Categories: اپریل 2009

معمولات النبی ﷺ

رسول اللہ  ﷺ پہلو بدلتے وقت یہ دعا پڑھتے تہے ۔

’’لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ‘‘ (صحیح ابن حبان ، ج/۱۲ ، ص:۳۲۶)

’’اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے وہ اکیلا ہی قوت والا ہے زمین وآسمان اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس کا رب ہے جو غالب اور بخشنے والا ہے۔‘‘

نیند میں گھبراہٹ اور بے چینی کے وقت رسول اللہ  ﷺ درج ذیل دعا پڑھتے تھے۔

’’أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِہِ وَعِقَابِہِ وَشَرِّ عِبَادِہِ وَمِنْ ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِیْنِ وَأَنْ یَّحْضُرُوْنِ ‘‘(ترمذی ، کتاب الدعوات ، حدیث نمبر:۳۴۵۱)

’’میں اللہ کے مکمل کلمات سے پناہ مانگتاہوں اس کے غصے ،سزا اور اس کے بندوں کے شر سے اور شیطانوںکے کچوکوں سے اور اس چیز سے کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں۔‘‘

٭ قیام اللیل

محترم قارئین ! قیام اللیل سے مراد رات میں نوافل کی ادائیگی ہے جس کو عرف عام میں تہجد اور رمضان میں تراویح کے نام سے موسوم کیا جاتاہے یعنی قیام اللیل ، تہجد اور تراویح تینوں ایک ہی چیز کے مختلف نام ہیں۔ نماز تہجد کا متعین وقت نہیں ہے یہ نماز رسول اللہ  ﷺ نے رات کے پہلے ، درمیانی اور رات کے آخری حصے میں ادا فرمائی ۔

دلیل : ’’سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگرتم چاہتے کہ آپ  ﷺ کو رات کے وقت نماز پڑھتے دیکھ لیں تو دیکھ لیتے اور اگر تم چاہتے کہ رسول اللہ  ﷺ کو سوتے ہوئے دیکھ لیں تو دیکھ لیتے ۔(رواہ البخاری ، کتاب الصلاۃ ، باب قیام النبی باللیل من نومہ وما نسخ من قیام اللیل )

یعنی کہ رسول اللہ  ﷺ رات میں سوتے بھی تھے اور نماز بھی پڑھتے تھے لیکن تہجد کا افضل ترین وقت رات کا آخری پہر ہے کیونکہ اسی وقت اللہ رب العزت آسمان دنیا پر تشریف لاتے ہیں اور حاجت مندوں کی حاجات پوری کرتے ہیں ۔

قیام اللیل کی فضیلت

اللہ رب العزت نے اپنے نبی مکرم  ﷺ کو اس نماز کا بذات خود حکم دیتے ہوئے کہا :

{وَمِنَ اللَّیْلِ فَتَہَجَّدْ بِہِ نَافِلَۃً لَّکَ عَسَی أَن یَبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُودًا} (بنی اسرائیل :۷۹)

’’اور رات کو آپ ا تہجد کی نماز ادا کیجئے یہ آپ کیلئے زائد (نماز)ہے عین ممکن ہے کہ آپ اکا رب آپ اکومقام محمود پر فائز کردے۔‘‘

اگرچہ یہ حکم رسول اللہ  ﷺ کیلئے ہے مگر اسوئہ محمدی اور اطاعت مصطفی اکا تقاضا یہ ہے کہ عام مسلمان بھی اس چیز کو حرز جان بنائیں۔

قیام اللیل پر کاربند لوگ ہی اللہ کی آیات پر کامل یقین رکھتے ہیں۔

جیسا کہ ارشاد ربانی ہے :

{إِنَّمَا یُؤْمِنُ بِآیَاتِنَا الَّذِینَ إِذَا ذُکِّرُوا بِہَا خَرُّوا سُجَّدًا وَسَبَّحُوا بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَہُمْ لَا یَسْتَکْبِرُونَ ٭ تَتَجَافَی جُنُوبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُونَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنفِقُونَ }(السجدۃ: ۱۵۔۱۶)

