سیرت رسول اور کتب احادیث میں رسول اللہ ﷺکا وہ مکتوب گرامی ذکر ہواہے۔ جس میں قیصر روم کو قبول اسلام کی دعوت کی گئی ہے ، اور کہا گیا ہے کہ اگر تم نے اسلام قبول کرلیا تو تمہیں دوہرا اجر ملے گا، ورنہ ’’اریسیین ‘‘کا گناہ بھی تیرے ہی ذمّے ہوگا۔
مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ کی تالیف ’’نبی رحمت ‘‘ کا مطالعہ کرتے ہوئے اس لفظ ’’اریسی‘‘ کی ایک عمدہ تحقیق نظر آئی ہے جوان شاء اللہ طلبہ حدیث وسیرت اور اہل تاریخ کیلئے بہت مفید ہے اس کتاب میں درسی نقطہ اور دعوتی امور سے متعلق بہت سی عمدہ باتیں ہیں۔ طلبہ حدیث وسیرت اور خطباء کیلئے بھی یہ ایک مفید کتاب ہے ۔ ’’اریسیین ‘‘ کے متعلق ندوی صاحب رحمہ اللہ کی تحقیق پیش خدمت ہے۔
’’اریسیین ‘‘ یا ’’یریسیین ‘‘ کا لفظ روایات کے اختلاف کے باوجود صرف اس خط میں آیا ہے ، جوہر قل کے نام لکھا گیا، اس کے علاوہ جتنے مکاتیب سلاطین کو آپ ﷺ نے روانہ فرمائے کسی میں یہ لفظ ہمیں نہیں ملتا، علماء حدیث اور علماء لغت کا اس لفظ کے اصلی مفہوم کے بار ے میں خاصا اختلاف ہے، مشہور قول یہ ہے کہ ’’اریسیین ‘‘ ’’اریسی ‘‘ کی جمع ہے ،اور وہ خدمتگاروں ، شاگرد پیشہ ور کاشتکاروں کے لئے آتاہے۔(دیکھئے : شرح مسلم للنووی اور مجمع بحار الانوار ‘‘ از علامہ محمد طاہر پٹنی)
ابن منظور نے بھی ’’لسان العرب‘‘ میں اس کو کاشتکاروں کے ہم معنی قرار دیاہے، اور اس کوامام ِ لغت ثعلب سے نقل کیاہے، ابن الاعرابی کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے بھی اس مادہ کے یہی معنی لکھے ہیں۔ اور ابو عبیدہ کاقول نقل کیاہے: کہ میرے نزدیک ’’اریس‘‘ سردار اور بڑے کو کہتے ہیں جس کے حکم کی تکمیل کی جائے اور جب وہ اطاعت چاہے تو اس کی اطاعت کی جائے۔ (دیکھئے : لسان العرب مادہ ’’ارس‘‘)
اس موقع پر ایک پڑھا لکھا آدمی جس کی ان ملکوں کے خصائص وحالات پر نظر تھی ، یہ سوال کرسکتاہے کہ اگر ’’اریسیین سے مراد کاشتکار تھے تو شہنشاہ ایران کسریٰ پرویز اس کا زیادہ مستحق تھا کہ اس کو ان کے بارے میں اس کی ذمہ داری سے آگاہ کیا جاتا اور یہ لفظ اس خط میں آتا جوکسریٰ کے نام بھیجا گیا ، اس لئے کہ کاشتکاروں کا طبقہ سلطنتِ ساسانی ایرانی میں باز نطینی (رومی) سلطنت کے مقابلہ میں زیادہ وسیع اور نمایاں تھا ، اور ایران کی قومی آمدنی اور ذرائع معیشت کا زیادہ تر انحصار زراعت پر تھا، جیسا کہ ازہری نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے، اور ابن منظور نے ان کے حوالہ سے نقل کیاکہ:
’’سواد عراق کے لوگ جوکسریٰ کے دین پر تھے ، زراعت پیشہ اور کاشتکار تھے ، اہلِ روم سازو سامان کی تیاری اور صناعی کا پیشہ کرتے تھے ،اور اس لئے وہ مجوس کو ’’اریسیین ‘‘ کہتے تھے،اریس کی طرف نسبت کرتے ہوئے جس کے معنی کاشتکار کے ہیں عرب بھی ایرانیوں کو ’’فلاحین ‘‘ کاشتکار کے لقب سے یاد کرتے تھے۔‘‘
