سیدنا براء بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ عہد نبوی ﷺکے عظیم جنگجواور بہادرشہسوار تھے مشرکین وکفار کے پورے سو افراد کو دعوت مبارزت کے دوران قتل کیا تھا اور چلتے گھوڑے پر بیٹھ جانا انکا خاصہ تھا ۔
آپکا شمار ان صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم میں ہوتا ہے کہ جو ابتدائی مراحل میں ہی اسلام قبول کرچکے تھے ۔
اسلام قبول کرنے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو مدرسہ محمد یہ ﷺکے طلبگاروں میں شامل کر لیا ۔حضرت أنس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کے بڑے بھائی ہیں انہوں نے اپنے اندر بے پناہ طاقت اور سچی عزیمت کو دیکھا تو اپنی تمام صلاحیتو ں کو رسول ﷺکے سپرد کردیا ۔
حضرت براء بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ ممتاز شخصیت کے مالک تھے جرأت وشجاعت انتہا درجے کی تھی ۔
آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں سب سے پہلے غزوہ احدمیں شرکت کا اعزاز حاصل کیا۔ بیت رضوان کے موقع پر حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ نے بھی موت پر آپ ﷺ کی بیت کی تھی۔
آسمان عالیہ سے قرآن نازل ہوا۔
اس مبارک بیعت کے بعد سیدنابراء بن مالک رضی اللہ عنہ،غزوہ فتح مکہ ،غزوئہ حنین اور دیگر غزوات میں رسول اللہ ﷺکے شانہ بشانہ رہے ، یہاں تک کہ نبی مکرم ﷺ اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملے اور آخر دم تک براء بن مالک رضی اللہ عنہ کی بہادری وجوانمردی کو بابرکت خیال کرتے رہے۔
نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد فتنہ ارتداد پھیلنے لگا اور نبوت کے جھوٹے دعویدارکھڑے ہوگئے ان کی نبوت کا رنگ اتارنے کیلئے خلیفئہ اول سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ کی قیادت میں ایک لشکر تیار کیا اور مسیلمہ کذاب کی سرکوبی کیلئے روانہ کردیا۔
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بڑے ہی عالی دماغ دانشور تھے آپ رضی اللہ عنہ بڑے ہی بالغ نظر ، پختہ ایمان ویقین کے حامل تھے ان کے عزم راسخ، ایمان کامل ، توکل الٰہی ، حرم واحتیاط ، شجاعت وجرأت جیسی خوبیوں نے مسیلمہ کذاب اور مرتدین کی جماعت کاکام تما م کرنے کیلئے انگیخت کیا۔
یمامہ میں جب دونوں لشکر مد مقابل ہوئے حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو اضطراب کی حالت میں دیکھا تو اچھل کر میدان میں آگئے اور باآواز بلند کہنے لگے ۔
اے مسلمانوں !میں براء بن مالک رضی اللہ عنہ ہوں میری طرف آؤ ۔مسلمانو ں کی جماعت انکی طرف مڑی کیونکہ وہ انکی جنگی قیادت کو جانتے تھے ایسی جوانمردی اور بہادری سے لڑے کہ جو بھی آگے آتاپٹ جاتا اور مرتدین دم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہوگئے ۔مسیلمہ فوج کے کمانڈر محکّم بن طفیل نے اپنے فوجیوں کوسر پٹ دوڑتے ہوئے دیکھا تو چیخ چیخ کر کہنے لگا ۔
اے بنو حنیفہ باغیچہ میں داخل ہوجاؤیہ باغیچہ مسیلمہ کذاب کا تھا جسے’’حدیقۃ الرحمان ــ‘‘کے نام سے پکارا جاتا تھا سارے باغی باغیچے میں داخل ہوکرخود کو محفوظ سمجھنے لگے انکو معلوم نہیں تھا کہ براء بن مالک رضی اللہ عنہ ہماری موت کا نکارہ بجائے ہماری سرکو ئی کیلئے آرہے ہیں پھر کیا ہوا ؟
براء بن مالک رضی اللہ عنہ فرمانے لگنے ’’میرے ساتھیو!مجھے اٹھا کر اس باغیچہ میں پھینک دو ‘‘مسلمانوں نے اٹھاکر اندر پھینک دیا گرتے ہی کھڑے ہوگئے اور بنو حنیفہ پر ٹوٹ پڑے مشرکین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے دروازہ کھولنے میں کا میاب ہوگئے لشکر اسلام اندر داخل ہوگیا اور دشمن فوج کو لگے کا ٹنے گاجر، مولی کی طرح ۔
اہل یمامہ کے کمانڈر محکّم بن طفیل کو براء بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہی واصل جہنم کیا تھا۔ اسی جنگ میں لڑتے لڑتے آپ کو اسی (۸۰) زخم لگے۔ اور مرتدین کے قافلہ کا شیرازہ بکھر چکا تھا اورنبوت کا رنگ اتر چکا تھا ان کی سب سے بڑی خواہش شہادت کا اعزاز حاصل کرنا تھا کیونکہ جو انعام واکرام اللہ تعالیٰ نے شہداء کیلئے رکھا تھا وہ خوب واقف تھے۔
اسی خواہش کو پورا کرنے کیلئے تُستر شہر کے محاصرے کے دوران حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی قیادت میں شریک ہوئے۔
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے براء بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ایک سرنگ شہر کے درمیان سے نکلتی ہے جسکا مشاہدہ ضروری ہے حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ نے حضرت مجزأہ بن ثور سے کہا کہ بہادر آدمی درکا رہیں جو سرنگ کا مشاہدہ کر سکیں حضرت مجزأۃ خود تیار ہوگئے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت سرنگ میں داخل ہوچکی تھی جب نکلنے لگے تو سب سے پہلے حضرت مجزأہ نکلے تو اہل تستر نے انہیں پتھر مار کر زخمی کردیا۔
دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی سرنگ سے باہر تشریف لائے شہر کے وسط میں اہل تستر کے ساتھ فیصلہ کن جنگ ہوئی ۔
ہرمزان آپ کے مقابلے میں آیا اور آپ کو شہید کردیا یہ واقعہ ۲۰ ہجری کو پیش آیا ۔ حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی خواہش کے مطابق جام شہادت نوش کر گئے۔ (رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ)
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…