’’ہماری آیتوں پر وہی ایمان لاتے ہیں جنہیں نصیحت کی جاتی ہے اور سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتے ہیں تکبر سے اجتناب کرتے ہیں اور ان کے پہلو بستر سے الگ ہوتے ہیں ۔خوف وطمع کیساتھ اپنے رب کو پکارتے ہیں اور جو ہم نے ان کو رزق عطاکیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘

قیام اللیل پر مداومت کرنے والے خوش قسمت لوگ ہی رحمت الٰہی کے اولین مستحق ہیں۔

جیسا کہ ارشاد رب العالمین ہے :

{کَانُوا قَلِیلًا مِّنَ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُونَ ٭ وَبِالْأَسْحَارِ ہُمْ یَسْتَغْفِرُونَ }(الذاریات : ۱۷۔ ۱۸)

’’وہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے اور وقت سحر استغفار میں مشغول رہتے ۔‘‘

قیام اللیل نیکوں کاروں اور ابرار لوگوں کی نشانی اور علامت ہے ۔

جیسا کہ اللہ نے ارشاد فرمایا :

{وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِینَ یَمْشُونَ عَلَی الْأَرْضِ ہَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَہُمُ الْجَاہِلُونَ قَالُوا سَلَامًا ٭ وَالَّذِینَ یَبِیتُونَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَقِیَامًا} (فرقان :۶۳۔۶۴)

’’رحمن کے سچے بندے وہ ہیں جو کہ زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں اور بے علم لوگوں کی باتوں کا جواب دیتے وقت سلا م کہتے ہیں اور وہ لوگ اپنے رب کے سامنے سجدہ اور قیام کی حالت میں اپنی راتوں کو گزارتے ہیں۔‘‘

قیام اللیل کا اہتمام کرنے والے اور اس عظیم عمل سے محروم رہنے والے دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔

یہ قول فیصل اللہ احکم الحاکمین کا ہے :

{أَمَّنْ ہُوَ قَانِتٌ آنَاء اللَّیْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا یَحْذَرُ الْآخِرَۃَ وَیَرْجُو رَحْمَۃَ رَبِّہِ }(زمر :۹)

’’بھلا جو شخص راتوں کے اوقات سجدے اور قیام کی حالت میں (عبادت کرتے ہوئے) گزارتا ہو۔ آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھنا ہو (اور جو اس کے برعکس ہوبرابر ہوسکتے ہیں)۔‘‘

وقت سحر قبولیت دعا کا وقت ہے ۔جیسا کہ رسول اللہ  ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہر رات آسمان دنیا پر تشریف لاتاہے اور جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتاہے تو ندا دیتاہے ۔ ہے کوئی دعا کرنے والاکہ میں اس کی دعا کو قبول کروں ، کوئی مجھ سے مانگنے والامیںاسے عطا کروں اور ہے کوئی مجھ سے مغفرت کا طلب گار تاکہ میں اس کے گناہوں کو معاف کردوں ۔(اللہ تعالیٰ یوں ہی پکارتے رہتے ہیں)یہاں تک کہ فجر ہوجاتی ہے ۔ (سنن الترمذی ، کتاب الصلاۃ ، باب فی نزول الرب تبارک وتعالیٰ إلی سماء الدنیا فی کل لیلۃ)

قیام اللیل افضل ترین نماز ہے ۔رسول اللہ  ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ فرض نمازوں کے بعد افضل ترین نماز رات کی نماز ہے ۔‘‘ (مسلم ، کتاب الصیام ، باب فضل صوم المحرم ، حدیث رقم :۱۱۶۳)

قیام اللیل جنت میں داخلے کا بنیادی سبب اور باعث ہے ۔

دلیل : عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ  ﷺ مدینہ میں تشریف لائے تو لوگ آپ کی زیارت کیلئے امڈپڑے میں نے آپ  ﷺ کے چہرے کی طرف دیکھا تو جان لیا کہ آپ کا چہرہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیںہے میں نے سنا کہ رسول اللہ  ﷺ ارشاد فرمارہے تھے : اے لوگو! سلام کو عام کرو ، صلہ رحمی کرو ، بھوکوں کو کھانا کھلاؤ ، لوگ سو رہے ہوں تو اس وقت نماز پڑھو، تم اپنے رب کی جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤگے۔‘‘ (رواہ الترمذی ،کتاب صفۃ القیامۃ ، باب ۲۴، حدیث رقم : ۲۴۸۵ ، ج/۴ ، ص/۶۵۲)