ان سب وجوہ سے ہمارے نزدیک ترجیح اس قول کو ہے کہ اریسیین سے مراد ’’اریوس‘‘ مصری (Arius, 280-336) کے پیرو ہیں ، جوایک ایسے مستقل مسیحی فرقہ کا بانی تھا ، جس نے مسیحی عقائد اور اصلاح کے شعبہ میں ایک خاص کردار اداکیا، اس فرقے نے باز نطینی سلطنت اور یحی کلیسا کو عرصئہ دراز تک پریشان رکھا تھا ۔ ’’اریوس‘‘ وہ شخص ہے ، جس نے توحید کا نعرہ بلند کیا اور خالق ومخلوق (عیسائیوں کے الفاظ میں) ’’باپ بیٹے‘‘ کے درمیان فرق کرنے کی دعوت دی ، اس نے اس موضوع پر بحث ومباحثہ کا دروازہ کھول دیا اور عیسائی معاشرہ میں صدیوں تک یہی موضوع رہا ، اس کے خیالات کا خلاصہ یہ ہے کہ خدائے واحد کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ زمین پر ظاہر ہو، اس لئے اس نے حضرت مسیح علیہ السلام کو قوت اور کلام الٰہی سے بھر دیا خدا کی بنیادی صفات میں وحدانیت اور ابدیت ہے اور اس نے اپنی ذات سے براہ راست کسی کو پیدا نہیں کیا (جنا نہیں) بیٹا خود ’’خدا‘‘ نہیں ہے بلکہ امرِ رب کی حکمت کا ایک مظہر ہے ، اور اس کی الوہیت اضافی ہے نہ کہ مطلق ۔ (دیکھئے تفصیل کے لئے : انسائیکلوپیڈیا مذاہب واخلاق جلد /۱، مقالہ Arianism ۔
جیمس میکینسن (James Macxinon) اپنی کتاب ’’مسیح سے قسطنطین تک ‘‘ میں لکھتاہے :
’’اریوس‘‘ کا اصرار تھا کہ تنہا اللہ کی ذات قدیم ہے ، ازلی ابدی ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، وہی ہے ، جو بیٹے کو عدم سے میں وجود میں لایا، اس لئے بیٹا ازلی نہیں ہے ، اللہ ہمیشہ سے باپ نہیں ہے ، چنانچہ ایک زمانہ ایسا گزراہے کہ بیٹے کا وجود ہی نہ تھا ، بیٹا اپنی ایک مستقل حقیقت رکھتاہے، جس میں اللہ اس کا شریک نہیں ، وہ تبدیلیوں اور انقلابات سے متأثر بھی ہوتاہے، اور وہ صحیح معنی میں خدا کہلانے کا مستحق نہیں ، ہاں اس کو کامل قرار دیا جاسکتاہے ، لیکن وہ بہر حال ایک کامل مخلوق ہے “From Christ to Constantine ” – (London , 1936 )
دوسری طرف اسکندریہ کا کلیسا چوتھی صدی عیسوی میں حضرت مسیح علیہ السلام کی الوہیت کا مطلق طریقہ سے قائل تھا ، اور اس کے نزدیک خالق ومخلوق اور باپ و بیٹے میں کوئی تفریق نہ تھی۔
اس کو مصری کلیسا کے لاٹ پادری الیگزنڈر (Alexander) نے ۳۲۱ء میں اسکندریہ کے کلیسا سے بے دخل کردیااور اریوس شہر چھوڑ کر چلا گیا، لیکن اس کی بے دخلی سے یہ جھگڑا ختم نہیں ہوا ، شہنشاہ قسطنطین نے اس نزاع کو ختم کرانے کی کوشش کی ، لیکن اس کو اس میں کامیابی نہیں ہوئی ۔ ۳۲۵ء میں اس نے نیقسیہNicaea میں ایک کانفرنس بلائی جس میں دوہزار تیس پادری شریک ہوئے ، شہنشاہ کا رجحان الوہیت مسیح علیہ السلام کی طرف تھا ، اس لئے اس نے ’’اریوس‘‘ کے خلاف فیصلہ دیا، اس کے باوجود نمائندوں کی اکثریت اریوس کی مؤید تھی اور صرف تین سو اٹھارہ پادری بادشاہ کے ساتھ تھے ، تاہم اس نے اریوس کو الیریا ILLYRIA میں جلاوطن کر دیا، اور اس کی سب تحریریں جلا دی گئیں ، جس کے پاس اس کی کوئی تحریر ملتی ا سکو سخت سزادی جاتی لیکن ان کوششوں سے اریوس کی اہمیت اور لوگوں میں اس کی ہرولعزیزی اور مقبولیت ختم نہ کی جاسکی۔
آخر کار قسطنطین ہی کو اپنا رویہ نرم کرنا پڑا ،اور اس نے اس کے عقیدہ سے پابندی اٹھالی ، اپنے سب سے بڑے حریف ورقیب الیگزنڈر کی موت اور اس کے جانشین Athanasius کی جلاوطنی کے بعد اریوس اسکندریہ پھر واپس آگیا ، قریب تھا کہ قسطنطین اس کو مصری کلیسا کا سربراہ مقرر کردے ، اور اس کا مذہب قبول کر لے لیکن موت نے اس کا موقع نہیں دیا ۔ (انسائیکلوپیڈیا مذہب واخلاق مقالہ Arianism ۔
’’ڈریپر‘‘ نے اپنی کتاب ’’معرکئہ مذہب و سائنس ‘‘ میں لکھا ہے کہ تیرہ مسیحی مجالس نے چوتھی صدی عیسوی میں اریوس کے خلاف فیصلہ دیا تھا ، پندرہ مسیحی مجالس نے اس کی تائید کی تھی ، سترہ مسیحی مجالس نے جورائے ظاہر کی وہ اس کی رائے کے بہت قریب تھی ، اس طرح 45مسیحی مجالس ، اس مسئلہ پر غوروفکر وفیصلہ کرنے کیلئے منعقد کی گئیں۔
