپنی عبادت کے لئے بنایا ہے ۔۔۔
اور اسی نے تجھے برتری بھی ان تمام چیزوں پر خلافت بھی دی ۔۔۔ یہ تمام جانور، چرند، پرند، حیوانات ۔۔۔ سب تیرے لئے ہیں ۔۔۔ اور بتادیا کہ اے انسان ! یہ جو تو زندگی گزار رہا ہے یہ عیش و آرام کی زندگی نہیں بلکہ امتحان و آزمائش کی زندگی ہے ۔۔۔ تیرے عمل کو جانچا جا رہا ہے، تیرے اخلاق کو پرکھا جارہا ہے ۔۔۔ تیری ہر چیز کو تولا جارہا ہے۔ اس لئے تجھے اپنی زندگی قرآن کی رہنمائی میں گزارنی چاہیے ۔ ایمان و عمل والی زندگی ۔ فرمانبرداری و شکرگزاری والی زندگی ۔ اسقامت و عزیمت والی زندگی ۔
اور قرآن مجید ہی یہ بتاتا ہے کہ تیرا رہنما کون ہے ؟؟ جس کو تونے اپنا رول ماڈل بنانا ہے ۔۔ ؟؟ آقا و رہبر مان کر چلنا ہے ۔۔۔ ؟ اے مسلمانوں تمھارے لئے جو اللہ رب العزت نے بھیجا ہے وہ تمام نبیوں کا امام ہے، سید المرسلین ﷺہے ۔
بہترین نمونہ، کامیاب ترین زندگی گزارنے کا فارمولا ان کی پیروی ہی ہے ۔۔۔ اور جس قانون کی پیروی کرنی ہے دین اسلام ہے ۔۔۔
تو یہ ہے قرآن مجید کا اعلان کہ اے مسلمان اگر تو نے اس کتاب کو اپنا نصاب مان لیا ۔۔۔ اس دین کو اپنا منشور مان لیا اور نبی مکرم ﷺکی ذات کو اپنا آقا و رہبر و پیشوا مان لیا ۔۔۔ اور اس طریقہ سے اس دین پر عمل پیرا ہوئے جیسے صحابہ و محدثین کی جماعت عمل پیرا ہوئی ۔۔ تو اللہ رب العزت انہیں اس دنیا میں بھی عزت وکامرانی دے گا اور آخرت میں بھی سرفراز و کامران کرے گا ۔۔۔ ( قیامت والے دن جب قبریں پھٹیں گی تو وہ شخص نکلے گا جو قرآن والا تھا ۔۔ قرآن کے ساتھ قیام کرنے والا تھا ۔۔ قیام کے دو معنی ہوتے ہیں ایک کہ اس کو نمازوں میں پڑھنے والا اور دوسرا کہ اس کے مطابق زندگی بسر کرنے والا ۔۔ تو جب یہ قبر سے نکلے گا ۔۔ گھبراہٹ ہوگی تو اس کا استقبال کرے گا ایک اسی کا ہمشکل، تو وہ پوچھے گا کہ کیا تو مجھے جانتا ہے ؟؟ تو وہ فرمائے گا کہ میں تو نہیں جانتا وہ کہے گا ۔۔ انا صاحبك القرآن … میں تیرا ساتھی قرآن ہوں ۔۔ تیری خلوتوں کا ساتھی ۔۔۔ تیری جلوتوں کا ساتھی ۔۔۔ ہر شخص نے تجارت کی ہے ہر آدمی نے اس سے نفع کمایا ہے، لیکن تیری تجارت سب لوگوں سے بہترین تجارت ہے ۔۔ فرمایا:
یہ لوگ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جس میں کسی قسم کا کوئی گھاٹا نہیں ۔۔ قرآن مجید اس شخص کا ہاتھ پکڑ کر اللہ کی بارگاہ میں لے جائے گا ۔۔۔ یہ وہ شخص ہے جس نے قرآن پڑھا اسے یاد کیا اس کے مطابق زندگی گزاری ۔۔ قرآن کہے گا ۔۔ اے اللہ میں تیرا قرآن اور یہ میرا ساتھی ہے ۔۔۔ اب میری درخواست ہے کہ ( اکرمہ) اس کی عزت بڑھا ۔۔۔ اس کا اکرام کر ۔۔۔ اس کا اکرام کیا جائے گا ۔۔۔ عزت کا تاج اس کے سر پر رکھ دیا جائے گا ۔۔۔ مسند احمد کی حدیث ہے ۔۔۔ قرآن کہے گا یا رب اس کی عزت اور بڑھا ۔۔۔ تو اسے عزت کا لباس فاخر پہنایا جائے گا ۔۔۔ پھر قرآن کہے یارب اس کا اور اکرام کر ۔۔۔ تو رب تعالی اس کے داہنے ہاتھ میں جنت کی بادشاہی دےگا ۔۔ اور ہمیشگی بھی کہ یہ سب تیرا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کوئی نہیں جو تجھے اس سے بے دخل کرسکے ۔۔۔ ایک اور روایت کہ قرآن کو لایا جائے گا ۔۔ اس صاحب قرآن کو لایا جائے گا جس نے اس پر عمل کیا ۔۔۔ اس کے والدین کو لایا جائے گا ۔۔۔ اس کے والدین کے سر پر ایسا تاج رکھا جائے گا جو سورج سے زیادہ چمکدار ہوگا ۔۔۔ اور عزت و تکریم کا لباس پہنایا جائے گا ۔۔۔ والدین پوچھیں گے کہ یہ کس وجہ سے ہمیں یہ پہنایا گیا ہے تو رب تعالیٰ فرمائے گا کہ تمھارے بچے نے قرآن پڑھا تھا ۔۔۔ تو قرآن پڑھنے والوں کو قرآن کو یاد بھی کرنا چاہئے اس کا معنی و مفھوم بھی جاننا چاہئے اور اس کے مطابق زندگی بھی گزارنی چاہئے ۔۔۔ یہ قرآن ایسا شافع ہے جس کی شفاعت قبول کی جائے گی ۔۔۔۔ اور اگر خدانخواستہ کسی کے خلاف یہ قرآن مجید دعویدار بن گیا ۔۔۔ تو اس کو فورا سزا دلوادیگا ۔۔۔ اسی لئے نبی اکرم ﷺکا ارشاد ہے:
یا تو تیرے لئے یا تیرے خلاف یہ قرآن مجید گواہ ہے ۔۔ تیرے لئے گواہ ہے اگر تو اس کے مطابق عمل کرے گا تو تیرے لئے جھگڑے گا تیرا سفارشی بنے گا اور اگر تو اس کے خلاف چل پڑا تو یہ تیرے خلاف آکر تجھے سزا کا مستحق بنادے گا ۔۔۔ جس کو اللہ قرآن مجید کے حفظ و فہم و عمل کی توفیق دے ۔۔ یہ اس کا فضل ہے ۔۔۔ اس کے فضل کے بغیر یہ ممکن نہیں ۔۔۔ یہ ایک واحد روشنی ہے جو اس دنیا کو منور کرسکتی ہے ۔۔ اس علم کے بغیر دنیا میں جتنی چاہیں درسگاہیں بنالو، دانشگاہیں بنالو ۔۔۔ دنیا سے اندھیرا ختم نہیں ہوسکتا ۔۔۔ ان گھٹاٹوپ اندھیروں سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے وہ یہ علم کتاب اللہ ہے ۔۔۔ فرمایا :
اور اس کا مقصد بیان فرمایا :
اندھیروں سے لوگوں کو نکال کر روشنی کی طرف پھیر دیں۔ ۔۔ قرآن مجید ہی روشنی ہے اس کے علاوہ کوئی روشنی نہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اکیسویں صدی کے اس دور میں انسان نے بہت ہی زیادہ ترقی کرلی ہے ۔۔ تو یہ ترقی علم کتاب اللہ ۔۔۔ کے بغیر کوئی ترقی نہیں۔ جب انسان کو انسانیت ہی نصیب نہیں ۔
ان کی ساری محنتیں اسی دنیا کے لئے تھیں اسی میں رہ کر دفن ہوگئیں ۔۔ آخرت میں ان کے لیے کوئی نفع بخش ثابت نہ ہوسکیں ۔۔۔
بس قرآن کی زندگی ہی زندگی ہے اس پر عمل پیرا ہونے میں ہماری کامیابی و کامرانی ہے ۔ اس کو اپنی زندگیوں کا مقصد بنائیے۔ یہ قرآن اللہ کی کتاب ہے جو اس کو آگے رکھتا ہے یہ قرآن اسے جنت میں لےجاتا ہے ۔۔۔ اپنے بچوں کو کتاب اللہ کا علم سکھائیں ۔۔۔ اللہ کے نبی ﷺکا فرمان ہے کہ لوگوں میں کچھ لوگ ایسے ہیں جن کو رب تعالیٰ کہتا ہے کہ یہ میرے ہیں !!! فرمایا کہ وہ کون ہیں : کہا وہ اہل قرآن ہیں۔ اللہ کے نبی ﷺنے ان تین لوگوں کا اکرام کرنے کا حکم دیا۔ ایسا شخص جس کے بال طاعت اللہ میں سفید ہوگئے ہوں ۔ ایسا حاکم جو ہمیشہ حق و انصاف کے لئے کھڑا رہا ہو اور قاری و حافظ قرآن جس کے پاس کتاب اللہ کا علم ہو ۔ اور اسکے اندر کوئی اضافہ نہ کرے۔ ا للہ ہم سب کو ہدایت نصیب کرے۔ وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمین
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…