قیام اللیل کیلئے معاون اسباب

۱۔دعا کرنا  

۲۔ رات کو جلدی(لائٹ بند کرکے) سونا

۳۔دوپہر کو قیلولہ کرنا

۴۔گناہوں سے پرہیز کرنا

۵۔نفسانی خواہشات کے خلاف جہاد کرنا

قیام اللیل اور امام العابدین  ﷺ

رسول اللہ  ﷺ اکثر اوقات نماز تہجد رات کے آخری پہر میں ادا کرتے تھے اور بیدار ہونے کے بعد یہ دعا پڑھتے ۔

’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ أَحْیَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَیْہِ النُّشُوْرُ ‘‘ (رواہ البخاری ، باب وضع الید تحت الخد الیمنی )

’’تمام قسم کی تعریفیں اس اللہ کیلئے ہیں جس نے ہمیں مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے ۔‘‘

اسی طرح رسول اللہ  ﷺ کا یہ معمول تھا کہ بیدار ہونے کے بعد نیند کے اثرات کو زائل کرنے کیلئے اپنے ہاتھوں کو چہرے پر پھیرتے تھے اور آسمان کی طرف منہ کر کے سورئہ آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت کیاکرتے تھے ۔ (بخاری ، کتاب الوضوء ، باب قراء ۃ القرآن بعد الحدث وغیرہ )

نماز تہجد کیلئے اٹھتے وقت مسواک کرنا بھی رسول اللہ  ﷺ کے معمولات میں شامل ہے ۔

دلیل : سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ جب رات کو نماز کیلئے بیدار ہوتے تو مسواک کیاکرتے تھے ۔ (أبوداؤد ، کتاب الطہارۃ ، باب السواک لمن قام من اللیل )

رسول اکرم  ﷺ بیت الخلاء میں جانے کا ارادہ کرتے تو یہ دعا پڑھتے :

’’اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ ‘‘ (عن انس ، أبوداؤد ،کتاب الطہارۃ، باب ما یقول الرجل إذا دخل الخلاء ، رواہ الشیخان أیضاً )

’’ اے اللہ ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں مذکر اور مؤنث شیطانوں سے ۔‘‘

بیت الخلاء سے نکلتے وقت ’’غُفْرَانَکَ ‘‘(سنن الترمذی ، رقم الحدیث : ۷)(اے اللہ میں آپ سے معافی چاہتا ہوں ) کے الفاظ کہتے تھے۔

نبی کریم  ﷺ وضو کا ارادہ کرتے وقت ’’بِسْمِ اللّٰہِ ‘‘ کہتے تھے ۔(مسند أحمد ، ج / ۲ ، ص:۴۱۸ )

اور جب وضو سے فارغ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے:

’’ أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیْکَ لَہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ‘‘ (صحیح مسلم ، کتاب الطہارۃ ، باب الذکر المستحب عقب الوضوء ، رقم الحدیث / ۲۳۴)

’’میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔‘‘

تہجد کی نماز کا آغاز دو ہلکی رکعتوں سے کرنا چاہیے ۔

دلیل :سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ رات کو قیام کیلئے کھڑے ہوتے تو نماز کا آغاز دو ہلکی رکعتوں سے کرتے تھے۔ (صحیح مسلم ، حدیث نمبر ۷۶۷)

قیام اللیل میں طویل قیام

نماز تہجد میں قیام کو طول دینا رسول اللہ  ﷺ کے معمولات میں سے ہے ۔ رسول اللہ  ﷺ نے ارشاد فرمایا :

’’أَفْضَلُ الصَّلاَۃِ طُوْلُ الْقَنُوْتِ‘‘ (صحیح مسلم ، کتاب صلاۃالمسافرین ،  باب افضل الصلاۃ طول القنوت ، حدیث نمبر : ۷۵۶)