واقعہ یہ ہے کہ مسیحی دنیا میں چوتھی صدی سے قبل عقیدئہ تثلیث کا عام رواج نہیں ملتا نیوکیتھولک انسائیکلو پیڈیا ‘‘ میں آتاہے کہ :
’’عقیدئہ تثلیث کی تشکیل جدید اور اس کے راز سے پردہ صرف انیسویں صدی کی نصف ثانی میں ہی اٹھ سکا ، مطلق عقیدئہ توحید پر اگر کوئی گفتگو کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ مسیحی تاریخ کے آغاز سے چوتھی صدی کی آخری چوتھائی تک منتقل ہوجاتاہے یہ کہ ایک معبود کے تین مظاہر ہیں ، مسیحی دنیا میں یہ نظریہ اسی مخصوص تاریخی وقفہ میں پھیلا تھا ۔‘‘
یہ عقیدئہ ودعوت الوہیت مسیح کی کھلی ہوئی دعوت کے ساتھ ہمیشہ برسرپیکار رہی ، کبھی اس کا پلڑا بھاری ہوتا، کبھی اس کا، باز نطینی مملکت کی مشرقی ریاستوں میں عیسائیوں کی بہت بڑی تعداد اریوس کے عقیدہ کی حامل تھی ، یہاں تک کہ تھیوڈوسس Theosodius the Great نے قسطنطیہ میں عیسائی کانفرنس طلب کی ، جس نے الوہیت مسیح علیہ السلام اور ان کے خدا کا بیٹا ہونے کے عقیدہ کو باقاعدہ منظور کرلیا ، اور ا سکے اعلان کے بعد اریوس عقیدہ کی دعوت ختم ہوگئی ، اور یہ تحریک نظروں سے اوجھل ہوگئی ، تاہم عیسائیوں کی ایک جماعت اس کے بعد بھی اس سے وابستہ رہی ، اور یہ لوگ ’’فرقہ اریسیہ ‘‘ یا ’’ اریسیین ‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔
اس لئے قابل ترجیح اور قرین قیاس یہی قول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے اس جملہ سے ’’ فان تولیت فان علیک اثم الأریسیین ‘‘ سے مراد یہی ہے اس لئے کہ اس وقت کی مسیحی دنیا میں جس کی زمامِ قیادت عظیم باز نطینی مملکت کے ہاتھ میں تھی ،اور جس کا سربراہ ہرقل تھا ، یہی فرقہ نسبتاً توحید کا حامل اوراس پر اب تک قائم تھا۔
عجیب بات یہ ہے کہ عصر اول کے بعض جلیل القدر علماء اسلام نے بھی اسی رجحان کا اظہار کیا ہے ، امام طحاوی رحمہ اللہ ( م ۳۲۱ء) اپنی کتاب ’’ مشکل الآثار‘‘ میں لکھتے ہیں ۔
’’بعض حقائق آگاہ علماء نے بیان کیا ہے کہ ہرقل کی جماعت میں ایک فرقہ تھا جس کو ’’اریسییہ‘‘ کہتے تھے ، یہ توحید الہٰ اورحضرت مسیح علیہ السلام کی عبدیت کا قائل تھا ، نصاریٰ مسیح علیہ السلام کی ربوبیت کے بارے میں جو کچھ کہتے تھے ، یہ فرقہ اس کو تسلیم نہیں کرتا تھا ، یہ دین مسیح پر قائم تھا ، اور انجیل میں جو کچھ تھا ، اس پر عمل پیرا تھا ، نصاریٰ اس سے آگے بڑھ کر جو کچھ کہتے تھے ، وہ اس پر ایمان نہ رکھتا تھا اگر یہ بات صحیح ہے تو اس فرقہ کو ’’اریسییون ‘‘ رفع کے ساتھ اور ’’اریسیین‘‘ نصب اور جر کے ساتھ کہنا دونوں جائز ہے ، جیسا کہ علماء حدیث کا خیال ہے ۔ ‘‘ (مشکل الآثار ، ج/۲ ، ص:۳۹۹ )
اسی کے قریب قریب رائے امام نووی رحمہ اللہ شارح مسلم ( م ۶۷۶ھ) نے بھی ظاہر کی ہے ، وہ کہتے ہیں:’’ دوسرا قول یہ ہے کہ وہ یہود ونصاریٰ ہیں ، جو عبد اللہ بن اریس (یہ امام نووی کی فروگذاشت معلوم ہوتی ہے ، اس لئے کہ ظہور اسلام سے تین سو برس قبل اس کا وجود تھا ، اور اس کا نام بھی کوئی اسلامی عربی نام نہ تھا) کے ماننے والوں میں تھے ، جس کی طرف اروسیت کو منسوب کیا جاتاہے ۔ ‘‘ (شرح صحیح مسلم للنووی ج/۲ ، ص:۹۸ )
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…