’’بہترین نماز لمبے قیام والی ہے ۔‘‘

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ رات کو اتنا لمبا قیام کرتے کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے تھے اور آپ  ﷺ سے پوچھا گیا کہ آپ اتنا لمبا قیام کیوں کرتے ہیں ؟ تو آپ  ﷺ نے فرمایا : ’’کیا میں اللہ رب العزت کا شکرگزار بندہ نہ بنوں۔‘‘(صحیح بخاری ،کتاب التہجد ،باب قیام النبی اللیل حتی ترم قدماہ )

صدیقہ کائنات عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ رات کو چار چار رکعت پڑھتے تھے جن کے طول اور حسن کا کیا کہنا اور پھر تین وتر ادا کرتے ۔‘‘ (صحیح بخاری، کتاب التہجد ، باب قیام النبی باللیل فی رمضان )

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شب نبی  ﷺ کے ہمراہ نماز تہجد پڑھی تو آپ مسلسل کھڑے رہے یہاں تک کہ میں نے (تھکاوٹ کے سبب) ایک برا ارادہ کیا ۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ آپ نے کیا ارادہ کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے ارادہ کیا کہ رسول اللہ  ﷺ کو کھڑا چھوڑ کر بیٹھ جاؤں ۔‘‘ (بخاری ، کتاب التہجد ، باب طول القیام فی صلاۃ اللیل )

نماز تہجد کی رکعات

عبد اللہ بن أبی قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ  ﷺ کی رات کی نماز میں رکعات کی تعداد کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ  ﷺ کبھی چار نفل اور تین وتر (کل سات رکعتیں) کبھی چھ نفل اور تین وتر (کل نو رکعتیں ) کبھی آٹھ نفل اور تین وتر (کل گیارہ رکعتیں)کبھی دس نفل اور تین وتر (کل تیرہ رکعتیں) ادا فرماتے تھے آپ  ﷺ کی رات کی نماز سات سے کم اور تیرہ سے زیادہ نہیں ہوتی تھی۔(رواہ أبوداؤد ، کتاب الصلاۃ ، باب صلاۃ اللیل ، حدیث نمبر : ۱۱۵۵)

نماز تہجد میں رسول اللہ  ﷺ کا غالب معمول آٹھ رکعت نفل اور تین وتر ہوا کرتا تھاجیسا کہ صحیح مسلم میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں اس بات کی صراحت موجود ہے ۔(صحیح مسلم ، کتاب صلاۃ المسافرین و قصرہا ، باب صلاۃ اللیل وعدد رکعات النبی فی اللیل وأن الوتر رکعۃ وأن الرکعۃ صلاۃ صحیحۃ ، حدیث نمبر : ۱۲۱۵)

نماز تہجد کو دو دو رکعتیں کرکے پڑھنارسول اللہ  ﷺ کے معمولات میں شامل ہے جیسا کہ صحیح مسلم  میںرسول اللہ  ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کی وضاحت فرمائی۔(تفصیل کیلئے دیکھئے:صحیح مسلم ، کتاب صلاۃ المسافرین و قصرہا ، باب صلاۃ اللیل وعدد رکعات النبی فی اللیل وأن الوتر رکعۃ وأن الرکعۃ صلاۃ صحیحۃ )

دعاء استفتاح

رات کی نفل نماز کا افتتاح درج ذیل دعا سے کرنا رسول اللہ  ﷺ کا معمول تھا :

’’اَللّٰہُمَّ رَبَّ جِبْرِیْلَ وَمِیْکَائِیْلَ وَإِسْرَافِیْلَ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ ، اَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ۔ اِھْدِنِیْ لِمَا اخْتُلِفَ فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِکَ ، اِنَّکَ تَہْدِیْ مَنْ تَشَائُ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ  ‘‘( صحیح مسلم ، حدیث نمبر :۷۷۰)

’’اے اللہ ! اے جبریل ، میکائیل اور اسرافیل کے ربّ ! اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! اے غیب اور حاضر کو جاننے والے ! تو اپنے بندوں کے درمیان پیدا ہونیوالے اختلاف میں فیصلہ کرتاہے۔ مجھے اپنے حکم سے ان اختلافی باتوں میں حق کی طرف ہدایت دے ، بیشک جس کو توچاہتا ہے صراط مستقیم پر چلا دیتاہے۔‘‘

نماز تہجد کے وقت درج ذیل دعا پڑھنا بھی رسول اللہ  ﷺ کا معمول تھا ۔

اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحْمْدُ اَنْتَ قَیِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِیْہِنَّ ، وَلَکَ الْحَمْدُ لَکَ مُلْکُ السَّمٰوٰاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِیْہِنَّ ، وَلَکَ الْحَمْدُأَنْتَ نُوْرُ السَّمٰوٰاتِ وَالْأَرْضِ  وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ مَلِکُ السَّمٰوٰاتِ وَالْأَرْضِ ، وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ الْحَقُّ وَ وَعْدُکَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُکَ حَقٌّ ، وَقَوْلُکَ حَقٌّ وَالْجَنَّۃُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالنَّبِیُّوْنَ حَقٌّ ، وَمُحَمَّدٌ حَقٌّ، وَالسَّاعَۃُ ٌ حَقٌّ ، اللّٰہُمَّ لَکَ اَسْلَمْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَإِلَیْکَ أَنَبْتُ وَبِکَ خَاصَمْتُ وَإِلَیْکَ حَاکَمْتُ فَاغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَأَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لاَ إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ ۔‘‘ (ابن عباس ، بخاری ، باب التہجد ، باب التہجد باللیل )

’’اے اللہ ! تمام تعریفیں تیرے لئے ہیں ، تو ہی آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میںہے سب کو قائم رکھنے والا ہے اور تمام تعریفیں تیرے لئے ہیں ، تو ہی آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کا نور ہے ، اور تمام تعریفیں تیرے لئے ہیں ، تو ہی آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے ، اور تمام تعریفیں تیرے لئے ہیں ، تو برحق ہے اور تیرا وعدہ ، تیری ملاقات تیرافرمان ، جنت ودوزخ برحق ہیں اور تمام نبی برحق ہیں۔محمد  ﷺ حق ہیں اور قیامت حق ہے ، اے اللہ میں تیرے لئے مطیع ہو گیا اور میں نے تجھ پر ہی توکل کیا اور میں تجھ پر ایمان لایا اور میں نے تیری طرف رجوع کیا اور تیری مدد کے ساتھ (دشمنان دین سے ) جھگڑا کیا ، میں تیری طرف فیصلہ لے کر آیا پس تو مجھے وہ سب کچھ بخش دے جو میں نے پہلے کیا اور جو کچھ بعد میں کیا اور کچھ میں نے پوشیدہ کیا اور جو کچھ علی الاعلان کیا تو ہی آگے کرنے والا ہے (نیک کاموں میں) اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے ، تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے ۔ ‘‘

نماز تہجد میں قرأت قرآن کے دوران آیاتِ عذاب کو پڑھتے ہوئے اللہ کی پناہ طلب کرنا ، مثلاً یوں کہنا :

’’اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ عَذَابِکَ ‘‘

اور آیات رحمت کو پڑھتے ہوئے اللہ کی رحمت کا سوال کرنا مثلاً یوں کہنا :

’’اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ اَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ ‘‘

اور جن آیات میں اللہ کی پاکیزگی بیان کی گئی ہو ، ان کو پڑھتے ہوئے :سُبْحَانَ اللّٰہِ کہنا بھی معمولات محمدیہ میں سے ہے۔

دلیل : حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ دوران نماز قرآن کی تلاوت ٹھہر ٹھہر کرکیا کرتے تھے ، اور جب کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں تسبیح ہوتی ، وہاں تسبیح پڑھتے ، اور جس میں اللہ سے سوال کرنے کا ذکر ہوتا ، وہاں اس سے سوال کرتے اور جس میں عذاب کا ذکر آتا تو وہاں اللہ کی پناہ طلب کرتے ۔ (صحیح مسلم ، کتاب الصلاۃ ، حدیث نمبر : ۷۷۲)

محترم قارئین کرام ! رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے فجر کی سنتوں اور مسجد میں آنے جانے ، گھر سے باہر جانے اور بقیہ معمولات مقدسہ آئندہ ذکر کئے جائیں گے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اسوئہ محمدی کے مطابق قیام اللیل کی توفیق عنایت فرمائے ۔ آمین        (جاری ہے )

الشیخ محمد طیب معاذ

Share
Published by
الشیخ محمد طیب معاذ

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago